کایستھ 73

کایستھ

ایک روایت کے مطابق آریہ جب برصغیر میں آئے تو کتابت سے واقف نہ تھے ۔ ایک راجہ برہما اس فکرمیں ہوا کہ یاداشت کو رکھنے کا کوئی طریقہ نکالا جائے ۔ اسی اثنا میں اسے قدیم اقوام کا ایک شخص قلم و دوات لیے ہوئے نظر آیا تھا ۔ چونکہ یہ شخص راجہ کو لکھنے پڑھنے کے بارے میں سوچ و بچار کرتے ہوئے نظر آیا تھا ۔ اس لیے راجہ نے اس کا نام چتر گپت رکھا اور تمام ملکی معاملات کو قلمبند کرنے کی خدمت اس کے سپرد کی ۔ چتر گپت کے اس اعزاز کو دیکھ کر دھرم شرما رشی قوم برہمن اور منو قوم چھتری نے اپنی اپنی لڑکیوں اراوتی اور سدکشنا کا اس کے ساتھ بیاہ کردیا ۔ اراوتی کے بطن سے چارو ، سوچارو ، چترکشا ، متی دان ، ہنومان ، چترچارو ، چرونہ ، جتندریہ اور سد کشنا کے بطن سے بہانو ، چتر بہانو اور وسو بہانو کل بارے لڑکے پیدا ہوئے ۔ تمام کایستھ متفق ہیں کہ انہی بارہ اشخاص کی اولاد ماتھر ، گوڑ ، کرن ، سکسینہ ، اسٹ ، نگم ، سورج دھج ، کل سرشٹ ، سری باستپ یا سری واستوریہ ، بھٹ ناگر ، اسہانا اور والمیکی کہلاتی ہے ۔ کیونکہ یہ لوگ متھرا ، گود ، کرنالی ، سنکیسا ، سری نگر اور بھٹنیر میں آباد ہوئے اور وہ اپنی جائے سکونت سے منسوب ہوکر ماتھر ، گوڑ ، کرن ، سکسینہ ، سری باستب اور بھٹ ناگر کہلائے ۔

سکسینہ کی ایک وجہ مشہور ہونے کی یہ ہے کہ سری باستیب راجہ نے انہیں فن حرب میں کامل مہارت رکھنے کی وجہ سے سکھی سینا کی کا خطاب دیا تھا ۔ جو کثرت استعمال سے سکسینہ ہوگیا ۔ گرنار پہاڑ پر جو کایستھ امبا دیوی کی پرسٹش کرتے تھے وہ امسٹ یا انو استہا یا امستہا کے نام سے مشہور ہوئے ۔ نبار راجہ بنارس کے دربار میں آٹھ چیزیں تحفہ پیش کرنے والے کی نسل کو استہانا اور سورسین راجہ جو اکسوا کی نسل کا تھا قربانی میں مدد دینے والے کو سورج دہج کا خطاب ملا ۔ جتندریہ کو قوم نے کل سرشٹ کا خطاب عطاکیا ۔ اس وجہ سے کہ وہ ہر سال اپنے تمام بھائیوں کو مدعو کرتا تھا اور قبل اس کہ کھانے کھلائے ہر شخص کے پاؤں دھلا کر چرنا متر پیتا تھا ۔ درج بہانو کی اولاد پرستش میں اس قدر مصروف ہوئی کہ چونٹیوں کا اس کی پست میں انبار لگ گیا اور اس کی نسل والمیکی کھلائی ۔ بگم کی کوئی وجہ مشہور ہونے کی نہیں ہے ۔ اشٹ نگم کی اور سورج دہج کی جماعت میں کوئی تفرقہ نہیں لیکن ماتھر میں دہلوی کچھی اور مچولی والمیکی میں بمبئی کچھی اور سورتی ، کرن میں گیا والا اور ترہت والا کل شٹ میں بارہ کھیڑا اور چھ کھڑا کی مختلف جماعتیں ہیں جو گوتر کہلاتی ہیں ۔ یہ نام جائے سکونت سے اخذ کئے گئے ہیں ۔

سری بسئب ، سکسینہ ، بھٹ ناگر اور گوڑ کی گوتر میں بھی دو دو مختلف جماعتیں ہیں جو کھرا اور دوسرا کہلاتی ہیں ۔ اس کی وجہ میں اختلاف ہے ۔ اودھ کے کایستھ بیان کرتے ہیں کہ سری نگر کے راجہ بہانو کی دو رانیاں تھیں ۔ جن میں ایک ویوتا کی اور دوسری راکشش کی لڑکی تھی ۔ دیوتا کی لڑکی کے بطن کی اولاد دوسرا اور راکشش کی لڑکی کے بطن کی اولاد کھرا کہلاتی ہے ۔ بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ رام چندر کے زمانے میں جن لوگوں نے اجودھیا کی سکونت اختیار کی وہ کھرا باقی دوسرا کے نام سے مشہور ہوئے ۔ بعض لوگوں کا کہنا کہ اکبر کے عہد میں جن لوگوں نے بقر عید کے دن جن لوگوں نے قربانی کا گوشٹ استعمال کیا وہ کھرا باقی دوسرا کہلائے ۔ بنگال کے کایستوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ ہمایوں بادشاہ کے ساتھ ایران گئے تھے اہل برادری نے انہیں جماعت سے نکال کر کھرا کے نام سے موسوم کیا ۔ اس جماعت کے علاوہ ایک تیسری جماعت ہے جو کہاردا کہلاتی ۔ جس کی وجہ یہ ہے سوریہ چندر عرف سوم دت خزانچی کو دیانت داری کی وجہ سے راجہ رام چندر کے لڑکے کس نے کہاروا کا لقب عطا کیا تھا ۔

بھٹ ناگر اور گوڑ بیان کرتے ہیں کہ نصیرالدین ہمایوں کے دربار میں دونوں جماعت کے لوگ ملازم تھے ۔ آپس میں اتفاق اور اتحاد بڑھانے کے لیے ہر ایک نے دوسرے کی دعوت کی ۔ بھٹ ناگر نے گوڑ کے مکان پر جاکر کچی کھائی ۔ لیکن گوڑ نے بھٹ ناگر کے گھر جاکر کچی کھانا پسند نہ کیا ۔ بھٹ ناگر نے ناراض ہوکر دربار دہلی میں فریاد کی ۔ حسب قانون مروجہ مقدمہ کی سماعت کی گئی ۔ شہادت قلم بند ہونے کے بعد گوڑ کو بھٹ ناگر کی دعوت قبول کرنے کا حکم دیا گیا ۔ بعض لوگوں نے حکم کی تعمیل کی ، بعض لوگوں نے منحرف ہوکر دہلی سے بدایوں چلے گئے ۔ ایک عورت جو کہ اس وقت حاملہ تھی اس نے مجبور ہوکر ایک برہمن کے پاس رہ کر وضع حمل کیا اور لڑکا پیدا ہوا ۔ بالغ ہونے پر برہمن نے اپنی لڑکی کا بیاہ اس لڑکے سے کردیا ۔ جس کی نسل دہلی شمالی کے نام سے مشہور ہوئی ۔ جب بھٹ ناگر کو معلوم ہوا کہ بعض گوڑ گوتر کے لوگوں نے دہلی چھوڑ کر بدایوں میں سکونت اختیار کرلی ۔ دوبارہ دعویٰ دائر کیا عاملان شاہی نے بدایوں پہنچ کر بافرمانی کی وجہ دریافت کی ۔ جس کا جواب ان لوگوں نے یہ دیا کہ ہم لوگ برہمن ہیں کایستھ نہیں ۔ بدایوں کے برہمنوں نے ان کے کلام کی تائید کی اور مقدمہ خارج ہوگیا ۔ یہ لوگ گوڑ بدایونی کے نام سے مشہور ہوئے ۔ غیر گوتر کے ساتھ کھانے والوں کا نام کھرا اور نہ کھانے والوں کا نام دوسرا مشہور ہوا ۔ چند دنوں کے بعد گوڑ گوتر کے کل اختلاف مٹ گئے اور تمام لوگ ایک جماعت میں شامل ہوگئے ۔ لیکن بھٹ ناگر میں اب تک تفریق باقی ہے ۔ استہانا میں مشرقی اور مغربی دو گوتر ہیں ۔ جونپور کے رہنے والے مشرقی اور لکھنو کے رہنے والے مغربی کہلاتے ہیں ۔

ان بارہ گوتروں میں سب سے بڑی تعداد سری باستب کی ہے ۔ جس کے مورث اعلی بہانو سری نگر کے راجہ کو مگدھ کے راجہ چندر گپت نے راجہ ادہیراجہ کا خطاب دیا تھا ۔ سری باستب نے کشمیر میں اور گوڑ نے بنگال میں حکومت قائم کی ۔ گوڑ گوتر کے راجہ بھاگ دت نے جنگ مہابھارت کے زمانے میں دریو دھن کی طرف یڈہشٹر کا مقابلہ کیا تھا ۔ سین خاندان جو بنگال کے مشہور راجاؤں کا مشہور ہے وہ اسی گوتر کا قائم کیا ہوا ہے ۔ اہل اسلام نے اس خاندان کے آخری راجہ لکھن سے بنگال کی حکومت حاصل کی ۔

برہمن کہتے ہم تمام ذاتوں سے ہماری ذات افضل ہے ۔ عجیب بات یہ ہے برہمن چترگپت جو کہ کایستھوں کا مورث اعلی ہے اسے پوچتے ہیں اور ان کے مندروں کا چڑھاوا لیتے ہیں ۔ لیکن کایستھ اس کے باوجود اپنے کو برہمن سے کمتر سمجھتے ہیں اور برہمنوں کے پاؤں چھوتے پالاگی اور ڈنڈوت کرتے ہیں ۔ وسط ہند اور برار کے علاقہ کے ہندوؤں کی ایک چوتھائی تعداد برہمنوں کی فضیلت کو نہیں مانتے ہیں ۔ آدھے سے زیادہ ہندو برہمنوں سے گر منتر نہیں لیتے ہیں ۔ لنگایت فرقہ جو دھرم کی بہت پابند سمجھی جاتی ہے اپنے کو اور بدھ والے چھتریوں کو برہمن سے افضل سمجھتے ہیں ۔ ممالک متحدہ کے بعض ہندو عام طور پر یہ کھاوت کہتے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں