92

گندھارا

وادی کابل و غزنوی سے لیکر دریائے سندھ کے پار تک جس میں صوابی ، سوات ، مردان اور راولپنڈی تک کے علاقے شامل تھے ۔ عرب مورخین نے گندھارا کی ہندوستانی سلطنت کو جو دریائے سندھ سے دریائے کابل تک پھیلی تھی قندھار (گندھار ) کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ البیرونی نے قندھار (گندھارا ) کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس کی راجدھانی وہنڈ یا اوہنڈ تھی ۔ المسعودی نے قندھار (گندھار ) کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ رہبوط (راجپوت ) کا ملک ہے اور دریائے کابل جو دریائے سندھ میں گرتا پر واقع ہے ۔ ہیرو ڈوٹس نے اس کا ذکر گندایوئے کے نام سے کیا ہے اور دارا کے کتبہ بہستون میں اس کا نام گندرا نام سے تذکرہ ملتا ہے ۔

اس علاقے کا سب سے پہلا تزکرہ آریوں کی مذہبی کتاب ’رگ وید ‘ میں ملتا ہے ۔ کیوں کے اس کے بھجنوں میں اس علاقے کے اہم دریاؤں کابل ، سوات ،اور گومل کا تزکرہ ملتا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس علاقے پر آریاؤں نے قبضہ کرلیا تھا ۔ اس علاقے میں جو آثار ملے ہیں انہیں گندھارا کی گورستانی تہذیب کا نام دیا گیا ہے ۔ مہابھارت سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں گندھارا یا گندھارد اکی ریاست تھی ۔ جسے کوشالہ کے حکمران نے ککیہ کی مدد سے زیر کیا تھا ۔ کوشالہ کے دو بیٹوں ٹکسا اور پو شکلا نے دو شہروں ٹکشاسلہ یعنی ٹیکسلہ اور پوشکلہ وتی (چارسدہ )کی بنیاد رکھی ۔ یہ ریاست دریائے سندھ کے دونوں طرف پھیلی ہوئی تھی ۔ بعض ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ ٹیکسلہ کی بنیاد ٹکا نامی قبیلے نے آباد کیا تھا جو وسط ایشیاء سے آیا تھا ۔ چنانچہ اس کے نام پر ٹکلاشیلا پڑا جو رفتہ رفتہ ٹیکسلہ ہوگیا ۔ اس کی تصدیق اس دور کے یونانی مورخ نے بھی کی ہے اور اسے ٹیکسائلو کا شہر بتایا ہے ۔

بدھ مذہب کی کتابوں میں گندھار کا ذکر ملتا ہے ۔ گوتم بدھ کے زمانے میں ٹیکسلہ کی شہرت ایک علمی مرکز کی تھی ، جہاں دور دور سے لوگ تحصیل علم کے لئے آتے تھے ۔ یونانی جغرافیہ داں استرابو کے مطابق دریائے سندھ انڈیا اور آریانہ کے درمیان سرحدکی حثیت رکھتا تھا ۔ آریانہ میں کابل ، گومل ، کرم ، قندھار اور مغربی گندھاراکے علاقے شامل تھے ۔ چھٹی صدی قبل عیسوی میں آریانہ کا علاقہ کا ایک وسیع علاقہ گندھارکے حکمران پوکوستی کی مملکت میں شامل تھا ۔ 515 ۔ 518 ق م کے درمیان دارانے حملہ کرکے وادی سندھ کے مغربی حصہ پر قبضہ کرلیا ۔ اس نے یہاں ایرانیوں اور یونانیوں کو آباد کیا ۔ یہ تسلط غالباََ ارتخشر (440 ۔ 359 ق م) کے عہد میں ختم ہوگیا تھا ۔ کیوں کہ جب یہاں سکندر نے حملہ کیا تو ایرانی تسلط نہیں تھا ۔

سکندنے 327 ق م میں کوہ ہندو کش غبور کرکے اس علاقہ کے مختلف شہروں کو جنگ و جدل کے ذریعے مطیع کرتا ہوا اوہنڈ کے مقام پر دریائے سندھ کو غبور کیا جہاں ٹیکسلہ کے راجہ نے اس کا استقبال کیا اور اس نے سکندر کی اطاعت قبول کرلی تھی ۔ اس طرح یونانی 328 ق م میں پنجاب میں داخل ہوگئے ۔

سکندرکے چند سال بعد ہی چندر گپت نے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی اور اس نے دریائے سندھ کے مشرقی حصوں کو اپنی مملکت میں شامل کر لیا ۔ سکندر کے سپہ سالار سلوکس نے سکندرکے مفتوع علاقوں کو دوبارہ فتح کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوا ۔ اشوک کے بعد جب موریہ سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا ۔ کابل ، غزنی ، پنجاب و سندھ پر اسو بھاگ سن نے قبضہ کرلیا ۔ اس پر انطیوکس اعظم نے حملہ کردیا ۔ اسو بھاگ نے شکست کھائی مگر انطیوکس اعظم بھی مارا گیا ۔ اسوبھاگ کے بعد اس کا بیٹاگج حکمران ہوا ۔ پھر اس علاقہ پر یونانی حمکمران ہوگئے ۔ سیتھی یونانی حکومت ختم کرکے سیستان سے ہوتے ہوئے اس علاقے پر قابض ہوگئے ۔

سیتھی جب پارتھیوں کے زیر اثر ہوئے تو اس علاقہ پر ان کا تسلط ہوگیا اور سو برس زائد عرصہ کے لیے سیتھی اس پر قابض ہوگئے ۔ عیسوی کی ابتدا میں اس پر کشانوں کے قبضہ ہوگیا ، جس سب مشہور بادشاہ کنشک تھا ۔ کنشک کا شمار دنیا کے بڑے بادشاہوں میں ہوتا ہے ۔ 120ء اس خاندان کا سب سے نامور حکمران کنشک کشن یا کشان یا کوشان سلطنت کا بادشاہ ہوا ۔ کنشک اپنی فتوحات اوربدھ مت کی سرپرستی کے حوالے سے مشہور ہے ۔ اس نے نہ صرف شمالی ہند و پاکستان کو ہی مکمل فتح کیا ، بلکہ پامیر کے پار تک کے علاقے کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا تھا اور پاٹلی پتر تک کے علاقہ اس نے فتح کرلیے تھے ۔ کنشک کا پایہ تخت پرش پور موجودہ پشاور تھا ۔ یہاں اس نے ایک بڑا مینار جوکہ تیرہ منزلہ تھا اور ایک شاندار خانقاہ تعمیر کروائیں تھیں ، جو نویں صدی تک بدھ مت کے علوم کے مرکز کی حثیت سے مشہور تھی اور اس سرزمین تین سو سال سے زیادہ میں آگئی ۔ کشنوں کا خاتمہ ہنوں نے کیا ۔ اس طرح اس علاقہ پر یوچیوں کی چار سو سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا ۔ اس علاقہ پر ہنوں کے زابلی مملکت کی حکمرانی تھی ۔ افغانستان میں ان کی قوت کو ترکوں نے صدمہ پہنچایا اور برصغیر میں ایک قومی وفاق نے ان کی حکومت کا خاتمہ کردیا ۔ ہنوں نے اس علاقہ پر تقریباً دوسو سال حکمرانی کی ۔

جس وقت چینی سیاح ہیون سانگ;72 (630ء) اور وانگ ہیون سی نے برصغیر کی سیاحت کی تھی ، اس وقت گندحارا پر کشتری خاندان کی حکومت تھی ۔ ان کا دارلحکومت کاپسا (موجودہ بلگرام کابل کے شمال میں ) تھا ۔ البیرونی انہیں ترک بتاتا ہے ۔ اس خاندان کی حکومت آخری حکمران کو اس کے وزیر کلیر عرف للیہ نے قید کرکے ہندو شاہی یا برہمن شاہی خاندان کی بنیاد رکھی ۔ برہمن شاہی اس علاقے کا آخری حکمران خاندان تھا ، جس نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا ۔ یہ خاندان ابتدائے اسلام سے 421ھ-1030ء تک حکمران رہا ۔ جب افغانستان کے مشرقی حصوں پر اسلامی لشکر کا قبضہ ہو گیا تو اس کا دارلحکومت کاپسا سے گردیز ، گردیز سے کابل ، کابل سے اوہنڈ اور آخر میں نندانہ ( جہلم کے قریب ) منتقل ہوگیا ۔ جہاں ان کا محمود غزنوی نے خاتمہ کردیا ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں