66

ہندی

برصغیر کے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اردو ایک نئی زبان ہے اور اس کے مقابلے میں ہندی ایک قدیم زبان ہے ۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ اردو اگرچہ بہت پرانی زبان نہیں ہے لیکن ہندی بالکل ایک نئی زبان ہے اور اس کے وجود میں آئے ہوئے مشکل سے دو سو سال ہوئے ہیں ۔

ہندوستانی
جب انگریز برصغیر میں آئے تو ان کو جس زبان سے واسطہ پڑا وہ اردو تھی جسے وہ ہندوستانی کہتے تھے۔ انہوں نے ابتدا میں عدالتی اور دفتری زبان فارسی رکھی۔ مگر اردو کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اردو کو رائج کرنے کا فیصلہ کیا۔ کیوں کہ یہ طبقہ اسی کو اپنی بول چال میں استعمال کرتا تھا۔ اس میں مذہب کی بنا پر کوئی امتیاز نہیں تھا اور ہندو و مسلمان سب اسے لکھتے اور پڑھتے تھے۔ جسے انگریز ہندوستانی Hubdistanee کہتے تھے۔ جس کے بارے میں گلکرسٹ نے اپنی کتاب Oriental Liinguig میں ہندوستان میں مقبول عام زبان لکھتا ہے اور یہ کہتا ہے مقامی سطح پر بعض بولیاں ضرور رائج ہیں لیکن وہ چھوٹے چھوٹے علاقوں تک محدود ہیں۔ رابطہ کی زبان کے طور یا اسے لنگوافرنیکا کہہ سکتے ہیں پورے شمالی ہندوستان میں پنجاب تا بہار اردو رائج تھی۔ سنیتی چٹرجی اپنی کتاب Indo Aryan and Habdi لکھتے ہیں کہ انیسویں صدی سے اردو ہندوؤں کی خاص توجہ کا خاص مرکز بن گئی تھی۔ کیوں کہ یہ عدالتوں کی زبان تھی اور اسکولوں میں اس زبان میں تعلیم دی جاتی تھی۔ جس کے پڑھنے سے قانون، طب، انجینئرنگ وغیرہ پیشوں کی راہیں کھلتی تھیں۔ شمالی ہندوستان میں یونیورسٹیوں کے قائم ہونے سے پہلے جو کچھ بھی تعلیم دستیاب تھی وہ اردو کے ذریعہ ممکن تھی۔ ہندوؤں کو جب ہندستانی نثر کی ضرورت ہوئی تو انہوں نے پنجاب سے لے کر بہار تک اسکولوں اور کالجوں میں اردو کو اپنایا۔ پنجاب، یوپی اور بہار کی عدالتوں میں مشکل سے ایسا کلرک ملتا تھا جو ناگری میں عرضی دعویٰ یا کوئی دستاویز لکھ سکے۔ کیوں کہ بیشتر تعلیم یافتہ ہندو اردو پڑھتے تھے۔ اس وقت سے پہلے ہندی اپنا وجود نہیں رکھتی تھی۔ سنسکرت اور کچھ مقامی زبانیں دیو ناگری میں استعمال ہوتی تھی۔ عدالتوں اور دفتروں میں ناگری میں درخواستیں لکھنے والے محرر نہیں ملتے تھے۔

ابتدا

1800ء میں فورٹ ولیم کی ڈاغ بیل ڈالی گئی کہ برطانوی اہلکاروں کو اردو زبان سیکھائی یا جائے ۔ جان گلکرسٹ جس نے اردو کی بیش بہا خدمت کی ہے نے 1803ء میں للوجی نے کو پریم ساگر دیوناگری رسم الخط میں لکھنے کو کہا گیا اور اس نے فورٹ ولیم کے احاطے میں ایک نئی زبان کی بنیاد رکھ دی ۔ فورٹ ولیم کے باہر بھی کچھ ہندو کھڑی بولی میں دیوناگری میں لکھنے کا تجربہ کرنے لگے اور عربی فارسی کے الفاظ نکال کر سنسکرت کے الفاظ استعمال کرنے لگے ۔ سنیتی کمار چٹرجی نے اس زبان کو سنسکرتی ہندی کا نام دیا ۔

جارج اے گریرسن نے ہندی کی للوجی کی نثری تصنیف لال چندرکا کے دیباچے میں لکھتا ہے کہ اس زبان کا بھارت میں اس سے پہلے پتہ نہیں تھا ۔ اس لیے للوجی نے جب پریم ساگر لکھی تو وہ بالکل ایک نئی بھاشا گھڑ رہے تھے ۔ اپنی ایک اور تصنیف لسانی جائزہ میں لکھتا ہے کہ ہندی بالائی ہندوستان کے ہندووَں کی نثری زبان ہے جو اردو استعمال نہیں کرتے ہیں ۔ یہ زمانہ حال کی پیداوار ہے اور اس کا رواج گزشتہ صدی کے آغاز سے انگریزوں کے زیر اثر شروع ہوا ۔ جب کوئی ہندو نثر لکھتا تھا تو وہ اردو استعمال کرتا تھا تو اپنی بولی اودھی ۔ بندیلی ، برج بھاکا وغیرہ لکھتا تھا ۔ للوجی نے ڈاکٹر گلکرسٹ کے جوش ڈالانے پر معروف کتاب پریم ساگر لکھ کر سب کچھ بدل ڈالا ۔ جہاں تک اس نثری کا تعلق ہے یہ عملاً اردو میں لکھی گئی ہے اور اس میں عربی ، فارسی الفاظوں کی جگہ ہند آریائی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔ آر ڈبلیو فریزر بھی لٹریری ہسٹری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ جدید ہندی بھاشاہ کو دو پنڈتوں للو لال اور سدل مشر کی اختراع سمجھنا چاہیے ۔ ایک اور انگریز مصنف اپنی کتاب ہندی کی تاریخ میں لکھتا ہے کہ جدید ہندی اردو میں سے عربی الفاظ خارج کرکے ان کی جگہ سنسکرت یا ہند کے خالص ہندوستانی نژاد الفاظ رکھ دیئے گئے ۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ للوجی لال ایک برہمن تھے ۔ جن کے خاندان کا تعلق گجرات سے ۔ لیکن وہ عرصہ دراز سے شمالی ہند میں سکونیت رکھتے تھے ۔ ڈاکٹر جان گلکرسٹ کی ہدایت پر انہوں نے سدل مشر کے ساتھ مل کر جدید اعلیٰ ہندی کی تخلیق کی ۔ للوجی کی ہندی درحقیقت ایک نئی ادبی زبان تھی ۔ یہ اعلیٰ ہندی یا معیاری ہندی ایک نئی ادبی زبان تھی اور یہ زبان بعد میں کافی مقبول ہوئی ۔

انگریزوں کی ناکامی

1804ء کو جان گلکرسٹ فورٹ ولیم کالج سے مستفی ہوگئے اور 1808ء میں ولیم ٹلیر کا تقرر ہوا ۔ انہوں نے ہی دیوناگری رسم الخط لکھی جانے والی زبان کے لیے ہندی کا لفظ اپنی ایک رپوٹ 1812ء کو کالج کی کونسل کو پیش کی گئی استعمال کیا ۔ ورنہ اس سے پہلے ہندی فارسی رسم الخط میں لکھی جانے والی زبان کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ ولیم ٹیلر کے جانے کے بعد 1823ء آئے جو تھے ہندوستانی شعبہ کے سربراہ مگر خود کو ہندی کے پروفیسر کہتے اور لکھتے تھے ۔ اسی زمانے میں لفٹنٹ ڈی رڈیل کالج کی کونسل کے سیکٹریری بنے ۔ وہ بھی اردو کے سخت خلاف تھے اور اردو کو ایک مغلوں کی راءج کردہ بدیسی زبان کہتے تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ تین چوتھائی آبادی اس زبان کو نہیں سمجھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے فورٹ ولیم کالج کی سفارش پر گورنر جنرل ایسٹ انڈیا کمپنی میں بھرتی ہونے والے نئے ملازمین کو بجائے ہندوستانی کے برج بھاشا کی تعلیم دیے جانے کی منظوری دی ۔ حقیقت میں نہ صرف فورٹ ولیم کالج بلکہ انگریزی بھی اردو کے خلاف معاندانہ روش اختیا کرلی تھی ۔ فورٹ ولیم کالج میں ہندی کا شعبہ قائم نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ملازم تھا یہاں ۔ کیوں کہ اس وقت تک ہندی کوئی زبان نہیں تھی ۔ للوجی کو بھی بھاکا منشی کی حثیت سے تقریری ہوئی تھی ۔

برطانیوی احکام کی رپوٹوں سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے نصف اول تک ہندی کو اہمیت حاصل نہیں تھی لیکن وہ اردو کے مقابلے میں ہندی کو آگے بڑھانے کے درپے تھے ۔ سر جارج ابراہم گریزسن جس نے ہندوستانی لسانیات پر ایک کتاب لکھی ہندی کا زبردست حمایتی اور اس کی ترقی و ترویح کے لیے کام کیا ۔ یہ ناگری پرچارنی سبھا کا رکن بھی تھا ۔ بقول حکیم چند نیر کے اس نے یوپی میں عدالتوں اور دفتروں میں ہندی کو اردو کے برابر کا درجہ دینے میں اہم رول ادا کیا ۔

ہندی کا ماخذ

ہندووَں نے کھڑی بولی میں انیسویں صدی تک نہ باقیدہ نثر لکھی اور نہ شاعری ۔ وہ اسے ملیچھ بھاشا کہتے تھے ۔ فورٹ ولیم کالج میں ابتدا میں اردو کی جو کتابیں لکھی گئی انہیں بعد میں ڈاکٹر گلکرسٹ نے دیوناگری رسم الخط میں چھپوایا تھا ۔ لیکن اس سے پہلے ناگری کے طالب علموں کے لیے اردو شاعر عبداللہ مسکین کا ایک مرثیہ ناگری میں چھپوایا گیا تھا ۔ یہاں تک کہ انیسویں صدی کی پانچویں ڈھائی میں بنارس کالج کے پرنسپل ڈاکٹر بیلن ٹائن نے طلبا کو ہندی پڑھنے پر مائل کرنے کی بہت کوشش کی ۔ فورٹ ولیم کالج میں گلکرسٹ کے جانشینوں نے جو ہندی کے بہی خواہ تھے اور کالج کے باہر اس کا کوئی چرچا نہیں تھا ۔ یہاں تک ہندی کا شعبہ بند کرنا پڑا ۔ لیکن انیسویں صدی کے وسط سے ہندووَں کی توجہ رفتہ رفتہ اس کی طرف ہوتی گئی ۔ اس طرح ہندی کی ترقی و ترویح میں برطانیوی احکام کا بڑا ہاتھ ہے ۔

اس لیے ہندی کے ایک ممتاز ادیب چندر دھر شرما گلیری لکھتے ہیں کہ ہندووَں کی تخلیق کردہ قدیم شاعری برج بھاشا ، پوربی ، ویس واڑی ، اودھی ، راجھستانی اور گجراتی وغیرہ میں ہی ملتی تھی ۔ یعنی اس وقت ہندی نام کی کوئی زبان نہیں تھی ۔ اردو تھی جو کہ ریختہ ، ہندوی ، کھڑی بولی اور ہندی بھی کہلاتی تھی اور عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی ۔

برج بھاشا جو کہ یوپی کی بولی ہے اور ادبی اہمیت کی حامل رہی ہے اور بعض ہندی ادیبوں کا خیال ہے کہ ہندی برج بھاشا سے نکلی ہے ۔ اگرچہ یہ بات صحیح نہیں ہے مگر ابتدا میں جب ہندی پر برج بھاشا کے اثرات پڑے ہیں ۔ ہندی کے لیے اردو میں عربی اور فارسی کے الفاظ کی جگہ برج بھاشا اور بعد میں سنسکرت کے الفاظ داخل کئے گئے ۔

ہندی کے مشہور شاعر جگن ناتھ داس رتناکر نے کہا ہے ۔ کھڑی بولی یا پکی بولی یا ریختہ یا موجودہ زمانے کی ہندی کی موجودہ نثر و نظم کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اردو میں مستعمل فارسی عربی کے خالص یا تخریب شدہ الفاظ کو نکال کر ان کی جگہ سنسکرت یا ہندی کے تتسم اور تدبھو الفاظ رکھنے سے ہندی بنائی گئی ہے ۔

ہندی سے ہندووَں کی غیر دلچشپی

حکیم چند نیر نے اپنی کتاب اردو کے مسائل میں لکھتے ہیں کہ برطانیوی سامراج کے احکام ہندی کو ہندووَں کی قومی تہذیبی اور عوامی زبان بنانے کے لیے سر گاڑی اور پاؤں پیہہ کیے ہوئے تھے ۔ اس کا اندازہ بنارس سنسکرت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر جے آر بیلن کی رپوٹ سے بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے ۔ جہاں ان ہندو طلبا کو جو ہندی کو اہمیت نہیں دیتے تھے ہندی پڑھنے اور اپنی ماؤں بہنوں کی زبان سمجھنے کے لیے اکسایا جاتا تھا ۔ اس نے ایک طلبا کو ایک مضمون ِتم اپنی ماؤں اور بہنوں کی روز مرہ کی زبان کو حقارت سے کیوں دیکھتے ہو ۔ اس پر طلبا نے احتجاج کیا کہ یہاں سیکڑوں زبانیں ہیں اور وہ سب ہندی کہلانے کی مستحق ہیں ۔

ہندی کی تحریکیں

 بھاکا
	 بعض اہل ہندی کو یہ غلط فہمی رہی ہے کہ انگریز ہندوستانی سے اردو کے علاوہ ناگری رسم الخط میں لکھی جانے والی ہندی زبان کو بھی کہا ہے۔ لیکن انگریز ایسی زبان کو ہندوستانی نہیں بلکہ بھاکا کہتے تھے اور اس سے مراد شمالی ہندوستان کی بولیاں مراد لی جاتی تھیں۔ ناگری رسم الخط بھی نامقبول رسم الخط تھا۔ اس کا ترک کرنے کا ذکر میجر جوزف ٹیلر نے A Dictinaru Hindoostanee and English کے 1820ء؁ کے ایڈیشن میں کیا ہے۔ اس ڈکشنری میں عربی رسم الخط میں معنی دیے گئے ہیں اور ناگری کا استعمال نہیں ہوا ہے۔

رفتہ رفتہ سب بدل گیا اور انگریز احکام کی کوششیں رنگ لائیں ۔ اردو اور اس کے رسم الخط کے خلاف ہندووَں کی جارحانہ سرگرمیاں اور تحریکیں زور پکڑتی گئیں ۔ ہندووَں کی سماجی و اصلاحی تحریکیں نیر احیاء پرست تنظی میں اردو کی مخالفت اور سنسکرت آمیز ہندی اور ناگری رسم الخط کے پرچار کے لیے کھل کر سامنے آگئیں ۔ اس کے لیے فرقہ وارانہ جذبات و رجحانات کو ہوا دے کر ہندی اردو کشمکش پیدا کی گئی ۔ اس کی زرد میں پورا شمالی ہندوستان آگیا ۔ برہمو سماج جو بنگال کی سماجی تحریک تھی لیکن اس نے ہندی کے پرچار کا کام نہایت تندہی سے انجام دیا ۔ دوسری طرف پنجاب میں ۵۷۸۱ء;247; میں آریہ سماج کے نام سے ایک سماجی تنظم قائم ہوئی ۔ جو درحقیقت میں ہندووَں کی ایک احیاء پرست تنظیم تھی ۔ اس کا مقصد ہندووَں کی اصلاح کے علاوہ ہندی زبان کا پرچار شامل تھا ۔ جس کے رہنما سوامی دیانند سرسوتی نے آریا سماجیوں کے لیے ہندی جاننا لازمی قرار دے دیا تھا ۔ پنجاب کے ایک اور سماجی کارکن شردھا رام پھلواری اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے اردو کے خلاف زہر اگلتے تھے ۔ چنانچہ ہندووَں کی ایک بڑی تعداد نے اردو یعنی مسلمانی پربھاوا اور بھاشا کو چھوڑ کر ہندی بھاشا اور ہندو دھرم کیے ان پرتی شردھا کرنا سیکھا ۔ یہ بات شتی کنٹھ مشر پھلوری لکھتے ہیں اور ان مزید لکھا ہے کہ پنجاب کی ہندو آبادی نے مسلم اثرات اور کو ترک کرکے ہندی زبان اور مذہب کے لیے ایمان و عقیدت پیدا کرنا سیکھا ۔ آریہ سماجی رہمنا لالا لاجپت رائے نے اعتراف کیا کہ آریہ سماج سے وابستگی سے پہلے وہ ہندی سے نابلد تھے ۔ اس کے بعد انہوں نے پنجاب میں ہندی کے فروغ میں نہایت سرگرمی سے حصہ لیا ۔ اس سے پنجاب میں فرقہ وارنہ فضا پیدا ہوگئی اور پنجابی ہندو جو اردو لکھتے پڑھتے تھے ہندی کی طرف مائل ہوگئے ۔

نئی بھاکا

ہندی جو اردو کے بطن سے پیدا ہوئی ہے وہ اب بہت سے ہندی ادیب اردو کو ہندی کی شیلے یعنی اسلوب کہتے ہیں ۔ وہ یہ حقیقت بھول گئے کہ کھڑی بولی میں انیسویں صدی سے پہلے نثری ادب کی کوئی روایت نہیں تھی ۔ یہ بات ہندی کے ممتاز ادیب دھیر ورما اور بہت سے ہندی ادیبوں نے کہی ہے ۔ بشتر ہندو ادیب کھڑی بولی اور اردو کو ایک ہی سمجھتے تھے اور وہ اس زبان میں شاعری کے حق میں نہ تھے اور ان کا خیال ہے تھا وہ شاعری اردو کہلائے گی ۔ للوجی نے اردو کو بنیاد بنا کر اس میں سے عربی فارسی کے الفاظ نکال کر اس کی جگہ سنسکرت کے الظاظ رکھ کر اسے دیوناگری میں لکھ کر ایک نئی زبان اختراع کی ۔ اس میں جو لسانی طریقہ کار استعمال کیا تھا وو ایک نئی زبان کا پیش خیمہ ثابت ہوا ۔ اس لیے بھار تیندر ہریش چندر نے اپنی کتاب ہندی بھاشا میں للوجی کی کھڑی بولی ہندی کو نئی بھاشا کہتا ہے ۔

مذہبی حمایت

للو جی کی اس کی وجہ سے لسانی افتراق اور علحیدیگی کی بنیاد پڑی اور اردو کے بنیادی دھارے سے ہٹ کر ایک علاحدہ زبان کی تعمیر و تشکیل عمل میں آئی جس کے لیے دیوناگری رسم الخط اختیار کیا گیا ۔ اس سے پہلے سنسکرت اور چند بولیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ اس لسانی افتراق اور لسانی علاحدگی پسندی کو انیسویں صدی کی ابتدا میں ہندو احیا پرست تنظیوں اور ناگری پرچارنی سبھا نے خوب ہوا دی ۔ چنانچہ اس نے بہت جلد ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی ۔ ہندی تحریک کو جارحانہ انداز میں چلایا گیا اور اسے مذہب اور قومیت سے جوڑ دیا گیا ۔ چنانچہ 1885ء کے آس پاس ہندی کے پرجوش حامیوں کا نعرہ تھا ۔

جپو نتر ایک زبان

ہندی ہندو ہندستان

چٹرجی اپنی کتاب ہند آریائی اور ہندی میں لکھتے ہیں کہ قوم پرستانہ اور وطن پرستانہ مزاج رکھنے والے اور سنسکرت سے محبت کرنے واہے ہندو سوچ سمجھ کر اس کی جانب مائل ہونے لگے ۔ اس سلسلے میں انہیں بنگال اور پنجاب میں آریہ سماج سے بہت مدد ملی ۔ دھیرے دھیرے ہندو یہ محسوس کرنے لگے کہ ناگری رسم الخط کا احیاء بہت ضروری ہے ۔ 1890ء میں ناگری پرچارنی سبھا کا قیام عمل میں آیا اور ایک نئے عہد کی ہندی کی حقیقی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا ۔ ۔

اور کانگریس کے ممتاز رہمنا پنڈت مدن موہن مالویہ کی قیادت میں ہندووَں کی ایک تنظیم ہند سماج 1880 میں قائم ہوئی ۔ اس نے ہندی اور ناگری رسم الخط کے پرچار کی ذمہ دار سنبھال لی ۔ اس تنظیم نے یوپی کی حکومت اور حکومت ہند کو ہندی کے حق میں عرضداشتیں بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا اور 1884ء میں الہ آباد میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ہند کو سرکاری دفتروں اور عدالتوں راءج کرنے کے پرگراموں پر غور و فکر کیا ۔ یہ تنظیم اردو کی مخالفت میں اور ہندی کے حق میں جلسہ ، مذاکرات منعقد کرتے رہے ۔ 1894ء میں پنڈت مالویہ بنارس کی ناگری پرچارنی سبھا سے منسلک ہوگئے ۔

انفرادی اور اجتماعی سطح پر اردو کی مخالفت اور ہندی کو نشلزم اور ہندو ازم سے جوڑنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ انیسویں صدی کی آخری چھوتھائی میں پرتاب نارائن مشر کا دیا ہوا نعرہ ’ ہندی ، ہندو ، ہندوستان’ اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے ۔ پرتاب نارائن مشر ، سوامی دیانند سرسوتی ، شردھا رام پھلوری ، لالا لاجپت رائے ، پندت موہن مالویہ ، ایودھیا پرساد کھتری ، بابو شیو پرساد اور بھار تیندو ہریش چند ہندی کے پرچار اردو کے خلاف جدو جہد کرتے رہے ۔ انہوں نے اس کے لیے ہندی آندولن کی تحریک کا آغاز کیا ۔ یہ اردو کو ہندی کا ایک روپ مانتے تھے اور مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ اردو دیوناگری میں لکھنا شروع کردیں ۔

ہندی کے احیا کی کوششیں

یوں ہندی جس کا آغاز اردو میں عربی و فارسی الفاظ کی جگہ سنسکرت کے الفاظ سے ہوا تھا اور ہندی کو سنسکرت آمیز بنانے کا رجحان جلد ہی پروان چڑھا اس میں آگرے کے راجا لکشمن سنگھ پیش پیش تھے ۔ انہوں نے کئی سنسکرت کی کتابوں کے ترجمہ کیے ۔ راجہ لکشمن سنگھ نے کالی داس کی سنسکرت تصنیف رگھواش کا ہندی ترجمہ جو 1878ء شاءع کیا اس کے دپباچے میں لکھا ہندی اور اردو دو مختلف زبانیں ہیں ۔ ہندو ہندی بولے اور مسلمان فاری ۔ ہندی میں سنسکرت کے الفاظ کثرت سے استعمال ہوتے ہیں اور اردو میں عربی اور فارسی ہے ۔ اس لیے یہ ہندووَں کی زبان نہیں ہے ۔ نیز سرکاری اور تعلیمی سطح پر ہندی کے نفاذ کی تحریک کا آغاز کیا گیا ۔ اس تحریک میں بنارس کے راجا بابو شیو پرساد سرکاری دفتروں اور عدالتوں کا نفاذ چاہتے تھے ۔ اس لیے انہوں نے انگریز حکومت کو ایک میمورنڈم پیش کیا ۔ جس میں اردو کو مسلمانوں سے منسوب کرکے اردو اور مسلمانوں کو ہدف ملامت بنایا گیا ۔ جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ مسلم حکمرانوں نے اس بات کی قطعی زحمت نہ کی کہ وہ ہندوستانی زبانیں سیکھتے ۔ بلکہ انہوں نے ہندووَں کو فارسی سیکھنے پر مجبور کیا ۔ نیز ہندی کہی جانے والی بولیوں میں فارسی اور عربی کے الفاظ داخل کرکے ایک نئی شکل قائم کی جو اردو یا نیم فارسی کہلائی ۔ اس طرح کی لسانی پالیسی وضع کی کہ ایک غیر ملکی زبان اور فارسی رسم الخط کو عوام الناس پر جبرم تھوپ دیا گیا ہے ۔ اس پالیسی سے تمام ہندووَں کو نیم مسلمان بنانے اور ہندو قومیت کو نیست و نابود کرنے کی کوشش ہے ۔ حکومت سے استدا ہے کہ وہ فارسی رسم الخط کو ختم کرکے ہندی نافذ کرے ۔ اس سے ہندو قومیت بازیاب ہوگی ۔ بھار تیندو ہریش چندر جو خود بھی اردو کے شاعر تھے اور رسا تخلص کرتے تھے ۔ اس کے باوجو اپنی تحریروں میں اردو کا مزاق و تضحیک کرتے تھے ۔

اس تحریک میں ہندی کو ہندتو اور ہندی قومیت سے جوڑ دیا گیا تھا ۔ ہندی کو ہندی تہذیب کی علامت اور اردو کو اس کا رقیب بناکر پیش کیا گیا ۔ بقول کرسٹوفر کنگ ہندی تحریک ہندوستان کی آزادی سے قبل کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر فرقہ وارنہ بیداری کو بڑھاوا دینے کے عمل کا حصہ بن چکی تھی ۔ اس عمل سے نسلی گروہ فرقوں اور قوموں میں بٹ گیا اور انجام کار 1947ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا ۔

وہ مزید لکھتا ہے کہ اس تقسیم کادوسرا رخ 1860ء میں سامنے آیا جب بعض ہندووَں نے یہ کہنا شروع کیا کہ کوئی شخص ایک اچھا ہندو اور اردو کا وکیل بھی ہو ایسا نہیں ہوسکتا ہے ۔ ہندو ، ہندو اور ہندوستان جسے نعروں نے اپنی انتہا کو پہنچادیا ۔ ان کے نذدیک ہندی نہ بولنے والوں کے لیے ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں تھی ۔ ہم اس عمل جس میں اردو کو سنسکرتیا بنائے جانے کا نام دیں گے ۔

اردو کی ہندووَں مخالفت

ہندووَں کا ایک بڑا طبقہ اردو میں پیشہ ورانہ مہارت رکھتا تھا ۔ اس میں کایستھ ، کھتری اور کشمیری برہمنوں کے اردو سے نہایت گہرے رابط تھے ۔ سرکاری ملازمتوں پر انہی کا غلبہ تھا ۔ اس لیے سرسید احمد خان نے بابو شوپرشاد کی تحریک پر کہا اردو نہ رہی تو ہندو مسلمانوں کے درمیان اتفاق نہیں رہ سکتا ہے ۔ اس دور میں اردو پر برابر حملے جاری تھے اور اسے کبھی غیر ملکی اور کبھی مسلمانی بھاشا کہہ کر ہندووَں کو اردو سے دور کرنے کی مہم جاری تھی ۔ یہاں تک انتہا پسند ہندووَں نے اسے طواءفوں کی زبان کہنا شروع کردیا ۔ اس کے نہ صرف لسانی بلکہ سماجی ، سیاسی اور تہذیبی منظر نامے پر دور رس نتاءج مرتب ہوئے ۔

انیسویں صدی کے آخر میں ہندی تحریک میں شدت اور اس نے جارحانہ رخ اختیار کرلیا۔ ایک نئی تنظیم ناگری پرچانی سبھا کا 1893ء بنارس میں عمل میں لایا گیا۔ جس کو بڑے بڑے ہندو راجاؤں اور رئیسوں کی سرپرستی اور ہمدردی حاصل ہوئی۔ اس نے عدالتوں اور دفتروں میں ہندی اور ناگری رسم الخط کے نفاذ کو اپنا مقصد بنایا۔ چنانچہ 1895ء میں اودھ کے گورنر بنارس آئے تو ان کی خدمت ایک وفد بھیجا گیا۔ جس میں اجودھیا کہ مہاراجا پرتاب نارائن سنگھ سربراہ اور پنڈت موہن مالویہ، سر سندر لال، راجا ماڑا اور راجا آوا گڑھ وغیرہ شامل تھے۔ اس وفد نے ہندی کو تعلیمی اداروں، عدالتوں اور دفتروں میں رائج کرنے کی استدعا کی گئی  اس کے بعد گورنر جب 1898ء الہ آباد آئے تو وہاں بھی سبھا کا ایک وفد ملا جس نے ہندی کو سرکاری اور سطح پر رائج کرنے کے لیے میکڈانل کی خدمت میں ساٹھ ہر دستخطوں سے ایک یاداشت پیش کی۔ پنڈت مالویہ نے 1897ء میں ایک کتاب Court Character and Primaru Education in the N w P and Oudh شائع کی جس میں اردو رسم الخط کی خامیوں کو بیان کرتے ہوئے ہندی اور دیو ناگری کی پرزور   وکالت کی۔ 

انگریزوں کی اردو کی مخالفت

اگر دیکھا جائے تو پوری انیسویں صدی اردو مخالف جذبات و رجحانات اور معصبانہ نظریات سے پر نظر آتی ہے ۔ ٹھیک ایک سو سال بعد یوپی کے گونر سر اینٹونی میکڈانل نے شمال مغربی صوبہ جات اور اودھ میں عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں ناگری رسم الخط کو جاری کئے جانے کا حکم صادر کیا ۔ اردو مخالفوں میں ہندووَں کے ساتھ انگریزی حکومت کی بے مہری اور مخالفانہ روش کا شکار ہوگئی ۔ اس پر مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا ، مگر ان کی نہیں سنی گئی اور انہیں نظر انداز کردیا گیا ۔ سرسید نے انگریزوں کی اسی روش کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا اور بلآخر یہ جھگڑا اتنا بڑھا کہ ہندو اردو کو مسلمانوں کی زبان کہنے لگے ۔

ہندی سرکاری زبان

سر میکڈونل کا رویہ اردو کے ساتھ انتہائی مخالفانہ تھا اور وہ دیوناگری اور ہندی کے حامی تھے ۔ اس سے پہلے انہوں نے بہار میں ہندی کو راءج کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ جنانچہ 18 اپریل1900ء انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کی رو سے عدالتوں اور سرکاری دفتروں میں اردو کے ساتھ دیوناگری رسم الخط اور ہندی جاری کردیا ۔

گورنر کے اس فیصلے سے اردو داں خاص کر مسلمانوں میں سخت بے چینی پھیلی اور جگہ جگہ اس کے خلاف احتجاجی جلسے منعقد کیے گئے ۔ نواب محسن المک جو علی گڑھ کالج کے جنرل سکیٹری تھے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس فیصلے پر احتجاج کیا اور اس جلسے کی کاروائی کی نقل حکومت کو بھیجی گئی ۔ گورنر اس پر سخت برہم ہوا اور اسے اپنی گورنمٹ کی پالیسی پر ایک حملہ سمجھا ۔

جب مسلم رہنماؤں کے وفد نے گورنر سے ملنے کی کوشش کی تو گورنر نے ملنے سے انکار کردیا ۔ لکھنو میں ایک شاندار احتجاجی جلسہ نواب محسن المک کی صدارت میں ہوا ۔ جب اس کی اطلاع گورنر کو ملی تو وہ علی گڑھ آیا اور کالج کے ٹرسٹیوں کو جمع کرکے ان جلسوں پر اپنی سخت ناراضی کا اظہار کیا ۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ کالج سے طلبا ایجی ٹیشن کے لیے بھیجے گئے ہیں ۔ اس نے ڈھمکی دی اگر یہی طریقہ جاری رہا تو کالج کو حکومتی امداد بند کردی جائے گی ۔ اس کی وجہ سے نواب محسن المک نے اپنے کو کالج کی ٹرسٹی سے علحیدہ کرلیا ۔

فاصلے

وقت کے ساتھ زبان کی تلخی اتنی بڑھتی گئی اور اردو سے مراد مسلمانوں کی زبان اور ہندی سے مراد ہندووَں کی زبان لی جانے لگی اور ہندو و مسلم جو الگ الگ مذہب کے باوجود ایک ثقافت رکھتے تھے ان کے درمیان ڈراریں پڑگئیں ۔ جو بلآخر تقسیم کا باعث بنی ۔ آج بھارت کی سرکاری زبان پاکستان کی طرح انگریزی ہے ۔ مگر وہاں کی قومی زبان ہندی ہے ، جب کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت میں عام بولنے والی زبان ہندی ہے ;238; ۔ اس سوال کے جواب کے لیے ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

اردو کی مقبولیت

ہم اردو میں کوئی بھی سوال جس میں خ ، ق ، ز وغیرہ استعمال ہوئے ہوں آسام سے لے کر مکران تک ، درہ خیبر سے راس کماری تک ۔ یہاں تک پہاڑی علاقوں مثلاً نیپال ، سکم اروناچل وغیرہ یعنی برصغیر کے کسی گوشے میں کریں تو لوگ اسے فوراًً سمجھ جاتے ہیں اور اس کا جواب دیتے ہیں ۔ چاہے ان کا تلفظ کیسا ہی مختلف ہو ۔ یعنی اس پر مقامی زبان کا اثر بھی ہوتا ہے ۔ ایسی زبان کو بھارت میں ہندی کہا جاتا ہے ۔ جب کہ یہ زبان پاکستان میں اردو کہلاتی ہے ۔ لیکن اس سوال کو ایسی ہندی زبان جس میں سنسکرت کے ثقیل الفاظ ، اصلاحاتیں اور ترکیبیں شامل ہوں پوچھیں تو پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت کے بشتر لوگ جواب نہیں دے سکیں گے ۔ کیوں کہ باوجود ہندی قومی زبان ہونے یہ زبان ان کے فہم سے بالاتر ہے ۔ آپ چاہے اسے ہندی کہہ کر دیوناگری میں لکھیں مگر حقیقت میں یہ اردو ہی ہے ۔ اس کے مقابلے میں بعض اوقات ہندی میں سنسکرت کے ایسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں کہ یہ زبان عالموں کی سمجھ سے بھی بالاتر ہوجاتی ہے اور یہ زبان عام بول چال کے لیے نہیں بلکہ ادبی ، سیاسی اور مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔

اس ہندی کے بارے میں گارساں دتاسی میرٹھ کے ایک ہندی اخبار ہندی اخبار (جگ سماچار) کے بارے میں لکھتے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے اردو دوسری زبانوں سے زیادہ زیادہ مستعمل ہے ۔ اس کا ثبوت اس اخبار سے ملتا ہے کہ اس کا سب اہم اشتہار اردو اور فارسی رسم الخط میں ہے ۔ اس اخبار میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اس زبان عام فہم ہے اگرچہ ناگری رسم الخط میں ہے ۔ چنانچہ زبان کے اعتبار سے یہ اردو کا ہے نہ کہ ہندی کا ۔

آج اگرچہ بھارت میں ہندو فارسی رسم الخط استعمال نہیں کرتے ہیں ۔ مگر گزشتہ صدی کے وسط تک ہندو عام طور اسی میں لکھتے اور پڑھتے تھے ۔ اردو کے ہندو ادیب و شاعروں کی فہرست بہت لمبی ہے ۔ گزشتہ صدی کی ابتدا تک اکثر ہندو ادیب اپنی کتابیں عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے اردو میں لکھتے تھے ۔ آپ اس وقت کی کسی بھی ہندو ادیب کی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں اس میں مصنف یہی لکھا ہوگا ۔ مگر جیسے جیسے ہندو فارسی رسم الخط سے دور ہوتے گئے اور دیوناگری رسم الخط اپنالیا اور وہ اسے ہندی کہنے لگے ۔ ان ادیبوں میں بڑی مثال منشی پریم چند کی ہے ۔ جنہوں نے آخر میں اردو لکھنا چھوڑ دیا اور ہندی میں لکھنے لگے ۔ مگر ان کی زبان میں فرق نہیں ہے ۔ اس لیے ہم اسے دیوناگری رسم الخط میں اردو ہی کہیں گے ۔

ہندی کا استعمال

دوسری اہم بات یہ ہے ہمارے یہاں اردو میڈیم اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے ۔ لیکن بھارت میں ہندی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں میں دوسروں زبان بولنے کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ یہ زبان شمالی ہند میں ہی ادبی ، سیاسی اور مذہب میں استعمال کی جاتی ہے اور دوسرے علاقہ میں رہنے والے اپنی اپنی زبانیں استعمال کرتے ہیں ۔ یہ ہندی نہ ہی فلموں ، ٹی وی ڈراموں اور گیتوں میں استعمال کی جاتی ہے ۔ اس زبان کا تعلق ہندی سے کم اور اردو سے زیادہ قریبی رشتہ ہے ۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہندی زبان میں ف ، خ ، ق ، ز وغیرہ استعمال ہوتے ہیں ۔ جب کہ عام لوگ پھر بھی فارسی عربی الفاظوں کو بولتے ہیں اور یہ فلموں ، ٹی وی ڈراموں اور گیتوں ان کا استعمال عام ہے ۔

شاعری

ہندووَں کی شاعری سے دلچسپی کم رہی ہے ۔ مقامی زبانوں میں کچھ شعراء کے نام ملتے ہیں مثلاً برج بھاکا یا بنگلہ یا پنجابی میں ۔ ویدک اور دوسرے گرنتھ بھی منظوم لکھے گئے مگر اس کی باوجود ہندو شاعری میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں ۔ مگر اردو کے ہندو شعراء میں بڑے نامی گرامی شعراء گزرے ہیں ۔ شاید اردو کا مزاج ایسا رہا کہ وہ لوگوں کو شاعری میں دلچسپی لینے پر مجبور کردیتی ہے ۔ اس طرح مقامی زبانوں میں مسلم شعراء کی تعداد ہندووَ سے کم نہیں ہوگی ۔ ہندووَں میں کلاسیکل ہمیشہ موسیقی مقبول رہی ہے ۔ کیوں کہ اسے مذہبی تقدس رہا ہے ۔ ان کے مذہب میں رقص اور گیت کو عبادت کا درجہ حاصل ہے ۔ اس لیے گھر گھر میں اس چرچا رہا ہے ۔ مگر اس کے باوجود ان کے گیت بھجن یا لوک گیتوں تک محدود رہے ہیں ۔ غزل جو کہ اردو کی مقبول ترین اصناف ہے وہ ہندووَں میں نہایت پسند کی جاتی ہے ۔ بھارت میں ہر دور میں ایسے گلوکار ملتے ہیں جو اردو بول نہیں سکتے ہیں ۔ مگر اردو غزل اور گیت نہایت خوبصورت گاتے ہیں اور گیتوں کی طرح غزلوں کو نہایت پسند کیا جاتا رہا ہے ۔ بہت سے ہندو گلوکاروں نے شہرت محض غزل کی گائیگی سے حاصل کی ۔

اردو کی مقبولیت

پاکستان میں فل میں دیکھی جاتی ہیں مگر اس شوق یا ذوق سے نہیں جیسا کہ بھارت میں ۔ وہاں پر فل میں فلاپ بھی ہوجاتی ہیں مگر اپنی لاگت نکال لیتی ہیں ۔ اس لیے وہاں تجربات بھی ہوتے رہے ہیں اور ہر زبان میں فل میں کثیر تعداد میں بنائی جاتی رہی ہیں ۔ مگر وہاں مقبول عام فل میں اردو میں ہی ہوتی ہیں ۔ ان فلموں اور ڈارموں کے مکالمہ نگار اور شاعر دونوں اردو داں ہوتے ہیں ۔ اگرچہ یہ فل میں ہندی کہلاتی ہیں مگر وہاں کے بشتر فلمی شاعر اور مکالمہ نگار مسلمان ہیں اور جو مسلمان نہیں ہیں وہ بھی اردو میں اپنے گیت اور مکالمہ لکھتے ہیں جسے وہ اسے ہندی کہتے ہیں اور ان میں عربی اور فارسی الفاظ عام استعمال کئے جاتے ہیں ۔

ہندو اگرچہ دیوناگری رسم الخط کی وجہ سے ان کی درست ادائیگی نہیں کرتے ہیں ۔ مثلاً ف کی جگہ پھ ۔ ز ، ض ِ ظ کی جگہ ج ، خ کی کھ استعمال کیا جاتا ہے ۔ مگر حیرت کی بات ہے جن کی زبان بظاہر نہیں ہے مگر اردو کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے اور وہ عربی اور فارس کے الفاظ بے تخلف استعمال کرتے ہیں ۔ کیوں کہ الفاظوں کے بغیر وہ اپنا مفہوم دوسروں تک فصیح اور خوبصورت طریقہ تک پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی ان میں تاثر رہے جاتا ہے ۔ آخر اردو میں عربی اور فارسی کے الفاظ نکال کر بنائی گئی ہندی میں کچھ سنسکرت کے الفاظ عام بول چال میں استعمال کرتے ہیں تو اور اس زبان کو دیوناگری میں لکھ کر اور ہندی کہنا خود فریبی ہے ۔ اگر دیوناگری میں لکھی جاتی ہے تب بھی وہ اردو ہے ۔ جس طرح رومن میں اردو کو لکھیں تب بھی وہ اردو کہلاتی ہے ۔ عربی اور فارسی الفاظ کا استعمال اس زبان کے اردو ہونے کا ثبوت ہے اور کیا یہ اردو کی مقبولیت کا ثبوت نہیں ہے ;238;

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں