75

جنگ اور ہماری حکمت عملی

ٓچھ ستمبر کا دن پاکستان کی تاریخ میں اس کی خاص اہمیت ہے ۔ اس آج موقع ہے کہ ہم نے جو جنگ لڑی ہے اس پر کچھ بات ہوجائے ۔ جنگ خارجہ پالیسی کا اہم ادارہ ہے ۔ آج کے دور میں جنگ کا مقصد دشمن کے علاقوں پر قبضہ نہیں ہے بلکہ دشمن کو مزاکرات کی میز پر لاکر اسے اپنی مرضی کا معاہدہ کرنا ہے جس سے جنگ جیتنے والے معاشی اور دوسرے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ امریکہ نے عراق اور افغانستان میں جنگ چھیر کر اپنی معیشت کو سہارا دیا ۔ اس لیے یہ کہنا کہ جنگ سے کوئی مسلہ حل نہیں ہوتا محض ہزژہ سرائی ہے ۔ کیوں کہ جنگ کے بعد ہی مزکرات میز پر آیا جاتا ہے اور اس کے فائدہ وہی سمیٹا ہے جو جنگ میں کامیابی حاصل کرتا ہے ۔

کسی جنگ کو لڑنے کے لیے افرادی قوت اہم حثیت رکھتی ہے ۔ آج جب کہ جدید ٹیکنا لوجی کا دور ہے اور لڑائی میں نئے نئے ہتھیار جن میں دور مار میزائل اور بہت سے نئے ہتھیار استعمال ہورہے ہیں ۔ لیکن اس باوجود افرادی قوت کی یا پیادہ افواج کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے ۔ کسی بھی علاقہ کو بمباری کے ذریعہ تباہ کرنے سے اس علاقہ پر قبضہ نہیں ہوسکتا ہے جب تک آپ کی پیادہ فوج وہاں جاکر انتظامات نہیں سمبھالے ۔ جیسا کہ امریکہ میزائیلوں کے ذریعہ عراق اور افغانستان میں کیا تھا ۔ پہلے بمباری کرکے مقامی فوجوں کو ناکارہ کردیا کہ وہ مزاحمت کے قابل نہ رہی ۔ جس پر عراق نے ہتھیار ڈالدیئے اور افغانستان میں طلبان نے اقتدار مقامی سرداروں کے ہاتھ میں دے دیا اور اس طرح امریکی سپاہ نے اقتدار پر قبضہ کرلیا ۔ بنیادی طور پر فضائی بمباری کا مقصد یہی ہے کہ دشمن کو اس قابل رہنے نہیں دیا جائے کہ وہ مزاحمت اور بعد میں علاقہ پر قبضہ کے لیے پیادہ افواج کو استعمال کرسکے ۔ اس طرح دوبدو جنگوں میں توپ خانہ دوشمن کے توپ خانہ کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ دشمن کو کے استکامات کو نارہ کرے اور اس کی پیادہ فوج کو جانی نقصان پہنچائے ۔ نیپولین نے جنگوں سب سے پہلے توپ خانہ کو اس خوبصورتی سے استعمال کیا کہ توب خانہ کا استعمال جنگوں میں لازم و منطوم ہوگیا ۔ وہ توپ خانہ کو بہتر استعمال کرنے کی بدولت چند سال میں لفٹنٹ سے جنرل بن گیا ۔

یہ بہت بڑی حقیقت ہے جیسا کہ ہیرالڈلیم لکھتا ہے کہ جب تک تلوار کے ذریعہ جنگیں لڑی جاتی رہیں مسلمانوں کا پلڑا بھاری رہا ۔ لیکن جب سے توپ خانہ کا استعال شروع ہوا یہ برتری ختم ہوگئی ۔ اب جنگ باقیدہ جنگ نہیں رہی ہے جیسا کہ قدیم زمانے میں افرادی قوت کے بل بوتے پر حملہ کیا جاتا تھا اور قبضہ کرلیا جاتا تھا بلکہ ایک آرٹ بن گئی ہے ۔ یہاں میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے پہلے صرف افرادی قوت اہم ہوتی تھی ۔ یہاں اب افرادی قوت اہم نہیں رہی ہے ۔ جنگی اسٹریچی پہلے بھی اہم تھی اور اب بھی اہم ۔ اسٹریچی کا مقصد یہی ہے اپنی افواج کو اس طرح استعمال کرنا کہ دشمن گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے ۔ جیسا سکندر نے اربیلا میں دار کی کثیر فوج کو شکست دی تھی ۔ سکندر کی مختصر سے افواج تھی جس کی وجہ سے سکندر دارا سے لڑائی کے لیے جو میدان چنا وہ تنگ گھاٹی تھا اور اس کی فوج حرکت نہیں کرسکتی تھی ۔ جہاں سکندر کی مختصر فوج کو دارا کی فوج پر حملہ کرنے میں آسانی تھی اور وہ اپنی قلیل تعداد کی وجہ سے آسانی سے حرکت کرسکتے تھے ۔ اس کے باوجود سکندر نے اپنی ساری فوج کو میدان میں نہیں اتارا ۔ جب جنگ شروع ہوئی تو دارا کی کثیر تعداد فوجیں حرکت کرنے س قاصر رہیں اور پھینس کر رہے گئیں ، ان کی صفیں ٹوٹ گئیں اور حملہ تو درکنار وہ مزاحمت بھی نہیں کرسکیں ۔ سکندر نے اپنی محفوظ دستے سے جو پہاڑ کے پیچھے سے دارا کے خاص رسالے پر جو دار کی حفاظت کررہا تھا حملہ کردیا ۔ اس لیے دارا کو شکست ہوئی اور وہ فرار ہونے پر مجبور ہوگیا ۔

اس طرح سکندر نے پورس کے مقابلے میں کیا کیا ۔ پورس نے اپنی فوج دریائے کی حفاظت لگائی تھی کہ یونانی فوج دریا پار نہیں کرے ۔ یونانی دریا پار کرنے کا راستہ تلاش کر رہے تھے ۔ ایک جگہ انہیں پایاب اپنی مل گئی ۔ اس وقت بارش ہو رہی تھی اور سکندر نے اپنے تیر انداوں کے ذریعہ پورس کی فوج کو الجھا رکھا اور بارش و طوفان میں اس کی فوج نے دریا پار کرلیا اور پیچھے سے حملہ کردیا ۔ اس سے پورس کی فوج کی صفیں ٹوٹ گئیں اور ان کے ہاتھی بجلی کڑک سے بدحواس ہوگئے ۔ الٹا انہوں نے اپنی فوج کو نقصان پہنچایا اور پورس کو شکست ہوئی ۔

یعنی جنگی اسٹریچی بہت اہم ہوتی ہے اور اس کا دارو مدار صرف فوج پر نہیں بلکہ میدان جنگ اور وہاں حالات پر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ جنگ بدر میں مسلمانوں نے کنوءں اور قبصہ کرلیا جس سے مشرکین میں پانی کی قلت ہوئی اور لڑائی سے ایک شب پہلے بارش ہوئی ۔ مسلمان جو اونچی جگہ پر تھے جب کے مشرقین مکہ پست زمین پر تھے جس ان کی صفوں میں کیچر پھیل گیا اور وہ حرکت کے قابل نہیں رہے ۔ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں کیا ہوا ۔ سب کہ سامنے ہے مصریوں نے صحرائے سینائی پر حملہ کر دیا ۔ دوسری طرف شام نے اسرائیل پر حملہ کردیا ۔ جنگ شروع ہوئے کئی دن ہوچکے تھے ۔ مصری برابر شور مچارہے تھے کہ مصری فوجیں آگے بڑھ رہیں ہیں ۔ اس جنگ میں اسرائیل مصریوں صحرا میں الجھا رکھا اور انہیں آگے بڑھنے دیا ۔ دوسری طرف مصری فوجوں کے درمیان ایک شگاف ڈال کر اسرائیلیوں نے نہر سوئز پار کی اور شہر سوئز کے کا محاصرہ کرلیا ۔ اس طرح شام نے سوئز پہاڑیوں سے فائد نہیں اٹھایا ۔ حالانکہ وہاں سے پورا اسرائیل سامنے اور شامی توپ خانے کی زرد میں تھا ۔ مگر شام نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ۔ اسرائیل نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا ۔ اس سے دمشق بھی اسرائیل کی ذرد آگیا اور عرب جنگ بندی پر مجبور ہوگئے اور انہیں مزاکرات کی میز پر آنا پڑا اور وہ اسرائیل کی مرضی کے مطابق معاہد کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ اسرائیل نے صحرائے سینا تو خالی کردیا مگر اس نے گولان کی پہاڑیاں ان کی اہمیت کی وجہ سے خالی نہیں کیں ۔

1965 جنگ میں ہمارے جوانوں نے بہادری دیکھائی اور ملک کا دفاع کیا اور جانیں دیں ۔ جنگ میں تو جان دی جاتی ہے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے اور فوج میں بھرتی ہونے کا مطلب بھی یہی ہے ۔ آج کے دور میں انسانی جانوں کا ضیاء جنگ کا مقصد نہیں ہے ۔ بلکہ دشمن کو مزاکرات کی میز پر لانا ایک اہم مقصد ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس جنگ میں ہماری حکمت عملی درست تھی ۔ اس پر ہ میں غور و فکر کرنا چاہے اور آئندہ جنگ کی صورت میں ہ میں اپنی ان خامیوں کو دور کرنا چاہیے ۔

1965جنگ شروع یوں ہوئی ہم نے کشمیر میں حرکت کی اور اکھنور پر قبضہ کرنے لیے فوجوں کو بڑھایا ۔ دشمن کو یہاں شکت کا سامناکرنا پڑا اور ہم اکھنو کے قریب پہنچ گئے ۔ مگر اس پر ہم قبضہ نہیں کرسکے اور نے لاہور پر حملہ کردیا ۔ اس کی وجہ کیا تھی ہم اسی پر بات کرتے ہیں ۔

پاکستان کے بارویں ڈویزن جس کی قیادت جنرل اختر ملک کر رہے تھے نے اکھنور پر قبضہ کے لیے حملہ کردیا ۔ پاکستانی فوج کو اگرچہ دشمن کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا مگر دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا ۔ پاکستانی فوج اکھنور کے باہر ٹہر گئی کیوں کہ اسے احکامات ملے تھے کہ اکھنور پر قبضہ ساتواں ڈویزن کی جگہ بارواں ڈویزن کرے گا ۔ جو کہ اس وقت برکی میں تھا اور اس کی قیادت یحیٰ خان کر رہے تھے ۔ کیوں کہ فیصلہ یہ کیا گیا کہ یہ فتح جنرل یحیٰ کے ہاتھوں ہو اور دونوں ڈویزن اپنی اپنی جگہیں بدلیں گے ۔ معلوم نہیں اسٹیچی پلانگ کرنے والے سوئے ہوئے تھے یا اتنی سادہ تھے کہ وہ سمجھتے تھے بھارت ہمارا انتظار کر رہا ہوں گا کہ ہم اس سے اکھنور لے لیں ۔ اس تبادلہ میں تین قیمتی دن ضائع ہوگئے اور دشمن نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۔ اس کی فوجویں جو مختلف مقامات پر بکھری ہوئی تھیں انہیں انہیں یکجا کرکے لاہور پر پر حملہ کردیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے لاہور پر حملہ کو ناکام بنانے میں ہمارے فوجیوں سے زیادہ بی آربی نہر کا کمال ہے جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے پہلی فرست میں لاہور کے دفاع کے لیے بنائی ۔ تھی اور ہ میں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے یہ نہر نہیں ہوتی تو ہم لاہور کا دفاع نہیں کرسکتے تھے ۔ کیوں کے لاہور کے دفاع کے لیے کوئی فوج نہیں بلکہ رینجرس کے کچھ جوان تھے ۔ جنہوں بھارتیوں کو بی آربی پر روکا اور اس کے بعد پاکستانی فوج آئی اور اس نے مورچہ بندیاں کی اور پل کو تباہ کرکے بھارتیوں کو آگے بڑھنے سے روکا ۔ یہ نہر نہیں ہوتی تو پاکستانی فوج مزاحمت نہیں کرسکتی تھی اور بھارتی لاہور میں ناشتہ کا پروگرام بنارہے تھے اس پر عمل ہوتا ۔ اس نہر کی وجہ سے دو ڈویزن بھارتی فوج کو ایک ہماری ایک بٹالین فوج نے بآسانی روک لیا اور جب تک دوسرے علاقوں سے فوج لائی جاتی اس وقت تک بھارتی لاہور پر قبضہ کرچکے ہوتے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہماری کشمیر پر قبضہ کرنے کی اسٹریچی درست تھی ۔ اس اسٹریچی پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس حملے سے پہلے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں گڑبر پھیلانے کے لیے پہلے کچھ مشن افراتفریح میں بھیجے تھے ۔ وہ مشن کس طرح طرتیب دیے گئے تھے ۔ اس کی داستانیں سامنے آگئیں ہیں ۔ مجھے اس پر مجھے تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیوں یہ انتہاہی ناقص منصوبہ بندی سے انجام دیئے گئے تھے اور یہ سمجھا گیا تھا کہ ان کے سامنے کوئی مزاحمت نہیں ہوگی اور بھارتی فوج ہتھیار ڈال دے گی اور عوام ان کی مدد اور ان کا والہانہ استقبال کریں گے ۔ لہذا ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے یہ مشن بری طرح ناکام ہوگئے ۔ کیوں کہ ان مشنوں سے وہاں کا عوام سے رابطہ نہیں تھا ۔ اس کے بعد پاکستان نے کشمیر نے حملہ کے لیے اکھنور کا چناءو کیا ۔ یہ علاقہ کا بڑا شہر ہے لیکن کٹا پھٹا علاقہ ہے جہاں پہاڑیاں اور ندی نالے کثرت سے ہیں ۔ اس علاقہ میں مزاحمت کرنا بانسبت حملہ کرنے کے آسان ہے ۔ لہذا اس نقطہ سے اس پر حملہ کرنا درست نہیں تھا ۔ لہذا میری ناقص عقل میں آج تک یہ نہیں آیا کہ اس کے لیے اکھنور کا انتخاب کیوں نہیں کیا گیا ۔ جب کہ اس کی نسبت جموں جو کہ ایک میدانی علاقہ ہے اور اس کا فاصلہ سیالکوٹ سے صرف تیس میل ہے زیادہ بہتر ہوتا ۔ اہم بات یہ کشمیر کو بھارت سے ملانے والی واحد روڈ جو کہ بالکل پاکستانی سرحد کے قریب سے گزرتی ہے ۔ پاکستان اس سڑک کو کاٹ دیتا اور سری نگر کے واحد ہوائی اڈے کو تباہ کردیا تو کشمیر ہماری جھولی میں گر پرتا ۔ مگر خدا جانے حملہ کے لیے اکھنور کا انتخات کیا گیا ۔ مجھے اس سوال کا آج تک جواب نہیں مل سکا ۔ اس طرح پاکستانی فوج اکھنور پر قبضہ کرنے کا نہیں بلکہ اسے باہر ٹہرنے کے احکامات ملے تھے کہ اکھنور پر قبضہ ساتواں ڈویزن کی جگہ بارواں ڈویزن کرے گا جو کہ اس وقت برکی میں تھا اور اس کی قیادت یحیٰ خان کر رہے تھے اور جنرل یحیٰ کے ہاتھوں یہ فتح ہونی تھی ۔ دونوں ڈویزن اپنی جگہیں بدلیں گے ۔ معلوم نہیں اسٹیچی پلانگ کرنے والے سوئے ہوئے تھے یا اتنی سادہ تھے کہ وہ سمجتھے تھے بھارت ہمارا انتظار کر رہا ہوگا اور ہم اس سے اکھنور لے لیں ۔ اس تبادلہ میں ہمارے تین قیمتی دن ضائع ہوگئے اور دشمن نے لاہور پر حملہ کردیا ۔ جس کی وجہ سے سے ہم اکھنور پر قبضہ کرنے کے بجائے لاہور کے دفاع میں لگ گئے ۔

جب کہ ہم دیکھتے ہیں اس کی نسبت انڈیا نے مشرقی پاکستان میں کیسا فائدہ اٹھایا ۔ جب کہ مشرقی پاکستان کے لوگ پاکستان سے الگ ہونا نہیں چاہتے تھے ۔ مگر اس نے چند سال میں مشرقی پاکستان میں کتنی عمدگی مزاحمتی تحریکوں کو کھڑا کیا اور پاکستان کے ساسی حالات نے اس کی بہت مدد کی ۔ لیکن ہم نے کشیر میں مزاحمتی تحریکوں کی غلط طریقہ سے مدد کی ۔ جس سے ہ میں بدنامی ملی ۔ اس سلسلے میں ہماری پلانگ ہمیشہ ناقص رہی ۔ مثلاً کارگل کی وار جو کے حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر شروع کی گئی اچھی منصوبہ بندی ہونے کے باوجود اس میں کئی خامیاں تھیں ۔ اس جنگ نے اگرچہ ہ میں دنیا میں سیاسی طور پر تنہا کر دیا اور ہم جیت جاتے تو ہم سرخرو ہوجاتا ۔ اس کی خامیاں یہ تھیں کہ جنگ کہ لیے غلط وقت کا انتخاب کیا ۔ اس وقت واجپاجی بھارت کے وزیر اعظم پاکستان آئے تھے اور وہ کشمیر پر بات چیت کے لیے آمادہ ہوگئے تھے ۔ اس جنگ نے انڈیا کا برسوں جمع شدہ اسحلہ خاک میں ملا دیا اور بھارت کی تین ڈویزن فوج کو لیہ میں تھیں رسد کی فراہم رک گئی تھی ۔ اگر یہ جنگ حکومت لڑتی تو لیہ اور کاگل پر پاکستان کا قبضہ ہوسکتا تھا ۔ مگر پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی نہیں ہیں بلکہ علاقہ میں مزاحمتی گروہ ہیں ۔ جو سب سے فاش غلطی کی کہ لڑنے والوں کی رسد کی فراہمی کے کوئی انتطامات نہیں کیے گئے ۔ جس کی وجہ ہ میں جوانوں کی موت اور کامیابی سے ہمم کنار نہیں ہوسکے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں