47

میر چاکر

شاہ محمد مری بجارانی میر چاکر کو تاریخ سے مطابق کرنے کی کو شش کی ہے ۔ مگر مسلہ یہ ہے میر چاکر اور بلوچ قبائلی جنگوں کا حوالہ کسی تاریخی ماخذ سے نہیں ملتا ہے ۔ اس کا ذکر اس عہد کے مورخ میر معصومی بکھری نے بھی ذکر نہیں کیا ہے ۔ جب کہ تاریخ فرشتہ میں میر چاکر کا ذکر ایک جملہ میں کیا ہے کہ اس نے اس علاقہ میں شیعت کو متعارف کرایا ۔ اس جملہ سے بھی اس کے بلوچ یا ایرانی ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔ اس طرح بلوچ قبیلوں کے مابین جنگوں کا ذکر بھی تاریخ سے ماخذ نہیں ہے ۔ کیوں کہ اس دور میں شاہ حسین وہاں کا حکمران تھا ۔ جب کہ شاہ محمد مری بجارانی نے اس کی تفصیل بھی تاریخ کے حوالوں سے نہیں بلکہ قیاس سے درج کی ہے ۔ اس لیے تفصیلات بھی تاریخ سے ماخذ نہیں ہے ۔

شاہ محمد مری بجارانی نے جو تفصیلات درج کی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ تیرویں صدی میں پہلے پہل صوبہ سیستان ملک حسین الدین کے عہد میں اپنے رہنما میر جلال الدین کی سردگی میں سیاسی وجوہات کی بناء پر ہجرت کرگئے ۔ میر جلال الدین کی وفات کے بعد اس کا لڑکا میر رند ، اس کے بعد اس کا لڑکا میر شہداد ، اس کے بعد میر شہک بلوچوں کا حکمران بنا اور اس کی وفات کے بعد میر چاکر رند بلوچوں کا امیر مقرر ہوا ۔ جیسا کہ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ میر چاکر رند معمولی شخصیت نہیں تھا ۔ اس کی وفات 1586 میں منٹگمری کے مقام ست گڑھ میں ہوئی ۔ مگر یہ تاریخ صحیح نہیں مانتی چاہیے ۔ کیوں کہ اس کی نظم میں ہے وہ ہرات کے بادشاہ سلطان حسین شاہ بیکارا کے پاس فوجی امداد کا طلب کرنے گیا ۔ تاکہ وہ گہرام لاشاری سے نلی کی جنگ کی شکست کا بدلہ لے ۔ اس جنگ میں میر چاکر کے بشتر بہادر اور جرنیل مثلاً پیرو شاہ ، پژَ رند ، بیربا بیوغ کام آگئے تھے ۔ شاہ ہرات نے ایک سال سے زیادہ تک میر چاکر رند کو اپنے دربار سے وابستہ رکھا اور اس کی شجاعت کی وجہ سے اسے فوجی مدد دینے سے کتراتا رہا ۔ جب شاہ حسین کی والدہ کو پتہ چلا تو اس نے بیٹے کو بلا کر کہا وہ اپنا وعدہ پورا کرے اور اس نے زرغون بیگ کو فوج کے ساتھ روانہ کیا ۔ مغلوں اور رندوں کی متحدہ فوجوں نے میر گہرام لاشاری کے صدر مقام گاجان پر حملہ کرکے لاشاریوں کو ایسی شکست فاش دی کہ آج میر گہرام لاشاری کا نشان تک نہیں ملتا ہے اور بقایا لاشاری سندھ و گجرات و کاٹھیار کی طرف بھاگ گئے ۔

زرغون بیگ ارغون جس کا ذکر میر چاکر نے اپنی نظم میں کیا ہے ۔ میر حسن بصری کا بیٹا تھا ، زرغون بیگ سلطان شاہ حسن مرزا والی ہرات کی ملازمت میں تھا ۔ ۷۹۴۱ عیسوی میں شاہ حسین مرزا نے زرغون کی خدمات سے خوش ہوکر اسے قندھار ، فرات اور غور کا حاکم مقرر کیا ۔ کچھ مدت کے بعد زرغونوں نے شاہ ( کوءٹہ ) مستونگ اور ان کے قریبی علاقوں پر قبضہ کرلیا ۔ شاہ بیگ اور مقیم احمد زرغون احمد کے بیٹے تھے ۔ 1507 میں محمد خان شبہانی ازبک نے خراسان پر حملہ کیا ۔ جس کا حاکم سلطان شاہ حسین مرزا کا لڑکا بدیع الزماں تھا ۔ جس کے ساتھ زرغون بیگ کی لڑکی بیاہی ہوئی تھی ۔ بدیع الزماں نے زرغون بیگ سے مدد چاہی ۔ وہ اپنی فوجوں کو لے کر ہرات پہنچا ۔ بڑی خون ریز جنگ ہوئی اور زرغون بیگ بہادری سے لڑتا ہوا مارا گیا اور شنہانی نے خراسان فتح کرلیا ۔ اس وقت بابر نے کابل پر حملہ کیا ہوا تھا اور زرغون کا لڑکا زمنداور کا حکمران تھا اور ان پر حشور ارغون اور عبدالعلی ترخان زرغون بیگ کی طرف سے قندھار کو روکے ہوئے تھا ۔ اور اس کا بھائی امیر سلطان علی سیستان کا حکمران تھا ۔ چونکہ میر چاکر کو شاہ ہرات نے زرغون بیگ کی امدادی فوجیں دیں تھیں اور زرغون بیگ 1507 میں مارا گیا ۔ ظاہر ہے میر چاکر کا ہرات جاتا اور بلوچستان آکر لاشاریوں کو شکست دینا 1507 سے کئی سال قبل واقع ہوا ہوگا ۔ یہ ممکن ہے لاشاریوں کے ساتھ آخری اور فیصلہ کن جنگ نہیں ہوگی ۔ کیوں کہ میر چاکر ملتان میں سلطان محمود لنگا کے دور حکومت میں 1524 میں وفات پاچکا تھا ۔ میر چاکر 1543 حاکم ست گڑھ تھا ۔ جب کہ تیرہ شاہ کی حکومت تھی تو قرین قیاس کہتا ہے کہ میر چاکر نے 1555 میں جب ہمایوں نے دہلی پر قبضہ کیا کے بعد1555 اور 1565 کے درمیان وفات پائی نہ کہ 1582 میں جسیا کہ عام خیال کیا جاتا ہے ۔ میر چاکر کی اس تاریخی نظم کے بعد اس کے لڑکے میر شاہداد کی نظم قبضہ دہلی کے متعلق نہایت اہمیت رکھتی ہے ۔ یہ موقع شہنشاہ ہمایوں کا 1555 کا ہندوستان پر دوبارہ قبضہ کا ہے ۔ اس جنگ میں بلوچوں کی کثیر فوج ہمایوں کی طرف دار تھی ۔ جس کی رہنمائی میر شاہداد اور میر چاکی بہادر بہن مائی بانڑی جو حدلے رند سے بیہائی گئی تھی کے ہاتھ تھی ۔ مائی بانڑی گھوڑے پر سوار ہوکر نہایت بہادری سے اس جنگ میں فوجوں کی رہنمائی کرتی رہی ۔ میر شاہداد اس نظم میں دعویٰ کرتا ہے کہ سوریوں کی شکست کے بعد فاتح فوجوں میں رند سب سے پہلے اس کے رند شہر دہلی میں داخل ہوئے اور آٹھ دن تک فتح کی خوشی میں وہ دہلی کے بازاروں میں رنگ رلیاں مناتے رہے ۔ میر چاکر کا نام گو اس نظم میں ایک بار آیا ہے ۔ آخری شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی میدان جنگ میں موجود تھا ۔ گو فوجوں کی کمان میر شاہداد اور میر چاکر کی بہن بانڑی کر رہی تھی ۔ اگر یہ صحیح ہوتو میر چاکر یقناً اس قدر ضعیف ہوگیا ہوگا کہ اس جنگ میں خود حصہ لینے سے معذور ہوگا ۔ اس طرح اس نظم میں تاریخی واقعات تاریخی حقائق پر پور نہیں اترتے ہیں ۔

1511 کی جنگ کے بعد میر چاکر رندوں کے بہت سے قبیلے ساتھ لے کر ملتان اور پھر دہلی کی طرف روانہ ہوگیا اور میر بجار کے ساتھ بقایا رند قبیلے بجائے ہندوستان جانے کے وادی سندھ کی تخسیر کے لیے آگے بڑھے ۔ یہ تھی میر چاکر اور میر بجار کی ابتدائی ناچاقی کی بنیاد ۔ میر بجار کے سندھ میں داخل ہونے سے بہت قبل دودیائی بلوچ ملک سہراب دودائی کی سردگی میں ملتان کے لنگا حکمرانوں سے بڑی بڑی جاگیر حاصل کرچکے تھے ۔ میر بجار کی آمد ملک سہراب کو اپنے سیاسی اقتدار اور املاک کے لیے خطرہ کم معلوم نہ ہوا اور میر بجار کو دودائیوں سے مزید دس سالہ جنگ مولینی پڑی ۔ یہ وہی ملک سہراب دودائی ہے جس نے لنگا حکمران ملتان کے باس جاکر میر چاکر کی آوَ بھگ کے خلاف ناراضی اور اختلاف کا ثبوت دیا تھا ۔ اب سیاسی مصلحت کی بناء پر میر چاکر سے میر بجار کے خلاف فوجی مدد کا طلب گار ہوا ۔ چوں کہ میر چاکر اور میر بجار ایک دوسرے کے دشمن بن چکے تھے ۔ لہذا رندوں کو دوائیوں کی طرف داری کرتے ہوئے دیکھتیں ہیں ۔ مگر یہ جنگیں تاریخی حثیت نہیں رکھتی ہیں ۔ جو 1511 اور 1525 کے درمیان ہوئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بلوچ کٹ مرے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں