84

ہم مطالعہ کیسے کریں

ہم مطالعہ کیسے کریں کے طریقہ کار کی وضاحت کرنے سے پہلے میں اپنا ایک واقع سنادوں اس سے آپ کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ اس وقت میری عمر بیس یا بائیس سال تھی ۔ اس زمانے میں لوگوں کے پاس نجی گاڑیاں کم تھیں اور نہ ہی اس وقت تک اے سی بسیں چلیں تھیں ۔ اس وقت حیدر;200;باد سے کراچی سپر ہائی وے پر میاں والی کے جاہل بدتمیز اور جٹ ڈرائیور اور کنڈیکٹر گاڑیاں چلایا کرتے تھے ۔ جن کی کوشش ہوتی تھی کہ گاڑی کو اوپر سے نیچے تک بھر لیں ۔ یہ مسافروں کو بھرنے کے لیے خوار بہت کرایا کرتے تھے اور راستہ میں بہرام گوٹھ موجودہ نوری ;200;باد میں دیر تک گاڑیاں روکتے تھے ۔ جس کی وجہ سے دو گھنٹے کا سفر چھ سات کھنٹے میں طہ ہوتا تھا ۔ ان بسوں میں تیز گانے بجا کرتے تھے جو کہ سر میں درد کر دیا کرتے تھے ۔ انہیں کچھ کہو تو لڑنے پر ;200;مادہ ہوجاتے تھے ۔

میں گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میرے ہاتھ میں کتاب ضرور ہوتی ہے ۔ مجھے پڑھنے کا کچھ ایسا جنون تھا کہ پیدل چلتے ہوئے بھی کتاب پڑھا کرتا تھا ۔ میں کراچی جارہا تھا حسب معمول میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی اور میں اس کا مطالعہ کر رہا تھا مگر تیز ریکاڈنگ کی وجہ سے سر میں درد ہونے لگا ۔ میں کھڑا ہوگیا اور کنڈیکٹر سے کہا کہ ;200;واز کم کردو ۔ کنڈیٹر جواب میں منہ ماری کرنے لگا کہا ;200;واز کم نہیں ہوگی اگر اترنا ہے تو اتر جاؤ ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے گاڑی روکو میں اتر رہا ہوں ۔

میری ساتھ کی نشت پر بیٹھے ہوئے تین ;200;دمیوں نے مداخلت کی اور کنڈیکٹر کے مقابلے میں میری حمایت کی ۔ ان صاحبوں کا میں نے شکریہ ادا کیا ۔ ان تینوں میں ایک صاحب کو میں جانتا تھا ۔ میں ان کو میں اسلامی جمعیت کی پارٹیوں میں دیکھ چکا تھا ۔ وہ صاحب جماعت اسلامی کے رکن اور ایک بڑے اسٹور کے مالک تھے ۔ نام میں ان کا نہیں جانتا تھا ۔ وہ صاحب کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے اور مطالع کے عادی لگ لگتے تھے ۔ ان دونوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا کرتے ہو اور کون سے کتاب پڑھ رہے ہو ۔ میں نے بتایا توزک جہانگیری ہے اور اپنی جاب کے بارے بتایا ۔ میں نے ان صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا میں انہیں جانتا ہوں اور ;200;پ دونوں صاحب کیا کرتے ہو ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ;72; ;68; ;65; میں افسر ہیں ۔ ایک صاحب نے مجھے سے دیکھنے کے لیے کتاب مانگی ۔ میں نے وہ کتاب ان کے حوالے کر دی ۔ وہ دونوں کتاب کی ورق گردانی کرنے لگے ۔ انہیں کتاب دلچسپ لگی اور مجھ سے کہا یہ کتاب پندرہ دن کے لیے ہ میں دے سکتے ہو ۔ میں نے جواب دیا نہیں ۔ وہ دونوں میرے جواب سے کچھ حیران ہوئے اور کہنے لگے بھائی یہ ہمارا کارڈ ہے اور میں فلاں فلاں جگہ میرا ;200;فس ہے ، اگر مجھے نہیں جانتے ہو تو ان کو تو جانتے ہو ، میں ان کی ضمانت دلادوں ۔

میں نے جواب میں کہا بات ضمانت کی یا اعتماد کی نہیں ہے ۔ یہ کتاب چھ ماہ بھی ;200;پ کے پاس پڑی رہی تو ایسی کی ایسی پڑی رہے گی ۔ کیوں کہ ;200;پ دونوں کو مطالعہ کی عادت نہیں ہے ۔ ;200;پ دونوں صرف ہیڈ لائین پڑتے ہیں اور زیادہ پڑھنے سے ;200;پ کے سر میں درد ہوجاتا ہے ۔ ہاں وہ صاحب کہیں کہ مجھے یہ کتاب دے تو میں انہیں دے دوں گا ۔ کیوں کہ انہیں پڑھنے کی عادت ہے ۔ مگر ;200;پ کو دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ وہ دونوں صاحب میری بات سن کر سیٹ سے اچھل پڑے اور حیرت سے بولے بالکل ٹھیک بات ہے ۔ تم نے یہ کیسے جانا ;238;

میں مسکرایا اور کہا بہت سادہ سی بات ہے ، ;200;پ دونوں یہ کتاب پڑھ رہے تھے تو ;200;پ دونوں کے ہونٹ ہل رہے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ ;200;پ لوگ پڑھنے کے شوقین نہیں ہیں اور صرف ہیڈ لائن ہی پڑھتے ہیں ۔ پڑھنے کی کوشش کریں تو سر میں درد ہونے لگتا ہے ۔ وہ دونوں بے ساختہ بولے ، اتنی کم عمری اور اس قدر تجربہ ۔ پھر ان صاحبوں نے کتاب نہیں مانگی ۔

حالانکہ اس میں تجربہ کی کوئی بات نہیں تھی ۔ اگر پڑھنے کا شوق ہو تو بہت سی باتوں کے لیے تجربہ یا مشاہدہ کی ضرروت پیش نہیں ;200;تی ہے اور یہ بات بھی میں پڑھی کہ پڑھنے والوں کے ہونٹ نہیں ہلتے ہیں اور میں صفحہ پر طائر نظر ڈال کر اسے ایک نظر میں پڑھ لیتا ہوں ۔ اس واقع سے آپ دونوں بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مطالع کرنے والوں کے ہونٹ نہیں ہلتے ہیں اور اسی طریقہ کی اس مضمون میں وضاحت کی گئی ہے ۔

تھریر کی صورت میں دنیا کی بشتر معلومات کے خزانے پوشیدہ ہیں ۔ قدیم زمانے انہیں جادوئی افسوں کہا جاتا تھا اور جسے یہ جادو آتا تھا اس کے سامنے بہت سے پوشیدہ راز عیاں ہوجاتے تھے اور وہ انہیں محفوظ بھی کرسکتا تھا ۔ اس لیے اس جادو کو جانے والوں کی بہت عزت و توقیر کی جاتی تھی ۔ آج کے زمانے میں یہ خزانہ چند تحریرں تک محدود نہیں رہا ہے ۔ اس کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ کسی ترقی یافتہ زبان میں کسی ایک موضع لکھے گئے مواد کا ذخیرہ اس قدر وسیع ہوتا ہے کہ اس کو پڑھنے کے لیے یہ زندگی ناکافی ہوتی ہے ۔ باوجود اس کے میڈیا کے ذریعے ہم بہت کچھ معلومات حاصل کرتے ہیں ۔ مگر مطالع کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مطالع کیوں کرنا چاہیے ;238;

اس کا سیدھا سا جواب تو یہ ہوگا کہ لوگ کسی بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتے ۔ لیکن علم میں اضافہ کرنے کے لیے کتابیں پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے لیے تحربہ اور پرکیٹس سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ لوگوں کی باتیں یا لکچر سن کر یا فل میں دیکھ کر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ پھر کیا ضرورت ہے کہ موٹی موٹی کتابیں پڑھیں جائیں اور سچی بات یہ ہے میں بہت کچھ سکھا اور حاصل کیا ہے اس میں کتابوں کے علاوہ بھی ہر ذراءع کو استعمال کیا ہے ۔ آج علم حاصل کرنے کے بہت سے ذراءع ہیں ۔ جس میں فلم ، ٹی وی ، ریڈیو ، لکچر اور اشتہارات مگر اس کے باوجود تحریر کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے ۔ کیوں کہ بے شمار لوگ اپنے علم ، معلومات و تجزیہ کو تحریر کے ذریعہ محفوظ رکھتے ہیں اور معلومات دوسرے اس وقت تک مستند نہیں سمجھی جاتی ہیں جب تک وہ تحریری شکل میں نہ ہو ۔ دوسری بات یہ مگر ہم اس طرح جو سیکھتے ہیں وہ تجرباتی یا عملی اور محدود ہوتا ہے ۔ جب کہ لکھی ہوئی تحریر لا محدود ہیں اور ان تک پہنچنے کا طریقہ مطالعہ ہے ۔ یہ تحریریں صدیوں تک لوگوں کی رہنمائی کرتی ہیں ۔

ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس خزانے تک پہنچنا چاہتے ہیں مگر ان سے مطالعہ نہیں ہوتا ہے یا وہ مطالعہ کی عادی نہیں ہوتے ہیں ۔ اس کی عادت کسیے ڈالیں ;238; اور بہت سے لوگ مجھے سے یہ سوال کرچکے ہیں ۔ میرے خیال میں یہ ایک اچھا اور صحت مندانہ سوال ہے ۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے پڑھنے کا شوق بہت کم ہے اور تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلم رٹے لگاتے ہیں اور یہ مطالع کی عادی ہوتے ہیں ۔ اگرچہ مطالعہ کا شوق ورثہ اور ماحول کی وجہ سے بھی پیدا ہوتا ۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مطالع کا رجحان بالکل نہیں ہے ۔ اس لیے یہاں یہ چیز ورثہ میں ملتی ہے اور نہ ہی ماحول ملتا ہے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے لوگ مطالعہ کیوں کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ جادو ہر کسی کو نہیں آتا ہے اور جو اس خزانے تک پہنچنا چاہتا ہو ۔ مطالعہ کرنے کی عادت اچھی ہے ۔ مگر جب یہ حد سے زیادہ ہوجائے تو دوسری سود مند چیزوں کی طرح اس کے نقصان بھی ہیں ۔ مثلاً مطالع کی وجہ سے میں نے کبھی اپنی اسکول کی کتابوں پر توجہ نہیں دی ۔ نوٹس بنانا دور کی بات ہے میں گھر کا کام بھی نہیں کرتا تھا اور امتحان میں بھی رات کو ایک نظر کتابوں پر ڈالیا کرتا تھا اور ڑٹے مجھ سے لگائے نہیں جاتے تھے ۔

مطالعہ کرنے والا آزادنہ اپنی پسند اور مرضی کے مطابق کی معلومات اور تفریح لے سکتا ہے ۔ مگر وہی سوال ہے کہ یہ عادت کیسے ڈالی جائے ۔ ہمارے معاشرے میں مطالعہ کرنے والے کسی اور دنیا کے لوگ سمجھے جاتے ہیں ۔ اکثر لوگ جو پڑھنا جانتے ہیں مگر ان کے لیے مطالعہ کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے ۔ بعض اوقات انہیں مطالعہ کرنے والوں سے رشک و حسد ہوتا ہے ۔ پڑھا آنا اور مطالعہ کرنا دو الگ باتیں ہیں ۔ جس کو پڑھنا آتا ہو وہ صرف اپنی مطلب یا ضرورت کی چیزیں پڑھ سکتا ہے ۔ مگر مطالعہ کرنے والا وسیع اور لامحدو معلومات حاصل کرسکتا ہے ۔ آپ کسی عام آدمی اور مطالعہ کے عادی افراد کو مطالعہ کرتے وقت بغور دیکھیں تو دونوں کے انداز میں فرق ہوتا ہے ۔ عام آدمی کے ہونٹ ہل رہے ہوں گے اور مطالعہ کے عادی صرف آنکھیں کتاب کو دیکھ رہی ہوں گیں ۔

یہی فرق ہے جو عام پڑھنے والے اور مطالعہ کے عادی افراد میں ہوتا ہے ۔ پڑھنے والے ہونٹوں کو حرکت کی جنبش سے اپنے الفاظ دماغ تک پہنچاتے ہیں ۔ ہونٹوں کی حرکت سست ہوتی ہے ۔ اس سے اس کا دماغ تھک جاتا ہے اور وہ ماوَف ہونے لگتا ہے ۔ بالکل اس طرح جیسے دو آدمی پیدل کہیں جارہے ہوں ایک جوان آدمی تیز رفتار اور دوسرا بوڑھا آہستہ چلنے والا اور دو ہی کچھ دیر میں تھک جائیں گے ۔ کیوں کہ جوان آدمی آہستہ چل نہیں سکتا ہے اس لیے بوڑھا کے ساتھ آہستہ چلتا تو اکتاتا اور تھک جاتا ہے ۔ جب کہ بوڑھا اس قابل نہیں ہے کہ وہ تیز اور زیادہ دور تک چل سکے ۔ ہونٹوں کی حرکت سے پڑھنے والا کبھی ایک اچھا قاری نہیں بن سکتا ہے ۔ کیوں کہ ہونٹوں کی سست رفتاری کا اس کا دماغ ساتھ نہیں دیتا ہے اور سر اور آنکھوں میں درد شروع ہونا اور ذہن ماہوف ہونا شروع ہوجائے گا ۔

یہ اصل میں رٹے لگانے کا طریقہ ہے اور اس میں الفاظوں کی ترتیب ذہن میں بیٹھائی جاتی ہے ۔ اس سے سبق یاد ہوجاتا ہے لیکن صرف الفاظ کی ترتیب کی حد تک ۔ مگر ہم نے کیا یاد کیا ہے ہم وہ نہیں سمجھ سکتے ہیں ۔ اگرچہ رفتہ رفتہ ہم اس رٹے کو سمجھنے لگتے ہیں ۔ لیکن ان کے سیکھنے اور سمجھنے کی رفتار سست ہوتی ہے ۔ اگرچہ ایسے طلبا جو کہ رٹے لگا کر پڑھتے ہیں ان کے نمبر بھی اچھے آتے ہیں ۔ مگر وہ عملی زندگی میں صرف لکیر کے فقیر ہوتے ۔ وہ ایک لگے بندھے طریقے سے اپنا کام کرتے ہیں اگرچہ ان کے زندگی اور کاموں میں بے ترتیبی نہیں ہوتی ہے ۔ لیکن ہنگامی یا مروج طریقہ کار ہٹ کر وہ اپنے فراءض انجام نہیں دے سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی تخلقی کام کرسکتے ہیں ۔ اس طرح کے لوگوں میں مطالعہ کا شوق نہیں ہوتا ہے اور صرف مطلب کی اور مختصر تحریر پڑھ سکتے ہیں ۔

اگر آپ مطالعہ کا شوق رکھتے ہیں تو اس کے آپ کو ہونٹوں سے نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے پڑھنے کی عادت اپنانی ہوگی ۔ کیوں کہ ہماری آنکھوں کی دیکھنے کی رفتار ہونٹوں کے مقابلے میں بہت تیز ہوتی ہے اور وہ پورا پورا ہمارے دماغ کا ساتھ دیتی ہیں ۔ آنکھوں سے مطالعہ کرنے والا جلد اکتاتا نہیں ہے اور مطالعہ کا بشتر حصہ اپنے ذہن میں رکھتا ہے ۔ آپ اگر کسی کے گھر جاتے ہیں وہاں آپ کو ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا جاتا ہے اور ان صاحب کے کے انتظار میں کمرے میں تنہا بیٹھے ہیں ۔ آپ کمرے کا ایک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں ۔ وہاں میز ، صوفہ ، کتابوں یا آرائش کے سامان کی الماری ، گلدان اور دوسری چیزیوں کو دیکھتے ہیں ۔ ان سب چیزوں کا جائزہ لینے میں آپ چند منٹ بھی نہیں لگاتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں وہاں کیا ہیں ۔ لیکن اگر اس کمرے میں موجود تمام چیزوں کی تفصیل بنا کر آپ کو دی جائے تو اس کو پڑھنے میں شاید آپ پندرہ بیس منٹ لگائیں گے کیوں ;238; آپ نے سوچا ہے ۔ کیوں کہ آپ نے جائزہ لینے میں آنکھیں استعمال کیں اور پڑھنے میں ہونٹ ہلائے اور بہت سی چیزیں جنہیں آپ نے نظر انداز کیا وہ بھی درج ہیں ۔ اس لیے انہیں پڑھنے میں آپ کا وقت زیادہ لگا ۔

اگر آپ مطالعہ کی عادت ڈالنا چاہتے ہیں تو آپ آمکھوں سے پڑھنا سیکھیں ۔ لیکن آنکھوں سے ایک دم پڑھ نہیں پڑھ سکتے ہیں ۔ کیوں کہ آپ اس کے عادی نہیں ۔ لیکن اس کا مطلب ہر گز نہیں ہے کہ آپ آنکھوں سے نہیں پڑھ سکتے ہیں ۔ حالانکہ آپ آنکھوں سے بہت کچھ پڑھتے ہیں ۔ آپ گھڑی کو دیکھتے ہیں چار بج کر انچاس منٹ ہو رہے ہیں ۔ یہاں بھی آپ نے ہونٹوں کو حرکت نہیں دی مگر اس کے باوجود درست پڑھ لیا ۔

ہونٹوں سے پڑھنے والے لوگوں کی رفتار اس لیے سست ہوتی ہے کہ وہ لفظ کو پہلے آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، پھر ہونٹوں سے ادا کرتے ہیں اور اس کے بعد دماغ میں اس کا مفہوم سمجھتے ہیں ۔ بعض لوگ اور خاص کر بچے یاد کرنے کے لیے زور زور سے پڑھے ہیں ۔ وہ اپنے ذہن میں بٹھانے کے لیے آنکھ ، ہونٹ اور کانوں کا استعمال بھی کرتے ہیں ۔ کیوں کہ کانوں کے ذریعے جو آواز ہمارے دماغ میں پہنچتی ہے وہ الفاظوں کی خاص ترکیب کو بار بار دھرانے سے قبول کرلیتا ہے ۔ مگر جب یہ سارے عضو یعنی ہونٹ ، آنکھیں اور کان استعمال ہوتے ہیں تو ہمارے دماغ جلدی تھک جاتا ہے ۔ کیوں ہونٹ سے پڑھنے کی رفتار بہت سست ہوتی ہے اور دماغ اس کا ساتھ نہیں دیتا اور ہونٹوں سے پڑھنے والا جلد اکتا جاتا ہے اور چوکچھ پڑھتا ہے اس کا بہت کم یعنی چند فیصد ہی ذہن میں بیٹھتا ہے اور اسے ذہمن میں بٹھانے کے لیے ہ میں رٹے لگانے پڑتے ہیں ۔

ہمًً میڈیکل اسٹور میں جاکر کوئی دوا پوچھتے ہیں یہ دوا ہے ، سلیز مین الماری پر ایک نظر ڈال کر بتادے گا کہ یہ دوا ہے کہ نہیں ۔ اگرچہ اس نے ایک ایک دوا پڑھ کر نہیں دیکھا بلکہ یہ دیکھا کہ اس کا ڈبہ اس کلر کا اتنا بڑا ہے ۔ آپ جنرل اسٹور میں آپ کام کرتے ہیں اور کوئی پرفیوم مانگتا ہے تو آپ ایک نظر الماری میں ڈال کر بتادیتے ہیں کہ یہ پرفیوم ہے کہ نہیں ۔ کیوں کہ آپ کو اس کے ڈبے کا رنگ اور سائز پتہ ہے ۔ لیکن اگر آپ کو نہیں معلوم ہے تو تب بھی آپ کو فوراً معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہے کہ نہیں ۔ کیوں کہ الماری کے بشتر پرفیوم آپ کے دیکھے ہوئے ہیں اور آپ انہیں نظر انداز کرے صرف ان ڈبوں کو دیکھتے ہیں جو آپ کے لیے نئے ہوتے ۔ یہاں آپ نے نوٹ کیا کہ یہاں بھی دوا کی طرح ایک ایک پرفیوم کو چیک نہیں کیا گیا بلکہ خاص رنگ اور سائز کو تلاش کیا گیا اور باقی سب کو نظر انداز کردیا ۔

میں نے آپ کو کمرے کی مثال دی تھی ۔ جہاں آپ نے آنکھوں سے کام لیا تھا اور صرف اہم اور خاص چیزوں کو نوٹ کیا اور بہت سے غیر ضروری اور عام چیزوں کو نظر انداز کردیا ۔ لیکن جب آپ کو پڑھنے کے لیے دیا گیا تو اس میں اس کمرے کی ایک ایک چیز کی فہرست تھی اور اس فہرست کو آپ نے اپنے ہونٹوں کی حرکات سے پڑھا ۔ مگر آپ نے کمرے میں جو اشیاء تھیں ان کو آنکھوں سے دیکھا اور اس کی اطلاع دماع کو ملی اور بہت سے عام اشیاء آپ نے نظر انداز کردیں ۔ مثلاً میز میں پائے تھے یا نہیں ، اگر تھے تو پائے کیسے تھے ;238; یا دیوار میں تصویر میں بچہ جو ہے تھا اس نے کپڑے کیسے پہنے تھے ;238; اس کی وجہ ہے ہم نے انہیں اہمیت نہیں دی یا انہیں غیر ضروری سمجھا ۔ ہاں اگر اس میں کوئی خاص بات ہوئی تو پھر آپ یقیناً متوجہ ہوتے ورنہ نہیں ۔ مثلا تصویر میں کوئی خاص بات ہوتی تو آپ اس تصویر کو بغور دیکھتے ۔ اس طرح جب ہم کسی عبارت کو ہونٹوں کے حرکات سے پڑھ رہے ہوتے ہیں تو اس کے ایک بھی لفظ کو نذر انداز نہیں کرتے ہیں کہ نذر انداز کرنے سے ہم عبارت سمجھ نہیں سکیں گے اور یہ حقیقت بھی ہے ہونٹوں کی حرکات سے پڑھنے والے اگر الفاظ چھوڑ دیتے تووہ عبارت کو سمجھ نہیں پاتے ہیں ۔ کیوں کہ ان کا ذہن ایک خاص ترتیب کا عادی ہوتا ہے اور وہ ایسی عبارت قبول نہیں کرتا ہے ۔ اسے عادت ہوتی ہے کہ الفاظوں کی خاص ترتیب سے مفہوم بنتا ہے ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ مثلا اس کمرے جہاں آپ بیٹھے ہیں اور آپ سامنے پھل رکھے جاتے ہیں تو آپ ایک لمحے میں سمجھ جائیں گے کہ یہ پھل آپ کے کھانے کے لیے آئے ہیں ۔ یعنی جب آپ ہونٹوں کی حرکت سے پڑھتے ہیں تو آپ کے دماغ کے لیے الفاظوں کی ترتیب زیادہ اہم ہوتی ہے اور اس کے سامنے جب تک عبارت کی پوری ترتیب نہیں ہو وہ اس سمجھ نہیں پاتا ہے ۔ لیکن جہاں آپ نے صرف اپنی آنکھوں سے کام لیا وہاں ساری بات آپ کے دماغ میں فوراً آگئی ۔

جس طرح آپ نے کمرے کا جائزہ لیا تو اس میں بہت سے چیزیں نے نظر انداز کردیں تھیں ۔ کیوں کہ انہیں آپ انہیں غیر ضروری یا عام سمجھا ۔ اس طرح آپ آنکھوں سے کسی عبارت کو دیکھیں گے تو اس سلیزمین کی طرح آپ صرف ان الفاظوں کو دیکھیں گے جن سے کوئی عبارت کا مفہوم بنتا ہے ۔ باقی رسمی اور ایسی عبارت کو ایک نظر ڈال کر آگے بڑھ جائیں گے جو آپ کو معلوم ہے ۔ جس طرح آپ کے سامنے پھل آئے تو سمجھ گئے ان کا کیا کرنا ۔ اس طرح آپ کو صرف ان الٖفاظوں کو دیکھنا ہے جس سے بات سمجھے میں آرہی ہے ۔ یعنی ہر لفظ کو نہیں پڑھنا ہے ۔ رسمی اور ان باتوں کو جنہیں آپ جانتے ہیں یا پڑھ چکے نظر انداز کرکے آگے بڑھ جانا ہے ۔

اس طرح آنکھوں پڑھنے والے پوری عبارت یا لفظ با لفظ نہیں پڑھتے ہیں ۔ اس سلیز مین کی طرح جو کہ مطلوبہ ڈبہ دیکھتا ہے صرف انہیں صرف وہ الفاظ دیکھتا ہے جس میں کچھ مفہوم ہو ۔ اگر عبارت کا مفہوم سمجھ میں آگیا تو الفاظ خود بخود ڈورے چلے آجائیں گے ۔ کسی بھی عبارت کا مفہوم اہم ہوتا ہے اس کے الفاظ نہیں ۔ چوں کہ اس طرح آپ کی آنکھیں براہ راست دماغ کو مختصر اور فوری پیغام دے رہی ہوتی ہیں اس لیے آپ اسے فوراً ذہن نشین کرلیتے ہیں ۔ بالکل اس پھل کی طرح جسے دیکھ کر سمجھ گئے کہ آپ کو کیا کرنا ہے ۔ کیوں کہ آپ آنکھوں کے ذریعے براہ راست یہ بات دماغ کو پہچاتے ہیں ۔ اس لیے آپ کا دماغ فوراً سمجھ جاتا ہے ۔

جب ہم ہونٹوں کی حرکت سے پڑھ رہے ہوتے ہیں ہ میں اپنے پر اعتماد نہیں ہوتا ہے کہ ہم اسے اپنے ذہن میں بٹھاسکیں گے ۔ اس لیے ہم ایک لفظ پڑھ رہے ہوتے ہیں ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا ہے ۔ دماغ اتنی ساری تفصیلات یعنی حروف با حروف قبول نہیں کرتا ہے اور ہ میں یاد نہیں رہتا ہے اور اس کا الزام اپنے مطالعہ کو لگاتے ہیں ۔ میں نے بہت سی کتابوں پر تبصرے لکھے ہیں اور انہیں پسند بھی کیا گیا ۔ آپ یقین کریں گے میں ان کتابوں کو میں نے بمشکل سے پچس منٹ دیکھا ہوگا ۔ لیکن کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ میں نے کتاب سے ہٹ کر تبصرہ کیا ہوگا ۔ پرانی بات ہے ، میں ایک مقالہ لکھ رہا تھا اور اس کے لیے میں کتابوں میں مواد کی تلاش میں رہتا تھا ۔ میں اسٹیٹ بنک کی لائیبری میں چند بار اپنی مرحومہ بیگم کے ساتھ گیا ۔ وہاں میں پندرہ بیس کتابیں اٹھا لاتا اور انہیں دیکھتا تھا جہاں کام کی بات نظر آئی اس صفحہ پر نشان لگا دیتا تھا ۔ اگر عبارت مختصر ہوتی تو بیگم اس کی نقل کرلیتی تھی اور طویل ہوتی تو اس کی فوٹو کاپی آخر میں کر والیتے تھے ۔ وہاں میں پندرہ بیس کتابیں دو تین گھنٹہ میں دیکھا لیتا تھا ۔ ۔

پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ آپ نے گھڑی دیکھی اور درست وقت ہونٹوں کو حرکت دیئے بغیر پڑھ لیا ۔ اس کا مطلب ہے آپ ہونٹ ہلائے بغیر پڑھ سکتے ہیں اور یہ صلاحت ہر شخص میں کم یا زیادہ ہوتی ہے وہ اپنی آنکھوں سے بہت کچھ پڑھ لیتا ہے ۔ مثلاً طغرے اور مختلف کمپنیوں کے مونوگرام وغیرہ ۔ لیکن ہونٹوں کی حرکت سے پڑھنے والے زیادہ تر اعداد کو پڑھتے ہیں ۔ انہیں آنکھوں سے پڑھے کی عادت نہیں ہوتی ہے ۔

آنکھوں سے پڑھنا زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ بس تھوڑی سی مشق کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لیکن اس کے لیے ابتدا میں آپ کو کتابیں پڑھنے کا مشورہ نہیں دوں گا ۔ کتابوں کو آنکھوں کے پڑھنے میں آپ کو ابتدا سخت مشکل آئے گی ۔ اس کے لیے آپ کو پہلے ابتدائی زینوں سے مشق کرنی ہوگی اور کتابوں کی باری بعد میں آئے گی اور مسلسل مشق کے بجائے کچھ وقفہ بھی دیں ۔

آپ باہر جائیں اور تھورا سا پیدل چلیں تو آپ کو راستہ بہت سی لکھی عبارتیں ملیں گیں ۔ مثلاً سائن بوڈ یا اشہارات وغیرہ ۔ مگر ابتدا میں آپ پہلے صرف موٹی موٹی عبارتوں کو آنکھوں سے ہونٹ ہلائے بغیر پڑھنے کی کوشش کریں ۔ ان سائن بوڈوں کو پڑھنے کا مشورہ اس لیے دے رہا ہوں کہ جلی حروف کی عبارت فوراً متوجہ کرلیتی ہیں ۔ ابتدا میں کچھ مشکل پیش آئے گی مگر آپ تھوڑی دیر میں انہیں آنکھوں سے پڑھنے لگیں اور کچھ دیر میں آپ نے یہ مشق کی تو رواں ہوجائیں گے ۔ جب روانی ہوجائے تو مختلف برانڈ اشیا کے نام دیکھیں اور انہیں اسی طرح پڑھنے کی کوشش کریں ۔ اب آپ کو اس میں بھی کوئی دقت پیش نہیں آئے گی ۔ چند دن میں اس قابل ہوجائیں گے ان برانڈ ناموں اور موٹی موٹی عبارتوں کو ایک نظر ڈال کر پڑھ لیا کریں گے ۔ اس میں شاید آپ کو چند دن لگ جائیں ۔

اس کے بعد طویل عبارتوں کے لیے آپ اخبار کی ہیڈلائین اور مختلف اشتہارات کی اس طرح کی طویل عبارتیں ایک نظر میں پڑھنے کی کوشش کریں ۔ شروع میں آپ ایک حروف پڑھیں گے مگر آہستہ آہستہ پوری لائین پر ایک نظر ڈال کر پڑھ لیا کریں گے ۔ اس میں آپ کو کچھ دن لگ سکتے ہیں ، مگر جلد ہی آپ ایک نظر ڈال کر انہیں پڑھ لیا کریں گے ۔ جب آپ اس میں رواں ہوجائیں تو کو ایسی کتاب لیں جس میں بڑے بڑے حروفوں میں تین چار لائنیں ہوں ۔ مثلاً بچوں کی کوئی کہانی وغیرہ اس پر ایک نظر ہر لائن پر باری باری ڈالیں اور کتاب بند کرکے سوچیں کہ آپ نے کیا لکھا دیکھا ہے ۔ دوبارہ اس کتاب کو دوبارہ کھولیں اور آنکھوں سے ہی چیک کریں کہ آپ نے کیا لکھا دیکھا ہے ۔ ایک دو دفعہ کی کوشش کے بعد آپ سمجھ جائیں گے کہ کیا لکھا ہوا ہے ۔ اس طرح آپ پوری کتاب کو دیکھ کر پڑھیں ۔ ہوسکتا ہے اس طرح پڑھنے میں آپ کو چند دن لگیں ۔ مگر آپ کامیاب ہوجائیں گے ۔ اس طرح کی چند اور کتب کا مطالعہ کریں ۔ چند دن میں آپ رواں ہوجائیں گے ۔ اس کی بعد ایسی کتاب دیکھیں جس میں لطیفے یا معلومات ہوں ۔ یعنی طویل عبارتیں زرا موٹے حروف میں ہوں ۔ آپ انہیں ایک نظر ڈال کر پڑھنے کی کوشش کریں ۔ چند دن میں آپ انہیں بغیر ہونٹ ہلائے پڑھنے لکیں گیں ۔ اس طرح کی کچھ اور کتب پڑھیں ۔ اس کے بعد آپ جو کچھ پڑھنا چاہتے وہ پڑھیں مگر کچھ عرصہ تک مختصر اور جلی حروف کی کتب پڑھیں ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں