41

غلہ بانی سے زراعت

بلوچ قبیلوں نے منگولوں کے حملوں کی وجہ سے اپنی تنظیم جنگی اصولوں پر تشکیل دی ۔ جس کا سربراہ یا سالار قبیلہ کا سردار ہوتا تھا ۔ تاہم اس تنظیم کا فائدہ صرف انہوں نے چراگاہوں اور زمینوں پر دائمی جھگڑے ( مثال کے طور پر سیوستان ، گندھاوا کی زمینوں پر رند اور لاشاریوں درمیان ، مری اور بگٹیوں کے مابین اسی طرح سے کئی دوسرے قبائل کے مابین کئی سال تک چلنے والی جنگیں ) اور دوسری طرف زمینوں پر مقامی کسانوں سے جھگڑوں میں اٹھایا ۔ اس جنگی تنظیم کے باوجود وہ مشرقی بلوچستان اور پنجاب میں وہ ہر جگہ دوسروں کے بلا دست رہے اور صرف سندھ میں کلہوڑوں کے بعد وہ حاکم بنے ۔

بلوچ قبیلوں کی تشکیل جو کہ جنگی اصولوں پر تھی تاہم اس سے ان کے سرادروں کا اقتدار میں اضافہ ضرور ہوا ۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتے ہیں انہوں نے اسے سیاسی اور اقتصادی اقتدار کے لیے استعمال کیا ۔ کیوں کہ ان میں اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ اپنے سیاسی بالادستی اور اقتدار قائم کریں ۔ بلکہ وہ ہمیشہ حکمران یا طاقت ور طبقہ کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے ان کے مدد گار بنے رہے ۔ یہی وجہ ہے بلوچوں کا شمار دوسرے درجہ شہریوں میں ہوتا رہا ۔ مثلاً یہ براہیوں کے مدد گار تھے مگر ان کے کسی بھی قبیلے کو صف اول کے کا درجہ حاصل نہیں تھا ۔ ان کا شمار درجہ دوم کے قبیلوں یا زیردست لوگوں میں ہوتا تھا ۔ خان خلات کے اہم ستونوں میں نہیں بلکہ براہوئی سرداروں کے زیردست سرادروں میں ان کا شمار ہوتا تھا ۔ یہی صورت حال مکران ، خاران اور لس بیلہ کی ریاستوں میں تھی ۔ وہاں بھی بلوچوں کا شمار دوسرے درجہ کے شہریوں میں ہوتا تھا ۔ جس کو حکمران طبقہ قتل کرنے پر کوئی خون بہا بھی نہیں دیتا تھا ۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں وہ بہت حد تک حاکم گروہ کی تقویت کا باعث بنے مگر انہوں نے کبھی اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ بلوچوں کی حکمرانوں کی واحد مثال صرف سندھ ملتی ہے ۔ وہاں بھی اس میں ان کے حکمرانی کا سبب ان کی صلاحیوتوں کی بناء پر نہیں بلکہ کلہوڑوں کی ناہل اور افغانوں کے حملوں کے باعث تھی ۔

ٍاس جنگی تنظم کا فائدہ ان کے سرداروں نے یہ اٹھایا کہ انہوں نے اپنے قبیلوی اقتدار کو مظبوط کیا ۔ جس کی وجہ سے ان سرداروں کے مویشیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ۔ اس کی کوشش یہی رہی کہ بہتر سے بہتر اور رقبہ کے لحاظ بڑی چراگاہوں کو قبضہ میں لائیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ قبیلوں کی چھوٹی شاخوں کی زمینوں کا ایک حصہ عملاً سرداروں کی ملکیت بن گیا ۔ جن زمینوں کو وہ سردار خود متعین کردہ ٹکروں میں بانٹا اور پھر خانہ بدوش فرقہ کے گھر اور ان کے جانوروں کےلیے مخصوص کردیتا ۔ بہت اچھی چرگاہیں خوبخود سردار کے حصہ میں آئیں اور ان پر بے چارے خانہ بدوش اپنے جانور چرانے لگے ۔ اٹھارویں صدی عیسویں کے اوائل تک یہ سردار اپنے قبیلوں کی خانہ بدوشی کی راہبری کرتے تھے ۔ وہ گرمیوں اور سردیوں کےلیے ان کے نشیمن متعین کرتے تھے اور ان کی چراگاہیں مخصوص کرتے تھے ۔

خانہ بدوش سردار کے اقتدار کی مظبوطی کے سبب زیر دست لوگوں پر مویشیوں پر ٹیکس اور محصول ادا کرنا ، بیگار کی مختلف شکلوں میں حصہ لینا ، سرداروں کی طرف سے منظم کردہ حملوں اور جھگڑوں میں شرکت کرنا ۔ بلوچستان کی بشتر زمینیں بے آباد ہیں جہاں بارش ہونے کی صورت میں کچھ زراعت ہوجاتی ہے ۔ یہاں جھاڑیاں اور جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں ۔ جو کہ ان کے جانوروں کے لیے محدود گھاس ہوتی ہے ۔ جس کے خاتمہ کہ بعد وہ نقل مکانی کے لیے مجبور ہوتے ہیں ۔ اس لیے ان میں زرعی کلچر پروان نہیں چڑا ۔ اس سے بھی ان سرداروں کے اقتدار میں اضافہ ہوا ۔

جب کلہوڑوں کے علاقہ سبی و کچھی کے ذرخیر علاقے پر براہوئیوں نے قبضہ کیا ۔ یہ قبضہ بلوچوں کی طاقت میں اضافے کا سبب ہوا ۔ حالانکہ براہیوں کے اس قبضہ میں بلوچوں نے ان کے زیردست ہونے کی وجہ سے پوری پوری مدد کی اور یہاں کے قدیم باشندے جو کہ بلوچ ، جاٹ تھے بے دخل کر دیا ۔ جس کے نتیجے میں یہاں آباد بلوچ باشندے وہاں سے سندھ و پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ۔

لیکن بلوچوں کی پنجاب اور سندھ میں نقل مکانی پہلی نہیں تھی ۔ بلکہ وہ بہت پہلے یعنی منگلولوں کے دور سے ان کی نقل مکانی ہوتی رہی ہے اور بعد کے سیاسی حالات کی بدولت اس نقل مکانی میں اضافہ ہوا ۔ ہم پہلے کہہ چکے انہیں بلوچ نام ان کی پہاڑی علاقوں میں آمد کی وجہ سے انہیں یہ نام ملا ہے ۔ اس نقل مکانی کے نتیجے میں جو بلوچوں پنجاب و سندھ گئے انہیں وہاں کی فوجی ملاز میں مل گئیں اور اس کے لیے انہیں جاگیریں ملیں ۔ جہاں ایک ترقی یافتہ زرعی کلچر موجود تھا ۔ ان جاگیروں میں کام کرنے والے بشتر مزارع مقامی باشندے تھے ۔ مگر بہت سے بلوچوں نے جنگ و جدل کے بجائے اس پر امن پیشہ کو اختیار کیا ۔

کچھی کی زمینوں پر براہیوں کے قبضہ کے بعد ان زمینوں کو مختلف سرداروں یا قبیلوں میں تقسیم کردی گئیں ۔ مگر اس میں آباد ہونے بشتر باشندے بلوچ تھے اور براہوئی بہت کم یہاں آباد ہوئے ۔ اس سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ۔ یہ بلوچ بہت کم براہیوں کے ساتھ آئے تھے ۔ لیکن دوسرے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے بہت سے لوگ بلوچ قبیلوں میں شامل ہوگئے ۔

یہ زمینیں جو کہ بشتر براہوئی سرداروں کی تھیں ۔ وہ خود کاشت کاری پسند نہیں کرتے تھے ۔ اسلیے وہ زمینیں ان قدیم کاشت کاروں کو اجارہ پر دیدتے تھے ۔ اس لیے ان زمینوں میں مزارعہ مقامی باشندے تھے ۔ جس میں مقامی بلوچ میں بھی شامل تھے ۔ بلوچوں نے کاشت کاری کا تجربہ اور ان کا بنیادی پیشہ نہیں تھا ۔ مگر جلد وہ اس پیشے کو اپنا کر مزارعہ بنے پر راضی ہوگئے ۔ یہاں کے قدیم بلوچ اور دوسری اقوام گوہی شکل میں یکجا ہوگئے جو کہ ایک طرف نئے بلوچ قبیلوں کی تشکیل کا باعث بنے ۔ جس میں بہت سی قدیم اقوام شریک ہوئی تھیں ۔ یہی وجہ ہے یہاں کے بشتر قبیلے بلوچستان کی دوسرے علاقے میں نہیں ملتے ہین ۔ یہاں ان کی طاقت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور رند جو کہ بلوچ کا متبادل تھا کی تحقیر میں اضافہ ہو ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں