39

میر جلد ہان

ایم ورتھ لانگ کا کہنا ہے کہ سیستان اور مٖغربی بلوچستان میں ان کی نقل و حرکت (سلجوقی حملہ ) گیارویں صدی کے آخر میں ہوئی اور مشرق کی طرف مزید پیش قدمی چنگیز خان کی فتوحات کے تحت ہوئیں ۔ اس نکتہ میں بہت حد تک حقیقت پنہاں ہے ۔ لیکن ان نقل و حرکت سلجوقی حملہ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ چنگیز خان کے حملے کا نتیجہ تھا ، جس نے ایران افغانستان اور وسط ایشیا کی دوسری اسلامی حکومتوں کو تہہ بلا کر دیا تھا اور اس کے نتیجہ میں کثرت سے مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا ۔ یہی وجہ ہے بلوچ کرامان سے تیرویں صدی عیسوی میں ان کی نقل و حرکت مکران کی جانب ہوئی تھی ۔ یعنی وہ پناہ لینے کے لیے مکران کی طرف آئے تھے ۔ ہاں بلوچوں کی مشرقی بلوچستان میں نقل مکانی تہموریوں کے حملوں کے باعث ہوئیں ۔

بلوچ روایت کے مطابق میر جلال خان بلوچوں کا جد امجد تھا ۔ جس کے چار لڑکے رند ، لاشار ، ہوت ، کورائی اور ایک لڑکی مائی جتو تھی ۔ جس سے پانچ بنیادی قبیلے راءج ہوئے ۔ انہوں نے مکران کی طرف ہجرت کی ۔ جلال الدین کے ساتھ بلوچوں کے چوالیس پاڑے تھے ۔ انہوں نے مکران پہنچ کر وہاں کے حاکم مکران بدرالدین کو شکست دی اور وہاں کی حکومت سمبھال لی ۔ میر جلال نے اپنے بڑے بیٹے میر رند کو اپنا وارث مقرر کیا تھا ۔ میر جلال خان کا انتقال ہوا اور اس کی میت قبرستان میں دفن کرنے کے لے جایا گیا تھا تو اس کی چھوٹی بیگم عجوبہ بی بینے اپنے کمسن بیٹے ہوت کو ملک کا جائز وارث قرار دیا اور شہر کے دروازے بند کروا دیئے اور جب میر رند اور دوسرے لوگوں کی قبرستان سے واپسی ہوئی تو شہر پنا کے دروازے بند پائے گئے ۔ سوتیلی والدہ اور چھوٹے بھائی سے جنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا ۔ باہر ہی چھپر دال کر فاتحہ کی رسم ادا کی گئی اور باقی بلوچ بمپور سے قندھار تک کے ممالک میں پھیل گئے ۔ مگر میر جلال خان کی قبر کا تعین آج تک نہیں ہوسکا ۔ اس کے بعد اور باقی بلوچ بمپور سے قندھار تک کے علاقے میں پھیل گئے ۔ جب کہ میر لاشار نے قندھار کا رخ کیا ۔

بلوچ روایات میں میر جلد ہان یا میر جلال خان رند تھا اس کے بیٹی جتو جس کی شادی اس کے بھتیجے سے ہوئی وہ بھی رند تھا ۔ وہ بلوچوں کے چوارلیس پاڑوں (قبیلوں ) کو مکران لایا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے یہ سارے پاڑے اسی کے اخلاف اور اس کے بیٹوں کی اولاد ہیں ۔ مگر ایک جاہلی ذہن ان تضاد کو محسوس نہیں کرسکتا ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ میر جلال کون تھا اور اس کی اصلیت کیا ہے اور کس وجہ سے اسے بلوچ اپنا جد امجد تسلیم کرتے ہیں ۔ اس طرح مکران کے ہوت الگ ماخذ کے دعوے دار ہیں ۔ وہ اسے تسلیم نہیں کرتے ہیں ۔

مگر سوال یہی ہے کہ میر جلد ہان کون ہے ۔ تاریخ میں جلال نام کی ایک ہی شخصیت ملتی ہے ۔ وہ وہاں جلال الدین خوازم شاہ جس کی بہادری کو چنگیز خان نے بھی خراج تحسین پیش کیا تھا ۔

چنگیز خان نے حملہ کیا اور خورازم شاہ تکش کو شکت دی اور وہ فرار ہونے پر مجبور ہوا ۔ اس کا بیٹا جلال الدین خوارزم شاہ نے بہادر سے تاتاریوں کا مقابلہ کیا اور اس نے چنیز خان کی دو فوجوں کو شکت دے دی ۔ مگر تاتاریوں پر کوئی اثر نہیں ہوا اور اس کے لشکر مزید حملہ آور ہو رہے تھے ۔ آخر میں 1221ء میں اٹک کے قریب ایک لڑائی میں جلال الدین شاہ کو شکست ہوگئی اور اس نے دریا میں دریا میں بلندی سے جھلانگ لگا دی اور تیروں کی بوجھاڑ میں تیرتا ہوا نکل گیا ۔ چنگیز خان نے کہا قابل تحسین ہے وہ ماں جس نے اس جیسا بیٹا جنا ہے ۔ خوارزم شاہ نے التمش مدد چاہی ۔ مگر التمش چنگیز خان سے جھگڑا مول لینا نہیں چاہتا تھا اس لیے معذرت کی ۔ جلال الدین نے کوئی چارا نہیں دیکھ کر ادھر سے اور کچھ اس کے سپاہیوں کو اکٹھا کیا اور ملتان پر حملہ کر دیا ۔ ملتان کا حکمران ناصر الدین قباچہ قلعہ بند ہوگیا ۔ جلال الدین کے پاس اتنی سپاہ نہیں تھی کہ وہ ملتان فتح کرلیتا ۔ وہ مختلف شہروں جن میں اوچ اور دیبل شامل ہیں لوٹ مار اور جلاتا ہوا مکران چلا گیا ۔ مکران کے بعد سیستان چلا گیا ۔ وہ مغلوں کے خلاف فوجیں اکھٹی کرنے میں مصروف رہا ۔ یہاں تک وہ ایک لڑائی میں مارا گیا ۔

غالب امکان یہی ہے کہ چنگیزخان کی غارت گری کی وجہ بلوچوں کی ایک بڑی تعداد مکران آئی ہوئی تھی ۔ وہاں جلال الدین خوازم شاہ اوچ دبیل سے ہوتا ہوا مکران پہنچا اور اس نے مکران کے حکمران کو خارج کرکے وہاں کا انتظام سمبھالی ۔ یہیں جلال الدین خوازم شاہ نے بلوچوں کی جنگی تنظیم کی کہ وہ منگولوں کا مقابلہ کرسکیں اور انہیں منگولوں کے کے خلاف تیار کیا ۔ یہی وجہ ہے بلوچوں قبائلی تنظم جنگی بنیادوں پر اب تک یعنی کچھ عرصے پہلے تک قائم تھی ۔ مکران صحرائی علاقہ ہے اور یہاں کی پیداوار ، آبادی وسائل بہت مختصر ہیں اور یہاں رہ کر جلال الدین خوارزم شاہ منگولوں کے خلاف فوجوں کو جمع نہیں کرسکتا تھا ۔ اس لیے وہ منگولوں سے مقابلہ کرنے کے لیے سیستان اور پھر ایران چلا گیا کہ منگولوں کے خلاف فوجوں کو اکھٹا کرے ۔ چونکہ جلال الدین خوارزم شاہ نے بلوچوں کی تنظیم قائم کی تھی جس میں شامل ہونے والا ہر شخص رند کہلاتا ہے اور روایات کے مطابق میر جلال ہاں بھی رند تھا ۔ دوسری قبائل جوکہ میر جلال کے ساتھ شامل ہوئے وہ اصل میں مختلف قو میں ہیں جنہوں نے منگولوں کے خلاف مدد دینے کا کہا ۔ اس لیے ہوت اور کورائی چونکہ جنگی قبائل نہیں تھے اس لیے انہیں چرواہے مانا جاتا ہے م گر جلال الدین کی حمایت کر رہے تھے ۔ لارشاری ایک ہی قبیلہ تھا مگر جنگی قبیلہ تھا اس لیے وہ بھی رند کہلائے ۔ کیوں کہ منگولوں خلاف لڑنے کے لیے تیار تھے ۔ اس نے اپنی بیٹی مائی جتو کی شادی اپنے بھتیجے سے کی جو رند تھا ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ جاٹوں کا اپنی تنظم میں شامل کیا ، کیوں کے بلوچ روایات میں کسی کو اپنے قبیلے میں شامل کرنے کا مطلب ہے اسے رشتہ دینا ہے ۔ اگرچہ یہ جاٹ مشرقی بلوچستان میں بلوچوں کی تنظیم میں شامل ہوئے ۔ یہی وجہ ہے جلال الدین خوازم شاہ کو نہیں بھولے اور اسی اپنی روایتوں میں اعلیٰ مقام دیا یعنی جد امجد یا مورث اعلیٰ تسلیم کیا ۔ جلال الدین خوازم شاہ کے سیستان جانے کے بعد ہوتوں نے اقتدر پر دوبارہ قبضہ کرلیا اور انہیں مکران سے جانے پر مجبور کردیا ۔ کیوں کہ مکران کے وسائل زیادہ تھے ۔ یہی کہانی دوسری صورت میں بیان کی گئی ہے ۔

اس تنظیم جس کے روح و رواں میں کرامان سے آئے ہوئے بلوچ تھے اور اس اتحاد میں مقامی باشندے بھی شامل تھے ۔ چونکہ مقامی باشندے جنگجو نہیں تھے مگر منگولوں کے حملوں سے پریشان ضرور تھے اس لیے ان کی ساتھ شامل ہوگئے ۔ اس لیے بلوچ روایتوں میں ہوتوں کو جو کہ مکران کے قدیم قدیم باشندے ہیں اور الگ ماخذ کے دعوے دار ہیں اور قدیم باشندے کورائی جن کا مہابھارت ذکر ملتا ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں