59

عید اور ہماری روایات

دنیا کا کوئی ملک اور قوم ایسی نہیں ہے جو کوئی تہوار یا عید نہیں مناتی ہو ۔ اگرچہ ان عیدوں اور تہواروں کی نوعیت ہر قوم ، ملک اور مذہب میں مختلف ہوتی ہیں ۔ مگر ان کا مقصد ایک ہوتا ہے کہ خوشیاں منانا اور عزیز و اقارب ، دوست و احباب کا ایک دوسرے کے ساتھ ضیافت اور مختلف طرح کے طریقوں سے محبت و یگانیت کے جذبات کا اظہار کرنا ہوتا ہے ۔

ہر تہوار کسی خاص واقع کی یاد میں یا خوشی میں منایا جاتا ہے ۔ اس واقع کی نوعیت مذہبی بھی ہوسکتی ہے اور تاریخی بھی ۔ مگر تہوار کے منانے کا مقصد خوشیوں کا اظہار اور لوگوں سے میل و ملاپ بڑھانا ہے ۔ خاص کر آج کی دنیا میں جہاں مصرفیات بہت بڑھ چکی ہیں عام حالات میں لوگوں کو ایک دوسرے خاص کر عزیز و اقارب ملنے کا موقع بہت کم میسر ہوتا ہے اور یہ تہوار ہ میں میل ملاپ اور تعلقات بڑھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔ ان تہواروں کی تیاری بڑے جوش و خروش کے ہر شخص اپنی حثیت ، روایت اور ثقافت کے مطابق بہت پہلے سے کرتا ہے ۔ ان میں نئے کپڑے پہنا ، گھر کو سجانا ہیں اور خاص کھانوں کا اہتمام شامل ہے ۔ اس لحاظ سے تہوار کی قومی سطح کا ہو یا مذہبی نوعیت کا مگر یہ ہماری ثقافتتی اور روایات کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔

عید فطر اگرچہ مذہبی تہوار ہے مگر اس کو منانے میں ہماری روایات اور ثقافت کا رنگ نمایاں ہوتا ہے ۔ اس تہوار کی مذہبی اہمیت کو اس لیے ہے کہ مسلمان ایک ماہ تک روزے رکھتے ہیں اور اس کے بعد شکر گزاری کے طور دو گانہ نماز ادا کرتے ہیں ۔ لیکن ثقافتی روایات کے مطابق اس کی تیاری میں جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں ۔ نئے کپڑے سب ہی گھر والوں کے ان کی حثیت کے مطابق بنتے ہیں یا کم از کم بچوں کے ضرور بنتے ہیں ۔ جوتے اور سینڈل بھی خریدے جاتے ہیں ۔ پہلے عید میں ایک نئے جوڑے سے کام چل جاتا تھا اب تو ہر فرد کئی جوڑے بنواتا ہے ۔ عید میں خواتین کچھ زیادہ ہی مصروف ہوتی ہیں اور خواتین اور بچوں کی تیاری تو قابل دید ہوتی ہے بلکہ کچھ زیادہ ہوتی ہیں ۔ خاص کر لڑکیوں اور چھوٹی بچیوں کی تیاریاں ۔ پہلے کپڑے گھر پر سیئے جاتے تھے ، خواتین اور لڑکیاں سلائی کے ساتھ بڑے اہتمام اور محنت سے گوٹا کناری لگاتی تھیں کہ عید کے دن فخریہ پہنیں ۔ مگر اب گھروں سلائی اور کراہی کا رواج ختم ہوگیا ہے ۔ اب زیادہ تر کپڑے درزیوں سے سلوائے جاتے ہیں یا ریڈی میڈ خرید لیے جاتے ہیں ۔

ہمارے یہاں کوئی خاص تقریب ہو اور خواتین مہندی نہیں لگائیں ایسا ہو نہیں سکتا ہے ۔ پہلے تو گھر میں مہندی لگائی جاتی تھی مگر اب اس کے لیے خواتین بیوٹی پالر جاتی ہیں ، جہاں لمبی لبمی قطار انہیں انتظار کرنا پڑتا ہے مگر مہندی لگوانی ضرور ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی رواج بھی ہے کہ چوڑیاں ، جوتے ، سینڈلیں اور چپلیں چاند رات کو خریدی جاتی ہیں ۔ خواتین کو واپس آکر گھر میں صفائی اور سجاوٹ کا خاص اہتمام کرنا اور صبح کے لیے خاص کر شیر قورمہ ، سویاں ، چھولے ، دھی بڑے ، کباب وغیرہ اور اس طرح کی دوسری کھانے کی اشیا تیار کرنی ہیں ان میں کچھ پہلے ہی تیار کرلیں ہیں کہ صبح مہمان آئیں تو ان کو پیش کیا جائے ۔

مردوں کی عموماً تیاری واجبی سے ہوتی ہے مگر کرتا شلوار لازمی ہے ۔ یہ عموماً درذی سیتے ہیں مگر اب ان کے نخرے بہت بڑھ چکے ہیں اس لیے عموماً بیگم کے ساتھ جاکر اسٹائلش یا کڑھائی والا کرتا شوار خریدا جاتا ہے ۔ ہاں بچوں خاص کر لڑکوں تو تمام کپڑے بازار سے خریدتے ہیں ان میں بچوں کے کئی جوڑے خریدے جاتے ہیں کیوں کہ اصل عید تو بچوں کی عید ہوتی ہے ۔ ہاں سینڈل یا چپل بھی خریدی جاتی ۔ کہتے ہیں کہ لڑکوں کی تیاری لڑکیوں سے کم ہوتی ہے ۔ مگر اب زمانہ بدل چکا ہے ، اب تو ان میں بھی بیوٹی پالر سے فیشل اور تیار ہونے رواج ہوگیا ہے ۔ عید کے دن نماز کے لیے کرتا شلوار خریدنا ضروری ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے یہ کرتا شلوار منفرد ہو ۔ اس طرح خالی ایک کرتے شلوار سے کام نہیں چلتا ہے اس کے علاوہ پنیٹ اور قمیض بھی چاہیے ۔ ان میں کچھ کپڑے درزی سے سلوائے جاتے ہیں اور کچھ ریڈی میڈ خریدتے ہیں ۔ ساتھ سنڈل یا چپل اور جوتا بھی چاہیے ۔

عید میں غریبوں کو نہیں بھولا جاتا ہے اور ہر شخص اپنی حثیت کے مطابق ان کی مدد کرتا ہے ۔ عید کی صبح مرد حضرات نہا دھو کر نماز کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں اور خواتین گھر کی صفائی اور سجاوٹ میں مصروف ہوجاتی ہیں ۔ دوپہر کے کھانے کے لیے بریانی بھی چڑھادی جاتی ہے ۔ مرد حضرات نماز پڑھ کر ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں اور گھر آتے ہیں جہاں سب سے پہلے بزرگ خواتین کو سلام کرتے اور انہیں عید کی مبارک دے کر ان سے دعائیں اور عیدی لیتے ہیں اور بڑے بچوں اور اپنے سے چھوٹوں کو عیدی دیتے ہیں ۔ اس کے بعد یا تو مہمانوں کی آمد ہوتی ہے یا خود دوسروں کے گھر عید ملنے جاتے ہیں ۔ جہاں ان سے گلے مل کر کچھ نہ کچھ کھانا ضرور ہے اور بڑے بچوں کو عیدی دیتے ہیں ۔ عموماً بزرگ عید ملنے نہیں جاتے ہیں بلکہ دوسرے ان سے عید ملنے آتے ہیں اور ان کی دعائیں لیتے ہیں ۔ شام ہوتی ہے تو عموماً اپنے یا کسی عزیز اقارب کے گھر دعوت کا اہتمام ہوتا اور بچے اپنی عیدی سے کھلونے خریدتے ۔ دوسرے دن عموماً بچوں کے اصرار پر کہیں تفریح کے لیے جاتے ہیں اور شام کے وقت پھر کوئی دعوت میں جانا ہوتا ہے اور یہ دعوتوں کا سلسلہ کئی دنوں تک جاری رہتا ہے ۔ اس طرح یہ مذہبی تہوار ہونے کے ساتھ ہماری ثقافتی روایت کا حصہ بھی ہے جو کہ چند تبدیلیوں کے ساتھ برصغیر اور مشرقی وسط ایشا میں میں جہاں مسلمان ہیں منایا جاتا ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں