48

سرداری نظام کا ارتقاء

پیکتولین کا کہنا کہ خانہ بدوش فرقہ جنگی تشکیل کے اصولوں پر وجود میں ّآتا تھا ۔ جس کا سربراہ سپہ سالار یا سردار ہوتا تھا ۔ ایک طرف چراگاہوں اور زمینوں پر دائمی جھگڑے ( مثال کے طور پر سیوستان ، گندھاوا کی زمینوں پر رند اور لاشاریوں درمیان ، مری اور بگٹیوں کے مابین اسی طرح سے کئی دوسرے قبائل کے مابین کئی سال تک چلنے والی جنگیں ) اور دوسری طرف زمینوں پر مقامی کسانوں کے جھگڑے اس بات کا سبب بنے کہ بلوچوں کے کوچی قبائل میں اس طرح کی جنگی تشکیل میں آجائے ۔ حلانکہ اس دستور انہوں نے منگولوں کے حملوں کے بعد اپنایا ہے ۔

بلوچ فرقوں کی تشکیلات جو جنگی اصولوں پر شروع ہوئی تھی بعد میں بہت حد تک حاکم گروہ کی تقویت کا باعث بنے ۔ جو سیاسی اور اقتصادی اقتدار کے مسلط ہونے اور مرکزیت پانے کی وجہ سے مویشیوں کے ڑیوروں کے زیادہ ہونے کے اندازے سے غلاموں اور قبضہ میں آئے ہوئے لوگوں (جاٹ ، راجپوت اور تاجک وغیرہ) کو لوٹنے کی وجہ سے دن بدن بڑھتا جاتا ۔

مگر بلوچوں کے بارے میں کوئی ایسی اطلاعات نہیں کہ انہوں یہ طریقہ کار ان قوموں کو محکوم بنانے کے لیے اپنایا ہے ۔ وہ تو ہر جگہ دوسروں کے بلا دست رہے ۔

الگ الگ گھرانوں کے مویشیویں کی تعداد جس طرح طبعی طور پر بڑھتی جاتی ، اسی طرح ان مویشیوں کی تعداد بھی بڑھتی جاتی ، جو پڑوسی قبیلوں اور زمینوں پر آباد کاشتکاری سے چھین لی جاتیں ۔ امیر ہوتے ہوئے سرداروں کی یہ کوشش ہوتی کہ کہ بہتر سے بہتر اور رقبہ کے لحاظ بڑی چراگاہوں کو قبضہ میں لائیں ۔

وقت گزرنے کے ساتھ قبیلوں کی چھوٹی شاخوں کی زمینوں کا ایک حصہ عملاً سرداروں کی ملکیت بن گیا ۔ جن زمینوں کو وہ سردار خود متعین کردہ ٹکروں میں بانٹا اور پھر خانہ بدوش فرقہ کے گھر اور ان کے جانوروں کےلیے مخصوص کردیتا ۔ بہت اچھی چرگاہیں خوبخود سردار کے حصہ میں آئیں اور ان پر بے چارے خانہ بدوش اس کی بکریاں چرانے لگے ۔

اٹھارویں صدی عیسویں کے اوائل میں سردار اپنے قبیلوں کی خانہ بدوشی کی راہبری کرتے تھے ۔ وہ گرمیوں اور سردیوں کےلیے ان کے نشیمن متعین کرتے تھے اور ان کی چراگاہیں مخصوص کرتے تھے ۔

خانہ بدوش سردار کے اقتدار کی مظبوطی کے سبب ایسے حالت پیدا ہوئے کہ چھوٹے طاءفہ حتیٰ قبیلے بھی مجبور ہوئے کہ وہ اپنے دائمی جھگڑوں کےلیے بلوچوں (کبھی کبھی غیر بلوچوں ) کی پناہ میں جائیں ۔ سردار ایسے طاءفوں کی حمایت کرتے تھے ۔ مگر اس کے بدلے وہ ان پر اپنی شرائط مسلط کردیتے تھے ، جو کہ یہ تھیں ۔ مویشیوں پر ٹیکس اور محصول ادا کرنا ، بیگار کی مختلف شکلوں میں حصہ لینا ، سرداروں کی طرف سے منظم کردہ حملوں اور جھگڑوں میں شرکت کرنا ۔ پناہ لینے والے مندرجہ ذیل قبیلے تھے ۔ کھوسہ قبیلہ میں چندانی کا طاءفہ ، لغاری میں پتیانی کا طایفہ اور مزراری میں متکانی قبیلہ وغیرہ وغیرہ ۔

ہمارے پاس جو منانع دستاب ہیں ، ان میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ بلوچ کب زمین پر آباد ہونا شروع ہوئے ، ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ جنوب مغربی علاقوں مکران اور دیگر ) میں اس پراسس کا آغاز تیرویں اور چودویں صدی عیسویں میں ہوا ۔ جب کہ شمالی اور مشرقی علاقوں میں آبادی کا عمل نسبتاً بہت بعد میں شروع ہوا ۔

پاکستانی بلوچستان میں بلوچوں کے زمین پر آباد ہونے کے حالات انہی بلوچوں کے آباد ہونے حالات سے مختلف تھے ، جو کہ ایرانی بلوچستان میں رہ گئے تھے اور بلوچستان کے بلوچ اکثر آزاد زمینوں یا ایسی زمینوں پر آباد ہوئے تھے ، جہاں قدیم باشندں کی تعداد کم تھی ۔ انہوں نے قدیم باشندوں کو جنوبی ساحلوں پر کی طرف دھکیل دیا تھا ۔ جب کہ پاکستانی بلوچستان کے لوگ ایسی زمینوں پر قبضہ کرکے آباد ہوئے تھے جو پہلے سے آباد تھیں ۔ ایسی صورت میں وہ زمینوں کے سابقہ مالکان (جٹ ، راجپوت اور دیگر) کو بھگا دیتے یا قتل کردیتے ۔ مگر عملاً انہیں غلام بنالیتے یا انہیں مربوط اجارہ گروں (رعیت ، ہمسایہ) میں بدل دیتے ۔

زمینوں پر آباد ہوتے وقت پورے قبیلے یا قبیلوں کے حصہ آباد ہوتے تھے ۔ اس طرح کی آباد کاری ازبک ، ترکمان ، قزاق اور ترکمان جیسی چھوٹی اقوام دیکھی جاسکتی ہے ۔ جب قدیم باشندوں کی زمین پر قبضہ کرلیتے تو اسے پہلے قبیلوں کے درمیان اور پھر قبیلوں کے درمیان تقسیم کردیتے تھے ۔

بلوچستان کے حالات میں جہاں آبی زمینیں بہت زیادہ نہیں ہیں ، قبیلوں کے طاءفوں کے گروہ (عموماً تیس تا چالیس گھرانوں تک) آباد ہوتے تھے ، جو بعد میں زراعتی فرقہ تشکیل دیتے تھے ۔ ایسے فرقوں کےلیے اول اول دریاؤں اور نالوں کے پانی سے زمینوں کی آبپاری نسبتاً آسان تھی ۔ یہ زمینیں فرقوں کے گھرانوں کے مابین تقسیم ہوچکی ہوں گی ۔

چوں کہ بلوچوں نے کاشت کاری کو بینادی پیشہ کی حثیت سے شروع نہیں کیا تھا ، اسلیے وہ زمینیں ان قدیم کاشت کاروں کو اجارہ پر دیدتے تھے ، جو اس علاقہ میں رہ گئے تھے ، ان مربوط اجارہ داروں یعنی رعیت ، ہمسایہ (جٹ ، دھوار اور دیگر) سے انہیں جو پیداوار ملتی تھی ۔ اسے فرقہ کے گھرانے آپس میں باٹ لیتے تھے ۔ فرقہ کے رکن بنجر زمینوں سے گھیریلو مویشیوں کی چراگاہ کی حثیت سے استفادہ حاصل کرتے تھے ۔

ایرانی اور پاکستانی بلوچستان کے بلوچوں کی آباد کاری اور کاشت کاری شروع کے عمل میں ایک دوسرے سے فرق رکھتے تھے ۔ ایرانی بلوچستان کے بلوچوں کی آباد کاری کے حالات اس طرح وجود میں آگئے تھے کہ ان کا ان قوموں سے کوئی رابطہ نہیں تھا ، کہ جن میں سرداری رشتہ وجود میں آگئے تھے ، مگر مشرقی بلوچستان کے بلوچوں کی آباد کاری کے حالات اس طرح پیدا ہوئے کہ انہوں نے جن زمینوں پر قبضہ کیا اور جن قوموں کو تسخیر (جٹ وغیرہ) کیا ، وہ بھی اور نیز سندھ اور پنجاب اور ہند کی پڑوسی ملکتوں میں ایک ترقی یافتہ زرعی کلچر موجود تھا ، یہ کلچر مشرقی بلوچستان کی اجتماعی معیشت کی تیز رفتار ترقی اور ان میں سرداری نظام میں ترقی کا سبب بنا ۔

اولین وقتوں میں پڑوسی ہندی ریاستوں کے ماضی کی طرح بلوچوں میں زمین قبیلے کی ملکیت ہوتی تھی ، مگر ان زمینوں کو الگ الگ گھرانوں کے گروپ آباد اور کاشت کار تھے ۔ بلوچستان کے شمال مشرقی علاقہ زرعی فرقہ تو بہت عرصہ تک دہلی اور کابل کے حکمرانوں کے ماتحت تھا ۔ مندرجہ ذیل خصوصیات رکھتا تھا ۔ کاشت کے ساتھ دست کاری کا پیشہ ، اجناس والی اقتصادیات کی موجودگی ، فرقہ میں زمینوں کی تقسیم اور اس طرح چراگاہوں اور بنجر زمینوں سے فرقہ کا استفادہ ۔

پیداواری قوتوں کی ترقی اور کام کی اجتماعی تقسیم کی وسعت کے سبب بلوچوں میں قبائلی رشتے آہستہ ختم ہونے لگے اور ہمسائیگی مظبوط ہوتی چلی گئی ۔ وہ زراعتی فرقوں کے ممبروں کے مشترکہ مفادات اور دلچسپیوں ، مثلاً اپنے گاؤں اور پیداوار کی حفاظت اور اس سے بڑھ کر پانی لگانے کے انتظامات کرنے اور مکمل نظام کے ساتھ انہیں برقرار رکھنے کی بنیاد پر متحد ہوئے ۔ ایک ہی نخلستان میں زمینیں رکھنے والے بلوچوں کے کچھ گروپوں نے زراعتی ہمسایہ معاشرہ بنایا ۔ یہ معاشرہ بقول کارل مارکس کے ، آزاد لوگوں کا اولین اجتماعی اتحادیہ ہے جو آپس میں خونی رشتہ نہیں رکھتا ۔

اس طرح کے اجتماعی معاشرے پانی لگانے کے انتظامات ، راستہ بنانے اور انہیں ٹھیک رکھنے ، معاشرے کے اراکین کےلیے گھر بنانے جیسے مسائل کرتے تھے ۔

بلوچوں کے قبائلی رشتوں میں یہ کمزوری قبیلوں حتیٰ کے قبیلوں کی الگ الگ شاخوں کی علحیدیگی کا سبب بنی ۔ مثال کے طور پر رند مکران سے نقل مکانی کرکے خاران ، چاغی ، سیوی ، کیچ گنداوہ اور دیگر علاقوں میں دریائے سندھ کے داہنے کناروں تک گرہوں کی شکل میں آباد ہوئے ۔ وہ ان آباد کاریوں میں اصل باشندوں (جٹ وغیرہ) سے زراعتی طریقہ سیکھے ۔ ناروئی اکثر مغربی بلوچستان کی زمین آباد کرتے ہیں ، مگر وہ مکران ، خاران ، نوشکی کے مختلف علاقوں میں دیکے جاسکتے ہیں ۔ ناروئی کا بشتر حصہ مغربی بلوچستان اور سیستان میں رہ گیا ۔

چونکہ ایک جگہ پر قابل کاشت زمین زیادہ نہیں ہوتی ، اسلیے ایک قبیلہ کی شاخیں الگ الگ جگہوں پر آباد ہوجائیں ۔ نہ صرف یہ کہ ان کے سابقہ قبائلی رشتوں میں جدائی آگئی تھی ، بلکہ اس علحیدگی کے نتیجہ میں بلوچوں کے زراعتی فرقے اور دوسرے قبائلی رشتوں میں جدائی آگئی تھی ۔ بلکہ اس علحیدگی کے نتیجہ میں بلوچوں کے زراعتی فرقہ ، دوسرے قبیلوں حتیٰ کہ غیر بلوچ قبیلوں کے مہاجروں شامل ہوتے رہےنے تعداد میں بڑے ہوجاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر شمالی بلوچستان میں آباد علاقہ اور گاؤں کو ’باتو‘ کے نام سے یا کہے جاتے ہیں ۔ جو بلوچ زبان میں اکٹھا مشترکہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ نوشکی میں اس طرح کے گاؤں میں زراعتی فرقہ کے اراکین جدا جدا قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے ۔

قبیلوں کے سردار کی طرف سے قبضہ کرنے سے پہلے اجارہ گر (رعیت یا ہمسایہ) پیداوار کا ایک حصہ اجتماعی مالک یعنی فرقہ کو دیتا تھا ، قبضہ کے بعد زمینیں ان کے انفردی مالکوں یعنی سرداروں سے اجارہ پر لینے لگے ۔

قبیلوی اتحاد ہو جانے کے عمل مکمل ہوجانے اور بلوچوں کے علاقائی اتحاد وجود میں آجانے ، نیز سرداروں ;8; ، سرداروں کے سیاسی اور اقتصادی اقتدار کے مظبوط ہو جانے سے مشرقی بلوچستان میں سرداری رشتوں میں برتری آگئی ۔ ان رشتوں کی خاص بات یہ تھی ، کہ سرداروں کی زمینیں ، چراگاہیں اور بھیڑ بکریوں کے ڑیور زیادہ ہوگئے ۔ کچھ سرداروں نے زراعتی فرقہ کے غلے کے غلیستان پر قبضہ کرلیا اور ان پر اپنی حاکیمت مسلط کردی ۔ اس کے ساتھ مستقل مورثی حاکموں کی شکل وجود میں آگئی ۔

بلوچوں کے اس معاشرے کو ( جہاں آباد کاری ہوئی تھی اور کاشتکاری کی اساسی حثیت تسلیم کرلی گئی ) مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔

( ۱ ) خوشحال گھرانوں کا چھوٹا گروپ ۔ ۔ ۔ جو زمینوں کی بڑی پٹی رکھتا تھا اور اجار گروں ( رعیت ، ہمسایہ ) کی محنت کا استحصال کرتا تھا ۔

( ۲ ) فرقوں کے مساوی حقوق کے ممبروں کا گروپ ۔ ۔ ۔ خصوصی حثیت کے مالک تھے ، جنہیں زمینوں کی پٹیاں موروثی طور پر مل گئیں تھیں ۔

( ۳ ) رعیت اور ہمسایہ ۔ ۔ ۔ ۔ غیر مساوی حقوق والے اجارہ گر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ زیادہ تر ابتدا میں نسب کے لحاظ سے غیر بلوچ تھے ۔

( ۴ )غلام ،،،،

قبیلے کے سربراہ اور ٹمندار بلوچوں میں بہت اثر اور مقام رکھتے ہیں ۔ بلوچ پڑوسی پشتونوں ، کردوں اور براہیوں کی طرح قسم کھاتے وقت قران پر قسم نہیں اٹھاتے ہیں ، بلکہ قبیلے کے سربراہ کے سر یا ڈارھی کی قسم کھاتے ہیں ۔

ایرانی مصنفوں کی تصانیف کے مطابق مغربی بلوچستان میں ماضی قریب تک صرف اپنے سرداروں اور میروں کے تابع ہیں اور آنکھ بند کر کے ان پر اپنا عقیدہ رکھتے ہیں

بلوچ قبیلہ دوسری خانہ بدوش قوموں کی طرح پانے زمانے سے ہی اس طرح کے معاشروں میں تبدیل ہوئے کہ جدی طرز سے اس بات کی پابند نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ قبیلہ کے اندر شادیاں کرلیں ۔

بلوچ اپنے اندر قبائل نسلی لحاظ سے ان عناصر کوجذب کرلیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے بنیادی طور پر وہ شادی کے رواج میں دوسرے پڑوسی قبیلوں سے فرق رکھتے ہیں ۔ مثال کے طور پر بلوچ ہر مسلمان عورت سے شادی کرسکتا ہے اور یہ لازمی نہیں ہوتا ہے کہ عورت کس قومیت سے تعلق رکھتی ہے ۔

قبائلی ساخت میں سولویں صدی صے انیسویں صدی تک جاگیرداری رشتے تشکیل پاگئے ، مگر انیسویں صدی کے اوخر سے سرمایا دارانہ رشتوں کی بڑہوتری شروع ہوتی ہے ، جس کے ساتھ ساتھ بلوچوں کی قومی وحدت تقویت پانے لگی ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں