48

براہوئی زبان

براہوی زبان کی درجہ بندی متنازعہ فیہ رہی ہے اور ڈاکٹر گریسن نے اپنی تحقیقات میں اسے ڈاوری زمرہ میں شامل کیا ہے ۔ دینس ڈی ایس برے نے اپنی کتاب میں اس کی تصدیق کی ہے اور لکھا ہے کہ براہوی زبان انضمانی ہے اور اس لحاظ سے یہ وسیع ترین معنی میں اس مرحلہ ارتقاء سے تعلق رکھتی ہے جس سے ڈاروی زمرہ السنۃ اس سے برائے نام ثابت نہیں ہوتا ہے ۔ لیکن یہ دلیل یگانیت ایک اتفاقی مشابہت ترکیبی کے بجائے زیادہ یقینی بنیاد پر استوار ہے ۔ براہوی میں اسم کے قواعد رشتہ ڈراوی کی طرح لاحقوں سے ظاہر کئے جاتے ہیں اور اگر تمام نہیں تو بشتر لاحقے خواہ وہ حالتی رشتوں کے مطہر یا صیٖٖغہ جمع کے اسی ماخذ کے غماز ہیں جو ڈراوی کا ہے ۔ اصم ضمیر کی شہادت اور بھی براہ راست ہے ۔ جو کسی زبان کے ماخذ کے راز کا یقینی مظہر ہوتا ہے ۔ ضمائر شخصی میں سے صیغہ حاضر اور جمع کا ضمیر میں بھی منعکس ہوتا ہے ۔ حلانکہ صودتیاتی شکست و رنجیت نے اتنی تباہی مچائی ہے ۔ براہوی دراوڑی میں ضمیر معکوس نے منظم انداز میں ایک جیسا ڈھانچہ محفوظ رکھا ۔ جب کہ براہوی اسمائے اشارہ صرف ڈراوی مماثلات میں واضح کئے جاسکتے ہیں ۔ یعنی یگانیت سوائے استفہام کے بھیس میں ہوتے ہوئے خود نما ہیں اور معتد ضمائر غیر معنہ اسی پیدائشی نشان کے آئینہ دار ہیں ۔ پہلے تین اعداد کا ڈراوی پہلے عدد سے بنے ہوئے ترتیبی عدد کے عدم وجود کے باوصٖف اس سے ظاہر کرنے کے لیے وہی طریقہ بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے وہی مادہ استعمال کرتے ہیں ۔ مصدر کا معاملہ قدرتی طور پر پیچیدہ ہے لیکن اس کی شہادت بھی ناقابل انکار ہے ۔ بین ترین مماثلتیں جمع کی ضمری آخرت میں پائی جاتا ہیں ۔ علت و ،معلول کی تشکیل میں بھی اور سب سے زیادہ منفی گردان میں لیکن شہادت اپنی متعلقہ نکات پر ختم نہیں ہوجاتی ہے ۔ اگرچہ براہوی میں اپنی مخصوص صفات سے خالی نہیں ۔ تاہم کمال احتیاط سے یہ کہا جاسکتا ہے اور اس کا اطلاق یکساں طور پر زبان بہ حثیت مجموعی طور پر ہوتا ہے کہ اس کی تقسیم ڈاوری زبانوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوگی ۔ اس شہادت پر ایک ہی قول فیصل اثر کرسکتا ہے ۔ کالڈذیل نے جس نے یہ آخری نتیجہ کو یوں بیان کیا کہ براہوی بہ ہیت مجموعی اس منبع سے ماخوذ معلوم ہوتی ہے کہ جس سے پنجابی ، سندھی بھی ماخوذ ہے ۔ لیکن اس میں ایک ڈراوی عنصر بھی شامل ہے ۔ قول فیصل اس کے الٹ ہے اور سب سے پہلے اس زبان کے ابتدائی مطالعات میں یسن نے دیا اور ایک ربعہ صدی کے پہلے ٹرمپ نے اس کی دوبارہ تصدیق کی براہوی زبان کا ماخذ وہی ہے جو ڈراوی زمرہ السنۃ کا یہے ۔ اس نے نہایت بے تکلفی سے ایرانی ، بلوچی ، سندھی اور دیگر ہمسایہ زبانوں کی بیگانی فرہنگ جذب کی ہے ۔ لیکن ان مداخلتوں کے باوجود اس کا قواعدی نظام زندہ و پائندہ رہا ۔

اس تحقیقات نے کہ براہوی زبان ڈراوی زبانوں کے زمرہ الشنۃ سے تعلق رکھتی ہے تہلکہ مچا دیا کہ ایک ایسی زبان جس کا تعلق قدیم ڈراوی گروہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس گروہ کی زندہ زبانیں اس وقت جنوبی ہند میں ملتی ہیں ۔ بلوچستان کے ایک ایسے علاقہ میں موجود ہے جس کے ارد گرد آریائی زبانیں پورے زور شور سے موجود ہیں حیرت کی جانے لگی کہ یہ ڈراوی زبان زندہ کیسے رہی اور اس کی بدولت یہ خیال کیا جانے لگا کہ براہوی بھی ڈراوی النسل ہیں ۔ لیکن براہویوں اور بلوچوں نے سختی سے اس کی تردید کی کہ براہوی ڈراوی النسل ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ براہوی بلوچوں کی طرح سامی النسل ہیں لہذا اس عقدے کو حل کرنے کے لیے ایک طویل بحث کی ضرورت ہوگی ۔

پنجابی اور سندھی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس بنیاد وہ زبانیں ہیں جو کہ آریاءوں کے آنے سے پہلے راءج تھیں ۔ یعنی ڈراوی زبانیں ۔ اگرچہ ان زبانوں کے قواعد سے اس کی نفی ہوتی ہے ۔ تاہم اس دلیل کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اگرچہ ان زبانوں کے چند جزوی الفاظ ہی ان زبانوں میں پائے جاتے ہیں ۔ کیوں کہ آریاؤں کی زبان پر بھی مقامی زبانوں کے اثرات سے ہی ان زبانوں کی بنیاد پڑیں ۔ تاہم ان زبانوں کے قواعد کی تبدیلی اس لیے واقع ہوئی کہ آریا جو کہ فاتح تھے اس لیے ان کے اثرات تمدنی زندگی میں پڑے وہاں زبانوں نے بھی لیے ۔ یہ علاقہ جو مسلسل مختلف قوموں کے زیر اثر موتر حملوں کے زیر اثر رہے ۔ اس لیے قدیم قواعد محو ہوگئے ۔ لیکن ہم اس اہم اثر کو نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے آریائی زبانوں میں تبدیلیاں واقع ہوئیں یا مقامی ضرورتوں کے زیر اثر تبدیلیاں واقع ہوئیں اور یوں یہ زبانیں وجود میں آئیں ۔ جب کہ براہوی زبان کے بارے میں بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے محفوظ رہنے کا سبب یہ ہے کہ اس کے بولنے والے پہاڑوں اور ریگستانوں سے محصور تھے ۔ جس کی وجہ سے اس پر بیرونی اثرات کم پڑے ۔ اس کی وجہ مقامی لوگوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ کم ہی رہا ۔ اس طرح یہ علاقہ سیاسی طور پر کوئی کردار ادا نہیں کرتا تھا اس لیے اس علاقہ کی زبان پر بھی اس کے اثرات کم پڑے ۔ اگرچہ ارد گرد کی زبان زبانوں سے ان کے الفاظ کے خزنے میں تبدیلیاں واقع ہوئیں لیکن قواعد میں تبدلیاں نہ ہونے کی وجہ تھی کہ ان محدود ضرورتیں اور اور محدود بیرونی رابطہ بڑی وجہ تھے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں