53

کوچ اور بلوچ

کوچ اور بلوچ کا نام ساتھ آیا ہے ۔ حقیقت میں یہ دو مختلف قو میں نہیں ہیں اور کوچ ترک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ بلوچ چونکہ ہمیشہ ہی خانہ بدوشی کی حالت میں رہتے ہیں اس لیے ان کے نام کے ساتھ کوچ آتا ہے ۔ فردوسی کہتا ہے کہ

;242; سپاہے زگردان کوچ و بلوچ

سگالیدہ جنگ مانند قوچ

اس کے بعد کہتا ہے

ہمے رفت و آگایء آمد شاہ

کہ گشت از بلوچی جہانے تباہ

اوپر کوچ و بلوچ کہتا ہے اور بعد میں صرف بلوچ کہتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ بلوچوں کو ان کی خانہ بدوشی کی وجہ سے کوچ بلوچ کہا جاتا تھا اور اس میں و کا اضافہ اضافہ درست نہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوچ خانہ بدوش بلوچوں کے لیے اور شہریوں کے لیے بلوچ استعمال ہوا ہے ۔ اگر کوچ اگر کوئی اور قوم ہوتی تو فردوسی کوچ و بلوچ دونوں کی تباہی کے بارے میں لکھتا ۔

اس طرح ایک دوسری جگہ لکھتا ہے

سراسر بہ شمشیر بگز استند

ستم کردن کوچ برادشند

اس کے بعد کے شعر میں بلوچ استعمال کیا ہے

بشد ایمن از رنج ایشاں جہان

بلوچی نہ ماند آشکار و نہائی

پہلے دو مصروں میں سب کو تہ ییغ کرکے کوچ بتایا گیا اور کہا گیا ہے کہ ان کے مصائب اور غارت گری سے دنیا کو نجات مل گئی ۔

دوسرے شعر میں کہتا ہے ایک فرد بھی بلوچ باقی نہ رہا ۔

اہم بات یہ ہے بعد ہر جگہ فردوسی نے بلوچ استعمال کیا ہے اس طرح پٹھانوں کے وہ قبائل مثلاًً غلزئی اور سلیمانی وغیرہ جو تجارت کے سلسلے میں لمبے لمبے سفر کرتے تھے وہ بھی کوچی کہلاتے تھے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں