52

نواب حضرت محل

نواب واجد علی شاہ جان عالم عرف رنگیلے پیا کی متعی بیوی ، عہد مرزا برجیس قدر کی ماں جس کو باغیوں نے بادشاہ بنایا تھا ۔ نواب حضرت محل نے جنگ آزاد میں حصہ لیا تھا ۔ اس لیے واجد علی شا جان عالم کی بیویوں میں سب سے زیادہ شہر حاصل کی ۔

ان کے خاندان کے بارے میں مختلف رائے ہیں ، کسی نے انہیں ایرانی اور کسی نے انہیں مقامی بتایا ہے ۔ تاہم یہ بات مسلم ہے یہ ابتدا میں مہمان مردوں کی خدمت پر مامور تھیں اور انہیں امن و امان نام کی دو خواصوں نے ولی عہد حضرت واجد علی شاہ کی خدمت میں پیش کیا تو واجد علی شاہ نے انہیں پسند کیا اور ان سے متعہ کرکے مہک پری کا خطاب دیا ۔ انہیں ناچ و گانے کی تعلیم پر لگا دیا ۔ واجد علی شاہ ان کے متلعق خود پری خانہ میں کہتے ہیں ۔

وساعت جو امن و امان نے کی

مرے گھر آئی زن خانگی

پسینہ تھا خوشبو میں اس کا گلاب

پری تھی میک اس نے خطاب پایا

لکگی ہونے تعلیم رقص و سرود

سب و روز تقسیم رقص و سرود

جب مہک پری حاملہ ہوئیں تو انہیں پردے میں بٹھا کر افتخار النسا خانم صاحب کا خطاب دیا گیا ۔ ایام حمل کے بعد بیٹا ہوا اور اس کا نام رمضان علی رکھا گیا ۔ مگر اس کے دادا امجد علی شاہ نے اسے مرزا برجیس قدر بہادر خطاب دیا ۔ سلطان عالم خود بھی لکھتے ہیں ۔

عجب نجم طالع نے کی برتری

ہوئی حاملہ جو مہک تھی پری

سنا جس گھڑی مژدہ دل پذیر

کیا سجدہ شکر رب قدیر

بہت اس پری رو کا رتبہ بڑھا

کہ پایا خطاب افتخار النساء

ہوئی پردہ شرم میں جاگزیں

زن خانہ بہتر ہے پردہ نشین

غرض مدت حمل آخر ہوئی

خوشی بعد نہ ماہ ظاہر ہوئی

وہ طفل خوش اقبال پیدا ہوا

کہ جس پر خود اقبال شیدا ہوا

ہوئے جنت مکاں سن کے حال

خوشی سے ہوا روے پر نور لال

ہوا جشن شاہانہ آراستہ

ہوئی فکر دنیا کی برخاستہ

مبارک مبارک کی ہو سو صدا

کوئی رقص میں کوئی صرف غنا

مسرت کے سامان خدا نے دیئے

پری پیکروں نے تماشہ کئے

خطاب اس کا روشن ہے مانند بدر

یہ مرزا بہادر ہے برجیس قدر

مرزاقی بیگم نے اس بچے کی پرورش کی جب تعلیم کے قابل ہوئے تو مولوی غلام حضرت اس کی تعلیم پر معمور ہوئے ۔ 1847ء میں واجد علی شاہ تخت نشین ہوئے تو افتخار النساء خانم کو نواب حضرت محل کا خطاب اور دو ہزار تنخواہ مقرر کی ۔ ایک انگریز نے برجیس قدر کے متعلق لکھا ہے کہ یہ لڑکا منو خان کا تھا ۔ لیکن اسے واجد علی شاہ کے سر مونڈ دیا گیا ۔ مگر مثنوی حزن اختر میں واجد علی شاہ اپنے بیٹوں کے تذکرہ میں اسے اپنا بیٹا بتایا ۔ اس طرح یہ یہ محض افترا پروازی ہے ۔ جان علم نے لکھا ہے

جو وہ چوتھا شہزادہ ہے رشک بدر

اسے لوگ کہتے ہیں برجیس قدر

وہ چودہ برس کا کچھ شک نہیں

کہوں کیا کہ وہ ک میں کا نہیں

ملاؤں نے جو حضرت سے لفظ محل

تو نام اس کی ماں کا کھلے برمحل

وہ مہ قبضہ مفسداں میں ہے آہ

بنایا ہے اپنا اسے بادشاہ

1857ء میں جب انگریزوں کے خلاف غم و غصہ کی لہر پیدا ہوئی تو واجد علی شاہ کلکتہ جلا الوطن ہوچکے تھے اس لیے فوج نے مرزا برجیس قدر کو بادشاہ بناکر انگریزوں سے مقابلہ کرنا چاہا ۔ مرزا برجیس قدر کی عمر اس وقت گیارہ سال تھی اس لیے تمام امور سلطنت کے حضرت محل انجام دیتی تھیں ۔ بنگال کی منی بیگم کی طرح وہ بہت ہی منتظم ، مدبر ، عاقل و فرزانہ ثابت ہوئیں اور پس پردہ وہ احکام جاری کرتی تھیں ۔ مگر ضبط و نظم کی کمی وجہ سے جس کی مرضی جو ہوتی تھی وہی کرتا تھا ۔ اودھ کے دستور کے مطابق بادشاہ کی والدہ ہونے کی وجہ سے جناب عالیہ یا راج ماتا کے لقب سے مشہور ہوئیں ۔ عبدالحلیم شرر نے حضرت محل کی مستعدی و نیک نفسی کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مگر اس کا کیا علاج یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ پردے نکل کر فوج کی سالاری کرتیں ، مشیر اچھے نہیں تھے اور سپاہی کام کے نہ تھے ۔ ہر شخص کسی کا کہنا نہیں مانتا تھا ۔ اگریزی فوج کے باغی اس غرور میں تھے کہ ہم جس کو چاہیں بادشاہ بنادیں ۔ قیصر باغ کے خون ریز معرکہ کے بعد حضرت محل پسا پڑگئیں اور قیصر باغ چھوڑ کر چلی گئیں ۔

دو روز شہر میں حسین آباد میں قیام کیا بھر بہراءج میں بونڈی پہونچیں ۔ مرزا ہادی حسین رسوا نے اپنے ناول امراوَ جان ادا میں جناب عالیہ کہ قیام بونڈی کا ذکر کیا ہے کہ حضرت محل کے ساتھیوں کو روئیہ کیا تھا ، کوئی افیم کے لیے پریشان ہو رہا تھا ، کوئی کہہ رہا تھا کیا ہم پیدل چلیں ۔ کوئی کھانے کے لیے انتظام کو رو رہا تھا کہ اچھا انتظام ہے کھانے تک نہیں ہے ۔

بوندی میں انگریزی فوج سے مقابلے میں ناکامی کے حضرت محل فرار ہونے پر مجبور ہوگئیں اور اپنے بیٹے برجیس مرز کے ساتھ نیپال چلی گئیں ۔ مشہور ہے راجہ نیپال نے پانسو روپیے دونوں ماں بیٹوں گزارہ کے لیے دیا کرتے تھے ۔ آخر 1879ء میں بے کسی اور جلا الوطنی میں نیپال میں ہی وفات پائی ۔ ان کے انتقال کے بعد برطانوی حکومت نے مرزا برجیس قدر کا قصور معاف کریا ۔ چنانچہ وہ نیپال سے کلکتہ چلے آئے ۔ جہاں دو سال کے بعد کسی بدخواہ نے زہر آ;231;لودہ کھانا کر ان کو زندگی کی قید سے آزاد کردیا ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں