61

دیانندد سرستی

آریا سماجی کا بانی دیانندد سرستی 1824ء یا1828 ء مول شنکر ولد امبا شنکر گجراتی شیوی برہمن مقام مروی ریاست کاٹھیاوار میں پیدا ہوا ۔ یہ شخص 1845 ء میں سنیاسی ہوگیا ۔ 1860 میں اس نے سنیاس چھوڑ کر متھرا میں قیام کیا ۔ یہاں اس نے ورجانند سرستی سے سنسکرت زبان میں مزید تعلیم حاصل کی اور اپنا نام بدل کر دیانند سرستی رکھ لیا ۔ اگرچہ اس نے اپنا نام بدل دیا لیکن اس کا دل دیا کے مادہ سے بالکل خالی تھا ۔ اس کی سنسکرت عبادت کا ہندی میں ترجمہ کیا کرتا تھا ۔ بیان کرتا ہے کہ جب ملکہ وکٹوریہ کا دربار دہلی میں منعقد ہوا تو یہ شخص جلسہ دیکھنے کی غرض سے چار نوکروں کو ہمرا لیتا گیا ۔ وہاں ہجوم کی وجہ سے اتفاقاً اس کی گھٹری جس میں اس کے پرانے کپڑے تھے گم ہوگئی ۔ اس نے گھتری کے پیسے ان نوکروں کی تنخواہ سے کاٹ لیے ۔

جب دیانند سرستی کی واقفیت سنسکرت سے ہوئی تو اس نے یقین کرلیا کہ ہندو دہرم میں کوئی قاعدہ متعین نہیں ہے اور ویدک دھرم ناقابل تعلیم ہونے کی وجہ سے لوگ اس دھرم کو چھوڑ کر غیر مذہب میں داخل ہورہے ہیں ۔ اگر اس کا انسداد نہ کیا گیا تو ہندوستان سے ہندو دھرم کا خاتمہ ہوجائیگا اور ایک شخص بھی برہمنوں کی خدمت کے میسر نہ ہوگا ۔ برہمنوں کی قوم جو آج افضل سمجھی جارہی ہے اور ذلیل ہوجائے گی ۔ اس نے دور اندیشی سے دیگر مذاہب علی المخصوص اسلام پر لغو اور لاطائل اعتراضات اور افترا پروزیاں کرکے ان لوگوں کو جو دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے تھے روکا اور ہندو دھرم کے نقاءص دور کرنے کی غرض سے ستیارتھ پرکاش میں تحریر کیا کہ مندرجہ ذیل کتب کے علاوہ دوسری کتب ناقابل تسلیم اور دھوکے کی ٹٹیاں ہیں ۔

دیاکرن یعنی صرف و نحو میں کاتنتر سارسوت چندر کا ، مگدھ بودھ ، کومدی ، شکیھر ، منورما وغیرہ ۔ لغت میں امرکوش وغیرہ ، جھندر گرنتھ یعنی علم عروض میں ورت رتناکر وغیرہ شکشا میں وہ کتاب جس میں ایسا لکھا ہوا ہو کہ میں پاننی کے مسلمہ اصول کے مطابق شکشا کا بیان کروں گا وغیرہ ۔ جوتش یعنی علم ہیت میں شیکھر بودھ ، مہورت چنتامنی وغیرہ ۔ کاویہ یعنی نظم میں نایک بھید ۔ کولیا نند ۔ گھوونش ، ماگھ ، کراتر ، جونیہ وغیرہ ممیاسہ میں دھرم سندھو ۔ ورتاک وغیرہ ۔ ونشیشک میں نرک ، سنگر وغیرہ ، ینائی میں جاگدیشی وغیرہ ، یوگ میں بٹھ پردیب وغیرہ ، سانکھ میں سانکھیہ تنو کوماری وغیرہ ۔ ویدانت میں یوگ وشسٹھ پنچ وشی وغیرہ ۔ ویدک میں سارنگ دھر وغیرہ ۔ سمرتیوں میں سوائے ایک منو سمرتی کے باقی سمرتیاں اور منو سمرتی میں بھی تخریف شدہ اشلوک ۔ سب تنتر گرینتھ پران ۔ اپ پران ، بھاشا رامائن مصنفہ تلسی داس ، رکمنی منگل وغیرہ اور دیگر سب بھاشا گرنتھ وغیرہ ۔ ہر فن کی کتابوں کے آگے وغیرہ کا ثابت کرتا ہے کہ بتلائی ہوئی فہرست کے علاوہ اور بھی اس فن میں غیر مستند کتابیں ہیں ۔

گویا کوئی کتاب قابل اعتبار نہیں ۔ مہارشیوں نے ویدوں کی شرحیں لکھنے میں غلطیاں کیں ہیں ۔ وید منتر کے صحیح مطالب فقط میری سمجھ میں آئے ہیں جن کو میں ظاہر کروں گا ۔ اس اعلان پر میں نے وید یپ ، برہم بھاشیہ اور دیانندی بھومکا کو جن میں وید منتروں کا ترجمہ کیا گیا ۔ دیانند نے وید منتروں کا درست ترجمہ نہیں کیا تھا بلکہ ان مضامین کے اپنی طرف سے لکھے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ کہا کہ یہ فلاں وید کے فلاں منتر کا ترجمہ ہے ۔ مشتے نمونہ از خروارے چند ، چند منتروں کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے ۔

ات سکتھیا اوگودندے ہی ۔ ومنجم چار یا ورشن یاسترینام جیو بھوجنہ (یجر وید باب 23)

وید ویپ کا ترجمہ ۔ یجماں یعنی سچ کا مہتم گھوڑے سے کہتا ہے تو میری عورت سے جماع کر (حظ خلاف وضع فطری)

برہم بھاشیہ کا ترجمہ ۔ یج کا مھتم گھوڑے سے کہتا ہے کہ اے گھوڑے تو ران سے اوپر پر ان کو دھارن کر ۔

ترجمہ دیانندی بھومکا ۔ پرمیشور کہتا ہے میرئبس سمیت وددانو تم زانی اور چور اور ٹھگ کو اور اس کو جو زنا ، چوری ٹھگی سکھائے اس کو لٹا ٹانگ کر مار ڈالو ۔

یکا شکیو شکنتکا ہل گئی دنچتے ۔ آینتے ، گبھے بویگلا لیتے دھار کا (یجر وید دھیا 23 منتر 22)

ترجمہ وید ویپ ۔ برہمن فاضل یجہ کے مکان میں جوان کنواریوں سے فحش بکتے اور ان کی سترگاہ کی طرف انگلیوں کے اشارے کرتے ہیں ۔

ترجمہ مندر برہم بھاشیہ ۔ برہما کشتا دیویوں سے ہنستا ہے یہ ہی شریر کو کو پراشکتی میں داخل کرتا ہے اور گوری لچھمی اس کو نکل جاتی ہے ۔

ترجمہ مندرجہ دیانندی بھومکا ۔ جیسے باز کے روبر چھوٹی چھوٹی چڑیاں ایسے راجہ کے روبر رعایا جیسے ہرن کے لیے جو کے کھیت ، ویسے راجہ کے لیے رعایا کا مال اسباب ۔ جیسے ان سے چڑیوں اور کھیت کا نقصان ہوتا ہے ۔ ویسے راجہ سے رعایا غارت ہوجاتی ہے ۔ اس راجہ گھاتک کو جلاد کہتے ہیں کسی ایک راجہ کبھی نہ ماننا چاہیے ۔ بلکہ آریہ سماج جوڑ کر اس کے حکم کا کاربند رہنا چاہیے ۔

ماتاچ تے یتاچ لئے اگرم کشسی و ہتہ پر تلامی تے پتا گبھے مشٹ متم بست ۔ (یجر وید 23 منتر45 ، 24)

ترجمہ وید ویپ ۔ برہما ہنستا ہوا یجمان کی عورت سے کہتا ہے کہ جب تیری ماں اور تیرا باپ پلنگ پر سوئے تب تو پیدا ہوئی ۔

ترجمہ برہم مہاشیہ ۔ پرہما مہیشی سے کہتا ہے کہ تری ماں پراشکتی آور تیرا باپ مہا نارائن درمنت کے اگلے پانیوں (کالے بادلوں ) پر چڑتے ہیں اس وقت تیرا باپ اتنا کہتے کہتے ہی منزل ہوگیا کہ میں تیرے بھوگ سے خوش ہوں (داماد کا اپنی بی بی سے اپنی خوشدامن اور سسر کا حال بیان کرتا ہے)

ترجمہ دیا نندی بھومکا ، راجہ اپنی رعا ای کی چیزیں زور سے چھین لیتا ہے جہاں اکیلا ایک شخص راجہ ہوتا ہے وہ رعایا کی عمدہ عمدہ عمدہ چیزیں غصب کرلیتا ہے اس لیے ایک کو راجہ کی کبھی نہ ماننا چاہیے ۔ بلکہ سبھا وکش (میرفیس) سمیت سماج کے حکم میں رہنا چاہیے ۔

یدنویومتے نہ یشتم یشو میتو ۔ شودرے دری جار اپنو شای دھنایتے ۔ (یجر وید ویدا دھیا 23 منتر 30)

ترجمہ وید ویپ ۔ کسان شودر کی بی سے کہتا ہے جب کسان زنا کر گزر تا ہے تو شودر یہ نہیں سوچتا کہ میری بی بی مظبوط ہوگئی ۔ بلکہ اس خیال سے کہ زانیہ ہوگئی ہے سخت کراہتا ہے ۔

ترجمہ مندرجہ برہم بھاشیہ ۔ کسان خدمت گار کی بی بی سے کہتا ہے کہ جس وقت غیر کی پرستش کرنے والی روح کی بی بی عقل برہم چھوڑ کر دوسرے دیوتاؤں کو پوجنے لگتی ہے ۔ حصول نجات کے لیے قوت نہیں پاتی ۔

ترجمہ دیا نندی بھومکا ۔ جیسے ہرن پرانے کھیت کے جو کھا کھا کر خوش ہوتے ہیں ۔ ویسے راجہ رعیت کی عمدہ عمدہ چیزیں لوٹ لیٹا ہے ۔ جیسے شکاری موٹے تازے حیوان مار کھاتا ہے ۔ ویسے ہی راجہ رعایا کو تباہ کر ڈالتا ہے ۔ اس لیے کسی احمق سے احمق کو بھی اعلیٰ عہدہ نہ دینا چاہیے ۔

اگرچہ دیانند نے مندرجہ بالاوید منتروں کے ترجمہ میں راجہ کی برائیاں بیان کیں ہیں لیکن اس کے برعکس دیانندہ بہاشیہ میں راجہ کی تعریف کی ہے اور وید منتروں کا ترجمہ

اے راجہ تو پورب کی طرف چڑھائی کر ۔ (یجر وید ادھیا 10 منتر 11)

اے راجہ تو دکن کی طرف چڑھائی کر اور دشمنوں کو جیت ۔ (یجر وید ادھیا 10 منتر 12)

اے راجہ تو پچھم کو فتح کرکے مال و دولت حاصل کر ۔ (یجر وید ادھیا 10 منتر 11)

اے راجہ اتر کی طرف چڑھائی کر ۔ (یجر وید ادھیا 10 منتر 13)

اے راجہ تو دشمنوں کے لیے مجسم ہتیار ہے ۔ (یجر وید ادھیا 10 منتر 21)

اے راجہ جیسے راکشسوں کے گلے کاٹتا ہوں ویسے تو بھی کاٹ ۔ (یجر وید ادھیا 6 منتر 1)

اے راجہ جس کام میں بڑے بڑے متکبر دشمن مارے جائیں اس کے لیے جہاد وغیرہ کے کاموں باز پرندے کی مانند جھپٹ مارنے والا ہے ۔ دولت کی جمعیت کے لیے تجھے قبول کرتا ہوں ۔ (یجر وید ادھیا 6 منتر 23)

اے اقبال مند راجہ تو سعادتمندی حاصل کر اپنے ہم مذہب کے لیے سکھ پھیلایا اور مذہب کے مخالفوں کو بھسم کر ڈال جو ہمارے دشمنوں کی حمایت کرتا ہے اس کو نیچے کی سوکھی لکڑی کی مانند ادھر جلا کہ جدہر اس کی ہوا بھی نہ آئے ۔ (یجر وید ادھیا 13 منتر 13)

دیانند نے سیتارتھ پرکاش میں دعویٰ کیا کہ وید ازلی ہیں ۔ لیکن پھر وید کا ترجمہ کرکے یہ ثابت کیا کہ میرا دعویٰ غلط ہے ۔ اس نے ستیارھ پرکاش کے تیسرے سملاس میں بیان کیا کہ جو سلسلہ کائنات کے مطابق ہو وہ حق اور جو جو سلسلہ کائنات کے مخالف ہو وہ باطل ہے ۔ جیسے کوئی کہ ماں باپ کے وصل کے بغیر لڑکا پیدا ہوا ۔ ایسا قوم بوجوہ مخالفت سلسلہ کائنات کے باطل ہے ۔ اس کے برعکس آٹھویں سملاس میں بیان کی کہ آغاز دنیا میں ہزاروں انسان ماں باپ کے بلا اتصال پیدا ہوئے ۔ دوسرے مقام پر اسی سملاس میں بیان کیا کہ دنیا کا نہ آغاز ہے نہ انجام نہ ابتدا ہے نہ انتہا ۔ دیباچہ میں تحریر کیا کہ جو شخص مصنف کے برعکس منصوبوں سے کتاب کا مطالعہ کرے گا اس کو مطلب کچھ بھی واضح نہ ہوگا ۔ بہت سے لوگ ایسے ضدی اور متمرد ہوتے سے ہیں کہ متکلم کے خلاف منشا تاویل کرتے ہیں ۔ خصوصاً مذہب والے لوگ ۔ کیوں کہ مذہب کے پاس خاظر ان کی عقل تاریکی میں پھنس کر ذائل ہوجاتی ہے ۔ باوجود اس قول کے اس نے تمام رشیوں اور مہارشیوں کے ترجمہ اور تفسیروں کو غلط بتلاکر وید کا ایسا ترجمہ کیا جس کو لفظوں کچھ تعلق نہیں ۔

دیانند سوائے سنسکرت کے علاوہ وہ کسی اور زبان سے واقف نہ تھا ۔ لیکن دیگر زبان کی کتابوں پر لغو طائل اعتراض کردیئے ۔ اول اول یہ شخص اپنے خیالات کے اظہار کرنے کی غرض سے کلکتہ سے بمبئی گھومتا رہا ۔ جب کچھ کامیابی نہ ہوئی تو بلند شہر میں آکر مقیم ہوا ۔ یہاں اس نے دیکھا کہ 1881 میں دی بپٹسٹ مشنری سوساءٹی 1813 میں دی چرچ مشنری سوساءٹی 1819 میں لندن مشنری سوساءٹی 1833 میں سوساءٹی فارد دی پروگرس آف ای گاپھیل 1882 میں متھیوڈسٹ اپسکوپل چرچ وغیرہ انجمنوں نے آگرہ میرٹھ بنارس اور کانپور وغیرہ میں داخل ہوکر یتیم بچوں کو پرورش کرنا مریضوں کا علاج کرنا اور لڑکیوں کو تعلیم دینا ، محتاجوں کو دستکاری سکھانا شروع کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو دھرم کی کثیر جماعت عیسائی ہوگئی ۔

پراوبکارنی سبھا

دیانند نے سوچا کہ راجہ رام موہن رائے نے بھی اپنے دھرم کی اشاعت کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا اور برہمنو سماج قائم کی اور اس کو نمایاں ترقی ہوئی ۔ مجھ کو بھی اپنے دھرم کا پرچار کرنے کے لیے یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ یہ سوچ کر اس نے بلند شہر اور اجمیر میں پراوبکارنی سبھا قائم کی ۔ چونکہ اس کی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے اس نے اپنی کل جائداد پردبکارنی سبھا کے حوالہ کرکے یتیم بچوں کی پرورش کا انتظام کیا ۔ رفتہ رفتہ سماج میں ترقی ہوئی ۔ دیگر شہروں میں سماجیں قائم ہوگئیں ۔ جب بہت سی سماجیں قائم ہوگئیں تو ان کا ایک صدر مقام بنایا گیا ۔ جس کے نام پرتی ندہی سبھا رکھا گیا ۔

اس سبھا نے اتنی ترقی کی کہ ہر علاقہ کے شہروں اور قبضوں اس کی شاخیں قائم ہوگئیں ، جس میں ہر ممبر اپنی آمدنی کا دسواں حصہ سماج کو دیتا ہے اور سماج اپنی آمدنی کا دسواں حصہ پرنی ندےھی سبھا کو دیتی ہے ۔ یہ اپنے ممبروں کی تربیت کرتے ہیں جو کہ گھوم پھر کر لوگوں کو سماج میں داخل ہونے کی ترغیب دیتے ہیں ۔ جاہل اور لاعلیم اشخاص کو سماج میں ترغیب کے ذریعہ داخل کرکے اس کی آمدنی کا دسواں حصہ وصول کر تے ہیں ۔ اس کے لیے دیگر مذاہب پر لغو لاطائل اعتراض کرتے ہیں اور اس ہر قسم کی افتراپروازیوں سے کام لیتے ہیں اور کتابیں تصنیف کرکے مفت تقسیم کرتے ہیں ۔ عام طور پر ہندو یہ دیکھ کر کہ آریہ اوپدیستک غیر مذاہب کی توہین کرتے یقین کرلیتے ہیں کہ آریہ دھرم کے اصول ضرور اچھے ہوں گے دھوکا کھا کرسماج میں داخل ہوجاتے ہیں ۔

تقریباً 1891ء میں سماج نے اعلان کیا ہندو ذلیل نام سلاطین اسلامیہ کا عطا کیا ہوا ہے ۔ ہم اس نام کو بدل کر اپنا نام آریہ رکھتے ہیں ۔ سناتن دھرمیوں نے اعلان کیا یہ الزام جھوٹا ہے ۔ ہندو کا لفظ دو مصدروں ہن اور دو سے مرکب ہے جس کے بنا سے دور رہنے والا ترکیبی معنی ہیں ۔ بھجن مالا مطبوعہ سیالکوٹ نے یہ بہ آواز پکار کر کہا ;242;

ہندو لفظ کے معنی کرکے چاکر جو ربتا سا اپنی ذات کو آپ ڈبووت کرم دھرم نامناسب

پن دھا تو ہے بنا پاپ کا دوکی دور ہی بھاشا

ہن اور دو کا میل کرنے سے ہندو بھیا پرکاشا

نیک بخت سوجو تجے پاپ کو رب پر ڈررہ شواسا

اس وید پکاریں ہندو سمجھ نہ مورکھ باسا

بھارت کا دستور بگاڑ کر بنتا بھرے مہاشا

ہری سیوک دن چار ٹہرجا انت نرک میں داسا

اس اختلاف کا یہ نتیجہ یہ ہوا 1891ء کی مردم شماری میں آریہ اور ہندو علحیدہ علحیدہ شمار کئے گئے اور آریہ دھرم والوں کی تعداد نہایت قلیل تھی ۔ سماجی ایدیشک اپنی فعل پر شرمندہ ہوئے ۔ 1901ء کے بعد ان لوگوں نے مناسب سمجھا کہ آریہ سماج کو ہندو دھرم کی ایک شاخ قرار دی جائے ۔ تاکہ ملکی معاملات میں سماجیوں کو حصہ لینے کا کافی موقع ملے ۔ محض اس بنا پر سمانیوں نے اپنی غلطی کا اقرار کرنے اور آریہ سماج کو ہندو دہرم کی ایک شاخ قرار دی اور1911 ء کی مردم شماری آریہ سماج کو ہندو دھرم کی ایک شاخ شمار کیا گیا ۔

دیانندی تعلیم مندرجہ ستیارتھ پرکاش کو دیکھ کر گوشت کا استعمال کبھی بھول کر بھی نہ کرنا چاہیے ۔ پہلے پہلے سماجی ممبر گوشت خواری کے سخت مخالف رہے اور گلی کوچوں میں گوشت خواری کی مذمت کرتے پھرتے ۔ لیکن جب سنکاروں ہی میں دیکھا کہ دیانند گوشت خوری کی اس طرح تعریف کرتا ہے کہ جو شخص پنڈت دشمنوں پر ظفر یاب سوئمبر کی رسم سب پر غالب آنے والا ، لڑائی میں اس درجہ کا ثابت قدم بے خوف رونے والا ، تعلیم یافتہ ، ذکی خوش سخن ، ویدوں اور وید کے جملہ علوم کو جاننے والا اور پڑھانے والا ۔ بیاس کے پتر سکھدیو کی مانند لڑکا اس کو چاہیے کہ گھی سے تربتر پلاوَ کھائے ۔ سوتر استھان میں دہنوتری کا قول پڑھا کہ مرغ ممسک سبھی زہریلے بخار اور ردی صفرا اور غفلت خون کا قاطع ہے ۔ مرغ پلاوَ نہایت مفید و اکثیر اعظم ہے ۔ زباں زد عام اشلوک

;242; اجے پترم کھرا دوشم میں دوشم کٹکامدھرا دوشم تام پاترنگ بسو اددشم ہر دوکار

بکری کا گوشت کھانے میں کوئی نقص نہیں ہے لیکن اس کے کھر میں نقص ہے ۔ مجھلی میں کچھ نقص نہیں لیکن اس کے کانٹے میں نقض ہے ۔ شراب میں کچھ نقص نہیں لیکن شراب کو تامبے کے برتن میں استعمال کرنے میں نقص ہے ۔ رنڈی بازی میں نقص نہیں لیکن بڈھی عورت کے ساتھ مجامعت کرنے میں نقص ہے ۔ لہذا سماجیوں کی بڑی تعداد گوشت خوری پر کمر بستہ ہوگئی ۔ نتیجہ نکلا کہ اپدیشکوں کی زبان درزی بند ہوگئی تمام اور سماجی اس امر پر متفق ہوگئے کہ جس کا جی چاہے گوشت کھائے اور جس کا جی ناچاہے وہ گوشت نہ کھائے ۔ گوشت کھانے والی جماعت نے اپنا نام ماس پارٹی اور نہ کھانے والی جماعت نے اپنا نام گھاس پارٹی رکھا ۔

دیانندی تعلیم کے مطابق اول اول سماجیوں نے بڑے زور شور سے صبح شام اگنی ہوتر کرنا شروع کیا ۔ اس خیال سے کہ اس کے ذریعہ ہوا صاف ہوتی ہے اور بیماریاں دور ہوتی ہیں ۔ لیکن جب ممبروں کو معلوم ہوا کہ گھی جلانے سے بدبو گھی کی خوشبو میں چھپ جاتی ہے زائل نہیں ہوتی ہے ۔ کابولک سبڈگاس جو گھی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے مختلف امراض طاوَن ملیریا وغیرہ کو نمایاں کردیتی ہے ۔ سماج کے سمجھدار ممبروں نے اگنی ہوتر کرنا موقوف کردیا ۔ لیکن کثیر تعداد اگنی ہوتر کرتی رہی ۔ صرف ریل کے مسافر اور سرکاری ملازم سفر کرنے اور کارمنصفی کے انجام دیتے وقت جب اگنی ہوتر نہیں کرسکتے تھے ۔ مجبوراً دیانند کے حکم کی انحرفی کرتے رہے ۔ جب گرانی کا زمانہ آیا تو گھی کا دستیاب ہونا ہر شخص کے لیے آسان نہ رہا ۔ عام طور پر سماجی ممبر اگنی ہوتر کو چھوڑ بیٹھے اور سمجھ گئے جو چیزیں قدرت نے کھانے لیے پیدا کی ہیں ان کو جلا جلا کر ضائع کرنا حماقت ہے ۔

دیانندی تعلیم کے مطابق اول اول سماجی ممبر پرانا یام کرتے رہے ۔ اس خیال سے کے اس کے کرنے سے زندگی بڑھتی ہے ۔ پرانا یام کرکے ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق زندگی بڑھا سکتا ہے ۔ لیکن 1883ء 56 یا 57 سال کی عمر میں دیانند مر گیا تو لوگوں کو خیال ہوا کہ پرانا یام سے زندگی نہیں بڑھتی ہے ۔ اگر دیانندی تعلیم صحیح ہوتی تو دیانند جو بڑا زبردست پرانا یام کرنے والا تھا کبھی نہ مرتا ۔ دلچسپ بات دیانندی مردوں کی شادی کے مخالف تھے اور عورتوں کی لازمی شادی کے حامی تھے ۔

جب پرانایام کرنے والے سل ، غیق ، نفس ، دمہ اور جریان وغیرہ میں مبتلا ہوئے ۔ مجبور حکماء کی طرف متوجہ ہوے ۔ جنہوں نے سمجھایا کہ عمدہ صاف ہوا زندگی کا ذریعہ اور خراب ہوا موت کا باعث ہوتی ہے ۔ ہر جاندار اوپر کی سانس لے کر عمدہ صاف ہوا جذب کرتا ;180;ہے ۔ جو پھپڑے کی غذا بن کر فوراً خراب ہوجاتی ہے ۔ اس خراب ہوا کو جو قاطع زندگی ہے نیچے کی سانس فوراً خراب ہوجاتی ہے ۔ اس خراب ہوا کو قابع زندگی ہے نیچی کی سانس کو فوراً نکال دیتی اور تمام زندگی قدرتی طور پر سانس کی آمد و رفت کا یہ طریقہ جاری رہتا ہے ۔ جب جسم کے اندر ہوا کا دخال مشکل سے ہوتا ہے ۔ انسان زور زور سے لمبی لمبی سانسیں لیتا ہے ۔ رفتہ رفتہ ہوا کا ادخال موقوف ہو جاتا ہے اور انسان مرجاتا ہے ۔ جس کی ایک منٹ میں سترہ دفعہ سانس چلتی ہے ۔ وہ تندرست اور قوی خیال کیا جاتا ہے ۔ جب پرانا یام کرنے کے نقاءص سماجی ممبروں کے ذہن نشین ہوگئے ۔ عام طور پر آریاؤں نے پرانا یام کرنا موقوف کردیا ۔ کچھ لوگ ہی پرانا یام کرتے ہیں ۔

دیانندی تعلیم کے مطابق پہلے پہل سماج کے ہر ممبر نے گانا بجانا شروع کیا ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ ناچنے گانے میں فضول وقت ضائع ہوتا ہے اور اس کے اور اس کے بجائے انگریزی تعلیم حاصل کریں تو سرکاری ملازمت مل جاتی ہے ۔ لہذا بہت سے لوگوں نے گانے بجانے کو فضول اور وقت کا ضیاء سمجھ چھوڑ دیا اور اس کے بجائے انگریزی تعلیم حاصل کرنے مصروف ہوگئے ۔ اس کے نتیجے میں سرکاری ملازمت ملی اور حکومت کے اعلیٰ درجہ پر پہنچنے کا موقع ملا ۔ جو لوگ ناچتے گاتے بچاتے رہے ۔ وہ بھجنک کے نام سے مشہور ہوئے ۔

دیانندی تعلیم کے مطابق اول اول سماجی ممبروں نے لڑکے لڑکیوں کہ مدارس کو ایک دوسرے سے دو کوس پر بنانے کا ارادہ کیا ۔ لیکن جب سماجی ممبروں نے یہ خیال کیا کہ لڑکے اور لڑکیاں شہر میں ایک جگہ رہیں اور پڑھنے کے لیے دو کوس کی مسافت طہ کریں ۔ سماجی ممبروں نے دیانند کے حکم کی انحرافی کی اور لڑکے اور لڑکیوں کے مدارس کو شہر میں بنانا مناسب سمجھا ۔

دیانند نے ستیارتھ پرکاش کا حوالہ دے کر ہدایت کی کہ ہر گز کسی کے ساتھ فیریب کا برتاوَ نہ کریں بلکہ سب کے دلی بغض سے پاک برتاوَ کریں اور ہمیشہ اپنی حفاظت میں رہ کر دشمنوں کے فریبوں کو دریافت کرکے رفع کرے ۔ اس کے برعکس اس میں میں دیانند نے ہدیات کی کہ جب معلوم کہ فوراْ لڑائی سے کرنے سے کس قدر تکلیف پہنچے گی اور بعد میں کرنے سے بہتری اور فتح ضرور ہوگی ۔ تب دشمن سے میل کرکے وقت مناسب تک صبر کرے ۔ جب اپنی مکمل طاقت یعنی یعنی فوج کو خور سند اور آسودہ حال دیکھے اور دشمن کی طاقت برخلاف اس کے کمزور ہوجائے تب سشمن کی طرف جنگ کرنے کہ واسطہ کوچ کرے ۔ جیسا بگلہ تصور باندھے ہوئے مچھلی کو تاکتا رہتا ہے ۔ ویسے ہی ضروریات کی فراہمی پر غور کیاجائے ۔ دولت وغیرہ چیزوں کو طاقت بڑھا کر دشمن کو پکڑنے کے لیے شیر کی مانند طاقت کو کام میں لائے اور چیتے کی مانند جھپٹ کر دشمن کو پکڑے ، نذدیک آئے ہوئے دشمن سے خرگوش کی مانند دور بھاگ جائے ۔ بعد ازں ان کو دھوکہ میں ڈال کر پکڑے ۔ باجود اس تعلیم کے اپنے ٹائیٹل پیج پر لکھا کہ آوَ ہم دوستانہ محبت سے برتاوَ کریں ۔ راستی ہی ہمیشہ فتح پاتی ہے ۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ راستی کی تعلیم ظاہری اور فریب کی تعلیم باطنی ہے ۔ جملہ آریہ مناظر دیانند کی فریب کی تعلیم کو مد نظر رکھ کر جس مقام پر مسلمانوں کی جماعت کو کمزور دیکھتے مباحثہ کرنے کے واسطہ کھڑے ہوجاتے اور ب کوئی شخص ان کے مقابلہ میں کھڑا ہوجاتا ہے تو دم دبا کر بھاگ جاتے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں