65

برصغیر کے جرائم پیشہ قبائل

            یہ سیلانی ، جرائم پیشہ اور شکاری قبائل ہیں ۔ یہ رقص ، گائیگی ، بازی گری اور ایسے ہی دیگر مختلف مظاہروں کے ذریعے روزگار گماتے ہیں اور اکثر جرائم میں ملوث رہے ہیں ۔ تاہم یہ مکمل تو نہیں لیکن کسی حد تک جرائم پیشہ ہیں ۔ ان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ قدیمی روایات و اعتقادات کو بدستور قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ زیادہ تر اچھوت قبائل ہیں ۔ ان میں سے بعض کی خوراک میں لومڑ ، گیڈر ، چھپکلیاں ، کچھوے اور ان جیسے دوسرے جانور شامل ہیں ۔ ان کی بولیاں مقامی بولیوں کی ترمیم شدہ شکل پر مشتمل ہوتی ہے ۔ یہ اکثر خانہ بدوش ہیں اور کسی ایک جگہ مستقل رہنا پسند نہیں کرتے ہیں ۔ 

            باوریا

            باوریا ایک شکاری قبیلہ ہے اس کا نام باور یعنی پھندے کی نسبت سے پڑا ۔ جس کے ساتھ وہ جنگلی جانوروں کا شکار کرتے ہیں ۔ اس شکار میں وہ کپڑے کے چھتڑوں پر مشتمل وہ بڈادوں کی دو قطاریں لگاتے ہیں ۔ اس طرح کے بڈادوں درختوں اور گھاس میں باندھ کر جنگل میں نکل جاتے ہیں ۔ بڈادوں کی قطاروں کے درمیان بھٹک کر آنے والے خوفزدہ ہرن اور دوسرے جانور ان پھندوں کو غبور کرتے ہوئے ان میں ان کے پاؤں الجھ جاتے ہیں ۔ باوریے شکار کرنے کے علاوہ گھاس پیال اور نرسل کی اشیاء تیار کرکے دیہاتیوں کے ہاتھ بیچتے ہیں ۔ ان اصل مسکن راجپوتانہ کا مشرق شمالی علاقہ لگتا ہے ۔ یہ راجپوتانہ سے لاہور تک پائے جاتے ہیں ۔ یہ سیاہ رنگت اور ادنیٰ قامت والے ہیں ۔ اگرچہ یہ سیلانی ہیں مگر کچھ علاقوں میں آباد بھی ہوگئے ہیں اور ان کی کثیر تعداد مزدوری اور زراعتی کاموں میں مزدوری بھی کر رہے ہیں اور اچھے کاشت کا ماننے جاتے ہیں ۔ اگرچہ وہ جرائم پیشہ نہیں ہیں لیکن ان کے بارے میں بعض شکایات ملی ہیں ۔ یہ دیوی کی پوجا کرتے ہیں اور ان میں کچھ سکھ بھی ہیں ۔ تاہم مسلمان اکا دوکا ہی ہوں ، یہ چھکلی اور سور سمیت ہر جنگلی جانور اور مردار بھی کھالیتے ہیں ۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ ان کی شادی کی رسومات ایک برہمن ادا کرتا ہے اور انہیں بمشکل اچھوت تسلیم کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اسے تسلیم نہیں کیا  جاسکتا ہے ۔ یہ اکثر چور طبقہ کی طرح دیوی کی پوجا کرتے ہیں اور بھینٹ کئے جانے والے بکروں اور بھینسوں کے خون سے اپنے ماتھے پر نشانات بناتے ہیں ۔ یہ گائے کا احترام کرتے ، چوٹی رکھتے ، چتا جلاتے اور راکھ گنگا میں بہاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے قبیلہ کا جرائم پیشہ طبقہ پیسے لے کر غیر ذاتوں کو اپنی برادری میں شامل کرلیتا ہے ۔ ان کی الگ زبان ہیں جسے وہ آپس میں بولتے ہیں ۔

            ان کی تین شاخیں ہیں ۔ (۱) بیدادتی جو اپنا سلسلہ جے پور میں بداوڑ سے ملاتے ہیں ۔ یہ خانہ بدوشی ختم کرچکے ، یہ مردار نہیں کھاتے ہیں اور چھوٹی موٹی چوریوں سے پرہیز کرتے ہیں (۲) جنگلی یا کال کمالیا ۔ یہ مشرقی پنجاب میں آباد ہیں اور ان کی عورتیں کالے کمبل پہنتی ہیں اور یہ اب تک شکار کرتی ہیں ۔ جب کہ دیگر شاخیں اس پیشے کو تحقیر سے دیکھتی ہیں ۔ (۳) کاپڑیا ۔ یہ دہلی کے نواح میں آباد ہیں اور زیادہ تر سیلانی ہیں اور یہ بدنام جرائم پیشہ بھی ہیں ۔ یہ تینوں شاخیں باہم شادی نہیں کرتی ہیں ۔ دلہا لازمیں عمر میں دلہن سے بڑا ہو ۔ کسی اور ذات کی عورت سے میل ملاپ رکھنے والے مر کو برادری میں بیٹھ کر حقہ کشی کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی ساتھ کھاتی ہیں ۔ بے وفائی کرنے والی عورت کی زبان ہر سرخ گرم لوہا رکھا جاتا ہے ۔

            اہیری یا اہیر

             یہ مورثی شکاری اور چڑی مار ہیں ۔ ایلیٹ کا کہنا ہے کہ یہ دھانکوں سے نکلے ہیں ۔ تاہم یہ داھانکوں کی طرح مردار نہیں کھاتے ہیں ۔ ان کا نام ہیر یعنی گوالوں کے حوالے سے لگتا ہے ۔ ان کی عادتیں سیلانی ہیں مگر بہت سے گاؤں میں آباد ہوگئے ہیں اور ہر طرح کی جنگلی جانور پکڑتے اور کھاتے ہیں اور نرسل اور گھاس کا کام کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ کھیتوں میں کام کرتے اور خصوصاًً کٹائی کے وقت گروہوں کی صورت میں کام دھونڈتے ہیں ۔ اس کے علاوہ لکڑی اور گھاس کاٹنے اور عام مزدوروں کی حثیت سے شاہراؤں پر مٹی کے دیگر کام بھی کرتے ہیں ۔ سرسا میں یہ کاشتکاری اور کرنال میں عموما قلمی شورہ تیار کرتے ہیں ۔ راجپوتانہ میں انہیں گھر سے باہر کے کاموں اور بطور مغنی بھی ملازم رکھا جاتا ہے ۔ ان کا آبائی گھر راجپوتانہ بالخصوص جودھ پور اور بیکانیر کا علاقہ ہے ۔ مگر وہ پنجاب سے حصار دہلی تک ملتے ہیں ۔ شکل و صورت میں یہ باوریوں کی طرح سیاہ رنگت اور کوہ قد ہیں ۔ ان کی اپنی کوئی مخصوص زبان یا لہجہ نہیں ہے ۔ یہ جس علاقہ میں رہتے ہیں وہیں کی زبان بولتے ہیں ۔ ان کچھ سکھ اور باقی ہندو ہیں ۔ انہیں اچھوت خیال کیا جاتا ہے اور گاؤں دور انہیں رکھا جاتا ہے ۔ وہ گدھے نہیں رکھتے ہیں اور ناہی بڑا گوشت اور مردار کھاتے ہیں ۔ وہ عام دیہاتی دیوں کی پوجا کرتے ہیں ۔ خصوصاً جودھ پور میں کوہمند کے بابا جی اور کھترپال کی ۔ ان کی شادی وغیرہ کی تقریب چمڑوا برہمن ادا کرتا ہے ۔ یہ اپنے مردوں کو جلا کر اس کی راکھ گنگا میں بہاتے ہیں ۔ ان میں راجپوت ناموں کی ذاتیں ملتی ہیں اور یہ آپس میں شادی کرتے ہیں ۔ کچھ علاقوں میں انہیں عادی چور بتایا گیا ہے ۔    

            سانسی

            سانسی یا ساہنسی راجپوتانہ سے گجرات تک کہ علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ وہ اپنا سلسلہ نسب مارواڑ اور اجمیر سے ملاتے ہیں ۔ جہاں وہ بڑی تعداد میں آباد ہیں ۔ یہ ایک سیلانی قبیلہ ہے اور کسی علاقے میں شاذ ہی آباد ہوتے ہیں ۔ یہ ایک اچھے شکاری اور ہر قسم کے جنگلی جانور پکڑتے اور کھاتے اور مردار خور بھی ہیں ۔ یہ بھیڑ ، بکریاں ، سور اور گدھے پالے اور گھاس ، پیال ، نرسل کا کام کرتے اور بھیک مانگتے ہیں ۔ ان کی عورتیں عموماً گاتی ، ناچتی اور جسم فروشی کرتی ہیں اور خصوصاً بدکرار ہیں ۔ یہ وسطی پنجاب کے جٹوں کے مورثی ماہر انساط یا گوئیے ہیں ۔ اس کے علاوہ مشرقی پنجاب میں راجپوتوں اور سوڈھیوں کے ماہر انساب کام کرتے ہیں ۔ یہ راجپوتانہ میں خود کو بھرت یعنی بھاٹ کہتے ہیں ۔ یہ بشتر ہندو ہیں ، ان میں کچھ مسلمان اور چند ایک سکھ ہیں ۔ لیکن اچھوت ہیں اور اپنا سلسلہ نسب بھرت پور کے ایک سانس مل سے جوڑتے ہیں ۔ جس کی وہ گورو کی حثیت سے تعظیم کرتے اور ملنگ شاہ کی پوجا بھی کرتے ہیں ۔ ان کی شادیوں میں دلہن کو ایک ٹوکری سے دھانپ دیا جاتا ہے اور اس پر دولہا بیٹھتا ہے ۔ یہ دو قبائل کالکا اور مالکا میں تقسیم ہیں اور باہم شادیاں نہیں کرتے ہیں ۔

            پنجاب میں سانسی سب زیادہ جرائم پیشہ طبقہ تھا ۔ تاہم یہ زیادہ تر چھوٹی موٹی چوریاں کرتے ہیں اور پیشہ ور چور نہیں ہیں ۔ ان عادات علاقے کے لحاظ سے بھی تبدیل ہوجاتی ہیں ۔ یہ جہاں جرائم پیشہ ہیں وہاں ڈاکہ اور نقب زنی بھی کرتے ہیں ۔ ان کے گروہ شاذ ہی بڑے ہوتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے چور پیشہ ور سوائے دھیدوں اور بھنگوں کے سوا کسی سے بھی معاوضہ لے اسے اپنی برادری میں شامل کرلیتے ہیں اور یوں شامل کیا جانے والا شخص سانسی بن جاتا ہے ۔ سانسی عموماً لمبے بال رکھتے ہیں جن میں چاقو چھپاتے ہیں ۔ وہ انگشت شہادت اور انگوٹھے بھی اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ 

            مینا

            ان کا خاص وطن راجپوتانہ ہے لیکن پنجاب میں یہ جرائم پیشہ افراد کی حثیت سے ملتے ہیں ۔ یہ زراعت پیشہ میں مگر چوری بھی کرتے ہیں ۔ مجرم طبقات میں مینا سب سے بے خوف ہیں ۔ ان کی مہم جوئی وسیع پیمانے پر ہوتی ہے اور ضرورت پرنے پر یہ تشد سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں ۔ یہ پہلے چھوٹے تیر کمانوں مسلح ہوکر ان کے بارہ سے بیس آدمیوں کی صورت میں طویل سفر کرکے دور دراز کے علاقوں میں ڈاکہ زنی کرکے آتے تھے ۔ ہر جگہ ان کے کارندے ہوتے تھے جو ان کو اطلاعات فراہم کرتے تھے ۔ کامیاب مہم کے بعد مال کا دسواں حصہ کالی کے مندر میں نذر کرتے تھے ۔ ان کا راجپوت ہونے کا دعویٰ ہے اور کہا جاتا ہے یہ راجپوتوں کی ناجائز بیٹے کی اولاد ہیں ۔ عورتوں میں جب کوئی عورت کسی دوسری عورت ناجائز کا طعنہ دیتی ہے تو اسے مینا دینا کہتی ہے ۔ یہ راجپوتوں کی طرح بیوہ کی شادی بھی نہیں کرتے ہیں ۔ ان کی ایک اپنی بولی ہے ۔ یہ زیادہ تر مشرقی پنجاب اور راجپوتانہ میں آباد ہیں اور سب ہندو ہیں ۔

            ہارنی یا ہرنی

            یہ اتنہائی مجرمانہ ذاتوں میں سے ایک ہیں ۔ کہا جاتا ہے یہ قحط کے خوف سے بھاگے ہوئے بھنٹیر کے راجپوت ہیں ۔ انہیں راجپوتانہ کے بھیل اور گونڈ بھی بتایا جاتا ہے ۔ ان کے کے خاص جرائم نقب زنی اور شاہراؤں پر لوٹ مار کرنا ہیں ۔ اس لیے وہ جھتوں کی صورت میں اکثر حمالوں کے بھیس میں سفر کرتے تھے ۔ ان کی عورتیں بھی پھیری لگانے کے بہانے ادھر ادھر گھوم کر معلومات حاصل کرتی ہیں اور یہ سب مسلمان ہیں ۔

            بنگالی

            بنگالیوں کا ایک مجرمانہ طبقہ موجود تھا ۔ یہ سیلانی تھے اور گدھے اور کتے پالتے  اور سانپوں کا مظاہر کرتے تھے ۔ ہر طرح کے جانور کھاتے تھے ۔ ان کی عورتیں گاتی ، ناچتی اور جسم فروشی کرتی تھیں

            بلوچی

            بلوچیوں ایک چھوٹا سا طبقہ پنجاب میں جرائم پیشہ تھا ۔ وہ اکثر جگہ چیدہ چیدہ نظر آتے تھے ۔ ان کا مرکزی گاؤں سروتی کے کنارے ایک ایسی جگہ آباد تھا جہاں گھنے جنگل تھے اور برسات میں ایک خاص کر جب سڑکیں زیر آب آجاتی تھیں تو ان کے گاؤں جانے کا راستہ بھول بھلیوں سے گزر کر جاتا تھا ۔ جہاں ایک اجنبی نہیں پہنچ سکتا تھا ۔

            وہ ایک حقیقی بلوچ نسل سے ہیں اور اپنے قبائلی نام رند ، لاشاری ، جتوئی اور کورائی وغیرہ بتاتے ہیں ۔ لیکن وہ عادات میں بلوچ زمیندار اور شتربان بلوچ سے مختلف ہیں ۔ انہیں گہری رنگت والے اکہر شخصیت کے مالک اور الگ تھلک رہنے والے بیان کیا گیا ہے ۔ مسروکہ ذیورات سے اور دیگر جائیداد سے مالا مال ہونے کے علاوہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جو انہیں خاکروب ذات سے الگ کرتی ہو ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان آبا اجداد قصور کے آگے آباد تھے ۔ جہاں سے انہیں لوٹ مار کی عادت کی وجہ سے نکال دیا گیا ۔ وہ اونٹ پالتے ہیں اور تھوڑی بہت زمین کاشت کرتے ہیں ۔ وہ سال کے بشتر مہینوں میں اپنی عورتوں کو گھروں میں چھوڑ کر فقیروں کے روپ میں یا بھیڑیں خریدنے والے قصابوں کے بہانے دور دراز علاقوں میں لوٹ مار کرتے تھے ۔

            تاگو

            کرنال اور گنگا جمنا کے علاقہ میں تاگو تسلیم شدہ برہمن ہیں ۔ تاگو کا استعمال کسی ایسی ذات کے ایسے حصے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ جو جیب تراشی اور چھوٹی موٹی چوریاں کرتا ہے ۔ یہ صرف دن میں چوریاں کرتے اور اپنی عورتوں کو گھر میں بند رکھتے تھے ۔ یہ جینو یا مقدس دھاگہ پہنتے تھے ۔ کہا جاتا ہے یہ درست تاکو ہے عموماً تاگو بولا جاتا ہے ۔

            کنجر

            کنجروں کو کہیں رنڈی یا دلال یا کنچن پکارا جاتا ہے ۔ یہ کسی بھی رنڈی اور دلال کے لیے عام کلمہ ہے ۔ کنجر ایک ایسی ذات جو کہ اپنی لڑکیوں سے جسم فروشی کرانے کے لیے مشہور ہیں اور کئی اور دوسرے گروہ جو کہ جسم فروشی کرتے ہیں مگر کنجر کے نام سے مشہور ہیں ۔ ان میں کنجروں کے علاوہ کچن ، نٹ اور پرنا ذاتوں کے افراد شامل ہیں اور ان سب کے لیے عموماً کنجر کی اصلاح استعمال ہوتی ہے ۔ واضح رہے ملتان میں آباد ایک زراعت پیشہ جٹ قبیلہ کنجر ہے اور ان کا جسم فروشی کے پیشہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ پنجاب میں ساسی کو بھی کنجر کہا جاتا ہے ۔

            کنجر جو کہ جسم فروشی کراتے ہیں اور تقسیم سے پہلے ان کی ایک چوتھائی تعداد مسلمان تھی ۔ انبالہ کے علاقہ میں کنجر جلاد کہا جاتا ہے اور ان کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کا مورث جلاد تھا اور دہلی دربار سے وابستہ تھا ۔ جلاد جلد سے بنا ہے اور یہ باشاہوں کے زمانے سزائیں دینے کا کام کرتے تھے ۔ جن میں پھانسی دینا ، ہاتھ پیر قطع کرنا اور کھال اتارنا وغیرہ شامل تھا ۔ سرسا کے علاقہ ہندو کنجر قبیلہ بھی آباد ہیں اور دہلی کے علاقہ میں کنجر ایک سیلانی یا خانہ بدوش قبیلہ آباد ہے ۔ جو کہ علاقہ میں گھوم پھر کر گیڈر اور رینگنے والے جانور پکڑتے ہیں اور انہیں کھاتے بھی ہیں ۔ اس کے علاوہ گھاس کی اشیاء جن میں رسے ، کوچیاں اور دوسری اشیاء بناتے ہیں ۔ ان حثیت نٹ سے کچھ بلند ہے تاہم پست یا اچھوت ہیں ۔ یہ ماتا یا کالی مائی کی پوجا کرتے ہیں ۔ لیکن غالباً یہ کسی اور دیوی کی پوجا کرتے تھے اور بعد اسے کالی کا نام دیا ہے اور یہ گگا پیر کی تعظیم کرتے ہیں ۔ یہ بھی اپنی بیٹیوں کی دلالی یا جسم فروشی کراتے ہیں ۔ یہ انگریزی چھاونیوں میں ان کے مرد پس ماندہ کام اور ان کی عورتیں گھریلو خدمت بھی انجمام دیتی تھی ۔

            کنچن 

            کنچن جو کہ سنسکرت کا کلمہ ہے اور اس کے معنی چمکدار یا سونا ہے ۔ لیکن کنچن سے مراد ایک طوائف یا جسم فروش عورت کے ہیں اور یہ کنجر کا مترادف بھی ہے اور کنچن تقریباً تمام مسلمان ہیں ۔ ان کچھ سکھ عورتیں بھی کنچن کہلاتی ہیں ۔ اس کے بلمقابل ہندو فاحشہ عام طور پر رام جنی کہلاتی ہے اور کنچنوں کی اولادیں اور ان کی خریدی ہوئی لڑکیاں بھی کنچن کہلاتی ہے ۔ بعض جگہ ان میں جو نسل در نسل پیشہ کرتی ہیں وہ وہ ڈیرہ دار کہلاتی ہیں اور وہ نئی آنے والی کو تحفیر کی نذر سے دیکھتی ہیں ۔ ان کے یہاں بیٹی کی پیدائش بڑی مبارک سمجھی جاتی ہے ۔ عموماً ان میں غیر شادی شدہ لٹرکیاں پیشہ کرتی ہیں لیکن بیویوں اور بہوؤں کو باعزت عورتوں کی طرح پردے میں رکھا جاتا ہے ۔ جب کوئی لڑکی بالغ ہوتی ہے تو پہلی مرتبہ کسی مرد کو پیش کرتے وقت ضیافت مِسی منعقد کی جاتی ہے ۔ اس سے پہلے لڑکی نتھ پہنتی ہے لیکن بعد میں نہیں ۔ اس طرح حمل کے ساتویں مہینہ بعد ایک تقریب منقعد ہوتی ہے جس میں برادری کی دعوت کی جاتی ہے ۔ برادری کا مراثی دادا کہلاتا ہے اور کنچنوں سے سالانہ کچھ رقم لیتا ہے ۔ کسی عورت کو اپنی ذات یا برادری میں شامل کرتے وقت اسے ایک گلاش شربت پلایا جاتا ہے اور اسے بھی حقیقی بیٹیوں کی طرح جائیداد میں حصہ دیا جاتا ہے ۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ اپنی لڑکیاں دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ ایک وہ جن کے ساتھ شادی کرتے ہیں اور ان سے جسم فروشی نہیں کراتے ہیں ۔ دوسری ان سے جسم فروشی کراتے ہیں ۔

            نٹ

            نٹ ایک خانہ بدوش قبیلہ ہے اور یہ گھوم پھر کر کرتب اور شعبدہ بازی کے علاوہ گھاس ، پیال اور نرسل کی اشیاء فروخت کرتے ہیں ۔ اکثر تھوڑی بہت جراہی اور امراض کا علاج بھی کرتے ہیں ۔ ان میں بھی دو گروہ ہوتے ہیں ۔ ایک جس کے صرف مرد کرتب دیکھاتے ہیں ۔ دوسرے گروہ میں مرد کے علاوہ عورتیں بھی کرتب دیکھانے کے علاوہ جسم فروشی بھی کرتی ہیں اور کبوتری کہلاتی ہیں ۔ ان کی بھی ایک چوتھائی تعداد مسلمان ہے ۔ ان میں ہندو اگرچہ پھیرے لگا کر شادی کرتے اور مردے کو چتا جلاتے ہیں لیکن ہیں اچھوت ہیں ۔ یہ شکار کے لیے کتے پالتے ہیں جنگلوں کے چھوٹے موٹے ہر طرح کے جانور کھالیتے ہیں ۔ یہ دیوی ، سکھوں کے گرو تیغ بہادر جی اور ہنومان یا بندر دیوتا کی خصوصی تعظیم کرتے ہیں ۔ ہنومان کی تعظیم کرنے کی وجہ بندروں کی کرتب دیکھانے کی صلاحیت ہے ۔ حیران کن بات یہ ہے ان میں یورپ کے جبپسیوں کی طرح ان کے قبیلے میں راجہ اور رانی بھی حکمران ہوتے ہیں ۔

            مسلمان نٹ اپنی کنواری لڑکیوں سے پیشہ کراتے ہیں شادی شدہ سے نہیں ۔ جب نٹ عورت شادی کرتی ہے تو جسم فروشی ہونے والے نقصان کے بدلے پہلا بچہ دادی کو دیا جاتا ہے اور اس کو روپیہ دے کر واپس لیا جاسکتا ہے ۔ یہ روایت بھی ہے کہ مرد پہلی بیوی کو خانہ نشین رکھتا ہے اور باقی بیویوں سے جنہیں خرید کر یا کسی اور ذارئع سے حاصل کرتا ہے ان سے پیشہ کرتا ہے ۔

            پرنا

            پرنا بھی خانہ بدوش ہیں اور بہت حد تک نٹ سے مشابہ ہیں اور یہ بھی کرتب دیکھاتے ہیں ۔ مگر ان میں نٹوں میں فرق یہ پرنے مبینہ عورتوں سے پیشہ کراتے ہیں لیکن نٹ ایسا نہیں کرتے ہیں ۔ کچھ پرنوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی ذات چوہڑا ہے مگر اب ان کی اکثیریت مسلمان ہے اور باقیدہ ان میں نکاح کیا جاتا ہے ۔ ان میں دو طبقات ہیں جو موسیقی پر بارہ تالی اور تیرہ تالی کہلاتا ہے۔

            قلندری

            یہ ایک مذہبی فرقہ ہے ۔ مگر یہ بندر والے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ تاہم یہ فقیروں کہ لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ جو کہ مذہبی ڈھونگ رچاتے ہیں ۔ یہ ریچھ ، بندر اور دوسرے جانوروں کو لیے پھرتے ہیں اور تماشہ دیکھا کر اور لوگوں تعویز گنڈے فروخت کرتے ہیں ۔

ماخذ

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں