49

کتنے سادہ ہیں لوگ

ہماری دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود شعور کی نچلی سطح پر ہیں اور ان کی باتیں سن کر حیرت ہوتی ہے ۔ میں بھی ایک ایسے خاندان کے بارے یہ واقعہ آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں جو کہ میری مرحومہ بیگم نے سنایا تھا ۔

میرے گھر کے سامنے ایک فیملی رہاہش پزیر ہے ۔ صاحب خانہ ایک سمنٹ فیکٹری میں منیجر رہے چکے ہیں اور اب ریٹائر زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کی بیگم باٹنی کی پروفیسر تھیں وہ بھی اب ریٹائر ہوچکی ہیں ۔ بچوں کی شادیاں ہوچکی ہیں سب برسر روزگار ہیں اور گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔

یہ گھرانا صوم و صلواۃ کا پابند ہے اور گھر میں ہر ہفتہ دو دفعہ درس قران ہوتا ہے ۔ ایک دن خواتین کا اور ایک دن مردوں کا ۔ میں بوجہ اس میں شریک نہیں ہوتا ہوں ، مگر میری بیگم اکثر اس میں شریک ہوتی ہیں ۔ درس قران کے بعد خواتین آپس میں مختلف موضوعات پر گفت شنید کرتی ہیں ۔ ایسے ہی ایک دن وہاں درس قران کے بعد جو گفتگو چھڑی اس کا موضوع رفاعی اداروں کا کردار تھا جو کہ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں ۔ وہاں ان اداروں فلاحی سرگرمیوں کا ذکر ہورہا تھا کہ یہ ادارے کتنا اچھا کام کر رہے ہیں ۔

خواتین باتیں سن کا پروفیسر صاحبہ نے کہا کہ واقعی یہ ادارے مستحق لوگوں کی مدد کررہے ہیں اور ان کی مدد کرنا چاہیے ۔ پھر انہوں نے آج کے واقع کا ذکر کیا کہ ان کے بیٹے کا ایک دوست آیا تھا ، اس کے حالات آج کل بہت خراب ہیں ۔ وہ جلد جانے لگا تو ان کے بیٹے اسے مزید رکنے کا کہا تو اس نے کہا کہ وہ آج کل فلاں خیراتی ادارے میں کھانا کھا رہا ہے اور وہاں ساڑھے آٹھ بجے کھانا ختم ہوجاتا ہے اور وہ دوست اس لیے جلد چلا گیا ۔ میری بیگم صاحبہ ان کی گفتگو سن کر شدر رہ گیں اور سوچنے لگیں کیا اس کی پیسوں سے کچھ مدد نہیں کرسکتے تھے ;238; اور کچھ نہیں تو کھانا ہی کھلا دیتے ۔ بیگم صاحبہ نے واپس آ کر سارا واقع مجھے سنایا ۔

میں بھی یہ واقعہ سن کر حیرت زدہ رہے گیا اور سوچنے لگا یہ کیسے دیندار اور صوم و صلواۃ کے پابند اور یہ لوگ صلواۃ پر کیسے عمل کرہے ہیں ۔ یہ درس قران کروا کر اور الٹے سیدھے سجدے کرکے سمجھ رہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں ۔ کیا حکم نہیں ہے کہ پہلے اپنے عزیز اقارب اور پھر اہل محلہ ، پھر اپنے شہر کی مدد کریں ۔ یہ لوگ صاحب حثیت ہیں کیا ان میں اتنی انسانیت نہیں ہے کہ کچھ مدد کر دیتے یا ایک وقت کا کھانا کھلا دیتے تو ان کے مال و دولت پر کون سا اثر پر جاتا ۔ مگر شاید ان کو اس کا شعور ہی نہیں ہے اور شاید ہماری پوری قوم اس طرح ہی اپنا فرض نبھا بہارہی ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری

کیٹاگری میں : فکر

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں