71

ہندو معاشرے میں شادیاں

شادی دنیا کے ہر معاشرے میں راءج ہیں ۔ یہ معاشرتی کے علاوہ مذہبی ضرورت سمجھی جاتی ہے ۔ دنیاکے ہر معاشرے میں شادیوں کی الگ الگ رسوم راءج ہیں ۔ یہاں ہندو معاشرے میں شادیوں کے بارے میں آگہی دی جارہی ہے ۔ کہ اس معاشرے میں کتنی اقسام کی شادیاں راءج ہیں اور راءج رہی ہیں ۔

شادی مذہبی ضرورت

مہابھارت میں ہے کہ ایک بڑے رشی برہم چاری تھے یعنی انہوں نے شادی نہیں کی تھی ۔ ان کو پیاس لگی تو انہیں ایک کنواں نظر آیا ۔ انہوں نے کوئیں میں سے پانی نکالنا چاہا تو انہیں کچھ لوگ لٹکے نظر آئے ۔ رشی نے ان لوگوں سے پوچھا تم کون ہو اور کیوں لٹکے ہوئے ہو ;238; ان لوگوں نے جواب دیا ہمارے کرم تو ایسے تھے کہ ہم سورگ میں چلے جاتے مگر ہمارے بیٹے نے بیاہ نہیں کیا اس جرم میں ہم لٹکے ہوئے ہیں ۔ یہ سن کر رشی فوراً اپنا بیاہ باسک ناگ کی لڑکی سے کرلیا کیا اور شادی کرتے ہی وہ لوگ جو اس کے باپ دادا کنواں سے نکل کر سورگ میں چلے گئے ۔ منو کا بھی یہی کہنا ہے کہ جو برہمن ، چھتری ، ویش وید نہ پڑھے ، یجہ نہ کرے اور بیٹا پیدا نہ کرے وہ نرک میں جاتا ہے ۔ نرک کا نام پت اور اتر کے معنی محافظ کے ہیں ۔ چونکہ بیٹا باپ کو نرک سے بچاتا ہے اس لیے پتر کہلاتا ہے ۔ راسخ العقدہ ہندووَں کے نذدیک بے بیٹا رہنا بہت برا سمجھا جاتا ہے ۔ ہندو معاشرے اس کے باوجود بہت سے لوگ برہم چاری رہتے ہیں ۔ مگر عجیب بات ہے وہ بھی اپنی بہنوں وغیرہ کی شادی کرانا ضروری سمجھتے ہیں ۔ مثلاً آریہ سماجیوں کا کہنا ہے اگرکوئی مرد برہمچاری رہے تو اچھا ہے مگر عورت کے لیے ضروری ہے کہ اس دس بچے ہوں ۔ دیانند سرستی نے بھی شادی نہیں کی تھی ۔ گو اکثریت کا خیال ہے کہ شادی کرنا چاہیے ۔ سنیاسیوں بھی شادی نہیں کرتے ہیں ۔

شادی کے طریقے

ہندو سماج میں شادی کے آٹھ طریقہ ہیں (1) باہم رضامندی (2) لڑکی داماد کو دینا (3) رقم کے بدلے لڑکی دینا (4) دھرم کی ترقی کے لیے لڑکی دینا (5) کچھ رقم لے کر لڑکی کو بیاہنا (6) لڑکا اور لڑکی کا مرضی سے ملاپ ہونا (8) جبراً یا فریب سے شادی کرنا (9) بہوش یا شراب پی ہوئی لڑکی بالجبر ہم بستر ہونا ۔ ان آٹھ قسموں میں جس کا بھی بیاہ ہوگا وہ جائز ہوگا اور وہ اولاد ترکہ حاصل کرے گی ۔ لیکن تعزیزات ہند میں ساتویں اور آٹھویں قسم کا بیاہ کرنے پر سزا دی جاسکتی ہے

شادی کی گوت

ہندووَں میں کوئی ذات ایسی نہیں ہے جو کہ ہر ذات میں شادی کرنا جائز جانتی ہو ۔ منو دھرن شاستر کے مطابق برہمن کا برہمن کی لڑکی سے ، چھتری کا چھتری کی لڑکی سے ، ویش کا ویش کی لڑکی بیاہ ہونا چاہیے اور اس کی پوری پوری پابندی کی جاتی ہے ۔ البتہ ایک ذات کی ایک گوتر میں شادی نہیں کی جاتی ہے بلکہ جدا گوتر کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔ یہ دستور بھی ہے شادی کے کسی خاص گوتر میں کی جاتی تھی ، صرف اسی گوتر میں شادی کی جاتی تھی اور دوسری گوتر میں شادی نہیں کی جاتی تھی ۔ مثلاً برہمنوں کی سناڈھ اور کنوجیہ دو مشہور گوتر ہیں ۔ سناڈھ میں مزید دو ذیلی گوتر ہیں ۔ ایک کو ساڑھے تین گھر اور دوسرے کو دس گھر کہتے ہیں ۔ ساڑھے تین گھر والے دس گھر کی لڑکیوں سے بیاہ جائز سمجھتے ہیں ۔ لیکن اپنی لڑکیوں کا دس گھر والوں میں بیاہ نہیں کرتے ہیں ۔ ایک دوسری مثال میں بلند شہر میں کنوجہ ، سناڈھ اور گوڑ برہمن ایک دوسرے کی لڑکیوں سے شادیاں کرتے تھے ۔ لیکن گزشتہ صدی کی ابتدا سے کنوجیہ اور گور برہمنوں نے سناڈھ کی لڑکیوں سے شادیاں کرتے رہے مگر اپنی لڑکیاں سناڈھ برہمنوں کو دینا بند کریں ۔

چھتریوں اور راجپوتوں میں لڑکا اور لڑکی کی شادی کے لیے ضروری ہے کہ ان کی گوتریں جدا ہوں ۔ مثلاً بڑھیلا ، رگھنی اور بیس کی لڑکیاں لیتے ہیں اور امیتھیا کو لڑکیاں دیتے ہیں ۔ اودھ کا چندیل ، چوہان ، گھروار ، ریکوار ، جنبوار اور ڈہکری کی لڑکیاں لے لیتا ہے اور گوڑ ، سوم بنسی پنوار کو لڑکیاں دیتا ہے ۔ اعظم گڑھی کا چندر بنسی بسین ، سکروار ، نندوک ، راٹھور ، پلوار ، گوتم ، اوجینی ، چندیل ، بیس ، سنگیل اور متیا کی لڑکیاں لے لیتا ہے اور گھورگ بنسی ، رگھبنسی ، سورج بنسی اور چوہان کو اپنی لڑکیاں دیتا ہے ۔ علی گڑھ میں گہلوٹ کچھواہا ، راٹھور ، برگوجر ، سولنکھی ، باچھل ، بیس ، جنگہاڑا ، پندر کی لڑکیاں لے لیتے ہیں اور چوہان برگوجر ، بنوار ، تومار اور ڈھکرا کو اپنی لڑکیاں دیتے ہیں ۔

گوتر شادی

اکثر ہندو اپنی گوتر میں شادی جائز نہیں کہتے ہیں ۔ لیکن ساکل دیبی برہمن اور کایستھ اپنی گوتر میں شادی کرتے ہیں اور آگرہ اور اودھ میں اسی دستور پر پر عمل کیا جاتا ہے ۔ عموماً ہندووَں کا خیال ہے کہ دور دراز مقامات پر لڑکیوں کو بیانا چاہیے ۔ اس کے برعکس متھرا کے لوگ کہتے ہیں ۔

متھرا کی بیٹی گوکل کی گائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کرم پھوٹے تو انت کو جائے

ٍٍرشتہ داروں میں شادی

اگرچہ بشتر ہندو رشتہ داروں سے شادی نہیں کرتے ہیں ۔ لیکن کچھ ہندو قریبی رشتہ داروں میں شادی کرلیتے ہیں ۔ برہمو سماج والے ماں ، بیٹی ، بہن ، چچی ، نانی اور ناتن کے علاوہ ہر عورت سے شادی کرلیتے ہیں ۔ بہار میں چچاذاد ، ماموں ذاد ، بپھوپی ذاد اور خالہ ذاد کے علاوہ سب سے شادی کرلیتے ہیں ۔ مدراس ، وسط ہند ، بمبئی ، کرناٹک اور میسور کی بعض قو میں بھانجی ، سےمی ارناڈں میں بڑی سگی بیٹی سے ، کونڈ سگی خالہ سے ، دہما تھاتا میں سوتیلی ماں سے ، کودیا بیوہ ماں سے ، دام مارگیوں کا شادی کے لیے عورت ہونا کافی ہے ۔ وہ چاہے وہ بیٹی ، بہن ، ماں سب کے ساتھ شادی کرلیتے تھے ۔ پرانوں کے مطابق برہما نے اپنی بیٹی سے شادی کی تھی ۔

جنم پتری

اکثر ہندووَں شادی کے ذات کے علاہ جنم پتری کا ملنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ یعنی شادی کے لیے جنم پتری کا ملنا ضروری ہے اور جنم پتری ملنے کا مطلب ہے کہ ازواجی تعلقات بہتر ، عمردراز اور دھن بھی آئے گا ۔ مگر ہندو معاشرے میں جنم کنڈلی ملنے کے باوجود ناچاقی اور طلاق کے واقعات عام ہیں اور بیواءوں کی بھی کمی نہیں ۔ لیکن عام طور پر ہندو بھی جنم پتری پر اعتقاد نہیں رکھتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود جم پتری کو ایک سماجی ضرورت اور مجبوری سمجھا جاتا ہے ۔ اکثر اچھے رشتہ کی صورت میں لوگ جنم پتری نہ ملنے کی صورت جنم پتر بنانے والے برہمن کچھ روپیہ دے کر جنم پتری کی خرابیاں دور کروالیتے ہیں ۔ تعلیم یافتہ اور بعض ہندو قو میں خاص کر وہ قو میں جن میں بیواؤں کی شادی ہوتی ہیں وہ بھی جم پتری نہیں پر یقین نہیں رکھتی ہیں ۔

دوسری ذاتوں میں شادی

عام حالات میں ہندو شادی بیاہ صرف ذات میں ہی کیا جاتا ہے ۔ لیکن بعض حالات میں اس کے برعکس بھی عمل ہوتا رہا ہے ۔ مثلاً برطانوی عہد میں جزیرہ انڈومان سزا طور پر بھیجے جانے لوگ شادی کے لیے گوتر یا ذات کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور کسی بھی ذات کی جو عورت سے شادی کرلیتے تھے ۔ جاٹ ، گوجر اور راجپوت ذاتوں کے لوگ چماروں اور دیگر کمتر اقوام کی لڑکیاں خرید کر شادی کرلیتے تھے ۔ لیکن اس کے برعکس بنگال میں کوئی ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہے جو اس کی ذات کی نہیں ہے تو اسے ذات سے باہر نکال دیا جاتا ہے ۔

بیویوں کی تعداد

عام طور پر ہندووَں میں ایک ہی شادی کا دستور اور ایک بیوی ہوتے ہوئے دوسری شادی نہیں کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے برعکس راجہ دسرتھ کی تین رانیاں تسلیم کی جاتی ہیں ۔ مہابھارت میں اکثر لوگوں کی کئی بیویاں بتائی گئیں ہیں ۔ ایک رشی نے ایک راجہ کی ستائیس بیٹیوں سے شادی کی تھیں ۔ سوتن کی کہاوتیں بھی یہی بیان کرتی ہیں ۔ ‘کاٹھ کی سوت بری ہوتی ہے’ یا مورا جیا نہ پتیاوی سوت کا پاؤں ہلتا جائے ۔

بھوبن ہار ذات میں بیویوں تعداد مقرر نہیں ہے ، ہر شخص اپنی مرضی مطابق جتنی چاہے شادیاں کرے ۔ 1871ء میں کلکتہ کے ایک اخبار بھووداہ میں لکھا تھا کہ ایک موضع میں چار افراد ایسے ہیں جن کی بیویوں کی تعداد 65 ، 56 ، 55 ، 41 ہے ۔ ایک شخص جس کی عمر صرف بیس سال ہے اس کی سولہ بیویاں تھیں ۔ 1896ء میں جگندرو ناتھ بٹھیاچارجی نے لکھا ہے کہ اگلے زمانے اعلی درجہ کی کلیں (خاندان ) کے راجہ اور امرا سو بیویاں تک رکھتے تھے اور اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس بہت سی بیویاں ہیں اور بیویوں کے نام پتہ اور رہائش کے لیے رجسٹر رکھا جاتا ہے ۔

پولندری بیاہ

اگرچہ ایک عورت کا ایک ہی شوہر ہوتا ۔ مگر بھارت کے بہت سی قوموں میں ایک عورت کے کئی شوہر ہوتے تھے ۔ اس کے برعکس ڈیرہ وون کی پہاڑی قوموں ، پنجاب کے بعض قبائل اور جنوبی ہند میں ایک عورت کے کئی شوہر ہوتے اور یہ شادی پولندری بیاہ کہلاتی ہے ۔ مہا بھارت کی دروپدی کے بھی پانچ پانڈو بھائی شوہر تھے

طلاق

راسخ عقیدہ ہندو طلاق کو کو جائز نہیں سمجھتے ہیں ۔ اگرچہ اب اسے قانونی طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے ۔ ان میں کوئی عورت بدچلن ہو تو اسے اور اس کے رشتہ کو برادری والے فوراْ ذات سے باہر کردیتے ہیں ۔ بدچلن عورت کی دوبارہ شادی نہیں ہوسکتی ہے اور نہ اس کے یا اس کے رشتہ داروں کے ساتھ کھانا کھاسکتا ہے ۔ لیکن اس کے برعکس سادہ کی تمام تمام کمتر زاتیں جب چاہتی ہیں اپنی بیویوں سے قطع تعلق کرلیتی ہیں ۔ برودھ ، جموں ، وسط ہند کی بعض قو میں ایک دوسرے سے جب چاہتی ہیں قطع تعلق کرلیتی ہیں ۔ ہوشنگ آباد میں جادم راجپوت کی عورتیں اپنی زندگی میں دس شوہروں کی تبدیلی کا حق رکھتی ہیں ۔ چھتس گڑھ کی تمام اقوام اور آسام میں کھاسی قوم کی عورتیں جب چاہے شوہر کو تبدیلی کرلیتی ہیں ۔

بیوہ کی شادی

راجپوتوں اور جاٹوں کی بہت سی ذاتیں مشترک ہیں راجپوت بیواؤں کی شادی نہیں کرتے ہیں ۔ جب کہ جاٹوں میں بیواؤں کی شادی کا رواج رہا ہے ۔ اس طرف راجپوتوں اور جاٹوں فرق بیواؤں کی شادی کا ہے ۔ راسخ عقیدہ ہندو بیواہ کی شادی کو جائز نہیں سمجھتے ہیں ۔ لیکن دیگر علاقوں میں جاٹوں کے علاوہ دوسری قو میں بیواؤں شادیاں کرتی ہیں ۔ مدراس کی بعض ذاتیں مثلاً وسط ہند کے بنجارے ، مارواڑ کے راجپوت ، پنجاب کے جاٹ اور کی پہاڑی قو میں ، برودہ اور اوڑیسہ کی تمام ذاتیں بیواؤں کی شادی کرتی ہیں ۔ بیواؤں سے شادی کرنے والے پہلے عموماً پھیرے کے بجائے چادر ڈال کر شادی کی رسم ادا کرتے ہیں ۔

نیوگ

شوہر بیمار ہو یا کسی وجہ سے اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے یا وہ مرچکا ہو تو وہ نیوگ کے ذریعہ اولاد پیدا کرسکتی ہے ۔ نیوگ اور بیاہ میں فرق یہ ہے بیاہ میں تعلق زندگی بھر رہتا ہے اور کبھی قطع نہیں ہوسکتاہے ۔ مرد کو عورت کی کفالت اور عورت کو مرد کی خدمت کرنی پڑتی ہے ۔ لیکن نیوگ میں مرد اور عورت جینسی تعلق کے علاوہ کچھ اور سروکار نہیں رکھتے ہیں ۔ یہ تقریباً شیعوں کے متعہ کی طرح ہے ۔

ہندو ناٹکوں میں ایسی بہت سی کہانیاں ملتی ہیں جن میں عورتوں نے لب دم یا موت سے پہلے شادی کی اور ان عورتوں نے نیوگ کے ذریعہ پیدا کی اور وہ اولاد مرنے والے کہلائی اور اس اولاد نے اپنے باپ کو نرک سے بچایا ۔ اس طرح کشمیر میں ٹھاکر قوم کی عورتیں اگرچہ دوبارہ شادی نہیں کرتی ہیں لیکن اگر اولاد نہیں ہو تو کسی شخص سے تعلق پیدا کرلیتی ہیں اور اس کے نقطہ سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے اس کو مرے ہوئے شوہر کی قرار دیتی ہیں ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں