65

صحرائے تھر

دریائے سندھ کی وادی مشرق کی سمت تھر کے ریگستان سے گھری ہوئی ہے ۔ برصغیر کا یہ عظیم ریگستان تین سو میل وسعت کے ساتھ اپنی خاموشی اور تنہائی کی چادر میں جیسے جیسے بڑھتا ہے ویسے ویسے ہی بلند ہوتا جاتا ہے ۔ تا آنکہ کوہ آبو اور ارادلی کے پہاڑی سلسلے سے جاملتا ہے ۔

جنوب کی سمت تقریباًً جمراوَ ہیڈ کے عرض البد سے رن کچھ تک واضح ہے ۔ آگے شمال کی سمت میں ریت کے ٹیلے وادی کی سیلابی مٹی کے میدان میں اندر ملتے ہیں ۔ اس رتیلی سرحد کے شمال اور جنوب میں جو رد بدل ہوتا ہے وہ جنوبی مغربی مان سون پر منحصر ہوتا ہے ۔

یہ رگستان طبعی طور پر راجپوتانہ کا حصہ ہے ۔ ساحل کی طرف سے چلنے والی ہواؤں کے نتیجے میں جنوبی مغربی تھر کا ریگستان ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کی شکل میں بلند ہوگیا ہے اور یہ بھٹ کہلاتے ہیں ۔ یہ ہوا کے رخ پر جنوب مغرب سے شمال مشرق کے رخ پر پھیلے ہوئے ہیں ۔ ان ٹیلوں کے سلسلے کو جگہ جگہ رہت ڈھیر کاٹتے ہیں ۔ یہ سلسلہ تقریباً ڈیڑھ سو میل کے بعد باڑمیر سے آگے تک ملتا ہے ۔ یہ ریت ہوا سے اڑنے والی ہے ۔ اس لیے ان کی شکلیں اور محل بدلتے رہتے ہیں ۔ کسی بھاری سخت چیز کے ساتھ یا آڑ میں ریت جمع ہوتے ہوتے پہاڑی بن جاتی ۔ جس میں آڑ کی طرف عمودی ڈھلان بن جاتی ہے ۔ جس کی شکل گھوڑے کی نال کی سی ہوتی ہے ۔

یہ ہوا کافی تیز اور مسلسل جنوبی مغربی تھر میں چلتی رہتی ہے خاص کر رات کے وقت ۔ چنانچہ ان ٹیلوں کی درمیانی وادی ٹالی اور ڈہر کہلاتی ہے ہوا ان ریٹ اڑا دیتی ہے ۔ لیکن مان سون ست ہو تو یہ ریٹ ٹیلوں کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔ باڑہ میر سے آگے جنوب مغرب کی طرف ٹیلے ڈھلان شکل میں بن جاتے ہیں ۔ ایسی پہاڑیاں شمال میں بیکانیر تک چلی گئیں ہیں ۔

وسطی اور شمالی ریگستان میں بھٹ اور ترائی کا سلسلہ جنوبی مغربی اور شمالی مشرقی ہونے کے بجائے تقریباًً شمالی جنوبی ہیں ۔ بھٹ اور ترائی کی جگہ سیکڑوں مربع میل کے علاقہ میں ریت کے بڑے بڑے ڈھیر پھیلے ہوئے ہیں ۔ گہرے اور نرم ریت کے یہ پلیٹو دراڑیں کہلاتے ہیں اور ہر رخ کی ہوا کے ساتھ ان کی شکل بدلتی رہتی ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں ان پر نباتات کا اگنا ناممکن ہوجاتا ہے ۔

یہ جمع شدہ رہت صحرا میں بناتات کو پرورش رکھتی ہے ۔ اس ریت پر چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں اگی ہوتی ہیں ۔ یہ مٹیالے سبز سرخ جھنڈ پتوں سے آزاد کھپ ، بھوگ کی جھاڑیاں یابو ، لانی اور آگ کے پودے ہوتے ہیں ۔ ان پودوں میں زیادہ جسامت اور استعمال کڑر اور پیلوں کی جھاڑیوں کا ہوتا ہے ۔ کھبڑ عموماً کھاری زمین پر یا ترائی کی سخت زمین پر کنڈی اور بیر ہوتے ہیں ۔ کنووَں کے قریب کنڈی کا پودا اونچا ہوتا ہے لیکن ترائی میں پست ہوتا ہے

بے شمار اونٹ ، بکریاں اور دوسرے جانور ان جھایوں کو کھاتے ہیں ۔ ریگستان کی گھانس میدانی گھانسوں سے بہتر اور غذایت والی ہوتی ہے ۔ یہاں کئی ماہ تک سبزہ کا نشان نہیں ملتا ہے ۔ مگر جیسے بارش ہوتی ہے یک لخت ریت پر سبزے کی چادر پھیل جاتی ہے اور مویشیوں کے بڑے بڑے گلے ریگستان میں جھوڑدیے جاتے ہیں اور وہ گھاس کھا کر جلد موٹے ہوجاتے ہیں ۔

یہاں عام دنوں میں یہاں پانی کی شدید قلت رہی ہے ۔ اکثر انسانوں اور جانوروں کے لیے دو سے تین سو فٹ کہرے کنوَں سے پانی حاصل کیا جاتا ہے ۔ اس لیے کھیتی باڑی صرف وہاں ہوتی ہے جہاں ترائی میں یا جہاں پشتے بناکر بارش کے پانی کو محفوظ کیا گیا ہو ۔ اگر مناسب وقت پر مناسب بارش ہوجائے تو باجرہ اور دوسری بہت عمدہ فضیں حاصل ہوتی ہیں ۔ لیکن یہاں کے بشتر باشندے گلے بانی کرتے ہیں اور اپنے جانور ، گھی اور قالین وغیرہ فروخت کرکے وہاں سے اپنی ضرورت کا غلہ حاصل کرتے ہیں ۔

عجیب بات یہ اس صحرا میں کچھ جھیلیں بھی موجود ہیں ۔ لیکن انہیں میٹھا پانی کے تلاب کہنا زیادہ بہتر ہے ۔ یہ تالاب صحرا کے اندونی علاقہ میں ہیں ۔ البتہ کھار ، الکلی جھیلیں بیت سی ہیں ۔ وہ ایسے نشبوں میں واقع ہیں جنہیں گوچر (چراگاہ) کہا جاتا ہے ۔ دراڑوں کے کنارے پر یہ ڈھند عام طور پر کھاری یا لکلی ہیں ۔ لیکں جن مقامات پر ریت زرا انچی ہے اور پانی وہاں ٹہر جائے تو میٹھا ہوتا ہے ۔

یہاں صحرا میں دریاؤں کے نشانات بھی ملتے ہیں ۔ یہ دریا جو طبعاً سندھ کی وادی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کبھی جو یہاں بہتے تھے ۔ اب ان کی گزرگاہوں پر ریت نے قبصہ کر رکھا ہے ریگستان کے جنوبی حصہ میں نمک کے بڑے بڑے ذخیرے ہیں ۔ جنہیں برساتی نالوں نے جمع کر رکھا ہے ، جن کا پانی دھوپ میں خشک ہوجات ہے اور کچھ زمین میں جذب ہوجاتا ہے ۔

اس علاقوں کے باشندوں کے رہن سہن میں صدیوں میں کم ہی تبدیلیاں واقع ہوئیں ہیں ۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر چرواہے اور غلہ بان رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ اون کی کتائی ، کھالوں سے جمڑا بنانے کا کام بھی کرتے رہے ہیں ۔ زراعت اس ہی وقت ممکن ہوتی تھی جب یہان مناسب بارشیں ہوجائیں ۔ ان کے کھیت چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں ہیں ۔ جنہیں عموما اونٹ کی مدد سے ہل جوتا جاتا تھا ۔ یہاں کے لوگ گول گول چھوپڑیاں بنا کر رہتے ہیں ۔ جن میں لکڑیوں کی ضرورت پیش نہیں آتی ہے ۔ یہاں کی معیشت مویشیوں پر منحصر ہے ۔ اس لیے جس سال بارش نہیں ہو یا مسلسل دو سال تک کم مقدار میں ہو تو قحط کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں ۔ جب قحط پڑتا ہے تو زیادہ اموات میوشیوں کی ہوتی ہیں ۔ کیوں انہیں میدانی علاقواں میں لے جانے میں پس و پیش کرتے ہیں کہ شاید بارش ہوجائے اور جب بارش نہیں ہوتی ہے تو جانوروں میں اتنی سکت نہیں رہتی ہیں کہ وہ جل کر جاسکیں ۔ اس لیے انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر وہاں کے باشندے نکل جاتے ہیں ۔ اونٹ اور بکریاں کم ہلاکے ہوتی ہیں ۔ کیوں کہ یہ جھاڑیوں سے پانی کی کچھ مقدار حاصل کرلیتی ہیں ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں