70

چندر بنسی

جیمز ٹاڈ لکھتا ہے کہ قدیم زمانے میں بحیرہ خزر سے لے کر گنگا کے کنارے ایک ہی قوم آباد تھی ۔ ان کا مذہب ایک تھا ، ان کی زبان ایک تھی اور یہ یادو یا جادو تھے ۔ ان کی اصل اندوسیتھک ہے اور قدیم زمانے میں یہ برصغیر پر حملہ آور ہوئے تھے ۔ رگ وید میں یادو قبیلے کا ذکر آیا ہے جس نے بھارت قبیلے اور اس کے حلیف ستجنی قبیلے کے خلاف ایک اتحاد بنایا تھا اور اس کے خلاف جنگ کی تھی ۔ اگرچہ یادو قبیلے کو شکست ہوئی مگر یہ افغانستان سے لے کر گنگا کے طاس تک پھیل گئے ۔

تاتاریوں کی روایت ہے جس کے مطابق اغوز کے بڑے لڑکے کا نام کین یعنی سورج تھا ۔ دوسرے لڑکے کا نام آیو یعنی چاند تھا ۔ آیو کا ایک لڑکا جلدس تھا ۔ تاتاریوں کا دعویٰ ہے وہ آیو یعنی چاند کی نسل سے ہیں ۔ جبکہ پرانوں میں آیا ہے کہ کہ اکشو کی لڑکی ایلا نے بدھ دیوتا جو چندر یعنی چاند کا بیٹا تھا سے شادی کی تھی اور آیو اسی کی نسل سے تھا جس کا بیٹا یادو تھا ۔ جس کو جادو بھی کہا جاتا ہے اور ہری کشن اسی آیو کی نسل سے تھا ۔ اس لئے یہ اقوام یادو یا چندر بنسی کہلاتی ہیں ۔

اقوام سیتھک میں قوم جادو نہایت مشہور تھی ۔ جو بحیرہ خز سے گنگا کے کنارے تک پھیلی ہوئی تھی ۔ ہری کرشن جو چھپن چندر بنسی اقوام کا مورث اعلیٰ ہے ۔ وہ قوم جادو کا بڑا سردار تھا ۔ جس کو اس کی وفات کے بعد وشنوکے اوتاروں میں شامل کرلیا گیا ۔ کرشن سے پہلے بدھ دیوتا جو ان کا آبا اجداد میں سے تھا کی پوجا کی جاتی تھی اور اس قوم کا سب سے بڑا دیوتا جادو ناتھ تھا ۔ جس کے نام سے جالندر شہر کا نام رکھا گیا اور یہاں جادو ناتھ کا مندر تھا ۔ اس کا سورت میں بھی مندر ہے اور متھرا میں پہلے اس کی پوجا کی جاتی تھی ۔ محمود غزنوی نے اپنے حملے میں اس مندر کو تباہ برباد کردیا تھا ۔ سکندر نے جس وقت برصغیر پر حملہ کیا تھا اس وقت جادو یمنا )جمنا( کی وادی میں حکمران تھے اور ان کے دارلحکومت کا نام پراگ )موجودہ الہ آباد( تھا ۔

کرشن سام یعنی شاہ سیاہ کے نام سے مشہور تھا ۔ اس کی آٹھ رانیوں میں سے ایک کا نام جمبوتی تھا اور اس کے بڑے لڑکے کا نام سامب تھا ۔ جاریجاہ قبائل اس کی نسل سے ہیں اور اسی کی نسبت سے ساما اور اور جام کہلاتے ہیں ۔ ان کی حکومت دریائے سندھ میں تھی اور سامبس کے دارلحکومت کا نام ساما نگری تھا جسے یونانیوں نے منارگاہ لکھا ہے ۔ انہوں نے سکندر کا مقابلہ کیا تھا اور اب مسلمان ہیں اپنی نسبت جام اور اپنی اصلیت جمشید سے کرنے لگے ہیں ۔

بھٹی جو چندر بنسی ہیں اور ان کی روایات کے مطابق وہ پہلی غزنی و زابلستان میں حکومت کرتے تھے اور وہاں سے برصغیر آئے تھے اور وہاں ان کے پس مند گان نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔ جنجوعہ ، گہکر اور دوسرے قبائل کے بارے میں بابر نے بھی ذکر کیا ہے اور یہ دونوں کلمے جادو کی تخریب ہیں ۔ تاریخ بھٹی میں ہے کہ جد اور جج دونوں قوموں کے مورث اعلیٰ تھے ۔ جو بالترتیب راجہ اور راجکمار تھے ۔ اور غالباً ان ہی اقوام کے مورث اعلیٰ ہیں ۔

یادو اقوام جو دریائے سندھ کے مغربی کنارے آباد تھیں اسلام قبول کرنے کے بعد یہود سے اپنی نسبت کرنے لگیں ۔ یہ گمان انہیں یادو کی نسبت سے پیدا ہوا ہے ۔ بلاشبہ ان کی اصلیت اندوسیتھک ہے اور ان کی رسومات اس کی تائید کرتی ہیں اس طرح یادو سے یہود میں بدل گیا ۔ پٹھانوں کا ایک قبیلہ یوسف زئی کی اصل بھی یادو ہے ۔ اس علاقہ کا ایک قبیلہ جدون ہے جو جادو کی تخریب ہے ۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں