43

حسینی برہمن

ہم جس خطہ میں رہ رہے ہیں وہاں معاشرتی اونچ نیچ کی وجہ سے اپنا نسلی تعلق عرب یا توران سے جوڑنے کا رجحان عام ہے اور یہ فعل عموماً فرد کے بجائے کوئی خاندان یا گروہ یا قبیلہ یا برادری کرتی ہیں اور کئی نسلوں میں یہ عمل مکمل ہوتا ہے ۔ میں اس پر میں بہت سے مضامین لکھ چکا ہوں ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کوئی خاندان جس ماحول میں رہتا ہے وہ سماجی اور مالی توقیر کے لیے ایسا دعویٰ کرتا ہے کہ سماجی درجہ بندی میں اس کا مرتبہ بڑھ جائے ۔

دعویٰ

            یوٹیوب میں عنوان حسینی برہمن پر ایک ڈاکومنٹری فلم میں ایک خاتون پروفیسر کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ حسینی برہمن ہیں ۔ اس میں ان خاتون کا کہنا تھا کہ ہم برہمن ہیں ۔ ہمارے جد امجد تجارت کے سلسلے میں عرب گئے تھے اور وہاں کربلا میں امام حسین کے ساتھ ہمارے دو یا تین افراد جو کہ برہمن تھے ساتھ دیا تھا ۔ ان میں سے دو مارے گئے اور ایک فرد جس کا نام رائے دت تھا زندہ بچ کر آگیا ہم اسی کی اولاد ہیں ۔ مزید انہوں نے بتایا ہم مسلمان نہیں لیکن اپنے کو حسینی برہمن کہتے ہیں اور ہم مندروں میں پوجا وغیرہ نہیں کرتے ہیں ۔ ہم پہلے لاہور میں آباد اب ہندوستان میں تقسیم کے بعد آگئے ہیں ۔ مزید ان کا کہنا تھا سنیل دت اور نرگس بھی حسینی برہمن ہیں ۔ نرگس کے والد مسلمان ہوگئے تھے ۔

اعتراض

            یہ دعویٰ بھی اسی طرح کا ہے کہ کوئی مسلم قبیلہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ قریشی وغیرہ ہے ۔ یہاں غور طلب کچھ باتیں ہیں ۔

یہ تجارت کے سلسلے میں عرب گئے تھے اور برہمن تھے ۔وہاں انہوں نے کربلا کے میدان جنگ میں امام حسین کا ساتھ دیا تھا ۔   ان خاتون نے اپنے جد امجد کا نام رائے دت بتایا ہے ۔  

            سوچنے کی بات یہ ہے کہ برہمن تجارت نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ ایک پروہت ہے اور وہ نیک شگونوں ، ناموں ، تاریخوں اور نیک وہ بد فعال پر اس سے مشورہ لیا جاتا ہے ۔ وہ اس کے بدلے نظرانے اور کھانا اپنے مکلوں سے وصول کرتے ہیں ۔ برہمنوں نے تجارت تو انگریزوں کے دور سے اختیار کی ہے ۔ ورنہ اسے پہلے اگر کوئی برہمن تجارت کرتا تھا تو وہ اپنی ذات سے گرجاتا تھا ۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہاں برہمن تجارت کے سلسلے میں گئے تھے ۔

            کربلا کے بارے میں کسی مورخ نے نہیں ذکر کیا ہے وہاں لڑائی میں ہندو یا کسی مذہب کے لوگ شریک تھے ۔ کربلا کی داستان کے سارے سلسلے ابی مخنف سے ملتے ہیں اور اس نے بھی ایسا کوئی ذکر نہیں ہے کہ لڑائی میں کسی جانب سے کوئی ہندو شریک تھا ۔

            انہوں نے اپنے جد امجد کا نام رائے دت بتایا ہے ۔ لیکن ہندوؤں میں ذات پات کی تقسیم ہوتی ہے اور ہر طبقہ کا نام اسی کی ذات کے مطابق ہوتا ہے ۔ تاکہ نجس یا چھوت چھات کا مسلہ نہیں ہو ۔ رائے خالص راجپوتانہ نام ہے جس کے معنی حکمران یا بادشاہ کے ہیں ۔ یہ لقب صرف حکمران استعمال کرتا ہے ۔ مسلم مورخین نے بھی ہندو راجاؤں کو رائے کہہ کر خطاب کیا ہے اور برہمن ہمیشہ ایسے نام رکھتے ہیں جس میں دیوتاؤں کا سیوک ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔

            اس پر اعتراض کیا جاسکتا ہے اور چچ خاندان کی مثال دی جاسکتی ہے ۔ مگر میں اپنے ایک مضمون میں لکھ چکا ہوں کہ چچ خاندان کے جتنے نام تھے وہ راجپوتوں والے یا جٹوں والے تھے اور اس بارے میں لکھنے والے راوی کو غلط فہمی ہوگئی ہے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ وہاں کے لوگ جاٹ تھے اور جاٹوں کے ان ہی نسل کے پجاری ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے چچ نامہ میں ہمیں برہمنوں کا نہیں البتہ پجاروں کا ذکر ملتا ہے ۔ رہی بات ماتم کرنے کی تو بہت سے ہندو بڑے دھوم ڈھام سے محرم کے جلوس میں حصہ لیتے ہیں ۔ لیکن کیا ماتم کرنے سے یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا ہے ۔  

            یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا وجہ ہے انہوں نے برہمن ہونے باوجود خود کو حسینی برہمن کہا ؟       میں اوپر لکھ چکا ہوں برہمن بنیادی طور پر ایک پروہت ہے اور وہ اپنے موکلوں کی شگونوں ،ناموں ، تاریخوں اور نیک وہ بد کے سلسلے میں رہنمائی بھی کرتا ہے اور وہ اس کے بدلے نظرانے اور کھانا لیتے ہیں ۔ ان دستور تھا کہ وہ ہر سال اپنے مکلوں کے پاس جاکر ان سے نذرانے لیتے ہیں اور یہی کام خیبر بختون خواہ ، بلوچستان ، پنجاب اور سندھ کے سید بھی کرتے تھے ۔ حالانکہ سید ان کاموں میں کوئی کام نہیں کرتے ہیں ۔ تاہم وہ اپنے مریدوں یا عقیدت مندوں سے نظرانوں کے لیے سالانہ گشت کرتے تھے اور اب بھی یہ عمل کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے ۔

            یہاں بات ہو رہی ہے حسینی سید کی ۔ ابسن نے 1881 کی مردم شماری میں ڈیرہ اسمعیل خان میں 3500 حسینی برہمن بتاتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے ۔ یہ ہندوؤں سے دیوتاؤں کے نام سے اور مسلمانوں سے اللہ کے نام سے نذرانے وصول کرتے ہیں ۔ ان کی اکثریت مسلمان ہے ۔ یہ وہی حسینی برہمن ہیں ۔ جو کہ موکلین کے مسلمان ہوجانے پر خود بھی مسلمان ہوگئے اور غالباً یہ اب سید بن چکے ہیں ۔ کیوں کہ بنیادی کام ان کا نذریں وصول کرنا ہے اور جو مسلمان نہیں ہوئے انہوں نے حسینی کہلانے کے لیے یہ کہانی گھڑلی ہے ۔

ماخذ

یوٹیوب

پنجاب کی ذاتیں ۔ سر ڈیزل ابسن

ٍگوجر

            گوجُر )گُجر ، گجَُر( ایک قوم کا نام ہے ، جو برصغیر میں دور دور تک آباد ہے ۔ یہ جاٹوں اور راجپوٹوں سے ملتی جلتی ہے ۔ گوجر بھی جاٹوں اور راجپوٹوں کی طرح غالباً سھتین قوم کے ان واردین کی نسل سے ہیں ۔ جو چھٹی صدی عیسوی میں برصغیر میں داخل ہوئے تھے اور ان کی جسمانی خصوصیات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خالص ہند آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ گوجروں کا تعلق ہنوں سے تھا ، یہ ان کے بعد برصغیر میں آئے تھے اور انہوں نے راجپوتانہ کا بڑا حصہ فتح کرلیا اور کئی صدیوں تک برصغیر کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتے رہے ۔ ڈی آر بھنڈارکر نے ثابت کیا ہے کہ گوجارے شمالی ہند میں 550 عیسویں کے قریب سفید ہنوں کے ساتھ یا ان کے بعد داخل ہوئے تھے ۔ ان کا  ذکر سب سے پہلے پانا کی کتاب ’ہرش چرت‘ میں آیا ہے ، جو انہیں ہنوں کی طرح ہرش کے باپ کا دشمن قرار دیا ہے ۔

            محمد عبدالمک نے ’ شاہان گوجر ‘ میں لکھا ہے کہ دوسرے ممالک میں اس قوم کو خزر ، جزر ، جندر اور گنور بھی کہا گیا ہے ۔ برصغیر میں یہ پہلے گرجر کی صورت پھر گوجر ہوگیا ۔ یہ لوگ گرجساتان سے آئے تھے ۔ بحیرہ خزر کا نام شاید خزر پڑھ گیا کہ اس کے ارد گرد خزر یعنی گوجر آباد تھے ۔ جو کہ سھتین قبایل کی نسل سے ہیں ۔

            عبدالمک نے گوجروں کا خزر قوم کی باقیات ہونے کا دعویٰ محض اس وجہ سے کیا ہے کہ پاکستان کے شمالی حصہ یعنی شمالی پنجاب سرحد اور کشمیر کے گوجروں کا کہنا ہے کہ وہ ترکی النسل ہیں ۔ خزر جو ایک ترکی قوم تھی ، جس نے نوشیروان عادل سے کچھ عرصہ پہلے عروج حاصل کر لیا تھا اور غالباََ یہی ترک تھے جن کے خلاف دربند کی سدیں تعمیر ہوئیں ۔ خزر نے ترکی خانہ بدوش سلطنت کی روایات کو قائم رکھا ۔ قباد کی پہلی تخت نشینی کے وقت خزر قبیلے نے ایران پر یورشیں شروع کردیں ۔ قباد نے خزر حملہ آورں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دے کر ملک سے باہر نکالا ۔ مگر ان کے حملے رک نہ سکے ۔ نوشیروان عادل نے مغربی ترکوں سے جن کا حکمران ایل خان تھا دوستانہ تعلقات قائم کریئے اور ان کی مدد سے خزر قبائل پر فوج کشی کی اور ان کی طاقت کو پارہ پارہ کردیا ۔ خزر قوم تاریخ کے صفحات سے غائب ہوگئی ۔ بہر حال گوجروں کے ترکی النسل ہونے میں تو ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ لیکن اس پر اختلاف ہے کہ گوجر خزر النسل ہیں ۔ کیوں کہ ترکوں کی مغربی سلطنت جس کی علمبرداری افغانستان کے علاقوں پر بھی تھی ، وہ خزروں کی دشمن تھی اس لئے خزر قوم کا برصغیر کی طرف آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔

            جو ترک قبائل ساسانی سرحدوں کے قریبی ہمسائے تھے ۔ ان میں ایک قبیلہ غز تھا اور اسی نسبت سے ترک قبائل کو غز بھی کہا جاتا تھا ۔ یہ قبیلہ غز کے علاوہ غزر بھی پکارا جاتا تھا اور یہ کلمہ ترکوں کے ناموں میں بھی آیا ہے ۔ مثلاً غزر الدین مشہورخلجی امیر التمش کے دور میں گزرا ہے ۔ غرز جو ترک تھے ہنوں کی شکست کے بعدبرصغیر میں داخل ہوئے ۔ یہ نہ صرف بہترین لڑاکے ، خانہ بدوشاور گلہ بان تھے ۔ غالب امکان یہی ہے کہ غرز ہند آریائی لہجہ میں گجر ہوگیا ۔ کیوں کہ ہند آریا میں ’غ‘ ’گ‘ سے اور ’ز‘ ’ج‘ سے بدل جاتا ہے اور گجر کا معرب گوجر ہے ۔

            راجپوتوں کی چھتیس راج کلی میں ان کا نام شامل نہیں ہے اور نہ ہی جیمز ٹاڈ ان کا ذکر کرتا ہے ۔ البتہ ان کی ایک شاخ پڑھیار جس کا اگنی کل کی قوموں میں ذکر آیا ہے اور چھتیس راج کلی میں شامل ہے کا ذکر کرتا ہے ۔ جب کہ شاہان گوجر میں اگنی کل کی چاروں قوموں چوہان ، چالوکیہ ، پڑھیار اور پنوار کا ذکر گوجروں کے ضمن میں کیا ہے ۔

            حسن علی چوہان نے ’تاریخ گوجر‘ میں لکھا ہے کہ رامائین میں گوجر کے معنی غازی کے آئے ہیں اور یہ کشتری ہیں جو بعد میں گوجر کہلانے لگے ۔ جب کہ گجر کے معنی گائے چرنے والے کے ہیں ۔ اس میں سورج بنسی ، چندر بنسی ، چوہان ، چالوکیہ ، پڑھیار ، پنوار اور راٹھوروں کو بھی گوجر کہا گیا ہے ۔ مگر ان اقوام نے کھبی گوجر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی گوجروں نے کبھی ان اقوام سے اپنا نسلی تعلق ظاہر کیا ہے ۔ جب کہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ گوجر قوم کے لوگ نوکری نہیں کرتے ہیں ۔ ان کی گزر اوقات دودھ دہی پر ہے ۔ جلال الدین اکبر نے ایک قلعہ بنا کر اس میں گوجروں کو آباد کیا تھا ، جس کا نام گجرات ہوگیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوجر اور گجر کی اصل ایک ہی ہے ۔

             گوجروں کی آبادی کا دور دور تک منتشر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی فرمانروائی کا دائرہ کس قدر وسیع تھا ۔ گوجر بیشتر گلہ بانوں کی ایک قوم تھی ، جو جنگ و پیکار اور لوٹ کھسوٹ کی دلدادہ تھی ۔ آج کل بھی گوجروں میں یہ رجحانات پائے جاتے ہیں ۔ یہ مستقبل مزاج زراعت کاروں کی حثیت سے یہ اپنے قرابت داروں جاٹوں کی سی شہرت کے مالک نہیں ہیں ۔ تاہم انہوں نے عمومی حثیت سے اقامت کی زندگی اختیار کرلی ہے ۔ ہند کے انتہاہی شمالی مغربی حصہ خاص کر کانگرہ اور سنجھال کے پہاڑوں کے بیرونی کناروں تا حال گوجر خانہ بدوش چرواہوں اور گلہ بانوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ ان کے نام پر شمالی مغربی برصغیر میں بہت سی بستیاں ، قبضے اور شہر آباد ہوئے جو اب تک موجود ہیں ۔

            گوجروں نے اپنی ریاست کوہ آبو کے قریب بھٹمل میں قائم کی تھی ۔ اس خاندان کی ایک اور شاخ بروچ نے ایک اور ریاست قائم کی تھی جو ان کے نام سے بروچ کہلائی ۔ ایک اور شاخ اونٹی کے نام سے موسوم ہوئی ہے ۔ اس خاندان نے عربوں کو جو گوجروں کے علاقہ تاراج کررہے تھے روکا ۔ پڑھیاروں کی ایک ریاست رجپوتانہ میں مندوری یا مندر کے مقام پر تھی ، جس کو راٹھوروں نے چھین لی تھی ۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں