58

گندھارا آرٹ

پاکستان میں ضلع رالپنڈی سے کابل تک علاقہ قدیم زمانے میں گندھارا کہلاتا تھا اور یہاں جو قدیم آثار ملے ہیں وہ اس کی نسبت سے گندھارا تہذیب کہلاتی ہے۔ یہاں سنگ تراشی کے اہم آثار ملے ہیں ان کی نسبت یہ آثار گندھارا آرٹ Gundhra Art کہلاتے ہیں اور دنیا کے چند اہم آرٹ میں اس کا شمار ہوتا ہے۔
گندھارا آرٹ دراصل یونانی، ساکا، پارتھی اور کشن تہذیبوں کا نچور ہے۔ گندھارا آرٹ کا مرکز یوں تو ٹیکسلہ تھا۔ لیکن اس کی جڑیں پشاور، مردان، سوات، افغانستان حتیٰ وسط ایشیاء تک پھیلی ہوئی تھیں۔ گندھارا صوبہ سرحد کے ایک حصے کا نام تھا، مگر یہ چھوٹا سا علاقہ اپنی شاندار تہذیب اور پر امن ثقافت کے اثرات روس کے دریائے آمو تک پہنچاتا ہے۔ ادھر چینی سرحدی علاقوں میں اس کے آثار ملتے ہیں۔ مانکیالا کا اسٹوپہ دوہزار سال پرانا ہے۔ یہ اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ دبلیو ایف کیرو W F Cero کی کتاب ’گندھاراکی عبادت گاہوں‘ شائع شدہ نقشوں کے مطابق افغانستان اور روس تک پھیلے ہوئے گندھارا علاقے کی آخری سرحد مانکیالا کا اسٹوپہ تھی۔
موریاعہد سے گپتا خاندان کے عروج کے زمانے میں فن سنگ تراشی کے نئے دبستان وجود میں آئے۔ ان میں باریت و بدھ گیا، متھرا اور گندھارا قابل ذکر ہیں۔ متھرا کے مجسموں کی یہ خصوصیت بتائی جاتی ہے کہ یہاں سب سے پہلے گوتم بدھ کو انسانی شکل (مجسمہ) میں پیش کیا گیا اور بعد میں یہ مدت تک مقبول رہا۔ اس فن میں گندھارا اسکول نے سب سے زیادہ ترقی کی۔ چنانچہ بر صغیر کے اکثر علاقوں پر گندھارا آرٹ کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ اس کے نمونے پاکستان کے شمالی علاقوں اور افغانستان کے بعض مقامات پر ملتے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹیکسلہ سب سے نمایاں حثیت رکھتا ہے۔ یہ تمام نمونے گوتم بدھ کی زندگی یا مذہب کی روایات پر مشتمل ہیں۔ ان مجسموں میں تفصیلات پر بہت زور دیا گیا ہے، تاکہ انسانی جسم کی حالت سے بلکل مشابہہ ہوں۔ مثلاََ پٹھوں تک کو دکھلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح لباس کی ترتیب کو بہت اہمیت حاصل ہوگئی۔
ماہرین کیا خیال ہے گندھارا آرٹ پر یونانی اور رومی اثرات بھی ہیں، بلکہ بعض نے اس کو بجائے گندھارا کے ہندی یونانی آرٹ بھی کہا ہے۔ بہرحال اس میں یہ کوئی شک نہیں ہے کہ باخترکے یونانی حکمرانوں کے زمانے میں اس علاقے میں یہ اثرات ضرور قبول کئے ہیں۔ لیکن اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس اسکول کے جو نمونے دستیاب ہوئے ہیں، ان میں بدھ مت کی روایات یا گوتم بدھ کے مجسمے ہیں اور اس فن کے سب سے قابل تعریف مجسمے ہم کو گوتم بدھ یا بدہستوا کے مجسموں میں ملتے ہیں۔ گندھارا آرٹ نے کشن حکمرانوں کی سرپرستی میں ترقی کی۔ یہی سبب ہے یہ چینی ترکستان کے راستے چین اور جاپان ہی نہیں بلکہ مشرقی بعید تک پہنچ گیا اور ان علاقوں کے آرٹ پر ہمیں گندھارا آرٹ کے اثرات صاف نظر آتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ پہلے مہاتما بدھ کا مجسمہ نہیں بنایا جاتا تھا اور اس کی پرستش کا رواج نہیں تھا۔ پھر کنشک کی چوتھی کونسل بلائی گئی جو کشمیر کونسل کہلاتی ہے، اس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے اور فیصلہ کیا گیا کہ روم و یونان کے دیوتاؤں کی طرح مہاتما بدھ کے مجسمے تراشے جائیں، تاکہ مجسمے دیکھ کر خوبصورتی اور امن کا احساس ہو ناکہ بدہستی اور کراہیت کا۔ چنانچہ روایت ہے کہ یونان سے چند مجسمہ سازوں کو بلوایا گیا تاکہ وہ مقامی مجسمہ سازوں کو اپنے طریق سے آگاہ کرسکیں۔ کہا جاتا ہے کہ گندھارا کا مہاتما بدھ کا مجسمہ دراصل اپالو دیوتا کی کاپی ہے، لیکن ان میں وہ پوتراور امن منقود ہے جو گندھارا کے تراشیدہ مجسموں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گندھارا کا بت تراش تفصیل میں جاتا ہے، وہ ناخن کے برابر پھتر سے ایک شاہکار تخلیق کرلیتا ہے، جب کہ یونانی بڑے بڑے مجسمے بنانے پر یقین رکھتے تھے۔ یہ نہیں گندھارا میں بڑے بڑے مجسمے نہیں بنائے گئے، بامیان کے عظیم مجسمے اس دور کی یادگار ہیں۔ ٹیکسلہ کے دھرم راجیکا کے اسٹوپے میں ایک مجسمے کی بلندی چالیس فٹ کے قریب تھی۔
گندھارا آرٹ کے ادوار
گندھارا آرٹ کو تاریخی اعتبار سے تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور جس کی خصوصیت یونانی آرٹ کی نقالی ہے پہلی صدی عیسوی کے آغاز تک جاری رہا۔ پارتھیوں کے برسر اقتدار آنے کے بعد گندھارا میں مقامی عنصر ابھرنے لگا۔ یونانی آرٹ میں بدھ مت کے عقائد و واقعات کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش شروع ہوئی اور مے کے پیالوں کی جگہ کنول کے پھول تراشے جانے لگے۔ یونانی دیوتاؤں کی جگہ گوتم کی مورتیاں بنے لگیں۔ ابھی پہلی صدی ختم نہیں ہوئی تھی کہ گندھارا کے فنکاروں نے یونانیوں کے سیکھائے ہوئے فن کو مقامی ضرورتوں کے تابع کرلیا اور ان کی تخلیقات میں مقامی روح کی تڑپ آگئی۔ گندھارا کا یہ دوسرا دبستان فن ساسانیوں کے حملے (230ء) تک برقرار رہا۔ اس دور میں فن کاروں نے مجسموں اور گل کاریوں کے لئے پتھر استعمال کررہے تھے۔ ابھرواں چونا کاری کا ابھی رواج نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ گندھارا، سرحد سوات اور افغانستان میں پتھر کے مجسمے کثرت سے برآمد ہوئے اور ہورہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا ان علاقوں میں صنم تراشی کی فیکٹریاں کھلی ہوئی تھیں یا انہیں بدھ کی پرستش کے سوا کوئی کام نہیں تھا۔ دوسری خصوصیت اس دور کی یہ تھی کہ مجسموں میں عموماََ گوتم بدھ کی زندگی کے واقعات خاص کر کپل وستو کی زندگی کے واقعات کی منظرکشی کی جاتی تھی۔ مثلاََ ایک سل پرگوتم بدھ کی کپل وستو سے اپنے خادم کے ہمراہ روانگی کا منظر اتارا گیا ہے۔ دوسرے ایک منظر میں گوتم بدھکا گھوڑا اکن نہکا آقا سے رخصت ہوتے وقت جھک کر ان کے قدم چوم رہا ہے اور بدھ کے تین چیلے دائیں بائیں کھڑے ہیں۔ اس قسم کی منظر کشی تیسرے دور میں بھی ملتی ہے۔
گندھارا آرٹ کا تیسرا دور یا دبستان فن تیسری اور چوتھی صدی عیسوی پر محیط ہے۔ یہ کشنوں کا دور ہے۔ اس دور میں گندھارا آرٹ کو بہت ترقی ہوئی اور اس تیسرے دور کی خصوصیت یہ ہے کہ فن کاروں نے سنگ تراشی ترک کردی۔ مٹی اور چونے کی ابھرواں موتیاں اور نقش و نگار بنانے لگے۔ چونے کی مورتیاں اور پھلکاریاں عمارت کی بیرونی سمت میں ابھار دی جاتی تھیں، جہاں ان کے بارش میں خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا تھا۔ البتہ اندونی حصہ میں کچی مٹی استعمال ہوتی تھی۔ چنانچہ گندھارا آرٹ کا سب سے حسین شاہکار گوتم بدھ کی وہ مورتی ہے جو کالواں اسٹوپا سے دریافت ہوئی تھی، اس منظر میں گوتم اپنے منڈوا میں پالتی مارے بیٹھا ہے دو چیلے اس کے دائیں بائیں کھڑے ہیں۔ یہ کچی مٹی کے ہیں لیکن سر پکی مٹی کا ہے اور دھر کچی مٹی کا بنا ہوا ہے۔ جب ہنوں ے اس اسٹوپا کو آگ لگائی تو سر پک گیا۔ دوسری خصوصیات اس دور کی یہ ہے کہ گوتم بدھ کی زندگی کے واقعات کی منظر کشی ترک کردی گئی اور فقط گوتم کی شبہیں بنانے لگے۔ کسی منظر میں گوتم کو ارادت مند عقیدت کا خراج پیش کرتے دیکھلائے گئے ہیں، کسی منظر میں گوتم پر پھولوں کی بارش ہورہی ہے اور کسی منظر میں گوتم درمیان میں بیٹھیے ہیں اور جانور گھانس چر رہے ہیں۔
کشن دور میں بدھ مت نے بہت ترقی کی جگہ جگہ اسٹوپے اور دہار قائم ہوگئے۔ پشاور کا مشہور اسٹوپا کشنوں کے دور میں کنشک نے بنایا تھا۔ یک لخت وحشی ہنوں کی آندھی آئی اور گندھارا کا علاقہ جلتی چتا بن گیا۔ ہنوں نے شہروں اور بستیوں کو مسمار کیا اور دہاروں میں آگ لگا دی۔ ہزاروں لاکھوں بے گناہ مارے گئے۔
تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں