118

صحر ا تھر کے باشندے

ہم دریائے سندھ کے مشرق کنارے سے جیسے جیسے صحرا کی طرف جائیں گے تو صحرائی باشندے نظر آئیں گے ۔ شروع میں اکثر مسلمان ملیں گے ، لیکن ہندو بھی نظر آئیں اور آہستہ آہستہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا ۔ یہاں تک پاک و ہند کی سرحدوں کے قریب صحرا میں ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نظر آئے گا ۔ ان میں زیادہ تر بھیل ، کولی ، پتھل ، کورو ، ربیاری ، جاٹ ، برہمن ، اڑورا ، دھوت ، سوگدی ، دھات ، امڑ ، اور سوڈھا وغیرہ ملیں ۔ لیکن ہم شمال مشرق کی طرف جائیں گے تو دھیا ، چوہان اور بھٹی بھی ملیں گے ۔

جب کہ یہاں کے مسلمان آبادی میں سوڈھا ، لوہانہ ، امر ، جٹ ، کھوسہ ، دھات ، بھٹی جویا ، دھیا ، جونیجو ، بھٹی ، دھیا ، جویا ، داود پوترے ، سرائی اور مہر وغیرہ ملیں گے ۔ مذہب کا یہ تناسب سرحد پار کرنے کے بعد الٹ جاتا ہے اور جیسے جیسے اندر کی طرف جائیں مسلمانوں کی کم اور ہندووَں کی تعداد بڑھتی جائے گی ۔ اگرچہ بعض ایسے مسلم قبائل ملتے ہیں جو کہ سرحد پار کرنے زیادہ بستے ہیں مثلاً مہر ۔

کولی

یہ قوم تھر کے صحرا میں کثرت سے آباد ہیں اور ان کا شمار اب بھی پس ماندہ انسانوں میں ہوتا تھا ۔ ان کے لیے کہا جاتا تھا کہ یہ صورت و سیرت میں صحرائی جانوروں سے کچھ بہتر ہیں ۔ یہ لوگ ہر اس دیوتا کو بوجھتے ہیں جس کو ہندو پوجتے ہیں خصوصاً ماتا کو اور ہر جانور کو کھالیتے ہیں اور یہ گائے ، ہرن ، سور اور دوسرے جنگلی جانوروں کو بھی نہیں چھوڑتے ہیں ۔ چاہے شکار کیا ہو یا کہیں مرا ہوا ملے ۔ یہ خود کو راجپوت سے کہتے ہیں ۔ یعنی چوہان کولی ، پرہاڑ کولی یا راٹھور کولی وغیرہ ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ قدیم زمانے کے کولی ہیں ۔ ہندو کپڑا بننے والے بھی کولی ہیں اور مگر کپڑا بننے والے اپنے کو جھلاد کہتے ہیں ۔ جب کہ مسلمان جولاہا کہلاتے ہیں ۔

بھیل

بھیل بھی کولیوں کی طرح بلکہ کولیوں سے کچھ پست ہیں ۔ کیوں کہ یہ لوگ گیڈر ، لومڑی ، نیولے سانپ وغیرہ جیسے جانور بھی کھالیتے ہیں ۔ البتہ وہ مور کھانے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ جس ماتا کی پوجا کرتے ہیں مور کا تعلق اس سے بتایا جاتا ہے ۔ تاہم دوسرے تمام معمالات میں کولیوں کی طرح ہیں ، مگر کولی اور بھیل آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں نہ ہی ساتھ کچھ کھاتے ہیں ۔ پہلے یہ اکثر تلوار اور تیر کمان اور اکا دکا بندوق بھی رکھتے تھے اور غارت کرتے تھے ۔

پتھل

اصل میں کاشتکار اور امن پسند ہیں اور ان میں سے کچھ دوکاندار بھی ہیں ۔ یہ لوگ بھی کشرت سے صحرا میں ہیں ۔ پتھل کی مثال کورمی ہندوستان مین اور کولمبی مالوا اور دکن کے ہیں ۔

کورو

یہ بھی راجپوت ہیں اور گو ان کی عادتیں جرائم پیشہ لوگوں جیسی ہیں ۔ تاہم یہ امن پسند اور بے ضرر لوگ ہیں ۔ یہ خانہ بدوش ہیں اور اپنے جانوروں کو لیے پھرتے ہیں اور جہاں کوئی چشمہ یا چرا گاہ نظر آئی وہاں مقیم ہوجاتے تھے ۔ یہ وہاں پر چھپر پیلو کی شاخوں اور درختوں سے بنا کر اسے اندر سے مٹی لیپ دیتے ہیں اور باہر لگتا نہیں ہے کہ اندر کوئی رہتا ہے ۔ یہ لوگ گائے ، بھینس اور اونٹ پالتے ہیں اور ان کا دودھ ، گھی اور جانوروں کی فروخت سے گزارہ کرتے ہیں ۔

دھوت یا دھاتی

ان کا طرز عمل کورو کی طرح ہے ۔ یہ جانور چراہتے ہیں اور کچھ زمین بھی کاشت کرتے ہیں ۔ مگر ان کی گزر اوقات جانوروں کے دودھ سے گھی بیچ کر گزارا کرتے ہیں ۔ یہ رابڑی اور جھاچھ نہایت پسند کرتے ہیں ۔ رابڑی جو کہ باجرہ اور جوار میں دودھ ملا بنائی جاتی تھی ۔ یہ سوکھی مچھلی کے بھی بہت شوق سے کھاتے ہیں ۔

ربیاری

یہ انٹ پالتے ہیں اور ان میں بہت سے لوگ مسلمان بھی ہیں ۔ یہ نہایت چالاک ہیں اور اونٹوں کی چوری کے لیے دور دراز علاقوں میں جاتے ہیں ۔ اونٹوں کے کسی ریوڑ کو ٹار کر ان کا تجربہ کار اپنی برجھی سے ایک اونٹ کو زخمی کردیتا تھا اور اس کے خون سے کپڑے کا ایک ٹکڑا تر کرکے اپنی برجھی کے سرے پر باندھ کر ایک اونٹ کو سونگھاتا تھا ۔ اس سے وہ اونٹ بدحواس ہوکر بھاگتا تھا اور اس کے پہچھے دوسرے اونٹ بھی دوڑتے تھے ۔ اس طرح وہ ان اونٹوں بھگاکر لے جاتے تھے ۔

لوہانہ

یہ بھی صحرائی علاقہ کے باشندے ہیں ۔ یہ پہلے راجپوت کہلاتے تھے ۔ ان کا پیشہ تجارت اور دوکانداری ہے ۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا پرہیز نہیں کرتے ہیں اور گائے کے علاوہ ہر قسم کا گوشت کھالیتے ہیں ۔

ارورا

یہ قوم ہر پیشہ کرتی ہے ۔ یہ تجارت اور کاشتکاری بھی کرتے ہیں ۔ یہ بڑے چست ، جفاکش اور ہوشیار ہیں ۔ ان کی بڑی تعداد ملازمت پیشہ ہے ۔

بھاٹیا

یہ بھی تجارت پیشہ ہیں ;180; یہ چلاکی اور ہوشیاری میں مشہور ہے ۔ پہلے ان کی دوکانیں تجارتی مقامات سکھر شکار پور ، حیدرآباد اور جے پور میں بھی تھیں ۔

برہمن

عجیب بات اس صحرا میں رہنے والے برہمن اپنی زنار کو گلے میں نہیں ڈالتے ہیں اور یہ کاشتکاری اور مویشی چراتے ہیں اور تجارت بھی کرتے ہیں ۔ البتہ مچھلی اور گوشت کو چھونے سے پرہیز کرتے ہیں اور تمباکو بھی نہیں پیتے ہیں ۔ کھانا ہر کسی کا بنا ہوا کھالیتے ہیں ۔ نہ چوکا چولہ بناتے ہیں ۔ ہر برتن کو مٹی اور پانی سے دھوکر استعمال کرلیتے ہیں ۔ یہ اپنے مردے کو جلانے کے بجائے اپنے مکان کی دہلیز سے متصل دفن کرتے ہیں ۔ اس پر چبوترہ بناکر اس پر شیو کی مورت اور ایک پانی کا برتن رکھ دیتے ہیں ۔

پوکرنا برہمن

یہ بیکانیر ، جلسمیر اور ماڑوار میں کثرت سے ہیں اور صحرا میں سندھ گھاٹی تک آباد ہیں ۔ ان کا خاص پیشہ کاشتکاری اور چراہے ہیں اور تجارت کی طرف بھی راغب ہیں ۔ ان کے متعلق مشہور ہے کہ یہ بیلدار تھے ۔ انہوں نے آل یعنی تالاب پوکر یا پوشکر کا کھودا تھا اس لیے انہیں برہمن بنا دیا گیا اور پوکرن انہیں کہا جانے لگا اور یہ کدال کی پوجا کرتے ہیں ۔

پالیوار

پال جس کے معنی چرواہے کہ ہیں ۔ مگر یہ خود کو برہمن کہلاتے ہیں ۔ مگر ان کا پیشہ تجارت ہے اور یہ بھیڑوں کا اون اور گھی خرید کو باہر بھیجا کرتے تھے ۔ یہ خود بھی بھیڑیں بھی پالتے ہیں ۔ یہ اپنی ہی قوم میں شادی کرتے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے یہ گھوڑے کی باگ کی پرستش کرتے ہیں ۔ اس بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ستھی النسل ہیں اور ان کے گرو تھے اور اب انہوں نے تجارت شروع کردی ہے ۔

سوڈھا

صحرا میں بسنے والے سوڈھا جو کہ پڑھیار کی ایک شاخ ہیں ، انہوں نے ہی سکندر کا مقابلہ کیا تھا اور یونانیوں نے انہیں سوگڈی لکھا ہے ۔ صحرا میں جو سوڈھا آباد ہیں ان کی اکثریت ہندو ہے لیکن کچھ مسلمان بھی ہیں ۔ صحرا جہاں چند سال قحط پڑتا ہے تو سوڈھا قبائل سندھ چلے جاتے تھے ۔ وہاں کے مقامی باشندے اناج دیتے تھے اور سوڈھا اس کے بدلے اپنی لڑکیاں دے دیا کرتے تھے ۔ یہی وجہ دوسرے راجپوت انہیں نہ لڑکی دیتے ہیں اور نہ ان کی لڑکیاں لیتے ہیں ۔ یہاں صحرائی لڑکیاں اپنے حسن کے باعث مشہور تھیں اور کوئی سندھی کسی دھاتی لڑکی کے حسن کے بارے میں سنتا تو وہ اس کے اس باپ کے پاس غلہ بھیجواتا تھا ۔ اسے شاذ و نادر معنی کیا جاتا تھا اور عموماً اسے لڑکی دے دی جاتی تھی ۔

سوڈھا قوم نے مذہبی توہمات نہیں رکھتے ہیں ۔ وہ مسلمان کے ساتھ ایک برتن سے پانی پی لیتے ہیں اور ایک ساتھ حقہ پیتے ہیں ۔ البتہ حقہ کی مینال اتار دیتے ہیں ۔ یہ پہلے غارت گری اور ذاکہ زنی کرنے بھاولپور سے گجرات تک کرتے تھے ۔ یہ تلوار ساتھ رکھتے تھے مگر ان کا اصل ہتھیار گوبھن تھا ۔ ان لباس دوسرے باشندوں کی طرح کا ہوتا ہے ۔ البتہ پگڑی الگ ہوتے ہے ۔ جس وہ لوگ پہچانے جاتے ہیں ۔ ان کی ایک شاخ سمیجا اب مسلمان ہے ۔ جیسے جیسے دریائے سندھ کی گھاٹی کی طرف جائیں گے وہاں کے سوڈھا مسلمان ہیں ۔

بھٹی

یہ جلسمیر میں زیادہ آباد ہیں سندھ و پنجاب میں ملتے ہیں ۔ لیکن سندھ و پنجاب میں یہ مسلمان ہیں ۔ جب کہ جلسمیر میں یہ ہندو مذہب ہیں ۔ یہ یادو کی شاخ ہیں اور کا کہنا ہے کہ انہوں نے پنجاب پر حکومت کی ہے اور اس سے پہلے گجنی (غزنی) و زابل پر حکومت کرتے تھے ۔

دھات ۔ یعنی امر سومر

دھات قوم کا سب سے بڑا شہر امر کوٹ ہے ۔ جسے آج کل عمر کوٹ کہا جاتا ہے ۔ یہ عرصہ دراز سے پرمار قوم کا گڑھ رہا ہے ۔ اس علاقہ میں مشہور قوموں میں سوڈا ، امر اور سومر ہیں ۔ سومرو مسلمانون ہوگئے تھے اور انہوں نے سندھ پر طویل عرصہ تک حکمرانی کی تھی اور یہ تینوں پرمار کی شاخ ہیں ۔

دھیا

یہ قدیم قوم ہے اور صحرا میں آباد تھی ۔ دریائے سندھ و ستلج کے مابین آباد تھی اور راجپوتوں کے چھتیس شاہی خاندانوں میں شامل ہے ۔ غالباً یونانیوں کے داہی یہ اب بھی صحرائی علاقے میں بیکا نیر کی طرف آباد ہے اور ان کی پیشہ ٖغلہ بانی اور زراعت ہے ۔

جوہیا یا جویا

یہ قوم وہیں آباد تھی جہاں دہیا آباد تھی اور یہ دونوں قو میں یہ وہاں سے ریگستان میں شمال کی طرف پھیل گئیں ۔ پرانی تاریخوں میں انہیں ملک جنگل دیس کہا گیا ہے ۔ اس جنگل میں ہریانہ ، بھٹ اور ناگور شامل ہیں ۔ اب یہ پنجاب کے جنوبی حصہ اور سندھ کے صحرائی علاقے میں آباد ہیں اور مسلمان ہے ۔

سمیجا

یہ سوڈھوں کی ایک شاخ ہیں اور یہ ریگستان سے لے سدنھ کی گھاٹی تک آباد ہیں ۔ ان عادات وغیرہ دھات کی طرح ہیں ۔ یہ لوگ غلہ بانی اور مویشی پالتے ہیں اور ماضی میں یہ دوسری صحرائی قوموں کی طرح لوٹا ماری بھی کرتے تھے ۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ اپنے سر اور ڈارڑی کو نہیں کٹواٹے تھے ۔ ان کی عورتیں اپنی بد زبانی میں مشہور تھیں ۔

ڑانگڑ

یہ بھٹیوں کی شاخ ہیں اور مسلمان ہیں اور نہایت خراب بد وضع مشہور ہیں ۔ یہ کاشتکاری کرتے ہیں اور جانوروں کو جراتے ہیں ۔ یہ زیادہ تر جلسمیر اور بیکانیر کے علاقہ میں آباد ہیں ،

میر یا میریا

یہ جلسمیر کے علاقے میں آباد ہیں اور بھٹیوں کی ایک شاخ ہیں ۔ یہ بھٹیوں کی طرح عادات کے مالک ہیں ۔ یہ بھی زراعت اور غلہ بانی سے وابستہ ہیں ۔

مہر

یہ بیکانیر اور جلسمیر کی طرف آباد ہیں اور کچھ سندھ میں سکھر تک آباد ہیں مسلمان ہے ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جویوں کے ہم نسل ہیں ۔ اس طرح یہ بھی راجپوت ہوئے ۔ مگر جویا چھتیس راج کلی میں شامل ہیں ۔ ان پیشہ بھی کاشتکاری اور غلہ بانی ہے ۔

جونجو

یہ پڑھیار کی شاخ ہیں جو کہ چھتیس راج کلی میں شامل ہیں ۔ لیکن اس نام کا ابتدا لفظ جونا ہے جس کے معنی پرانا یا آزمایا ہوا کے ۔ مگر جون یا یون ہند آریائی میں یونانیوں کو کہا جاتا تھا اور سیتھیوں سے پہلے یعنی ۰۵۱ ق م میں یونانی سندھ پر حکومت کر رہے تھے ۔ کیا ایسا تو نہیں ہیں یہ یونانیوں کے اخلاف ہوں ۔

کھوسہ

ان کا شمار بلوچ قبائل میں ہوتا ہے اور ان کا نام بلوچ شاعری اور بلوچ قبائل میں ملتا ۔ لیکن ان کا نام پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ ہندر آریائی باشندے ۔ کیوں کہ یہ ترکیب خالص ہند آریائی ہے ۔ تاہم یہ بھی صحرائی علاقہ میں آباد ہیں اور تالپوروں کے دور میں یہ راجپوتانہ کے اندر جاکر لوٹا ماری کیا کرتے تھے ۔ اس پر انگریزیوں نے سختی سے تالپوروں سے انہیں روکنے کا کہا تھا ۔ کھوسکی شہر ان کا ہی بسایا ہوا ہے ۔

ڈاہری

ان کا شمار راجپوتوں کے چھتیس شاہی خاندانوں میں ہوتا ہے اور ہندووَں کے قدیم تذکروں میں ان کی ریاست سندھ کے علاقے میں بتائی ہے ۔ مگر نہ جانے کیوں سوڑلے نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ راجپوتانہ سے آئے ہیں ۔ حالانکہ یہ راجپوتانہ میں بالکل نہیں پائے جاتے ہیں ۔ ان کی بشتر آباد سندھ خاص پر اپر سندھ اور کچھ جنوبی پنجاب میں بھی آباد ہیں ۔ ڈھرکی شہر ان کے نام پر ہے ۔

سرائی

سرائی یعنی سرے یا شمالی باشندے کے ہیں اور یہ زیادہ تر کلہوڑوں کے لیے استعمال ہوئے ۔ کلہوڑوں کے دور میں یہ اعزازی کلمہ تھا ۔ مگر کلہوڑوں کے بعد اس کی اہمیت گھٹ گئی ۔ اب اس کا استعمال کم ہوتا ہے ۔ کلہوڑو بھی سرائی کا استعمال نہیں کرتے ہیں اور وہ اب کلہوڑو کے بجائے زیادہ تر اپنے لیے عباسی استعمال کرتے ہیں ۔

جٹ

سندھ میں آباد بشتر قدیم باشندے جٹ ہیں اور یہ مختلف ناموں سے آباد ہیں تاہم جٹ نام سے بھی صحرائی اور سندھ کی گھاٹیوں میں کثیر تعدا میں آباد ہیں ۔ جٹ جو کہ سیتھیوں کے اخلاف ہیں ۔ سیتھوں نے یہاں دوسو سال سے زیادہ عرصہ تک حکومت کی اور یہ علاقہ ان کی وجہ سے ہندو سیتھہ کہلاتا تھا ۔ ان کا پیشہ غلہ بانی خاص کر اونٹ چراہانا اور زراعت ہے ۔ جاتی شہر انہوں نے آباد کیا تھا ۔ جو جاٹ کسی اور نام سے موسوم ہیں وہ سماٹ کہلاتے ہیں ۔

سومرہ

پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ سومرہ پڑھیاڑ کی شاخ ہیں اور اومڑ و سومر دونوں کا ساتھ نام ملتا ہے ۔ یعنی یہ ہم نسل ہیں ۔ اگرچہ سومرہ مسلمان ہوگئے تھے اور انہوں سندھ کے مختلف علاقوں میں پانسو سال کے لگ بھگ حکمرانی کی ۔ ان کا پہلا درالریاست تھری تھا ۔ یہ ماتلی کے قریب تھا اور دریائے پران کے خشک ہونے کی وجہ سے ویران ہوگیا تھا ۔ اس کے بعد سومروں نے مہاتم تور یا محمد طور کو اپنا دالریاست بنایا تھا ۔ ان کی حکومت کو سموں نے ختم کیا تھا ۔

یہ تھر کے علاقے میں بھی آباد تھے اور ان کی آبادیوں کے کھنڈرات رہمکی بازار سے لے کر تھرپاکر کے علاقہ میں پچیس کوس تک پھیلے ہوئے ہیں اور یہ قصبہ یا گاؤں سمر نجن ماڑیوں یعنی سومرا کے گھر کہلاتے ہیں ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں