70

مہدی اور دجال کے عقائد کا ارتقاء

قدیم مذاہب کتابوں میں ایک ایسے شخصیت کا ذکر ہے جو بنی و نوع کو ظلم و شیاطین سے نجات دلائے گی ۔ مگر قران کریم میں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے البتہ حدیث کی دو ابتدائی کتابوں کے علاوہ بعد کی حدیث کی کتابیں امام مہدی اور دجال سے بھری ہوئی ہیں ۔ البتہ قران کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ سلام کے لیے رفعنا کا کلمہ آیا ۔ جس کے معنی بلند کرنا ، عزت دینا وغیرہ شامل ہیں اور قران میں مختلف جگہ پر یہ کلمہ آیا انہی معنوں میں آیا ہے ، مگر کہیں بھی اس سے مراد آسمان پر چلے جانا نہیں ہے ۔ اس طرح عیسیٰ علیہ سلام کے بارے بتایا گیا ہے کہ وہ دمشق کی جامع مسجد کے منارہ پر اتریں گے ۔ حالانکہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دمشق عیسائیوں کے قبصہ میں تھا اور جامع مسجد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ موجودہ مسجدہ کی جگہ پہلے گرجا تھا اور اس سے پہلے مندر تھا ۔ اس سے صاف ظاہر ہے یہ عقیدہ نصاریوں سے لیا گیا ہے اور ان کے عقیدے مطابق حضرت عیسیٰ آسمان پر ہیں اور وہ ان کے دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے دوبارہ زمین پر آئیں گے اور ان کے دشمنوں کو شکست دیں گے اور بعد کی پیداوار ہے ۔ یہی وجہ ہے اس قران اور حدیثوں کی کتابوں میں ذکر نہیں ملتا ہے اور بعد کی حدیثوں اور تفسیروں کی کتابیں اس سے بھری ہوئیں ہیں ۔ یعنی وضعی روایات کو تفسیروں اور حدیثوں کے ذریعے ہمارے عقائدے میں شامل کیا گیا ہے ۔

امام مہدی کی پیدائش ، دجال اور حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی مسلمانوں کا مقبول ترین عقیدہ ہے گو سنیوں اور شیعوں دونوں میں امام مہدی کی آمد کا محرک الگ ہے ۔ مگر بنیادی نقطہ یہی ہے کہ امام مہدی انہیں ظلم و ستم سے آزاد کرائیں گے ۔ سنیوں کے مطابق اس عقیدے کے مطابق امام مہدی کو ابھی پیدا ہونا ہے ۔ امام مہدی کے باپ کا نام عبداللہ اور ماں کا نام آمنہ ہوگا ۔ جو ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں اور جب مسلمان دنیا میں یاجو ماجو کے ہاتھوں ذلیل اور شکست خورد ہوچکے ہوں گے اور پھر پوری دنیا دجال کے قبضے میں آجائے گی ۔ دجال خانہ کعبہ کے قریب تک پہنچ جائے تو اس وقت امام مہدی دجال کے خلاف جہاد کے لیے نکلیں گے ۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ سلام بھی چوتھے آسمان سے اتریں گے اور امام مہدی کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں گے اور دجال کو شکست دینے کے ساتھ کافروں کا قتل عام کر کرکے نست و نابود کریں گے ۔ اس طرح غزوہ ہند کا تعلق بھی اسی عقیدے سے ہے ۔ گو ان کی تفصیلات میں اختلاف ہے اور اس کے متعلق روایتیں منتشر اور متعضاد ہیں اور بہت سے لوگوں نے مہدی ہونے دعویٰ کیا ہے ۔ مگر بیشتر مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ امام مہدی ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں ۔

جب کہ امامیہ شیعوں کے مطابق امام مہدی سامرہ کے ایک غار میں غیبت لی ہوئی ہے اور قیامت سے پہلے وہ وہاں سے نکلیں گے اور اہل بیت کے دشمنوں سے بدلہ لیں گیں ۔ تاہم اس کی تفصیلات میں اتنا ہی اختلافات ہے جتنا سنیوں کی کتابوں ۔ مثلاً امام مہدی پیدا نہیں ہوئے اور پیدا ہونا ہے یا جب 313 سچے شیعہ پیدا ہوجائیں گے وغیرہ ۔ آج بھی شیعہ شب برات کی شب کنویں ، چشموں ، نہروں ، دریاؤں اور سمندر پر جاکر امام مہدی سے التجا کرتے ہیں کہ ان کے شیعوں پر بہت ظلم و ستم ہو رہا ہے اور وہ آکر انہیں اس ظلم ستم سے نجات دلائیں اور آنے کی درخواست کی پرچیاں بنا کر پانی میں ڈالی جاتی ہیں ۔ گویا شیعوں اور سنیوں میں امام مہدی کے آمد کا محرک جدا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے قدیم زمانے میں پارسی ایک تہوار مناتے تھے اور وہ کنویں ، چشموں ، نہروں ، دریاؤں اور سمندر پر جاکر شیوشنت سے التجا کرتے تھے کہ وہ آئے اور انہیں اہریمن کے ظلم سے نجادت دلائے ۔ اس شیوشنت کے تفصیل میں آگے چل کر ذکر کروں گا ۔ جو کہ زرتشت کا بیٹا ہوگا ۔

ہم تاریخی حوالے سے دیکھتے ہیں تو ہم پر عیاں ہوتا ہے کہ جب بھی مسلمان شکست خوردہ ہوتے ہیں تو اس قسم کی روایتیں زیادہ گردش میں رہیں ہیں ۔ مثلاً منگولوں کے حملے کے بعد کے تاریخ کی کتابوں میں یاجو ماجو کی روایتں وغیرہ ۔ جس کا قران میں ذوالقرنین کے حوالے سے ذکر ہے ۔ اس طرح غزنوی اور غوری حملوں کے بعد غزوہ ہند کی روایتیں اس کے بعد کی کتابوں میں ملتی ہیں اور آج کل مودی کے آنے کے بعد غزوہ ہندہ کے حدیثوں کو زور شور یسے پیش کی جارہی ہیں اور سلسلہ طلبان پر امریکی حملے سے شروع ہوا تھا اور زور شور سے اب بھی جاری ہے ۔

امام مہدی کا عقیدہ عوام میں بہت مقبول ہے اور بہت سے واعظین اس عقیدے کی ترویح زور شور سے کرتے رہے ہیں ۔ لیکن یہ عقیدہ علما میں کبھی مقبول نہیں ہوا ۔ اگرچہ انہوں اس پر غالباً اس عقیدے کی مقبولیت کے پیش نظر کچھ نہیں کہا ہے ۔ اگرچہ کہا ہے تو بہت کم علما کہا ہے ، مثلاً ابن خلدون یا عبیدہ سندھی جنہوں نے اس عقیدے سے انکار کیا ہے ۔ گو واعظ ہی اس عقیدے کو پیش کرتے رہے ۔ گو امام مہدی کی بہت سے لوگ تاویل کرتے رہے ہیں ۔ مثلاً مولانا وحیدالدین کا خیال تھا کہ امام مہدی سے مراد مسلمانوں کا ایک خاص گروہ وغیرہ ۔ آج کل وعظوں کے علاوہ یوٹیوبر وغیرہ اس عقیدے کی تبلیغ کررہے ہیں اور وہ روزانہ اس موضع پر بیسوں فل میں بنا کر پیشے کما رہے ہیں ۔ اس سے بھی اس عقیدے کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔

ہم یہ دیکھتے ہیں ابتدا میں اس وقت تک مہدی کے بارے میں مسلمانوں میں عقائد اور حدیثیں پھیلی نہیں تھیں ۔ یہی وجہ پہلا فاطمی خلیفہ مہدی نے امام ہونے کا دعویٰ ضرور کیا مگر اس نے مہدی کی حثیت سے کسی برتری کا اظہار نہیں کیا ۔ اس کے دعویٰ کی بنیاد حضرت علی کی فاطمی اولاد کی بنیاد پر امام کا اس کو خدائی حق انہیں حاصل ہے ۔ اس لیے اس کو دنیا کو اور مسلمانوں پر حکومت کرنے کا حق صرف انہیں حاصل ہے ۔ جب کے اس وقت تک شیعوں کا دعویٰ رسول اللہ کے قرابتی وارث ہونے کی حثیت سے تھا ۔ مگر اسمعیلیوں کی سلطنت کے قیام کے بعد یہ آسمانی حق میں بدل گیا ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عقیدے کی حقیقت کیا ہے اور کیا اس کا تعلق اسلام سے بھی ہیں ۔ اگر نہیں ہے تو یہ عقیدہ کیسے وجود میں آیا ۔ اس پر ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

تاریخی طور پر اس امام مہدی کے عقیدے کو سب سے پہلے مختار ثقفی نے پیش کیا تھا ۔ شیعوں میں مختار ثقفی کا بلند مقام ہے ۔ وہ حسن بن علی کے قتل کے بعد کوفہ میں ان کا قتل کا بدلہ لینے کے نام سے اٹھا تھا ۔ اگرچہ اس کے ساتھیوں میں قاتلان حسین بھی شامل تھے اور کوفہ کے عوام نے جب ان کو قتل کرنے کا مطالبعہ کیا تو اس نے انہیں قتل کرنے کے بجائے ایک کرسی بنوائی ۔ جس کو سونے اور دوسری قیمتی چیزوں سے آراستہ کیا اور اس کرسی کو حضرت علی کی کرسی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ حضرت علی شہید نہیں ہوئے وہ زندہ ہیں اور آسمانوں میں ہیں ۔ وہ دوبارہ دنیا میں آکر اس کرسی پر بیٹھ کر انصاف کریں گے اور حسین کے قاتلوں کو قتل کریں گے ۔ اس کرسی کی پرستش کی جاتی اور اس کا جلوس نکلا جاتا تھا ۔ مگر جب علماء نے اس کے خلاف مزاحمت کی تو عوام نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے خلیفہ محمد بن اس کے امام اور مہدی ہیں ۔ جس پر محمد بن حنفیہ نے مختار سے برات کا اعلان کیا ۔ مگر جلد ہی محمد بن حنفیہ کا انتقال ہوگیا اور مختار نے کہا محمد بن حنیفہ کا انتقال نہیں ہوا ہے بلکہ وہ بادلوں میں زندہ موجود ہیں اور جلد ہی واپس آئیں گیں اور رفتہ رفتہ اس عقیدے نے ترقی کی اور کئی شیعوں نے امام ہونے کا دعویٰ اور بغاوت کی مگر کسی نے بھی مہدی ہونے کا دعوی نہیں کیا ۔ یہاں تک دوسری ہجری کے آخر مغربی افریقہ ایک شعی جس کا دعویٰ تھا وہ امام جعفر کے لڑکے اسمعیل کی کا پرپوتا ہے نے ایک شیعہ اسمعیلی سلطنت کی بنیاد رکھ دی اور اس وقت تک امامیہ شیعوں کے آخر امام غائب ہوچکے تھے ۔

میں پہلے ایک مضمون میں لکھ چکا ہوں کہ قدیم عقائد فنا نہیں ہوتے ہیں اور وہ شکل بدل کر نئی صورت اختیار کرلیتے ہیں ۔ شیعت میں نسلی حرمت کا زرتشتی عقیدہ اپنایا ۔ حضرت علی کی فاطمی اولاد جو پہلے رسول اللہ کے قریبی وارث ہونے کی وجہ سے اور بعد میں یہ آسمانی حق کی صورت میں بدل گیا اور یہی عقیدہ شیعت کی بنیاد میں بن گیا ۔ فاطمی سلطنت کا قیام کے بعد جن کا دعویٰ تھا کہ وہ حکومت کرنے کا آسمانی حق رکھتے ہیں اور اس کی تہہ میں تہہ میں نسلی حرمت کا زرتشتی عقیدہ کارفرما تھا اور اس عقیدے کو ایرانیوں نے حسین بن علی کی شادی آخری ساسانی تاج دار یزدگرد کی بیٹی شہر بانو کرنے کا دعویٰ کرکے نسلی عقیدے کو تقویت پہنچائی ۔ جس کے مطلق میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ۔ اس سے نسلی حرمت کو پھیلانے میں مدد ملی اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ امام ہی کی بدولت دنیا قائم ہے اور کوئی امام بغیر وصی (وارث) چھوڑے اس دنیا سے نہیں جاتا ہے ۔ مگر امامیہ شیعوں کے گیارویں امام بے اولاد ہونے کی وجہ سے یہ عقیدہ قائم کیا گیا کہ بارویں امام دشمنوں شر سے غیبت اختیار کرلی ہے ۔

حضرت علی انسان تھے اور ان میں بھی انسانی کمزوریاں تھیں ۔ وہ رسول اللہ کے بعد قرابت کی بنا پر خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے ۔ جس کی ترغیب حضرت عباس اور ان کے دوسرے ایرانی دوستوں نے دلائی تھی اور حضرت علی پر زور دیا کہ رسول اللہ سے بات کرلیں ۔ مگر حضرت علی اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ نے انکار کردیا تو خلافت ہمیشہ کے لیے شجر ممنوع ہوجائے گی ۔ لہذا ابتدا سے ہی علوی خلافت پر اپنا حق سمجھتے تھے اور اس کے لیے مسلسل بغاوتیں کرتے رہے ۔ اس لیے وہ حکومتوں کے زیر اعتاب بھی رہے اور جب ان میں امام کی غیبت عقیدہ پیدا ہوا تو اسی امام غائب ہمارے مہدی ہیں اور واپس آکر شیعوں کو ان کے ظلم و ستم سے آزاد کرائیں گے یہ عقیدہ بھی قدیم زرتشتی عقیدہ کی باز گشت تھی ۔

زرتشتیوں کا عقیدہ جو اوستا میں آیا ہے اس کے مطابق زرتشتی مذہب ایک وقت ایسا آئے گا جب زرتشتی مذہب بالکل فنا ہوجائے گا اور صرف کچھ افراد ہی اہورا مزدا پر ایمان رکھیں گے اور ہر طرف انگرو مینو (پہلوی اہریمن) کا دور ہوگا ۔ اس وقت شیوشنت پیدا ہوگا ۔ جو ظلم کے خلاف لڑے گا اور اہریمن اور اس کے ساتھوں دیواؤں اور درجوں کو ہمیشہ کے لیے فنا کردے گا اور اس کے بعد نیکی اور امن کو دور ہوگا ، بیماری اور موت کا خاتمہ ہوگا ۔ شیوشنت زرتشت کا بیٹا ہوگا جو ابھی پیدا نہیں ہوا ہے ۔ اس کے بارے میں جو کچھ اوستا اور دوسری کتابوں میں آیا ہے ۔ وہ کچھ یوں ہے زرتشت نے اپنے دوست فراشتر کی بیٹی ہوی سے شادی کی تھی اور اس کو تین دفعہ حاملہ کرنے کی کوشش کی ۔ مگر اس کا مادہ منویہ نیچے گر گیا اور یہ ماہ منویہ ان کی خرافانی مقدس جھیل چشچسا میں اب بھی محفوظ ہے ۔ جب کہ ہوی اب بھی زندہ ہے اور کسی جگہ سورہی جب وقت آئے گا تو ہوئی طویل نیند سے بیدار ہوگی اور وہ اس جھیل میں نہانے جائے گی تو وہ زرتشت کا مادہ منویہ اس کے رحم داخل ہوگا اور وہ حاملہ ہوجائے گی ۔ اس طرح شیوشنت پیدا ہوگا اور وہ اہریمن اور اس کے ساتھیوں کے خلاف لڑے گا اور انہیں موت کے گھاٹ اتاردے گا ۔ یہی وہ عقیدہ تھا جو اسلام میں پہلے شیعت کے ذریعے داخل ہوا اور شیوشنت شیعت میں مہدی بن گیا ۔ جو اہل بیت کے غاصب یعنی مخالف حکمران اور اہریمن کا قائم مقام ہیں اور بعد میں یزید کی شکل اریمن سے شدید نفرت کا استعارہ بن گیا ۔ ورنہ شیعوں میں پہلے یزید نام بھی رکھا جاتا تھا اور ان میں یزید نام کے عالم بھی گزرے ہیں ۔ مگر جب سے یزید اس نفرت کا استعار بنا تو اس سے جس قدر نفرت کی جاتی ہے وہ وہی ہے جو پارسی مذہب میں انگرا مینو یا اہریمن سے ہے اور جگہ جگہ اوستا میں اس نفرت کا اظہار کیا گیا ۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے اوستا اہریمن کے خلاف جدوجہد کی بنیاد ہے ۔

پارسیوں کا یہ عقیدہ شیوشنت کو اہریمن اور دوسرے دیواؤں کو قتل کرکے دنیا کو اس کے اور اس کے ساتھیوں کے ظلم و ستم سے نجات دلائے گا ۔ اس کے بعد دنیا سے موت اور بیماریاں ختم ہوجائیں گیں اور امن اور سکون کا دور ہوگا ۔ کیوں کہ اہریمن اس کے ساتھ فنا ہوچکے ہوں گے ۔ لہذا شیوشنت کا مسلمانوں میں مہدی کی شکل میں شیعوں کے علاوہ دوسرے مسلمانوں میں اس وقت بہت مقبول ہوا جب کہ مسلمان شکست خوردہ ہوئے ۔ یہاں شیوشنت مہدی کے شکل میں اور دجال اہریمن کا قائم مقام ہے اور مہدی ہی بھی شیوشنت کی طرح دنیا دجال (اہریمن) سے اس وقت نجات دلائے گا ۔ یہ سب اس وقت ہوگا جب دنیا میں دجال کا دور دورہ ہوگا اور مٹھی بھر مسلمان باقی رہیں گے ۔ یہاں خیال رہے شیوسنت جھیل میں اپنی ماں ہوی کے رحم میں داخل ہوگا اور شیعہ پانی کے پاس جاکر امام مہدی سے واپس آنے کی التجائیں کرتے ہیں ۔ عام عقیدے کے مطابق مسلمانوں کے مہدی کے باپ کا نام عبداللہ اور ماں کا نام آمنہ یعنی وہ بھی رسول اللہ کی طرح تقدس رکھتا ہوگا ۔ جب کہ شیوشنت کا باپ زرتشت اور مان ہوی یعنی وہ بھی مقدس نسل سے ہوگا ۔

اگر آپ کہیں امام مہدی کا عقیدہ درست ہے تو ایسی صورت میں آپ کو یہ ماننا ہوگا کہ اسلام زرتشتی مذہب سے ماخذ ہے جیسا کہ مشتسرین کا کہنا ہے ۔

ٍتہذیب و تحریر

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں