55

ہندو دھرم کی خصوصیات

ہندو مت کی تدوین نو رزمیہ نظموں کے عہد میں شروع ہوئی ۔ برہما ، وشنو اور مہیش جنہیں تر مورتی کہا جاتا ہے کے ساتھ دیوی ماں منظر عام پر آکر غیر معمولی مقبولیت کا باعث بنیں ۔ ہندو مت برہمنی مت کی توسیع کا نام ہے ۔ نئے عظیم دیوتاؤں کا وجود میں آنا اور عوام کی مقبولیت کی سند حاصل کرنے میں ایک زمانہ لگا ۔ عہد وسطی کی تاریخ انہی کے عروج کی داستان کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔

قدیم برہمنی اور ویدک دھرم میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ ویدک رسومات میں یگیہ (قربانی) کو مرکزیت حاصل تھی ۔ جب کہ نئے ہندو دھرم میں یگیہ کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے ۔ قدیم ویدک دھرم میں یگیہ صرف برہمنوں کے ذریعے ادا کی جاسکتا تھا اور دیوتا یگیہ کے مقابلے میں تمام عبادتیں اہمیت حقیقت نہیں دیتے تھے اور عوام یگیہ کا خرچ برداشت نہیں کرسکتے تھے ۔ مگر ہندو مت کی تنظم نو میں یگیہ کو ختم کرکے پوجا پاٹ کو اہمیت دی گئی برہمنی مت میں جب غیر آریائی قبائل کو جگہ دینا شروع کی تو برہمنی مت کے ساتھ ساتھ مقامی قبائل کے مذہبی عقائد و رسومات بھی جگہ پانے لگے ، پھر بھی ان ان سب میں برہمنی مت اور اس کے عقائد کو اولیت حاصل رہی ۔ مہابھارت اور رامائن عہد کے تمام مذہبی عقائد اور سماجی روایات کی برہمنی عالموں نے نہ صرف حوصلہ افزائی کی اور ان کے ذریعے برہمنی مت کی تائید اور سند کی قبولیت بخشی اس طرح برہمنوں کو کلیدی حثیت حاصل ہوگئی اور یہی دھرم کے اصول و ضوابط کی ترتیب و ترمین یا تنسیخ کے ذمہ دار تھے ۔ یعنی کوئی بھی عمل جس کا تعلق مذہب و زندگی کے کسی شعبے سے ہو ۔ ان کے عمل و دخل کے بغیر تکممیل کو نہیں پہنچ سکتا تھا ۔

نئے مذہب کی خصوصیت یہ ہے یہ اپنے اندر تمام رسومات و روایات کو سمو لینے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی اس کی مقبولیت کی ضامن بنی ۔ ہندو مت میں شمولیت کے لیے کسی طرح کی کوئی شرط نہیں ہے ۔ کوئی بھی شخص خواہ وہ کسی قبیلے ، کسی ذات ، کسی مذہب و نسل سے تعلق رکھتا ہو اپنے مذہبی عقائد و رسومات کے ساتھ اس نئے مذہب میں شامل ہوسکتا تھا ۔ اس طرح ہندو مت میں تمام طبقات کے لوگ شامل ہونے لگے تھے ۔ یہ وہی لوگ تھے جو پہلے اس مذہب سے مستفید ہو نہیں سکتے تھے اور نہ ہی برہمنی مذہب کو ان سے دلچسپی تھی ۔ سماجی کی وہ ذاتیں جو پہلے حقیر سمجھی جاتی تھیں وہ ہمشہ مذہبی معملات سے دور رکھے گئے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندو مت کا برہمنی مت کو عوامی رنگ اختیار کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔

ہندو مت نے تمام نسلی ، قبائلی و مقامی عقائد کو جگہ دے کر اپنے دائرے کو پھیلایا کہ ہندو مت میں متضاد خیالات و افکار رکھنے والے سبھی اپنے اپنے دیوتاؤں سے عقیدت رکھنے کے ساتھ دوسرے دیوتاؤں کا بھی احترام کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ اپنی ضرورتوں کے لیے ہر فرقہ اپنے دیوتا کی طرف رجوع کرتا ہے اور اسی کو خالق کائنات سمجھتا ہے ۔ شیو کے بھگت وشنو اور دیوی ماں کو اس کا اوتار یا شیو کی ہی مختلف صفات کا مظہر سمجھتے ہیں ۔ اس طرح وشنو کے بھگت شیو اور دیوی ماں کو وشنو کی مختلف صفات کا مظہر سمجھتے ہیں ۔

ہندو مذہب کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ مختلف دیوتا جو مخصوص نسلی اور تہذیبی روایتوں کی دین ہیں اور ان کے اتحاد سے کسی ایک دیوتا کی تخلیق ممکن نہیں تھی اور بعض اوقات کسی ایک دیوتا کی مختلف صفات یا اس کے مختلف مظاہر میں ان دیوتاؤں کی تکمیل سے اس دیوتا کی تکمیل ممکن تھی ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں