73

پنجاب کے راجپوت

پنجاب میں جاٹوں اور راجپوتوں کی تقسیم اور حقیقت الچھی اور مشکوک ہے ۔ عموما بڑے قبیلے راجپوت اور ان کی شاخیں جاٹ کہلاتی ہیں ۔ پھر دونوں ایک دوسرے کو ہم نسل تسلیم کرتے ہیں ۔ ان راجپوت قبائل کی تقریباًً ایک جیسی کہانی ہے کہ ان کا جد امجد راجپوتانہ یا دکن سے پنجاب اکبر یا بعد کے دور میں آیا تھا اور بابا گنج شکر کے ہاتھوں مسلمان ہوئے ۔ ان میں سے اکثر خود کو راجہ کرن کی اولاد بتاتے ہیں ۔ مگر ماضی میں پنجاب میں راجپوتوں کو تذکرہ نہیں ملتا ہے اور ان کی حقیقت ہے اس کے لیے ایک طویل بحث کی ضرورت ہے ۔

عروج

راجپوتوں کا دور ساتویں صدی عیسوی سے بارویں صدی عیسویں تک کا تھا ۔ یہ وہ دور ہے جب مسلمان موجودہ پاکستان کی سرزمین پر حکومت کر رہے تھے ۔ ساتویں صدی عیسوی سے کسی مسلمان مورخ نے یہاں آباد راجپوت قبائل کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ بابر نے پنجاب کے بہت سے قبائل کا ذکر کیا ہے مگر اس نے بھی کسی راجپوت قبیلے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ یہاں تک کہ مغلوں کے دور زوال میں بھی راجپوتوں کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔ جب سکھ یہاں کہ حکمران بن گئے تھے اور انگریزوں کے دور میں بہت راجپوت کا دعوی سامنے آیا ۔ اس سے پہلے کسی مسلمان مورخ نے پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، مکران ، کیاکان ، افغانستان ، غزنی اور کشمیر کی لڑائیوں میں راجپوتوں کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

دلچپب بات یہ یہاں کچھ ایسے قبائل آباد ہیں جو پست درجہ کے سمجھے جاتے ہیں اور ان کا ذکر راجپوتوں کے چھتیس راج کلی (چھتیس شاہی خاندان) میں ہوتا ہے ۔ مگر یہ خود کو راجپوت نہیں کہتے ہیں یا نہیں جانتے ہیں ۔ مثلاً ملی یا جوئیہ یا داہری ۔ ملی جنہوں نے ملتان کو اپنا نام (ملی استھان) دیا بلکہ سکندر سے مقابلہ کیا اور اسے ذخمی بھی کیا تھا ۔ یہ آج کل باغبان کہلاتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ سبزی اگاتے ہیں ، اس لیے انہیں دوسروں سے جو کہ اناج لگاتے ہیں کمتر سمجھا جاتا تھا ہے ۔ البتہ ایک بھٹی ایسا راجپوت قبیلہ ہے جس کا قدیم زمانے میں ذکر ملتا ہے ۔

واضح راجپوت کا کلمہ ساتویں صدی سے پہلے نہیں ملتا ہے ۔ اس کا قدیم تریں تلفظ ہن فاتح ٹورامن کے کرا کتبہ میں اس کے بیٹوں اور بیٹیوں کو راج پتر کہا گیا ہے ۔ جس کے معنی بادشاہ کی اولاد ہے ۔ جو کہ ایرانی کلمہ وس پوہر (بادشاہ کا بیٹا) کے مترادف ہے ۔ وس سنسکرت میں بھی بادشاہ کے معنوں میں آتا ہے اور پوہر سنسکرت کے پتر کا مترادف ہے لیکن ساتویں صدی عیسویں سے اس کی جگہ راجہ استعمال ہورہا ہے ۔ چنانچہ جب شنکر اچاریہ کے تحت کٹر برہمن مت کا احیا ہوا تو راجہ پتر کا لفظ استعمال ہوا ۔ کلہانا نے راج ترنگی میں راجپوتوں واضح انداز میں غیر ملکی ، مغرور ، بہادر اور وفادار کہا گیا ہے ۔ راجپوتوں کے چھتیس راج کلی (چھتیس شاہی خاندان) مشہور ہیں ۔ چندر بروے نے اس تعداد کو پہلے پہل بیان کیا اور پنڈٹ کلہیان نے ’ترنگی راج‘ میں اس تعداد کی تصدیق کی ہے ۔ ٹاڈ بھی راجپوتوں کو وسط ایشیا کے ستھین قبائل کہتا ہے اس کے مطابق عہد قدیم سے محمود غزنوی کے دور تک بہت سی اقوام ہند پر حملہ آور ہوئیں ، اب وہ راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں شامل ہیں ۔ بقول اسمتھ کے ہرش کی وفات کے بعد سے مسلمانوں کی آمد تک یعنی اندازاً ساتویں صدی عیسویں سے لے کر بارویں صدی عیسویں تک کے زمانے کو راجپوتوں کا دور کہا جاسکتا ہے ۔ مگر یہ کہنا غلط ہے کہ کی آمد کے وقت کابل سے کامروپ تک کشمیر سے کوکن تک کی تمام سلطنتیں راجپوتوں کی تھیں اور ان کے چھتیس راج کلی شاہی خاندان حکومت کررہے تھے ۔ کیوں کہ اس وقت پنجاب اور سندھ بلوچستان پر مسلمانوں کی حکومت تھی ۔

جواہر لعل نہرو کا کہنا ہے کہ اس زمانے جو بھی فاتح ہند پر حملہ آور ہوتا تھا تھوڑے عرصے میں اس کا شمار چھتریوں میں ہونے لگتا تھا ۔ سکوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حکمران کا نام غیر ملکی ہے ۔ لیکن بیٹے یا پوتے کا نام سنسکرت میں ہے اور اس کی تخت نشینی یا تاج پوشی چھتری رسوم کے مطابق ہوتی تھی ۔ راجپوتوں کے اکثر قبیلوں کا سلسلہ نسب سک یا سیتھی حملہ آوروں سے تھا یا وہ سفید ہن قوم کے حملہ آوروں میں سے تھے ۔

اہم بات یہ راجپوت قبائل اور جاٹوں قبائل کے مشترک نام ہیں ۔ اس لیے ولسن نے کہا ہے کہ راجپوت قبائل راٹھور ، پوار ، اور گہلوٹ وغیرہ یہاں پہلے سے آباد تھے اور یہ چاروں قبائل اصل میں جاٹ ہیں جنہیں بعد میں راجپوت کہا جانے لگا ہے ۔ کیوں کے یہ اس وقت حکمران تھے ۔ اس بناء پر راجپوت یا راج پتر یعنی راجاؤں کی اولاد کی اصطلاح وجود میں آئی ۔ اس کی اصل پہلوی کلمہ وسپوہر سے ہے ۔ کیوں کہ ان لوگوں نے ساکا اور دیگر قبائل کے ساتھ مل کر برصغیر کی تسخیر کی تھی ۔ اگرچہ قانون گو یہ کہتا ہے کہ پہلے یہاں جاٹ آباد تھے اور راجپوتوں نے ان کی جگہ نوادار راجپوتوں نے لی ۔ قانون گو نے اس بات کو فراموش کردیا کہ پوار (پنوار) ، تنوار ، بھٹی ، جوئیہ وغیرہ جاٹوں اور راجپوتوں دونوں میں پائے جاتے ہیں ۔

اگر راجپوت یہاں کے حکمران خاندان کو راجپوت کا خطاب دیا گیا ہے تو یہ بات بھی غلط ہیں ۔ ہر راجپوت خاندان حکمران نہیں رہا ۔ راجپوتوں کے چوراسی خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اب تجارت کا پیشہ اپنالیا ہے ۔ انہوں نے کبھی حکمرانی نہیں کی ہے ۔ راجپوتوں کی چھتیس راج کلی کے بہت سے خاندان خاص کر سندھ کے کچھ قبائل ایسے ہیں جنہوں نے کب حکومت کی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں ۔ حتیٰ روایتوں میں بھی ان کی ریاستوں کا ذکر نہیں ملتا ہے مثلا داہری ۔ اس طرح ہندوستان کو قدیم موریہ خاندان کا شمار بھی راجپوتوں میں ہوتا ہے ۔ مگر اس لیے نہیں ہوتا ہے کہ انہوں نے ہند پر حکمرانی کی بلکہ ان کا شمار اس لیے ہوتا ہے کہ انہوں سے سورج بنسیوں سے پہلے چٹور پر حکومت کی تھی ۔ اس طرح گپتا خاندان جس نے پہلی دفعہ سنسکرت کو ادبی زبان بنانے کی کوشش کی اور کتبوں میں اس کا استعال کیا وہ خاندازن بھی راجپوتوں میں شامل نہیں ہیں ۔

جٹ اور راجپوت

ابسن لکھتا ہے کہ پنجاب میں جٹوں اور راجپوتوں کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہے بلکہ قریباً قریباً ناممکن ہے ۔ ان کی روایات بنیادی طور پر ہندوانہ ہیں اور دیگر سماجی ریتیں مثلاً شادی وغیرہ ۔ یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ان میں عملی طور پر فرق کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اگرچہ بعض انہیں الگ الگ ماخذ سے خیال کرتے ہیں اور بعض انہیں مختلف ادوار میں ہجرتوں کے نمائندے ۔ مگر دونوں کو اکثر نے ایک ہی نسلی ماخذ سے تسلیم کیا ہے ۔ مگر یہ قطعی ہے کہ جٹ اور راجپوتوں میں کچھ قدیمی نسل کے باشندے بھی شامل ہیں ۔ کیوں کہ پنجاب کے بہت سے جٹ قبائل میں ایسی بعض ایسی روایات ہیں جو ان کے غیر آریائی ماخذ کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ جٹ قبائل مثلاً مان ، ہیر اور بھلر کبھی بھی راجپوت ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے ہیں ۔

جٹ سے راجپوت

پنجاب کے میدانوں میں اسلام کی عطا کردہ آزادی نے ذات کو پشت پر ڈال دیا اور سماجی حثیت بڑی اکائی تسلیم کی جاتی جاتی ہے اور ایسے خاندان بھی ملتے ہیں جو چند پشت پہلے جاٹ تھے مگر اب راجپوت کہلاتے ہیں ۔ بڑے طاقت ور قبائل سیال ، گونڈل ، ٹوانہ کو عملاً راجپوت اور ان کی چھوٹی برادریاں جٹ کہلاتی ہیں ۔ حتیٰ کوئی قبیلہ ایک جگہ راجپوت ہے تو دوسری جگہ وہ جٹ کہلاتا ہے ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کوہستان نمک میں جب کوئی قبیلہ عرب یا مغل نہ ہو تو راجپوت ہے ۔ جب کہ راجپوت کی قابلیت کو نہ پہنچنے والے تمام قبائل جٹ ہیں ۔ جہاں کوئی راجوں کی روایات نہیں وہاں راجپوت نہیں ہوسکتے ہیں ۔ سکھوں کے دور میں جٹ غالب رہے ۔ مگر اس وقت تک سیاسی یا سماجی میدان میں راجپوت ہ میں کہیں نظر نہیں آتا ۔ گو یہاں کے جٹ بھی راجپوتوں کی طرح مختلف نسلی ماخذ کا دعویٰ کرتے ہیں ۔

جاٹ

پنجاب میں جٹ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ اس نے تعداد کے معاملے میں راجپوتوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ سیاسی طور پر اس نے پنجاب پر خالصہ کی صورت میں حکومت کی ۔ حالانکہ سماجی طور پر جٹ کی ھثیت میں روڑ ، گوجر اور آہیر حصہ دار ہیں ۔ یہ چاروں مل کر کھاتے پیتے ہیں اور تمباکو نوشی کرتے ہیں ۔ یقناً راجپوتوں کے مقابلے میں کہیں پست مانا جاتا ہے ۔ کیوں کہ وہ اپنی بیواؤں کی شادی کر دیتا ہے ۔ اس علاقہ کے ایک ماہیے میں وہ اپنے بیوہ بیٹی کو کہتا ہے آ میری بیٹی شادی کر ، تیرا خاوند مرگیا تو کیا ہوا اور بھی بہت سے ہیں ۔ اس طرح وہ بیوہ کی شادی کرنے میں سب سے آگے ہے ۔

روایت

پنجاب میں راجپوتوں کی روایات جمنا کہ پار راجپوتوں سے نہیں ملتی ہیں ۔ کیوں کہ وہاں کے راجپوت جٹوں سے الگ ماخذ کے دعوے دار ہیں ۔ پنجاب کے جٹ اور راجپوت دونوں ایک مشترکہ نسلی ماخذ کو مانتے ہیں اور ان کی روایات بھی ایک مشترک ماخذ کی نشادہی کرتی ہیں اس لیے یہ بات یقینی ہے کہ یہ فرق نسلی نہیں سماجی ہے ۔ اس مشترک ماخذ کے خاندان جن میں قسمت نے سرفرازی عطا کی وہ راجپوت بن گئے اور ان کی اولادوں نے اسے حاصل کرنے کے بعد نہایت کٹر پن کے ساتھ قوانین کی پیروی کی صورت میں باقی رکھا ۔ جس کے ذریعہ درجہ بندی کے ہندو پیمانے میں اعلیٰ و بالا ذاتیں خود کو نیچ و پست ذاتوں سے خود کو ممتاز رکھتی ہیں ۔ ان میں کمتر سماجی رتبہ والوں سے شادی سے انکار ، اپنے خون کا خالص پن محفوظ رکھتی ہیں ۔ ان قوانین سے رد گرادنی کرنے والا سماجی رتبہ سے گرجاتا ہے اور وہ راجپوت نہیں رہتا ہے ۔ جب کہ ایسے خاندان جنہوں نے علاقہ میں ایک ممتاز حثیت حاصل کرکے سماجی کم اور قوانین کی پیروی کردی اور وہ نہ صرف راجہ بلکہ راجپوت یعنی راجوں کے پوت بن گئے ۔

تبدیلی ذات

انگریزوں کی آمد کے بعد بہت سے راجپوت قریشی ، عباسی یا مغل نسل کا دعویٰ کرنے لگے ۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کسی طرح تقدس اور سماجی رتبہ کی وجہ سے چند پیڑیوں میں کوئی خاندان سید بن جاتا ہے ۔ جب کہ پہاڑی علاقوں میں ہندووَں میں راجپوت بنے کا عمل بھی جاری رہا ۔ اس کے برعکس جمنا کے پار راجپوتوں میں تنزلی ہوکر جاٹ بنے کا عمل بھی جاری رہا ۔ کوئی راجپوت خاندان بیواءوں کی شادی کرے ، برہمنیت کی بالادستی قبول کرنے سے انکار کردے یا تنگ دستی سے کھیتی باڑی شروع کر دے تو اس کا مرتبہ راجپوت سے گر کر جٹ کا ہوجاتا ہے اور ایسے بہت سے خاندان تھے جو پہلے راجپوت تھے مگر اب جٹ بن چکے ہیں ۔ خاص کر بیواءوں کی شادی کی وجہ سے یا زراعت کا پیشہ اپنانے کی وجہ سے ۔

سندھ ، بلوچستان خیبر پختون خواہ میں راجپوتوں کو کوئی نہیں جانتا ہے ۔ وہاں جٹ قبائل کے ایک ایسے گروہ کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کہ بلوچ ، بروہی یا سید نہیں ہیں ۔ اگرچہ ان میں مذہب اسلام ، زراعتی پیشے اور ان کی ماتحتی کے کے علاوہ کوئی قدر مشترک نہیں ہے ۔ وہاں راجپوت اور جٹ کی کوئی تفریق نہیں ہے ۔ پنجاب میں راجپوت کی اصطلاح عملاً ان قبیلوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جنہوں نے سیاسی برتری حاصل کرلی ہے اور مغلوب ہونے انہیں ماتحت کیا یا انہیں وسطیٰ علاقہ کے صحراؤں میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا ۔ انہیں اکثر و بشتر جٹوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ کوہستان نمک کے علاقہ جٹ کی اصلاح پنجابی میں چراہے ، گلہ بان کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔ جاتکی میں بھی جٹ کے بجائے جت یعنی نرم آواز میں گلہ بان اور اونٹ چرانے والے کے ہیں اور خود کو جٹوں سے الگ اپنا ماخذ بتاتے ہیں ۔

برہمنی بالادستی

بشتر راجپوت جٹوں کی طرح قبائل وسط ایشاء سے آنے والے قبائل تھے ۔ جو رفتہ رفتہ وادی سندھ سے آگے بڑھ کر شمالی و وسط ہند اور گجرات اور دکن تک پھیل گئے ۔ ان کا دور ساتویں صدی عیسوی سے بارویں صدی عیسوی کا ہے ۔ بنیادی طور پر راجپوت اور جٹ ایک ہی نسلی ماخذ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس تائید اس طرح ہوتی ہے کہ راجپوت اور جاٹوں قبائل کے نام مشترک ہیں ۔

راجپوت ان قبائل کے وہ گروہ ہیں جنہوں نے برہمنوں کی بالادستی قبول کی اور اس بنا پر انہیں ہندو معاشرے میں قبول کیا گیا اور انہوں نے ہندو تہذیب کو اختیار کیا ۔ اس کے صلے میں انہیں برہمنوں نے گوترا عطا کیں اور اس طرح ہندو مذہب و تہذیب نے ترقی کی ۔ چنانچہ وشنو ، شیوا ، چندی اور سوریہ وغیر کے ادیان پھیل گئے ۔ اس طرح برہمنی مذہب نے عروج حاصل کیا اور بدھ مذہب برصغیر کو خیرباد کہنے پر مجبور ہوگیا ۔ اس طرح راجپوتوں نے برہمنوں کے ساتھ مل ہندو دھرم کو ارسر نو زندہ کیا اور بدھوں کو تہس نہس کردیا ۔

جن خاندانوں نے برہمنی بلادستی قبول کی انہیں راجپوتوں میں شامل نہیں کیا گیا اور انہیں نظر انداز کیا گیا اور کے خلاف طرح طرح کی باتیں پھیلائیں گیں کہ انہیں کمتر ظاہر کیا گیا ۔ مثلاً موریہ خاندان کے بانی چندر موریہ گپت بارے میں کہا گیا کہ یہ ایک حجام کی اولاد ہیں ۔ اس کے پوتے اشوک جس پر آج بھارت کو ناز ہے اور جس نے سب سے پہلے بھارت کو متحد کیا تھا ۔ اس کا نام ہی تاریخ کے صفحوں سے غائب کردیا گیا ۔ جب اشوک کے کتبے دریافت ہوئے اور انہیں مختلف ماخذ کی مدد سے پڑھا گیا تو اشوک کی عظمت دنیا پر عیاں ہوئی کہ اس نے دنیا میں پہلی دفعہ رفع عامہ کے کام کروائے ۔ اس طرح گپتا اور ہریش چند جیسا بادشاہوں کو نظر انداز کر دیا گیا ۔

جٹوں نے برہمیت کی بالادستی کو قبول نہیں کیا ۔ ان کے اپنے پجاری ہوتے ہیں ، انہیں زراعت سے لگاوَ ہے اور یہ اپنی بیواؤں کی دوسری شادی کرتے ہیں ۔ یہ شرائط ایسی ہیں انہیں قبول نہ کرنے والا برہمن معاشرے میں پست ذات کا ہوجاتا ہے ۔ اس لیے روڑ ، گوجر اور آہیر بھی جٹوں کی طرح کمتر کہلاتے ہیں ۔ ہندو معاشرے میں ان امور میں سے کوئی ایک کام راجپوت کرے تو اس کا درجہ گر کر جٹ ہوجاتا ہے ۔

مسلم علاقہ

پنجاب کا بشتر علاقہ ان علاقوں میں شامل تھا جہاں ساتویں صدی میں عربوں کا قبضہ ہوگیا تھا ۔ یہاں برہمنیت کی بالادستی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ۔ اس لیے راجپوتوں کا ارتقاء مسلم علاقہ میں نہیں ہوسکتا تھا ۔ اس لیے کسی مسلمان مورخ نے پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، مکران ، کیاکان ، افغانستان ، غزنی اور کشمیر کی لڑائیوں میں راجپوتوں کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ یہاں آباد راجپوت قبائل کا ذکر ملتا ہے ۔ بابر نے پنجاب کے بہت سے قبائل کا ذکر کیا ہے مگر وہ بھی راجپوتوں کا ذکر نہیں کرتا ہے ۔ مغلوں کے دور میں اور ان عہد ذوال میں بھی راجپوتوں کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔ انگریزوں کے دور میں راجپوتوں ذکر ملتا ہے ۔ سکھوں کے دور میں بھی جٹوں کا ذکر ملتا ہے لیکن راجپوتوں کا ذکر سرسر طور پر ملتا ہے ۔ اس طرح یہاں کی روایات کہ ان کا جد اعلیٰ راجپوتانہ یا دکن سے آیا تھا وضعی ہیں ۔

پنجاب میں جٹوں اور راجپوتوں کے درمیان فرق سماجی حثیت اور بڑی اکائی کا ہے ۔ ورنہ بنیادی طور پر ایک ہی نسلی ماخذ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہاں ایسے قبائل ملتے ہیں جو کچھ پشت پہلے جاٹ کہلاتے تھے اب راجپوت ہیں ۔ اگرچہ ان کی روایات و رسومات بنیادی طور پر ہندوانہ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے یہاں کے لوگوں نے اسلام دس اور گیارویں کے درمیان اسلام قبول کرلیا تھا ۔ جس ذات کی اہمیت ختم تو نہیں کرسکا مگر کم ضرور کردی تھی ۔ اس لیے یہ بات یقینی ہے کہ یہاں راجپوتوں کا ارتقاء نہیں ہوا ۔ کیوں کہ یہاں برہمنوں کی بالادستی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا ۔ جب برہمنوں کی بالادستی نہیں ہے تو راجپوت کیے ;238; یہی وجہ ہے بڑے اور طاقت ور قبائل سیال ، گونڈل ، ٹوانہ وغیرہ کو عملاً راجپوت اور ان کی چھوٹی برادریاں جٹ کہلاتی ہیں ۔ حتیٰ کوئی قبیلہ ایک جگہ راجپوت ہے تو دوسری جگہ وہ جٹ کہلاتا ہے ۔

تہذیب و ترتیب

عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں