49

ہندو مذہب

ہندو مذہب میں بہت فرقے ہیں ۔ ان میں کچھ جو گیوں کے اور کچھ مذہبی فرقے ہیں ۔ ان کی بھی بے شمار شاخیں ہیں ۔ مثلاً ان میں ایک پنچ دیو کے پوجنے والے ، ایک لچھمی سمپردائے والے ہیں ۔ ایک اور رودر سمپر دائے والے ۔ تیسرے سنکادی سمپر دائے والے ، چوتھے سنکادی سمپر دائے والے ہیں ۔ ان کے علاوہ ایک سری ویشنو ہیں ۔ ان کے چار حصے ہیں ۔ دیوانند ، رامانند ، ہر نانند ، رائے وانند ۔ سری وشنو رامانند کے چیلے ابد ہوت مارکی کی بارہ شاخین ہیں ۔ (۱) ایشٹانند (۲) کبیر جولاہا (۳) ریداس چمار (۴) بیپار راجپوت (۵) سرسرانند (۶) سکھا نند (۷) بھاو انند (۸) دہنا جاٹ (۹) سیتا ناوَ (۰۱) ہر نانند (۱۱) پر مانند (۲۱) سری انند وغیرہ ۔

ان بارہ میں سے ایشٹا نند کے تین چیلے ہوئے ، کرشن داس ، اگر داس اور کپل بابا ۔ کپل بابا کے چیلے ملوک داس اور ملوک داس کا چیلا بھگت رام ، جیون داس ، گوبر دہن داس ، گومتی داس ۔ یہ وہ چیلے ہیں جنہوں نے کچھ نہ کچھ پنٹھو میں تبدیلیاں ۔ مثلا سری انند کے چیلے بیراگی جٹا دہاری ہوتے ہیں ۔

ہنج دیوا پاسک کے جو رودر سمپر دائے والے ہیں ان میں پہلے وشنو سوامی آچارج ہوئے ۔ ان کا چیلہ بلیہ چارج اور اس کی اولاد میں سے بٹھل داس ، برہم بھگت سری گروہرائی ۔ گوبند رائے بالکشن ، گوگل ناتھ ، رگو ناتھ ، حدو ناتھ گھنشام ہوئے ۔

ان میں ادہو نندی دکن میں ہیں اور سنسکاری سمپر دائے والے گوکل کے گوسائیں ہیں اور مرجا دسمپر دائے والے ترڈنڈی روپ دکھنی برہمن ہیں ۔ ان کے علاوہ رادہا بلبہی ہیں ۔ ان کی دو شاخیں ہیں ۔ چرنداس رادہا بلبہی ، سکھی بہادر رادھا بلبہی زنانہ لباس پہنتے ہین ۔

سنیاسی فقیروں میں سرسولی پوری بھارتی تین شاخیں ہیں ۔ پوری اور بھارتی پانچ چیلے ہوئے ، سموہ لنگی ، سموہ گوڈر ، سموہ اوگھڑ سوگھڑ ، سموہ اور وباہو ۔ پرم ہنس ۔

ان پانچوں نے ساتھ پنتھ چلائے ۔ ایک بیراگیوں کا پنتھ ، دوسرا جگیوں کا پنتھ ، تیسرا گورکھ ناتھی کن پٹھوں کا پنتھ ۔ چوتھا شبیوں کا پنتھ ، پانچواں بام مارگیوں کا پنتھ ۔ چھٹا کانچلوی کا پنتھ ۔ ساتھواں اگھوریوں کا پنتھ ۔

ایک گروہ فقیروں کا کان پتی ہے ۔ ان کے نو گروہ بن گئے ہیں ۔ ادداسی ، گنج بخشی ، رام رے ، ستہرے شاہی ۔ گوبند سنگھی ۔ نرملی ، ناگاہ ۔ دادود پنتھی ۔ پران ناتھی ۔

ان پنتھوں کے علاوہ اور بھی بہت سے فرقے ہیں جو سنیاسی کہلاتے ہیں اور پھرتے رہتے ہیں ۔ ان میں سے بعض کچھ کام نہیں کام کرتے ہیں ;180; ۔ صرف ہاتھوں کو چپڑ چپڑ کیا کرتے ہیں ۔ بعض اگھوری ہوتے ہیں ۔ بعض کا کوئی گروہ نہیں ہوتا ہے ۔ بعض مختلف لباس میں پھرتے ہیں ۔ بعض صرف مچھلی اور گوشت کھاتے ہیں ۔ بعض آزاد ہیں اور اپنے فراءض کی کچھ پروا نہیں کرتے ہیں ۔ بعض شراب یا نشہ آور چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں ۔ بعض ایک یا تین یا پانچ یا سات افراد مل کربھیک مانگتے ہیں ۔ بعض صرف میوے کھاتے یا کوشا گھاس یا گءو کا دودھ یا گہیوں کی کھیر یا دی یا مکھن یا شیر کھانا ہی ثواب شمجھتے ہیں ۔ بعض گاڑی بان طوطے اڑانے والوں اہلکاروں کے جسم کو دھوکا دے کر اس کا تھرک بناتے ہیں ۔ بعض دیہاتوں یا جنگلوں میں اپنی خواہش کے لیے رہتے ہیں ۔ بعض گھوڑا ، گائے ، ہرن ، سور بندر ہاتھی کی پوجا کرتے ہیں ۔ بعض ایک جگہ مراقبہ کرتے رہتے ہیں ۔ بعض دن رات ایک دفعہ کھاتے ہیں ۔ بعض پندرہ دن میں ایک دفعہ ہی کھاتے ہیں ۔ بعض الو یا گدھ کے پر پہنتے ہیں ۔ بعض تختہ پر بعض چارپائی پر ، بعض چٹائی پر پہنتے ہیں ۔ بعض کوشا گھاس یا اونٹ کے بال یا بکری کے بالوں کا کمبل اوڑھتے ہیں یا چمڑہ پہنتے ہیں ۔ بعض بالکل ننگے رہتے ہیں ۔ بعض لمبے بال ، ناخن اور ڈارھی رکھتے ہیں ۔ بعض صرف تل چاول پر گزارہ کرتے ہیں ۔ بعض اپنے بدن پر راکھ ملتے ہیں ۔ بعض اپنے جس اور ہاتھوں میں منجھا گھاس ، بال ، ناخن ، چھیٹرے ، کیچر یا ناریل کے چھلکے یا بھیک مانگنے کا برتن لیے پھرتے ہیں ۔ بعض گرم پانی پیتے ہیں یا چاول کی پیچ یا چشمہ کا پانی یا وہ پانی جو مٹی کے برتنوں رکھا جائے تو پیتے یعیٗ کوئی دھات یا کوئی سمٹنے والی چیز یا تین پایہ لکڑی یا کھوپڑی یا تلوار پر رکھتے ہیں ۔ اور اپنی پاکی پر مغرور رہتے ہیں ۔ بعض دھوئیں یا آگ کے قریب رہتے ہیں ۔ یا سورج کے سامنتے تبتے رہتے ہیں ۔ یا ایک پیر پر کھڑے رہتے ہیں ۔ یا ایک ہاتھ اٹھائے رہتے ہیں ۔ یا گھنٹوں چھکے رہتے ہیں اور انہی باتوں کو اپنی نجات کا ذریعہ جانتے ہیں ۔ بعض ڈھکتی ہوئی آگ یا کوئلوں میں گھس کر یا دم روکنے سے یا اپنے کو پتھروں میں جلانے سے یا کسی آگ یا پانی میں کود پڑنے سے اپنے کو ہلاک کرنے سے اپنی مکتی ہونا بیان کرتے ہیں ۔ بعض اوم ، وشٹ ، سواہا ، یا سودہا کا وظیفہ پرھتے ہیں اور اسی کو اپنی مکتی جانتے ہیں ۔ بعض اس پر مطمعین ہیں کہ وہ اندر ، رودر ، وشنو ، دیوی کماری ، ماتری ، کاتیا ، منی ، چندرا ، اوتیا ، ورن ، باسو ، اسونی ، ناگا ، جکش ، گندھروب ، اسور ، کرڑ ، کہنر ، مہورگ ، راکشش ، پریت ، کسمندڈا ، پرشاد ، گنپتی ، دیورشی ، برہم رشی ، راج رشی ، کو نمشکار کرتے ہیں ۔ یا زمین ، پانی ، ہوا ، پہاڑ ، ندی ، چشمہ ، جھیل ، سمندر ، جوہڑ ، کنواں ، درخت ، جھاری ، بیل اور گھاس وغیرہ کو پوجھتے ہیں ۔ کچھ نہیں معلوم ان عقیدوں کے درمیان کس طرح اور کس وقت ہوئی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان فقیروں نے ایک دوسرے سے اپنا فرقہ علحیدہ کرلیا ہے ۔ مگر بلا لحاظ کسی خاص فرقہ کے اعتقاد کے جوگ شاستروں کے مطابقں عام جوگیوں کے عقائد یہ ہیں ۔

جوگیوں کہ عام عقائد

کوئی سب سے برتر ہے ، وہ ایشور ہے جو پاک ہے اور وہ ایک ایسی روح ہے جو پوری دنیا پر محیط ہے اور تمام تکلیفوں اور خواہشوں سے آزاد ہے ۔ اس کا نشان اوم ہے ۔ وہ پیدا کرنے والا اور حفاظت کرنے والا دنیا کا نہیں ہے اور ان باتوں سے اس کا تعلق کچھ نیں ہے ۔

دنیا میں بے شمار روحیں ہیں ، جن سے سب جاندار موجود ہیں اور وہ سب اناوی (ازلی) ہیں ۔ وہ روحیں پاک ہیں ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہے ۔ لیکن وہ دنیا میں رہنے میں سے رنج و راحت معلوم کرتی ہیں اور جوراسی لاکھ قسم کی جون قالب میں جنم لیتی ہیں ۔

دنیا کسی کی پیدا کی ہوئی نہیں ہے ۔ بلکہ ازلی ہے ۔ دنیا کے ظہور بدلتے رہتے ہیں یکساں رہتی ے ۔ اس کی ذاتی یا اصلی حالت کو جس وہ بنتی ہے پرکرتی (مادہ) کہتے ہیں ۔ ۔ جس میں تین گن (صفات) ہیں ۔ ستو گن ، رجوگن اور موگن ۔ مادہ بھی انادی ہے ۔ اس کی حالت تبدیل ہوتی رہتی ے ۔ اس کی حالت کے تغیر و تبدل سے دنیا کا ظہور ہے ۔ جس سے تمام دنیا مرکب ہے ۔

علاوہ روح کے ایک چت بھی ہے ۔ جس کو خیال و من کہتے ہیں اور وہ من تینوں گن مذکور بالا کے تابع ہے ۔ انہی کی وجہ سے من میں مختلف تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ من خو چپتین نہیں بلکہ روح کی نذدیکی سے اس میں احساس پیدا ہوتا ہے ۔ بیرونی تعلقات کا اثر من پر پڑتا ہے ۔ اس کے مطابق من میں تغیر ہوتا ہے ۔ پھر گیان کا عکس اس پر پڑتا ہے ۔ اسی سے من دنیا کے رنچ و راحت کو معلو م کرتا ہے ۔ اصل میں من روح کی عینک ہے ۔

خیال کے پانچ کام ۔ اول صحیح رائے قائم کرنا ۔ دوم غلط کی تمیز کرنا ۔ سوم کسی بات کا خیال کرنا ۔ چہارم نیند ۔ پنجم یاداشت ۔ یہ پانچوں کام رجو گن ، ستو گن ، تمو گن میں سے کسی ایک کے غلبہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔

نثل دنیا کے تمام موجودات جو محسوس ہوتی ہیں ۔ با اعتبار انادی ہیں ۔ صرف ان کے ظہور میں تبدیلی ہوتی ہے ۔ جب ایک صورت دوسری صورت کی طرف پلٹتی ہے وہ محض صورت جاتی رہتی ہے ۔ اس مادہ کی کوئی دوسری صورت پیدا ہوجاتی ہے ۔

جو ظہور تبدیل صورت میں ہوتا ہے وہ محض خیالی نہیں بلکہ واقعی ہے ۔

جو مادہ خیال جسم میں ہے وہ اشیاء محسوسہ کا اثر کسی گن پر عمل کرنے کی وجہ سے اس گن کی تاثیر کے موافق قبول کرتا ہے اور وہی اثر شے اور جو دونوں پر موثر ہوتا ہے ۔ ورنہ اشیاء بذات باعث احساس ہیں ۔ نہ قوت حس باعث اشیاء محسوسہ ہے ۔

اگرچہ مادہ خیال کے تابع تغیر و تبدل سے پاک ہے ۔ اور جب تک مادہ خیال کو روح سے قوت و تمیز نہیں ملتی ہے تب تک وہ کسی شے کو دریافت نہیں کرسکتا ہے ۔

جو اثر خیال مادہ خیال پر پڑتا ہے وہ مرنے کے بعد بھی باقی رہ جاتا ہے اور وہی باعث دوسرے جنم اور سکھ دکھ کا ہوتا ہے ۔

خواہشات ہی تکلیف کی جڑ ہے ۔

چونکہ دنیا ازلی ہے اس لیے خواہشات بھی ازلی ہیں ۔ لہذا یہ دریافت کرنا لاحاصل ہے کہ پہلا کرم کیا تھا جس سے خواہش پیدا ہوئی ۔

دنیا کے ظہور کے ساتھ تکلیفات ہیں اور ی ذمہ داری ہر ایک شخص کی ہے ۔ کہ وہ دنیاوی تکلیفات سے باہر نکلنے کے لیے کوشش کرتا ہے ۔

تکلیفات اس طرح رفع ہوتی ہیں کہ خیال کوبشتر بے مہار کی طرح آزاد نہیں چھوڑ دیا جائے ۔ بلکہ اس کی مہار اپنے ہاتھ میں رکھ کر جوگ کے قاعدے کے مطابق اسے چلایا جائے ۔

من ہر قسم کے دنیاوی خیال صرف سماداہی (مراقبہ) سے رفع ہوتے ہیں ۔

جب خیالات کی روک تھام مکمل طور پر ہوجاتی ے اور دنیاوی اسباب کو کوئی اثر من پر نہیں ہوسکتا ہے ۔ تب روح دنیا کے بندھن سے علحیدہ ہوجاتی ہے اور تمام ذمہ داریوں کے آزاد ہوکر جینے

مرنے سے چھوٹ جاتی ہے اور یہی آخری پھل انسانی زندگی کا ہے ۔

چار گ

خواجہ حسن نظامی کا کہنا ہے کہ ہندووَں میں چار چیزیں بڑی مقدس مانی جاتی ہیں جن کی ابتدا میں گ آتا ہے ۔ (۱) گائے (۲) گنگا (۳) گیتا (۴) گاءتری منتر ۔

گنگا

گائے کے بعد گنگا کا درجہ بڑا ہے ۔ یہ ایک دریا ہے جس کو ہندو مقدس مانتے ہیں اور اس میں غسل کرنا باعث نجات جانتے ہیں ۔ لیکن پس ذاتوں کو گنگا میں نہاننے کی اجازت نہیں ہے ۔ اس لیے پست ذاتیں گنگا کی عزت تو کرتے ہیں مگر انہیں گنگا میں نہانے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی خاص وابستگی نہیں ہے اور نہ ہی گنگا کے نام سے ان کے جذبات پر کوئی اثر ہوتا ہے ۔

گنگا کو مقدس کیوں سمجھا جاتا ہے اس کی بھی کوئی مذہبی وجہ بیان نہیں کی جاتی ہے اور اس کے لیے زراعت اور آبپاشی کی دلیلیں پیش کی جاتی ہیں ۔ جو کہ مذہبی نہیں ہے بلکہ اقتصادی ہیں ۔ مگر گنگائے سے بڑے بہت سے دریا برصغیر میں ہیں جو زراعت کو گنگا سے زیادہ فائدہ پہنچا رہے ہیں ۔

گیتا

گنگا کے بعد گیتا کا درجہ ہے جو سری کرشن جی کے لیکچروں کا مجموعہ ہے ۔ جس میں فلسفہ حیات اور فلسفہ کائنات کو بیان گیا ہے ۔ ہندووَں کی اکثریت گیتا کو مانتی ہے اور اس کی پوجا کرتی ہے ۔

اگرچہ رامائن کی عظمت بھی ہندو کرتے ہیں ۔ جس میں رام چندر جی کے حالات ہیں ۔ مگر گیتا کے برابر اس کے برابر اہمیت اور مقبولیت حاصل نہیں ہے اور رامائن محض خوش عقیدہ ہندووَں میں مقبول ہے ۔ جب کہ گیتا اہل علم اور فلاسفر طبقہ میں بھی مانی جاتی ہے اور خوش عقیدہ ہندووَں میں بھی ۔ اگرچہ بہت سے ہندو ایسے ہیں جو گیتا کو سری کرشن کی کتاب ہی نہیں مانتے ہیں ۔

گاءتری منتر

گاءتری منتری ہندووَں کا کلمہ سمجھنا چاہیے اور ہندووَں میں ا اس کی بہت عظمت اور اہمیت ہے اور اس کا ادب اس درجہ کیا جاتا ہے کہ اسے ادنی اور پست ذاتوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں ہے ۔ بلکہ اس کو کوئی پست ذات کا فرد پڑھے تو اس کی سزا یہ ہے کہ سونا گرم کرکے اس کے حلق میں ڈالا جائے ۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ گاءتری منتر صرف برہمنوں کو پڑھنے کا حق ہے اور دوسری زاتیں اس کو پڑھ نہیں سکتی ہیں ۔ بعض کا خیال ہے اسے صرف شودر نہیں پڑھ سکتے ہیں ۔

یہ ہندووَں کے چار گاف سکھوں کے پانچ ک کی طرح مقدس ہیں ۔

ہندو کی ذاتیں

ًًہندووَں کی چار ذاتیں برہمن ، چھتری ، ویش اور شودر ہیں ۔ تاہم ہر ذاتیں کی ذیلیں ذاتیں جو شمار سے باہر ہیں ۔

برہمن

برہمن بہت ذہین ہوتے ہیں اور قدرتی طور پر ان کے دماغ میں برتری کے خیالات ہوتے ہیں ۔ یہ خیرات اور نذر و نیاز کھانے کی وجہ سے جو دوسری فرقوں سے حاصل ہوتی ہے اس سے ان کے اندر خوداری کا احساس کم ہوگیا ہے ۔ اس لیے وہ دوسری ذاتوں کی طرح محنت نہیں کرسکتے ہیں ۔ تاہم یہ ہندووَں کی پیشوائی کی بدولت ان کے خیالات میں بلند پائی جاتی ہے ۔ تلک ، گھوکھلے ، پنڈت مالوی ، پنڈت موتی لال نہروں اور سر بندروناتھ بنرجی اور سی آر داس کی فہم و فراست نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ عقلی و دماغی قوت میں بہت اعلیٰ ہیں اور ذات پات کا بندھن نہ بھی ہوتی برہمن ہندووَں کی قیادت کرتے رہیں گے ۔

برہموں میں اجتماعی قوت بہت ہے اور بہت آسانی سے جلد لوگوں اپنے گرد جمع کرلیتے ہیں ۔ برہمنوں میں سازش کرنے کا مادہ بہت ہے اور وہ خفیہ کام کرنے میں بہت ماہر ہوتے ہیں ۔ اپنے راز کو عمدگی کے ساتھ پوشیدہ رکھ سکتے ہیں ۔

چھتری

یہ سپاہیوں اور حکمرانوں کا طبقہ ہے ، بہت بھولا بھالا ، بہت سیدھا ، بہت شریف اور سیدھا ہے ۔ اس گروہ میں سازش کرنے کا مادہ کم ہے ۔ کھری اور صاف صاف بات کرنا ان کا طرح امتیاز ہے ۔ یہ برہمن قوم کا ادب مذہبی لحاظ سے کرتا ہے ۔ مگر حکومت کی حکمت مین جب برہمن دخل دیتا ہے تو چھتریوں کا کام خراب ہوجاتا ہے ۔ کیوں کہ چھتری رعایا کی ہمدردی و انصاف میں مذہبی تعصب کو دخل نہیں دیتے ہیں ۔

چھتری امیر ہوں کہ غریب قابل بھروسہ ہوتا ہے ۔ بات اور زبان کی پاسداری ان میں بہت ہے ۔

ویش

یہ تجارت پیشہ قوم ہے ۔ سود خوری اس کا جوہر ہے ۔ دولت جمع کرنے میں اس کو بہت مہارت ہوتی ہے ۔ ہر قسم کے جوڑ توڑ اور فریب کرسکتی ہے ۔ رات دن اس کو پیسہ کے فکر رہتی ہے ۔ دوسروں سے مال حاصل کرنے میں یہ بڑے بے رحم ہیں ۔ ہندو ہوں یا ہندووَں کے علاوہ کوئی اور قوم ویش سود کے ذریعہ اس کا خون چوس کر اس کو بالکل برباد کرنے سے کبھی نہیں چوکتے ہیں ۔

مذہب کی پابندی بھی دولت کے لیے کرتے ہیں ۔ ان کی جس قدر عبادات ہیں ان مقصد روپیہ ہوتا ہے ۔ یہودیوں کے سوا کوئی اور ویشوں کی طرح روپیہ کی حرص کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے ۔ ان پر بھروسہ کرنا بہت مشکل ہے ۔ کیوں کہ وہ پیسوں کے لیے اپنے قریبی عزیزوں کی بھی پروا نہیں کرتے ہیں ۔

شودر

کم عقل ، جاہل ، توہم پرست ، تیزی سے دوسروں کا اثر قبول کرنے والے ، خلاف عقل افواہوں سے بھڑک کر اٹھنے والے اپنی پستی اور بیچارگی پر صابر و شاکر اور ہزارہال سال کی غلامی کی وجہ سے خوداری سے محروم غلامی سے آزاد بھی ہوجائیں تو صدیوں کے بعد بھی ان میں مشکل سے احساس خوداری پیدا ہوگا ۔ بنگال میں لاکھوں شودر چند صدیوں پہلے مسلمان ہوئے تھے ۔ مگر ان میں اب تک غلامی اور ذلت کے جڈبات موجود ہیں ۔ صدیوں کے سفر میں بھی ان میں خوداری پیدا نہیں کرسکا ۔ شاید اس کا اثر ابھی کئی نسلوں تک رہے گا ۔

جیو رکھشا

برہمنوں اور ویشوں کو اس کا احساس سب سے زیادہ ہے اور چھتری اور شودر اس کی پرواہ نہیں کرتے ہیں ۔ جین مت میں جان کی حفاظت سب سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے ۔ اس لیے اس مذہب میں ویش زیادہ ملتے ہیں ۔ چھتریوں کام لڑائی ہے اس لیے وہ خون ریزی سے نہیں گھبراتے ہیں ۔ چھتری اور شودر گوشت بھی کھالیتے ہیں اس لیے انہیں جیو رکھشا کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے ۔

کفایت شعاری

کفایت شعاری میں ہندو بہت بدنام ہیں ۔ لیکن برہمن ، چھتری اور شودر حد سے زیادہ کفایت شعار نہیں ہوتے ۔ لیکن اس صفت میں ویش بہت بدنام ہیں ۔ لیکن دیکھا جائے تو ان کی وجہ مالی نظم قائم ہے اور مالیات پر ہی ملکوں کی بقاء ہوتی ہے ۔ ویش طبقہ نہ ہو تو ان کی مالی تنظیم پاش پاش ہوجائے ۔ ہندووَں کی خیرات کا دارو مدار اسی تجارت پیشہ پر ہے ۔

ہندووَں کی علامتیں

ہندووَں کی علامتوں میں ایک تلک ، دوسری دھوتی ، تیسری چوٹی اور چھوٹھی جینیو ہے اور ایک علامت مردہ کو آگ میں جلانا ہے ۔

چوٹی اور دھوتی اہم نشانیاں نہیں ہیں بعض مسلمان دھوتی پہنتے ہیں اور بہت سے مسلمان پیروں اور بزرگوں کے نام پر بچوں کے سروں پر چوٹیاں بھی رکھتے ہیں ۔

صرف مردہ کو آگ پر جلانا ، خطنہ نہ کرنا ہندو ہونے کی خاص علامتیں ہیں ۔ مگر عیسائی بھی خطنہ نہیں کراتے ہیں ۔

تلک

ہر ہندو فرقہ کے تلک علحیدہ علحیدہ ہوتے ہیں ۔ جس سے ان کی ذات اور عقائد کی شناخت ہوتی ہے ۔ مثلاً برہمنوں کے تلک عموماً سفید صندل کے ہوتے ہیں اور ماتھے پر تین چوڑائی میں لکیریں کچھی ہوتی ہیں ۔ چھتری اور ویش اگر رام چندر جی کے ماننے والے ہوں گے تو ماٹھے پر سرخ رنگ یا کسی اور رنگ کے تین تلک ماتھے کے طول میں لگاتے ہیں ۔ یہ علامت رام لچھمن اور سیتا کی ہیں ۔ یہ تلک زیادہ تر مدارس اور ملیبار کے علاقہ میں یا یوپی کے علاقے لگاتے ہیں ۔

سری کرشن کے ماننے والے چھتری اور ویش زعفرانی رنگ کا ٹیکہ ماٹھے کے بیج میں لگاتے ہیں اور جو صرف ہنومان جی کی پرستش کرتے ہیں وہ لال سیندور کا ٹیکہ ماتھے پر لگاتے ہیں ۔

ویش یا بنے لچھمی یعنی دولت کی پوجا کرتے ہین اور زرد علی کا ٹیکہ اس کے علامت کے لیے لگاتے ہیں ۔ یہ کچھ علامتیں ہیں ورنہ رنگا رنگ علامتوں میں کچھ حد مقرر کرنا ناممکن ہے ۔ اس طرح ہر سادھوں کے مختلف فرقہ الگ الگ ڈیزائن کے تل لگاتے ہیں ۔

اچھوت

یہ عجیب لوگ ہیں ، یہ ایک دوسرے کا چھوا ہوا کھانا اور پانی نہیں کھاتے ہین ۔ یہاں تک کہ باپ بیٹے سے اور بیٹا ماں باپ سے سے بھی چھوت کرتا ہے ۔ اور کوئی شخص ایک برتن میں شریک ہوکر کسی دوسرے کے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتا ہے ۔ کسی شودر کا سایہ کسی اعلیٰ ذات کے ہندو پر پڑ جائے تو اسے نہانا پڑتا اور بغیر غسل کے بغیر کھانا نہیں کھا سکتے ہیں ۔

اچھوت کے بارے میں دو مکتبہ فکر ہیں ۔ ایک کا کہنا ہے اسی چھوت کے باعث ہندو قوم زندہ و برقرار ہے ۔ اگر یہ نہیں ہوتا تو وہ یونانی اور اسلامی فاتحین میں جذب ہوچکی ہوتی ۔

دوسرا فریق کہتا ہے کہ ہندووَں کی کمزوری اور پستی کا سبب یہی مسلہ ہے ۔ اس لیے ہندو تیزی سے کم ہو رہے ہیں ۔ ہر دس سال کے بعد جب مردم شماری ہوتی ہے تو ہندو دس بارہ لاکھ کم ہوجاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں چھوت چھات ہے ۔ اس لیے ان میں جسمانی کمزوری ہوتی جاتی ہے اور نسل پر اس کا اثر برا ہو رہا ہے ۔

ہندو تیرتھ

ہندووَں کا کوئی ایسا مذہبی مقام ایسا نہیں ہے جو سب ہندووَں کا مرکز ہو ۔ جیسے عیسائیوں اور یہودیوں کا بیت المقدس اور مسلمانوں کا مکہ ہے ۔ ان کے بے شمار تیرتھ ہیں اور بڑے تیرتھوں میں گنگا یا جمنا دریا میں نہانا متھرا ، ہردوار ، بنارک اور الہ آباد وغیرہ ۔ ان میں خصوصیت کے ساتھ ہردوار ہے ۔ یہ رڑکی کے آگے گنگا کے کنارے واقع ہے ۔ یہاں صرف سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں اور کوئی مورت نہیں ہے ۔ اگرچہ یہاں بہت سے مندر بنے ہوئے ہیں لیکن ان کا تعلق تیرتھ سے نہیں ہے ۔ یہاں صرف گھاٹ پر سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں اور یہ ہرکی پٹری یعنی خدا کی سیڑھی کہلاتی ہیں ۔ اس مقام پر غسل کرنا باعث نجات خیال کیا جاتا ہے ۔

دوسرا تیرتھ کاشی یعنی بنارس ہے ۔ یہاں بھی گنگا جمنا مل کر بہتی ہیں اور غسل کرنا باعث نجات سمجھا جاتا ہے ۔ اس تیرتھ کا تعلق مہادیو سے ہے ۔ یہاں بہت سے مندر شیو کے بنے ہوئے ہیں ۔

تیسرا تیرتھ گیا میں پھلکو دریا کے کنارے ہے ۔ بشن جی سے اس کا تعلق ہے ۔ اس تیرتھ میں قدیم کے نشانات ہیں اور اس کا طواف کیا جاتا ہے اور یہاں اپنے مرے ہوئے بزرگوں کے نجات و مغفرت کے لیے پراتھنا کی جاتی ہے ۔

الہ آباد کے تیرتھ کو بعض لوگ ذاتی تیرتھ بھی کہتے ہین ۔ یعنی صفات الہی سے اس کا تعلق نہیں ہے ۔ یہاں گنگا ، کا جمنا اور تربینی ملتے ہیں ۔ اس میں نہانا اور جلے ہوئے مردوں کی ہڈیاں اور راکھ ڈالنا باعث نجات سمجھا جاتا ہے ۔ تین دریاؤں کے سنگم کو ست رج تم یعنی تین صفات کا مرکز بیان کیا جاتا ہے ۔

اوتاروں کے تیرتھ

اجودھیا فیض آباد میں سری رام چندر کے نام کا تیرتھ ہے ۔ متھر سری کرشن جی کی پیدائش کے سبب تیرتھ ہے ۔ گوگل ان کی پرورش کی وجہ سے تیرتھ ہے ۔ بندرا بن ان کے ظہور کی جگہ تھی ۔ اس لیے اس کو تیرتھ سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے علاوہ جس قدر مندر اور تیرتھ ہیں وہ یا تو سورج ، چاند ستاروں اور یا کسی مشہور اوتار سے ۔ سومنات کا مندر چاند سے تعلق رکھتا تھا اور چاند کو سوم کہتے تھے ۔

ہندووَں کے نام

ہندووَں کے نام اسمائے الہی پر بہت کم رکھے جاتے ہیں ۔ زیادہ ترشری رام چندر بلکہ زیادہ تر شری کرشن جی کے ناموں پر رکھے جاتے ہیں ۔

جوتش

ہندو علم نجوم کو بہت مانتے ہیں اور کوئی کام بغہر جوتشی کے حکم و اجازت سے نہیں کرتے ہیں ۔ خاص کر شادیاں جوتش کے حساب سے ہوتی ہیں ۔

تہوار

ہندووَں کے تہوار عموماً موسم کے تغیرات سے تعلق رکھتے ہیں یا کسی جنگی فتح کی یاد میں وہ تہوار منایا جاتا ہے ، مثلاً رام لیلا رام چندر جی کی فتح میں پوجا کا تہوار ہے ۔

ہندو اگرچہ صدہا سال سے ساتھ بود و باش رکھتے ہیں مگر شاذ و نادر ہندو مسلمانوں کے عقائد سے واقف ہوں گے یا بہت کم مسلمان ہوں گے جو ہندووَں کے عقائد سے واقف ہوں گے ۔ مسلمان عموماً تمام ہندووَں کو بت پرست خیال کرتے ہیں ۔ ان میں برہما خالق یا پیدا کرنے والا ۔ وشنو بچانے والا یا حفاظت کرنے والا ۔ شیوا مارنے ، جلانے اور سزا یا جزا دینے والا ہے ۔ ان تینوں سے ایک خاص شکتی کا اظہار ہے ۔ برہما نے سرسوتی سے دنیا پیدا کی ۔ وشنو نے لچھمی کے ذریعے دنیا کی حفاظت کی ۔ شیوا نے پاروتی سے دنیا میں سزا و جزا مختار ہے ۔ یعنی خالق کے تین روپ ہیں

ہنود تین خدا یعنی برہما ، وشنو اور شیوا کے قائل ہیں اور ہر ایک کی ایک بیوی سرسوتی ، لچھمی اور پاوتی مقر کردی ہے ۔

سری شنکر اچاریہ اور ان کے پیروکار وحدت الوجود کے قائل تھے ۔ یعنی خدا کا موجود عالم سے الگ ہوتا ہے ۔ یہ ہمہ اوست بلکہ ہر چہ ہست اوست کہتے ہیں ۔ اس کا کہنا تھا خدا ایک ہی ہے ۔ اس کا سوا کوئی دوسرا نہیں ہے ۔ سوائے خدا کے کوئی موجود نہیں ہے ۔ لہذا جو موجود ہے وہ خدا ہی ہے اور اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے ۔ عالم جس کو ہم دنیا کہتے ہیں وہ اگر موجود ہے تو خدا ہی ہے اور کوئی نہیں ۔ خدا کا موجودات عالم الگ ہوتا نہیں ہے ۔ اس فرقہ کا نام اودیتا یعینی دوئی کو ترک کرنے والا فرقہ ۔ اس فرقہ کے برہمن سمارتھا اور کبھی سائیوا بھی کہلاتے ہیں ۔ ان کے پیشانیوں کے قشقہ کا الگ ہوتا ہے ۔

سری راما نجا چاریہ نے کہا تھا خدا الگ بغیر دوسرے کے ہے ۔ خدا کے سوائے اگر کوئی دوسرا موجود ہے تو فقط اسی کا ظہور ہے اور کوئی نہیں ۔ لہذا جو موجود ہے اور جو ہم کو محسوس ہوتا وہ خدا نہیں لیکن خدا سے جدا بھی نہیں ۔ دنیا اور خدا میں باہمی تعلق مثلاً ایسا ہی ہے جیسا کہ قالب اور روح میں ہے ۔ روح قالب زندہ ہے اور نشوو نما پاتا ہے ۔ پھر بھی قالب جدا ہے اور روح الگ ۔ اگرچہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ اسی طرح خدا اور موجودات عالم یعنی دنیا ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ اگرچہ خدا بغیر دنیا نہیں اور دنیا بغیر خدا نہیں ۔ مگر ہم دنیا کو خدا نہیں کہہ سکتے ہیں اور خدا کو دنیا نہیں کہہ سکتے ہیں ۔ جس طرح روح (زندہ) جسم خالی نہیں ہے ۔ اس طرح یہ زندہ موجودات عالم خدا سے خالی نہیں ہیں ۔ خدا دنیا میں مانند روح کے موجود کے موجود ہے ۔

سری راما نجاری اور ان اور ان کے پیروکار ایک خاص قسم کی وحدت الوجود کے قائل ہیں ۔ یہ فرقہ کا دنیا سے برتر ہونا مانتا ہے ۔ اگرچہ خدا کو دنیا سے بالکل جدا نہیں کرتا ہے ۔ یہ ہمہ اوست اور ہمہ ازوست دونوں مقولوں کے معنی ایک سمجھا جاتا ہے ۔ اس فرقہ کا نام وشست اودیتا ہے ۔ جو ایک محدود دوئی کا قائل ہے ۔ اس فرقہ والے ویشنوا کہلاتا ہیں اور ان کی پیشانیوں پر قشقہ الگ ہوتا ہے ۔

ایک فرقہ جس کا بانی سری ولچا چاریہ تھا ۔ اس کے پیروکار ایک خاص قسم کی وحت الوجود کے قائل ہیں ۔ ایک محدود دوئی خدا اور دنیا میں مانتے ہیں ۔ گویا دنیا کی مانند روشنی کے ہے اور خدا مانند ایک روشنی دینے والے چراغ کے بغیر روشنی نہیں اور روشنی بغیر چراغ نہیں پھر بھی چراغ الگ ہے اور روشنی الگ ہے ۔ ولچاریہ فرقہ کے اعتقاد اور ویشنو فرقہ کے اتقادات میں زیادہ فرق نہیں ہے ۔ اس فرقہ والوں کا قشقہ الگ ہوتا ہے ۔

سری مادہو اچاریہ نے کہا ہے کہ خدا ایک ہے دوسرا خدا نہیں ہے ۔ خدا کے ساتھ دوسرا شریک نہیں ہے ۔ لہذا موجودات جن کو ہم دنیا کہتے ہیں ۔ وہ خدا کے ساتھ شریک نہیں ہے بلکہ خدا سے جدا مخلوق ہے ۔ خدا الگ ہے اور دنیا الگ ، ان دونوں میں فقط خالق و مخلوق کا تعلق ہے اور کچھ نہیں ۔ دنیا سے خدا کی ذات برتر اور جدا سمجھتے ہیں ۔ اس فرقہ کا نام دوتیا ہے ۔ جو خدا اور دنیا میں بالکل دوئی کو تسلیم کرتا ہے ۔ اس فرقہ کے لوگ مادہوا کہلاتے ۔ جن کی پیشانیوں پر قشقہ فقط ایک سیاہ نقطہ ہوتا ہے ان کے کنپٹیوں پر اور داہنے بائیں مونڈھوں پر صندل کے چھاپے رہتے ہیں ۔

خالق کی تین صفات برہما ، وشنو اور شیوا معہ ان صفات کے جو لازم و ملزم ہیں سرسوتی ، لچھمی اور پاروتی ان میں سے کون سی صفت سب سے بڑی ہے ۔ یعنی سب سے بڑھ کر انسان کے لیے قابل پرستش ہے ;238;

اگر یہ مان لیا جائے کہ فقط خالق (پرمیشر) کی ذات ہی قابل پرستش ہے ۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ خالق کی ذات کے درمیان جو انسان کے حس و فہم سے بالاتر ہے ۔ اس کی پرستش انسان صعیف العقل سے نہیں ہوسکتی ہے ۔ انسان کے لیے پرستش کے لیے کوئی ایسی شے یا کوئی ایسا مفہون ہونا چاہیے جو اس کی عقل و فہم میں آسکتا ہو ۔ اس لیے خالق کی صفات جس کا ظہور موجودات عالم میں ہے ۔ انہی کی پرستش انسان کرسکتا ہے اور تمام صفات باری کی یکساں پرستش بھی انسان کے امکان سے باہر ہے ۔ لہذا فقط کسی ایک صفت یاری کی ہی کی پرستش ہی انسان سے اچھی طرح ہوسکتی ہے ۔

خالق کائنات کی لاکھوں صفات میں فقط ایک صفت کی پرستش ہی انسان کرسکتا ہے اور کسی ایک صفت کی پرستش انسان کے لیے دراصل خدا کی ذات کی پرستش ہے ۔ کیوں کہ صفت اس کے موضوف سے جدا نہیں ہے اور نہ جدا ہوسکتی ہے ۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خالق کے تین جامع صفات میں کون سی صفت ہے جو دنیا میں اچھی طرح ظاہر ہے ۔ جس کی پرستش انسان اپنے دل و جان سے کرکے خالق حقیقی کا قرب حاصل کرسکتا ہے ۔ جو پرستش کا مقصود ہے ;180;

سائیوا فرقہ والے جو ادویتا ہیں مالک و مقتدر کے صفات کو سب سے بہتر پرستش کے قابل سمجھتے ہیں ۔

ویشنو فرقہ جو دسشت اودتیا ہیں حافظ و رحیم کی صفات کو سب سے بہتر قابل پرستش کے قابل سمجھتے ہیں ۔

لنگائیت ، سکھتا ۔ یہ دونوں فرقے خالق و حکیم کی صفات کو پرستش کو دوسری صفات کی پرستش سے بہتر سمجھتے ہیں ۔

لنگائیت خالق کی صفت کو مذکور تصور کرتا ہے اور سکھتا حکیم صفت کو مونث تصور کرتا ہے ۔ صفت مونث کو صفت مذکر پر ترجیع دیتے ہیں ۔ ہر ایک فرقہ اپنی پرستش میں غلو و مبالغہ کرتا ہے ۔ صفت کو چھوڑ کر موصوف یعنی مظہر صفت کی پرستش کو جائز رکھتا ہے ۔ اس بات سے بت پرستی کی وجوہ سے ہ میں یہاں بحث کرنے کی ضرورت نہیں ۔ کیوں کہ ہم تمام فروع سے قطع نظر کرکے فقط ہر تحریک کے مقصد سے خارج ہے ۔

زنار پہنے والے ہندو جو ہند میں ہیں ان میں 75 فیصدی سائیوا فرقہ والے ہیں اور 15 فیصدی ویشنو فرقہ والے ہیں اور 10 فیصدی دوسری فرقہ والے ہیں

انسان کو اس قسم کے جوش و خلوص سے خالق کی پرستش کرنی چاہیے ;238;

آدمی کو آدمی سے محبت تین قسم کی ہوتی ہے ، ایک محبت ماں بیٹے میں ہوتی ہے ۔ دوسری میاں بیوی میں ہوتی ہے ۔ تیسری گرو اور چیلے میں ہوتی ہے ۔ انسان کے لیے خالق کے ساتھ ان تینوں قسم کی محبت کو جائز سمجھا گا ہے ۔ لیکن ہر ایک فرقہ ان میں سے ایک قسم کی محبت کو دوسرے دو قسموں پر ترجعی دیتا ہے ۔

دنیا میں انسان کے لیے ذریعہ نجات کیا ہے ۔ یہاں دنیا سے مرا اد کل موجودات عالم نہیں ہے ۔ فقط ہر فرد بشر کا ماحول مراد ہے ۔ یعنی وہ دنیا جس کو ہر آدمی کے خیال میں عقل و حواس کے فراجوز چھوٹی بڑی ہوسکتی ہے ۔ علمائے ہنود کے نذدیک ایسی دنیا بے ثبات و ناپائدار و فانی ہے ۔ اس دنیا کی جملہ لذتیں محض گندم نما جو فروش ہیں ۔ جن سے انسان کو خوشی سے زیادہ دکھ درد حاصل ہوتا ہے ۔ ان کے عقیدہ میں ہر آدمی مرنے کے بعد اس کی روح دوسرے قالب میں پیدا ہوتی ہے اور اس طرح بار بار مختلف قالبوں میں پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح بار بار مختلف قالبوں میں پیدا ہوکر دنیا کے آفات و مصائب جھیلتی رہتی ہے ۔ تا دقیکہ ہر انسان کی روح نیست و نابود ہوجائے اور بار بار قالب بدل کر دنیا میں آنے سے رک نہ جائے تو اس کو نجات حاصل نہیں ہوتی ۔ یعنی نجات ہر منفرد روح کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ نرد انا یعنی نیست و نابود ہوجاتی ہے ۔ غرض نردانا حاصل کرن انسان کے لیے نجات ہے ۔

چند دوسرے ہنود کے نزدیک نجات سے مراد انسان کی روح کا خالق کی روح سے مل کر ایک ہوجانا ہے ۔ ان کے اعتقاد میں ہر آدمی پرمیشر کی روح کی طرف رجوع کرکے اس سے مل جاتی ہے ۔ لیکن گناہ گار انسان کی روح اس کی وفات کے بعد اکثر دوسرے قالبوں میں پیدا ہوکر آفتیں سہتی رہتی ہے اور کھبی بغیر قالب کے بھٹکتی پھرتی ہے ۔ البتہ اس کا فرزند یا کوئی قریبی عزیز سخاوت و نیک کاموں سے اس کی روح کو ثواب پہونچاتا ہے تو اس وقت اس کی روح پرمیشر کی روح میں جاکر مل جاتی ہے اور نچنت ہوجاتی ہے ۔

الغرض اس دنیا میں انسان کی نجات کے لیے خواہ اس سے کچھ مراد ہو ۔ ہر فرقہ ہنود کے نذدیک بھگتی کی ضرورت ہے ۔ فقط بھگتی ہی ذریعہ نجات ہے ۔ لیکن بھگتی کے معنوں میں علمائے ہنود میں اختلاف واقع ہوا ہے ۔

ایک گروہ کے نذدیک بھگتی سے مراد افعال حسنہ ہے ۔ افعال وہی نیک ہیں جو خالصۃ پرمیشر کے لیے کئے جائیں ۔ جو کام دنیا میں کیا جائے وہ کسی ذاتی یا دنیاوی غرض یا خیال سے نہ کیا جائے ۔ بلکہ فقط پرمیشر کے لیے اسی کی رضا جوئی کے لیے کیا جائے ۔ انسان اس دنیا میں کرمایاک حاصل کرلے یعنی اسی کی ذات میں گم ہوجائے ۔

دوسرے گروہ کے نذدیک بھگتی سے مراد عشق ہے ۔ دنیا میں آدمی ہر انسان و ہر شے کو مظہر صفات الہی جان کر اس سے محبت کرے ۔ یعنی اس کو اپنے نفس اور اپنے ذات پر ہر امر کو ترجع دیتا رہے ۔ حتیٰ کہ اس کو عشق مجازی کی وجہ سے عشق حقیقی حاصل ہوجائے ۔ اللہ سے عشق ہوجائے تو اس دنیا میں انسان کاما یوگ حاصل کرے یعنی وہ اسی کی زات میں فنا ہوجائے ۔

تیسرے گروہ کے نذدیک بھگتی سے مراد عرفان ہے ۔ دنیا میں انسان کبھی خدا کو نہ بھولے ۔ ہر وقت یاد الہی میں مشغول رہے ۔ اللہ کی قدرت و دیگر صفات الہی پر غور کرکے خدا کو پہچاننے کی کوشش کرتا رہے ۔ حتیٰ کہ وہ اپنے کو خدا میں دیکھے اور خدا کو اپنے میں دیکھے ۔ انسان اس دنیا میں گیان یوگ حاصل کرکے اسی میں جذب ہوجائے ۔

ہر قسم کے یوگ کرنے لیے ہر گروہ ہنود کے ہاں زہد و تقویٰ ، عبادت اور ریاضت کے جداگانہ خاص طریقے ہیں جو گروہ چیلوں کو سکھاتے ہیں ۔

ہنود کی مذہبی کتابوں میں زیادہ بحث ذات باری (پرمیشر) و حقیقت روح (آتمان) سے ہے ۔ ذات باری کی بحث کے چند اصول و فروغ کا خاکہ سابقہ آرٹیکل میں کچھچا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں اب حقیقت روح کے چند اصول و فروغٖ کا خاکہ کھنچنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس کا بھی حسب سابق مقصد یہی ہے کہ محض تصریح و توضیح کی جائے ۔ کسی قسم کا کوئی اعتراض نہ کیا جائے ۔

علمائے ہنود کے نذدیک دنیا یعنی عالم محسوسات کے دو جزو ہیں ۔ جزو اول مادہ ہے جو باعتبار ایک ہے ۔ لیکن جمادات ، نباتات ، حیوانات اور انسانات کے مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے ۔ اس کو عالم اجسام کہتے ہیں ۔ جزو ثانی روح ہے ۔ جو باعتبار جنس ایک ہے ۔ مگر مختلف حالتوں میں متفرق اجسام میں حل ہو کر نشو و نما کی باعث ہوتی ہے ۔ اس کو عالم ارواح کہتے ہیں ۔

تناسخ ارواح

عالم اجسام سے عالم ارواح بالکل جداگانہ ہے ۔ اگرچہ دونوں میں اکثر ارتباط و اتحاد رہتا ہے ۔ ارواح اپنے عالم سے اجسام میں آکر افرداًً انسان پیدا کرتی ہیں ۔ ہر فرد بشر کی موت کے بعد اس کی روح علی العموم دوسرے جسم میں پیدا ہوتی ہے اور کبھی کبھی اپنے عالم میں واپس چلی جاتی ہے ۔ روح کو جسم سے کس طرح ارتباظ و اتحاد رہتا ہے ۔ وہ محض تشبیات سے ہی بیان کیا جاسکتا ہے ۔

مادہ ۔ مادہ کی شکل اور روح ان تینوں کے ایک باہمی تشبیہ وید کی کتاب چھاند وگ میں ایک وشی نے اپنے فرزند کے سوال کے جواب میں بیان کیا ہے ۔ مادہ پانی کی مانند ہے جس شکل برتن میں رہے اس کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ روح مانند نمک کے ہے جو پانی میں ڈال دینے سے ایسا گھل جاتا کہ برتن کے تمام پانی کا مزہ یکساں کھاری رہتا ہے ۔ گویا نمک کا ہر ذرہ پانی کے ہر ذرہ کے ساتھ پورے طور پر مل جاتا ہے ۔ جب ایک عرصہ کے برتن سے پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے تو نمک جیسا کہ پانی میں گھلنے سے قبل تھا ویسا ہی باقی رہ جاتا ہے ۔ مادہ جب انسان کی شکل میں عیاں ہوتا تو روح اس کے ہر عضو ہر حصہ عضو بلکہ ہر سالہبہ میں یکسان ساری و طاری رہتی ہے ۔ مگر جب مادہ شکل انسان کو بدلنے کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ یعنی جب جسم مرجاتا ہے تو روح جیسی تھی ویسی ہی باقی رہ جاتی ہے ۔

ایک اور تشبیہ یہ ہے کہ جسم مانند بانسری کے ہے اور اس میں روح مانند بانسری بجانے والے کے سانس کے داخل و خارج ہوتی رہتی ہے ۔ سانس ایک سرے سے داخل ہوکر دوسرے سرے سے خارج ہونے تک بانسری بولتی رہتی ہے ۔ بعدہ خاموش ہوجاتی ہے ۔ اس طرح جس عرصہ تک روح و جسم میں رواں رہتی ہے ۔ جانور یا انسان جاگتا ، سوتا ، کھاتا ، پیتا ، بولتا ، چلتا رہتا ہے ۔ مگر جس وقت روح جسم کو چھوڑ دیتی ہے اس کی بول چال بالکل موقوف ہوجاتی ہے ۔

روح کے مدارج

جب تک روح زنداں جسم میں قید رہتی ہے تو اپنے زندان سے رہا ہوکر اپنے عالم ارواح میں واپس چلے جانے کی کوشش کرتی رہتی ہے ۔ روح کی یہی کوشش آزادی ہے جو جسم کے ان کے جملہ حرکات و سکنات کو عیاں کرتی ہے ۔ جن کو ہم حیات و زندگی کے آثار سمجھتے ہیں ۔ غرض علمائے ہنود نہ صرف روح کا وجود جسم سے جداگانہ مانتے ہیں ۔ بلکہ اس کے حلول و اتحاد کے بھی قائل ہیں ۔ ان کی رائے میں روح قدیم و حادث نہیں ہے ۔ کیوں کہ اس مبد و معاد ذات باری سے متعلق ہے ۔ ہمہ اوست کہنے والے وید انتیوں کے عقیدہ میں عالم ارواح ایک بحر ذخار ہے ، جس کے قطرے منفرد ارواح ہیں ۔

اندر ہمہ است کہنے والے بھگتیوں کے عقیدہ میں عالم ارواح ایک بقعہ نور جس کی شعائیں منفرد ارواح ہیں ۔

لیکن دونوں فرقوں کا اتفاق ہے کہ جب منفرد ارواح اجسام میں آکر بشکل انسان پیدا یا ظاہر ہوتی ہیں ۔ انفاس کہلاتی ہیں ۔ ہر نفس انسان کے تین درجے یا حالتیں ہیں ۔ بھر ، بھوار اور سورگھ ۔

روح کی حالت اسفل (بھر) نفس حیوانی ہے ۔ جس کا خاصہ (کاما) شہوت ہے ۔ مثلاً بھوک پیاس وغیرہ جو جسم کی ضروریات نشو و نما کو رفع کرتی ہے ۔ نفس حیقانی کو اہل تصوف کی اصطلاح میں نفس امارہ کہیں گے ۔

روح کی حالت اوسط (بھوار) نفس خودی ہے جس کا خاصہ (اہنکار) ہوا و ہوس یعنی ذاتی خواہش ہے ۔ جو انسان کو اپنی (سکھ) راحت حاصل کرنے اور اپنے (دکھ) آفت سے بچانے کی کوشش میں رکھتی ہے ۔

وہی نفس ہے جس کو ہر انسان (منس) اپنی ذات سمجھتا ہے ۔ اس کو ’ میں ’ سے کے نام سے موسوم کرتا ہے ۔ اپنے تمام اعٖضاء و افعال ، اپنے تمام حالات و خصائل میں سے کسی کو بھی ’ میں ’ نہیں کہتا ہے بلکہ ان سب کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرتا اور کہتا ہے کہ یہ عضو میرا ہے ۔ وہ فعل میرا تھا ۔ میں ایسی حالت میں ہوں ، میری خصلت ویسی تھی ، گویا یہ سب اگرچہ اس کی ذات سے متعلق ہیں ۔ لیکن اس کی ذات ان سب سے الگ ہے ۔ اپنی ذات کے انہیں متعلقین سے کام لینے میں (نفسانیت) پیدا کرتا ہے ۔ یعنی اپنی ذات کے لیے جذب منفت و دفع مضرت کے انکار و افعال و افعال میں مبتلا رہتا ہے ، جو فی الحقیقت اس کے نفس خودی کے اہنکار کو نفس لوامہ کہتے ہیں ۔ ۔ جب کہ وہ اپنے کئے سے پشیمان ہوکر اپنے کو لعنت و ملامت کرتا ہے ۔ نفس خودی کی حالت لوامہ حالت علوی کی طرف مائل کرتی ہے ۔

لیکن اس کی ذات ان سب سے الگ ہے ۔

روح کی حالت علوی (سورگھ) نفس ملکوتی ہے ۔ جس کا خاصہ (آتمان) برات ہے ۔ یعنی تمام کاما و اہنکا حملہ شہوات حیوانی و خواہشات نفسانی سے بری یا الگ ہوجانا ۔ اہل تصوف کی اصطلاح میں آتمان کو نفس مطمئنہ کہیں گے ۔

نفس حیوانی کو اپنے آپ کا شعور نہیں رہتا ہے اور اگر رہتا بھی ہے تو اس قدر کم رہتا ہے جو بے شعوری کے مساوی ہوتا ہے ۔ گویا ایک گدھا ہے جس کو اپنی ذات کی خبر ہی نہیں ۔ اپنے پرائے کی تمیز ہی نہیں فقط پیٹ بھرنے اور پیاس بجھانے کے لیے مارا مارا پھرتا ہے ۔ انسان بھی جس وقت کسی کاما میں مبتلا ہوجاتا ہے اپنی کسی شہوت کو پوری کرنے میں مصروف ہوتا ہے تو اسی وقت اپنے وقت اپنے کو بھی بھول جاتا ہے ۔ اس کو اپنی ذات کا شعور نہیں رہتا ہے ۔ بخلاف اس کے نفس خودی کو اپنے نفس کا شعور رہتا ہے ۔ وہ اپنے پرائے کی اچھی تمیز کرسکتا ہے ۔ اسی ذاتی شعور کی وجہ سے وہ اہنکار نفسانیت ، ذاتی ہوا و ہوس میں ایسا پھنسا رہتا ہے کہ اس کو خود اپنی خوشی و راحت کے سوا کسی دوسرے کے غم و اذیت کی پرواہ ہی نہیں رہتی ہے اور اگر کبھی رہتی بھی ہے تو محض اپنی ذات کے سکھ کے لیے رہتی ہے ۔ چنانچہ جو انسان اہنکار ، نفسانیت میں مبتلا رہتا ہے ۔ وہ اگرچہ اپنے بال بچوں کی نگرانی حفاظت و پرورش کرتا ہے ۔ لیکن محض اپنی ذاتی غرض سے کرتا ہے ۔ کیوں کہ اگر وہ چین سے نہ رہیں تو خود اس کی ذات کی راحت سکھ میں فرق آتا ہے یا اس کو کسی قسم کی اذیت ہوتی ہے ۔ لیکن آتمان نفس ملکوتی ہر ایسی خود غرض ، نفسانیت و اہنکار سے بری رہتا ہے ۔ اس کو پورے طور سے اپنے کا شعور رہتا ہے اور اپنے پرائے کی تمیز نفس خودی سے بھی زیادہ یوں کرتا ہے کہ دوسرے کے راحت و آرام کو اپنے راحت و خوشی پر ترجیح دیتا ہے ۔

ایک فرقہ ہنود کا خیال ہے کہ آتمان نفس ملکوتی وہی ہے جو شہوانی حیوانی (کام) اور خواہش نفسانی (اہنکار) کو بالکل ترک کردے ۔ بلکہ ان کو مار کر کالعدم کردے ۔ اس غرض سے اس فرقہ کے بعض اشخاص تارک الدنیا (سنیاسی) ہوجاتے ہیں ۔ شاید ریاضت اور نفس کشی کو بہترین عبادت سمجھتے ہیں ۔ لیکن ایک فرقہ ایسی نفس کشی کو یعنی جسم کو ہر قسم کی آفت میں ڈال کر نفس کشی کے کاما و اہنکار بالکل کو کالعدم کردینے کو ناممکن سمجھتا ہے ۔ اس کی رائے میں شہوات و خواہشات نیست و نابود نہیں ہوسکتے ہیں ۔ انسان سے جو ہمشہ مع الخطاء و النسیان ہے ۔ فقط یہی ہوسکتا ہے کہ ہر امر میں اپنے ذاتی اغراض و خوہشات کو خدا تعالیٰ جو نفس کل (پرآتمان) ہے اس کی مرضی کے تابع کردے ۔ اس فرقہ کے اشخاص تارک الدنیا سنیاسی نہیں ہوتے ہیں بلکہ بھگتی مرد باخدا ہوکر اس کے خلایق کے بہبود کے ہر طرح سے خواہاں وجویاں رہتے ہیں ۔ بہرحال سنیاسی و بھکتی دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ نفس خودی دوسرے انفاس نفس حیوانی و نفس ملکوتی کے مابین بطور برزخ واقع ہوا ہے ۔ کیوں کہ اس میں ایک طرح خاصیات حیوانی دوسری طرف خصوصیات ملکوتی دونوں پائے جاتے ہیں ۔

تمثرہ حیات و ذریعہ نجات

اس تناسخ ارواح و مدارج انفاس کی ساری بحث کی غایت یہی ہے کہ مذہب کے دو اہم ترین امور کا تعین کیا جائے ۔ ایک یہ کہ انسان کی حیات کا ثمرہ (کرم) کیا ہے ;238; دوسرا یہ کہ حیات کا بہتریں ثمرہ پانے کا طریقہ (دھرم) کیا ہے ;238;

کرم ۔ یعنی ثمرہ حیات ، عین حیات یعنی جس عرصہ تک روح قالب میں مقید رہتی ہے دونوں کے باہمی ارتباط و اتحاط کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف قالم نشو و نما ہوتی ہے اور دوسری طرف روح کی حالت بدلتی رہتی ہے ۔ بتدریح درجہ اسفل سے اوسط اور اوسط اعلیٰ کی طرف عروج پانی ہے یا برعکس اعلیٰ سے درجہ اوسط یا اسفل کی طرف رجوع کرتی ہے ۔ کسی انسان کی حیات کے آخر میں یعنی موت کے وقت جو حالت اس روح کی رہتی ہے اور موت کے بعد دوسرے اچھے یا برے برے قالب میں پیدا ہوکر مزید آرام پاتی ہے اور موت کے وقت جو اس کی حالت رہتی ہے اس کو کرم کہتے ہیں ۔ جیسے جیسے وہ آرام پاتی ہے یا آفتیں سہتی ہے اور موت کے بعد دوسرے اچھے یا برے قالب میں پیدا ہوکر مزید آرام پاتی ہے یا مزید آفتیں جھیلتی ہے ۔ مثلاً داس اپنی عمر بھر کاما (شہوتوں ) کو پورا کرنے میں مصروف رہے تو اس کی روح نفس خودی کے اوسط حالت سے بتدریح نفس حیوانی کی اسفل حالت اختیار کرلے گی اور اس وجہ سے داس خود اپنی زندگی میں کامل راحت نہیں پاسکے گا ۔ اس کی موت کے بعد اس کی روح کسی برے حیوان کے قالب میں پیدا ہوکر مزید آفتوں میں مبتلا رہے گی ۔ اگر شنکر اپنے (اہنکار) خود غرضیوں کو ترک کرکے رفا عام کے کاموں کا دلدادہ رہے گا تو اس کی روح نفس خودی کے اوسط قالب سے بتدریح ترقی کرکے نفس ملکوتی کی اعلیٰ اختیار کرے گی اور اسی وجہ سے شنکر اپنی زندگی میں چین سے رہ سکے گا اور موت کے بعد اس کی روح کسی اچھے انسان کے قالب میں پیدا ہوکر خوش و خرم رہ گی ۔ خاص خاص اشخاص جو رشی منی ہوتے ہیں ان کی روح نفس ملکوتی کی اعلیٰ حالت میں رہتی ہے ۔ اس سے عروج حاصل کرکے ایسی اعلیٰ ترین حالت میں آجاتی ہے کہ ان کی موت کے بعد وہ کسی دوسرے قالب میں نہیں پیدا نہیں ہوتی بلکہ عالم ارواح میں واپس چلی جاتی ہے ۔ وہاں سے پرواز کرکے وصال الہی پاتی ہے ۔

غرض انسان کی بد ترین کرم یہ ہے کہ اس کی روح نفس حیوانی کی حالت میں بار بار حیوانوں کے بد ترین قالب میں پیدا ہوکر حیوانوں سی زندگی اقسام کے رنج و محن میں بسر کرے اور حیات کا بہترین کرم وہ ہے کہ روح نفس ملکوتی کی حالت میں بار بار رشی منیوں کے قالب میں پیدا ہوتی رہے اور بالآخر عالم ارواح میں چلی جائے پھرعالم اجسام میں نہ آئے بلکہ مزید ترقی کرکے وصال الہی سے مشرف ہوجاے ۔

دہرم حاصل کرنے کا طریقہ

اول عمل صالح جو (کاما) شہوتوں سے جس قدر ہوسکے پچنا اور افراط و تفریط سے پرہیز کرنا ہے ۔ دوم نیک نیک جو (اہنکار) خود غرضیوں کو روکتی ہے ۔ عمل صالح میں عبادت ، ریاضت اور سخاوت وغیرہ شریک ہیں اور نیک نیت میں دوسروں کی بہبودی کو اپنے آرام و خوشی پرترجیح دینا شامل ہیں ۔ لیکن عمل و نیت توام ہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ہیں ۔ نیت جو نیک و بد ہوتی ہے وہ نفس سے متعلق ہے ۔ زچھا کرم وہی ہے جو نیک نیت سے وقوع میں آئے ۔ انسان کی روح نیک کرم سے درجہ اعلیٰ میں پہنچ سکتی ہے اور برے کرم سے وہ اسفل کی مصبتیں جھلتی ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں