64

برصغیر کے خانہ بدوش قبائل

            سیلانی اور جرائم پیشہ قبائل کے درمیان کوئی خط امتیاز کھیچنا مشکل ہے ۔ یہ زیادہ تر اچھوت قبائل ہیں اور اکثر محنت و مزدوری کرکے روزگار گماتے ہیں اور گھاس ، بھوس ، نرسل ، زراعتی مزدور اور مچھرے و شکاری ہیں ۔ مگر یہ کسی جگہ مستقل رہاش کے بجائے در بدر پھرنا پسند کرتے اور ان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ قدیمی روایات و اعتقادات کو بدستور قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ ان میں بعض لومڑ ، گیڈر ، چھپکلیاں ، کچھوے اور اس طرح کے دوسرے جانور ان کی خوراک میں شامل ہیں ۔ یہ اپنی مخصوص بولیاں بولتے ہیں اور مقامی بولیوں کی کچھ ترمیم شکل ہے ۔ ان میں بیلدار ، اوڈھ ، چنگڑ ، تھوری ، پکھی وار ، جھیل ، کہیل ، گاگڑا اور بدون شامل ہیں ۔ یہ جنگلوں ، دریاؤں اور شہر سے باہر  خانہ بدوش زندگی بسر کرتے ہیں ۔

             بیلدار  

            بیلدار ایک پیشہ کا نام ہے جو بیل یعنی کدال سے مشتق ہے اور اس کے ساتھ کام کرنے والوں کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ لیکن قابل ذکر یہ بات ہے پہلے عام مزدور کھدائی کے کام میں ہاتھ نہیں ڈالتے تھے ۔ اس لیے اس کا مطلب پیشہ ور تعمیراتی مزدور ہیں اور بیلدار ایک قبائلی نام کی حثیت سے شاذ ہی کسی اور ذات کے لیے بولا جاتا تھا ۔ تاہم یہ مشرق میں عام تھا اور مغرب میں اوڈھ کو عموماً بیلدار کہا جاتا تھا ۔

            اوڈھ 

            اوڈ یا اوڈھ ایک آوارہ گرد قبیلہ ہے ۔ جس کا ماخذ مغربی ہندوستان یا راجپوتانہ تھا اور وہ اپنا آبائی وطن راجپوتانہ بتاتے ہیں ۔ یہ پہلے اپنے کنبوں کے ساتھ کھدائی کے کام کی تلاش کے لیے ادھر ادھر گھومنے والے سیلانی ہیں ۔ اصولی طور پر وہ چھوٹے موٹے کام نہیں کرتے تھے ۔ لیکن یہ شاہراؤں ، نہروں ، ریلوے پر رہائشی مکانات کی تعمیر ، تالاب کھودنے کو ترجیع دیتے ہیں ۔ ان کے مرد کھدائی کرتے ہیں اور عورتیں گدھوں پر جو ان کے پاس ہوتے ہیں مٹی لادتی ہیں اور بچے ان کو ہانک کر لے جاتے ہیں ۔ وہ کوہستان نمک میں کان کنی اور پتھر نکالنے کام کرتے ہیں ۔ بعض جگہوں پر انہیں خوانچہ فروش بتایا جاتا ہے ۔ یہ خود کو مسلمان بتاتے ہیں مگر ہر چیز کھالیتے ہیں ۔ یہ بالعموم مسلمان ہیں اور انہیں پست سمجھا جاتا ہے ۔ ان کی بولی اوڈکی کہلاتی ہے ۔ وہ اونی کپڑے پہنتے تھے ، کم از کم ایک کپڑا اونی ضرور ہوتا تھا ۔ یہ بھاگرتی کی نسل سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ جس نے قسم کھائی تھی کہ ایک کنوئیں سے دوبارہ پانی نہیں پیے گا ۔ لہذا وہ ہر روز ایک نیا کنواں کھودتا تھا ۔ یہاں تک وہ کھودتا رہا اور کھودتا رہا اور کبھی واپس نہیں آیا ۔ اس کے سوگ میں وہ اون پہنتے ہیں اور ہندو ہونے صورت میں بھی وہ اپنے مردوں کو دفناتے ہیں ۔ یہ شادیاں یہ ہندو رسومات کے مطابق کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ بھاگرتی کے ظہور ہونے کی صورت میں وہ اچھوت ہی رہیں گے ۔ وہ راجپوت یا کشتریہ نسل سے ہونے کے اور ماڑوار سے آنے کے دعویدار ہیں ۔ ان میں جو ہندو ہیں وہ پستکارنا برہمنوں کے رام اور شیوا کی پوجا کرتے ہیں ۔ یہ سیلانی قبیلہ ہونے کے باوجود جرائم کے الزام سے دور ہے ۔

            چنگڑ

            یہ قدیمی نسل کے اچھوت ہیں اور مشرقی پنجاب کے علاقہ میں یہ کثیر تعداد میں آباد ہیں ۔ اشن کا کہنا ہے کہ ان آبا اجداد جموں کے پہاڑوں سے آئے تھے ۔ یہ کام کی تلاش میں ادھر ادھر گھومتے پھرتے ہیں اور بڑے شہروں کے نواح میں آباد بھی ہیں ۔ یہ تقریباً ہر طرح کا کام کرلیتے ہیں ۔ لیکن زراعتی کام زیادہ کرتے ہیں ۔ خصوصاً فضل کی کٹائی کا اور ان کی عورتیں اناج کے تاجروں کے لیے اناج صاف کرنے اور چھانٹنے کا کام کرتی ہیں ۔ یہ سب مسلمان ہیں اور ان کے مطابق انہیں شمس تبریز نے انہیں مسلمان کیا ہے ۔ ان کی عورتیں اب تک پیٹی کوٹ پہنتی ہیں اور شلوار نہیں ۔ یہ پیٹی کوٹ نیلے رنگ کے ہوتے ہیں ۔ ان کی اپنی بولی ہے اور یہ خود چنگڑ نہیں چوبنا کہتے ہیں۔ جو ان کے مطابق جھاننا سے مشتق ہے ۔ ایک رائے کے مطابق چنگڑ زنگاری کی ایک شکل ہے ۔

            تھوری 

            پہاڑی علاقوں میں سامان تجارت جانوروں پر لے جانے والے تھوری کہلاتے ہیں ۔ ان تعلق بنجاریوں سے لگتا ہے اور ان کے اور بنجاروں سردار نائک کہلاتے ہیں ۔ جمیس ٹاڈ انہیں راجپوتانہ کے حمال بتاتا ہے ۔ ایبسن کا کہنا ہے کہ ان کا بنجاروں سے تعلق ہونا ممکن ہے ۔

            جھیل   

            جھیل یا چھیل ۔ یہ غالباً پنجابی جھمپ سے ماخوذ ہے ۔ یہ ایک مچھیروں کا قبیلہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ سندھ سے آئے ہیں اور اب بھی آپس میں سندھی میں گفتگو کرتے ہیں ۔ یہ مسلمان ہیں اور کہیلوں اور دوسرے مچھیرے قبائل کی طرح مگر مچھ اور کچھوے نہیں کھانے کی وجہ سے انہیں راسخ القیدہ سمجھا جاتا ہے ۔

            ان کا تعلق ملتان کے نواح سے ہے ۔ جہاں وہ سیلانی عادت والی خالصاً مچھیروں اور شکاریوں کی ذات ہے ۔ یہ ستلج سے لے کر فیروز پور تک ملتے ہیں اور دریا کے بالائی حصوں میں بطور ملاح کے کام کرتے ہیں ۔ تاہم وہ مچھلیاں بھی پکڑتے ہیں اور بہت بڑے شکاری ہیں ۔ کہا جاتا ہے سرسا کے علاقے کے ملاح بھی انہی کی نسل ہیں ۔ یہاں تک کہ مشرقی پنجاب میں ان کی بہت سے چھوٹی چھوٹی آبادیاں تھیں ۔ جہاں یہ مچھیرے ، غوطہ خور اور کنواں کھودنے والے ہیں اور کہیں کہیں ان کی کچھ زمینیں ہیں ۔ یہ ملاح کے پیشے کو حقیر سمجھتے ہیں ۔ اور ستلج کے جھیلوں کے ساتھ رشتہ نہیں کرتے ہیں ۔ پنجاب کے بعض علاقوں پر دلدلی زمینوں پر مزدوری بھی کرتے ہیں ۔

            کہیل یا مور

            یہ زیریں ستلج ، چناب اور سندھ کے کناروں پر آباد ایک سیلانی مچھیروں کا قبیلہ ہے ۔ یہ بعض علاقوں میں کہیل اور خاص کر شمال میںیہ مور کہلاتے ہیں ۔ اگرچہ مسلمان ہیں لیکن مگر مچھ اور کچھوے کھاتے ہیں ۔ مگر جنوبی علاقوں کہ کہیل یا مور مگر مچھ اور کچھوے نہیں کھاتے ہیں ۔ شمالی کہیلوں کا اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے اور ان سے تعلقات نہیں رکھتے ہیں ، مگر جنوب کے کہیل اچھے مسلمان سمجھے جاتے ہیں ۔ جب شمال کے کہیلوں کا کہنا ہے کہ وہ شافعی فقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ان جانوروں کا کھاتے ہیں ۔ کیہل رینگنے والے جانور پکڑتے اور کھاتے ہیں ۔ مشہور ہے کہ مگر مچھ ان کی بو پا کر بھاگ جاتا ہے ۔

            ان میں سے کچھ نے زراعت کا پیشہ اختیار کرلیا ہے اور دریائی کچڑ میں ایک اناج سموکا کاشت کرتے ہیں ۔

            گاگڑا

            یہ زیادہ تر مسلمان ہیں ادھر ادھر گھومتے پھرتے جھوٹے موتے جانور پکڑتے اور کھاتے ہیں ، پہلے ان کا خاص پیشہ جونکیں پکڑنا ، پالنا اور لگانا تھا ۔ اس وجہ سے انہیں اکثر جوکیرا کہا جاتا تھا ۔ اب یہ عموماًً گھاس اور پیال کا کام کرتے اور چٹائیں بناتے ہیں ۔ مسلمان گاگڑے نکاح کرتے ہیں ۔ یہ شادی کے موقع پر خاص تقریبات ادا کرتے ہین ۔ یہ کہا جاتا ہے ہندو گاگڑے چوہڑوں کے گرو بالا شاہ کی پوجا کرتے ہیں ۔

            بدون

            یہ مسلمان خانہ بدوش قبیلہ ہے اور مگر مچھ ، کچھوے اور مینڈک وغیرہ کھاتے ہیں اور اس کے لیے شافعی فقہ کا حوالہ دیتے ہیں ۔ دوسرے مسلمان انہیں اس لیے اچھوت سمجھتے ہیں ۔ یہ گھانس اور پیال کی چیزیں بنا کر فروخت کرتے ہیں اور ان کی عورتیں سینگی کے ذریعے خون نکالتی تھیں ۔ یہ ریچھ لے پھرتے ہیں اور حمال کا کام بھی کرتے ہیں ، یہ عربی نسل کے دعویدار ہیں ۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں