77

جاٹ قبائل

یہاں جاٹ قبائل کے نام دیئے جارہے ہیں ۔ بنیادی طور پر جاٹ اور راجپوت ایک ہی ماخذ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تاہم جن گرہوں نے برہمنیت کی بالادستی قبول کرلی ، انہوں نے بیواہ شادی سے انکار اور زراعت پیشہ سے منہ مورا وہ راجپوت کہلائے اور وہ قبائل بدستور جاٹ کہلاتے رہے جنہوں نے اگرچہ ہندو مذہب تو کرلیا مگر برہمنوں کی بالادستی سے انکار ، بیواہ کی شادی کرنے پر اصرار اور زراعت پیشہ کو اپنایا وہ بدستور جاٹ رہے ۔

پنجاب میں راجپوت اور جاٹ کی تفریق بہت الجھی ہوئی ہے ۔ اکثر قبائل راجپوت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، جب کہ ان کی شاخیں جاٹ کہلاتی ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے راجپوتوں کے ارتقاء کا دور ساتویں صدی عیسوی سے لے کر بارویں صدی عیسوی تک تھا اور اس کا ارتقاء مسلم حکومتی علاقوں میں نہیں ہوا ۔ یہاں کے قبائل نے مغلیہ دور میں راجپوت ہونے کا دعویٰ کیا جب کے وہ مسلمان ہوچکے تھے ۔ اس سے پہلے ہ میں اس علاقہ میں راجپوتوں کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔ یہاں کے راجپوت میں ایک جیسی کہانیاں ہیں ۔ مثلاً ان کا جد امجد اکبر ی دور میں راجپوتانہ کے علاقہ سے یہاں آیا تھا یا یہ راجہ کرن کی اولاد ہیں ۔ یہاں اگر جاٹ قبائل کے کچھ ناموں کی فہرست دی جارہی اور ان میں بہت سے نام راجپوتوں میں بھی ملتے گے ۔ اس کی بنیادی وجہ اوپر لکھ چکا ہوں ۔

ابر ، ایلاوت ، اندار ، آنتل ، آریہ ، ایساکھ ، ارب یا عرب ، اتوال ، عطری ، اولکھ ، اونکھ ، اوہلان ، اوجھلان ، اوجلہ ، اتار ، اوہلان ، اوڈھران ۔

ببر ، بگداوت ، بجاد ، باجوہ ، بل ، بلہن ، بلہار ، بان ، بینس یا ونیس ، بسی ، باٹھ ، بلاری ، بنہوال ، بھنگال ، بھگو ، بھنڈر ، بھلی ، بیلا ، بسرا ، بھیڈی ، بھوپارائے ، بھلر ، بھڑنگ ، بسلا ، برار ، بدھوار ، بورا ، بسرا ، بھمبو ۔

پاہل ، پلاول ، پنکھا ،ل پائے سر ، پنیچ ، پنوں ، پنیگ ، پریہار ، پرودا ، پھور ، پھاروے ، پھوگٹ ، پھلکا ، پیرو ، پوتالیا ، پونیا ، پنگال ، پلکھا ، پرادا پوتل یا پوتلیا

تنوار ، تور ، تھنڈ ۔

ٹکھر ۔ ٹاہلان ، تنگ ، ٹک ، ٹاٹڑان ، ٹبواتھیا ، ٹھاکران ، ٹوانہ ، ٹسار ، ٹومر ۔

جکھد ، جگلین ، جلوٹا ، جنجوعہ ، جہل ، جنوار ، جٹاسرا ، جڑانہ ، جھاجھریا ، جوئیہ ، جون یا ہون ، جوڑا ، جاکھڈ ۔

چاہل ، چھٹہ ، چوہان یا جوہان ، چبک ، چیمہ ، چھلڑ ، چھکارا ، چھونکر ، چھینا ، چمنی ، چدھڑ ۔

دباس یا دواس ، ڈاگر یا داگر ، دھاما ، ڈھا یا ڈہایا دلال ، ڈھیل یا ول ، ڈالتا ، ڈانگی ، دراد ، ڈسوالاس ، دیول ، دھامی یا دھاما ، ڈھالیوال ، ڈھاکا ، دھنکھڈ ، ڈھانچ ، ڈھانڈا ، دھنویا ، دھارن ، ڈھلون ، ڈھنڈسا ، دھنڈ وال ، ڈھونچک ، دھل ، دوہان ، ڈاہیا ۔

رائے ، رانا ، رانجھا ، راٹھی ، راٹھول ، راٹھور ، رندھاوا ، راپادیا ، راوت ، ریڈھو ، ریار ، راج ، روہیل یا روہیلہ ، راسٹری ۔

سہوتا ، سہروت ، سلار ، سیال ، سلکان ، سامل ، سمرا ، سہن پال ، سنگا ، سنگدا ، سنگوان ، سنسوار ، سندھو ، سپرا ، سرن ، سروہا یا سروہی ، سراٹھ ، ساسی ، سیکھون ، سیوچ ، سیوکند ، سیوران ، سویا سنگروت سدھو سکاوار سوہل سولگی سولنگی سوہاک سیال

شاہی ، شیرگل ۔

کھنگس ۔ کادیان ۔ کجلا ۔ کاک ، کاکڑاں یا کاکڑ ، کاٹھیا ، کلان ، کاہلون ، کلکل ، کانگ ، کٹاری ، کشوان ، کھر ، کھیر ، کھرپ یا کھرب ، کھتری ، کھٹکل ، کھوکھر ، کلیر ، کوہاد ، کلار ، کوندو ، کنتل ، کٹاریا یا کٹار ۔

گالان ، گتھوال ، گورایہ ، گزوا ، گھمن گور ، گوریا ، گریوال ، گلیا ، گوہیل ، گمر ، گرلات ، گوندل ، گسر ، گوپی رائے ، گکلن گل ، گیلانی ، گزوا ، گوھا ، گوندل ۔

ہالا ، ہنس ہیر ، ہدا ، ہینگا ۔

لالی ، لکھن ، پال ، لامبا ، لامبا ، لاتھر ، لتھ وال ، لوچب ، لوہان ، لوہاریا ، لنگڑیال ۔

مچھر یا ماتھر ، مدیرنا ، مدھان ، ماہل ، ملک ، مل ، ملھی یا ملی ، منکا یا مان ، منگٹ ، مند یا منڈ ، مندر ، ماولا ، موہلا ، منہاس ، مردھا ، مٹھا ، موکھر ، مور ، مانگٹ ، مدرا ، مدیرنا ۔

ناپال ، نلوہ ، ناندل ، نین ، نیپال ، نروال ، نوہار ، ناصر ، ناہر ، نجار ، نونیا یا نون ۔

ورک ، وراءچ ، وٹ ، دھن ، وَلہ ۔

تہذیب و ترتیب

عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں