50

قناعت

قناعت کو عموماً اچھی چیز کہا جاتا ہے اور لوگ عمومٍ اس تعریف اور دوسروں کو اس کا درس دیتے رہتے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ قناعت پسند آدمی کسی قسم کے بکھڑے میں نہیں پڑتا ہے ۔ وہ عموماً پر سکون زندگی گزارتا ہے ۔ جب کہ قناعت کی ضد ہوس ہوتی ہے ۔ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اچھی چیز نہیں ہے اس سے انسان کی زندگی گزارنا نہایت درناک ہوتی ہے ۔ اس لیے انسان کو قناعت پسند ہونے کی تلفین کی جاتی ہے ۔

لیکن قناعت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے ۔ اگر انسان اپنی زندگی سے مطمعین ہوتا اور قناعت کی زندگی گزارنا پسند کرتا یا دوسرے الفاظ میں اس کی فطرت میں قناعت پسندی ہوتی کیا وہ ترقی کرتا ;238; ہر گز نہیں وہ ایسی صورت تو جانور ہوتا اور اب تک غاروں اور درختوں میں رہائش پزیر ہوتا ۔ اس سے صاف ظاہر ہے مطعین ہونے سے بے شک زندگی سہل ہوجاتی ہے لیکن اس کی آگے بڑھنے اور ترقی کی جستجو ختم ہوجاتی ۔ ہوس اور حرض بے شک بری چیز ہے ، مگر اس کا روشن پہلو یہ کہ انسان اس کی بدولت انسان سخت محنت کرتا ہے اور اپنے لیے آسائش کی ضروریات فراہم کرتا ہے ۔ آخر انسان کی اچھی زندگی گزارنے کی ہوس نے ہم کو ترقی کے زینہ پر پہنچایا ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہوس کا رخ صحیح ہو تو انسان کا کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے اور ہم اس سے انکار نہیں کرسکتے ہیں کہ ہم نے اس کی بدولت ترقی کی ہے ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

کیٹاگری میں : فکر

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں