82

تحریر اور اس کا ارتقاء

 

ٍ ہم اپنے علم، احساسات اور جذبات کو کاغذ یا کسی اور چیز پر قلمبند کرنے کا نام تحریر ہے۔ قدیم تحریریں اشاروں پر مبنی تھیں اسے جب ضروری باتوں کو محفوظ کرنے اور دوسرون تک پہنچانے کی ضرورت ہوئی تو اس نے کچھ نشانات مقرر کرلیے۔ جو آج بھی موجود ہیں۔ مثلاً تیر کا نشان۔ تحریر اپنی تقریر کو محفوظ کرنے کا ذریعہ ہے۔ جب کہ زبان آوازوں کا ایک مرکب ہے اور ان مرکب آوازوں سے الفاظ بنتے ہیں۔ جس کو ادا کرنے سے اس چیز کی تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ یعنی زبان اور تحریر ایک فرضی چیزیں۔ زبان الفاظوں کی ادائیگی کا نام ہے اور تحریر انہیں قلمبند کرنے کا نام ہے۔ بعض تحریریں تصویروں سے بنی ہیں ان میں جاپانی اور چینی کورین وغیرہ۔ پھر یہ تصویریں مختصر ہوکر نشان بن گیا جس کو ملانے سے تحریر وجود میں آئی۔
الف بے کی ایجاد میں ایک خاص اصول سے مدد لی گئی مثلاًً کسی لفظ کے شروع کے حروف کو لے کر باقی حصہ کو حذف کر دیا گیا۔ چنانچہ الف بیل کے شروع کی آواز لیتے ب بیت کی شکل ہے۔ اس طرح حروف تہجی ایجاد کئے گئے۔
یعنی تحریر کے ارتقاء کی تین مزلیں ہیں (۱) لفظی رکنی دور Word Syllabid Stage جب ہر نشانات لفظ کا مفہوم دیتا تھا۔ البتہ بعض الفاظ ٹکڑوں میں تقسیم کرکے لکھے جاتے تھے (۲) رکنی دور Syllabid Stageجب لفظوں کی علامات ترک کردی گئیں اور صرف رکنی علامات استعال کرتے تھے اور نشانات کی تعداد گھٹ گئی (۳) الف بائی دور Alphabetic Stage اس منزل میں لفظوں کے ٹکڑے حروف صحیح اور علت میں تقسم ہوگئے اور نشانات کی تعدادا میں مزید کمی ہوگئی۔
خط تعداد نشانات رکنی علامات
سمیری (عراق) تقریباًً 600 تقریبا 100 تا 150
ہیروغلفی (مصر) تقریبا 700 تقریبا 100
چینی تقریبا 50.000 تقریبا 62
اس طرح رکنی نشانات فارس میخی رسم الخط 14، قبرصی خط 56، جاپانی 47، کری ہند 8 ہیں۔
سب سے پہلے اشارے وجود میں آئے اس کے بعد تصویریں اور سب سے آخر میں تحریر وجود میں آئی۔ تحریر بھی تصویر کا ارتقاء ہے۔ تحریر میں وقت کے ساتھ بہت تبلیاں آئیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہمارے لکھنے کا سامان بدلتا گیا ہے۔ یہ پتھر کی سلوں، مٹی کی اینٹوں، لکڑی، دحاتی تختیوں، چمڑے، پیپرس اور کاغذ پر ہم لکھتے رہے ہیں۔ تحریر بھی ان ضرورتوں کے مطابق بدلتی رہی ہے۔ ہندوؤں دیوناگری بھی ایک ایسا خط ہے جو کہ پہلے بھوج پتوں لکھا جاتا تھا۔ اس لیے اس میں ایسے حروف ہیں جو کہ کسی سخت نوکدار چیز سے لکھا جاتا تھا۔ جب کہ ہماری خط گولائی میں کیوں کہ مسلمانوں نے اسے ابتدا سے ہی مختلف چیزوں پر اسے قلم سے لکھنا شروع کردیا تھا۔ پہلے یہ بھی چوکور تھا اور بعد میں جب یہ کاغذ پر لکھا جانے لگا تو اس میں گولائی آگئی ہے۔
تحریر کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک لکھا جاتا ہے اور اس میں حروفوں سے کام لیا جاتا ہے۔ دوسری تصویر جنہیں پڑھا نہیں جاتا مگر دیکھ کر سمجھ لیا جاتا ہے۔ قدیم انسان حروفوں کے بجائے تصویروں سے اظہار خیال کرتا تھا۔ تیسرا طریقہ اشاروں کا ہے۔ چشم ابرو یا ہاتھ کا اشارہ۔ ہم بہت سی باتیں اشاروں سمجھاتے ہیں اور اس بنیاد پر گونگے بہروں کی زبان ایجاد ہوئی۔ کسی بھی اشتہار میں ان تینوں چیزوں سے کام لیا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں تحریر عطیہ خداوندی اور دیوتاؤں کی ایجاد سمجھتے تھے۔ مصریوں کے مطابق فن تحریر کا موجد تھوتھ دیوتا تھا۔ جس کا جسم انسان کا اور سر ایک پرنے آئی پس کا تھا، اس دیوتا کو ریاضی اور علم نجوم کا بانی سمجھتے تھے۔ عراق کے قدیم باشندے تحریر کو اونیسس دیوتا سے منسوب کرتے تھے۔ اس کا جسم مچھلی کا تھا اور سر انسانوں کا اور یہ سمندر سے نکل کر انسان کو تحریر سیکھاتا تھا۔
اظہار
ابتدا میں انسان نے جب ہوش سمبھالا تو جلد ہی وہ اتقاء کے اس مرحلے پر پہنچ گیا کہ زبانیں وجود میں آگئیں۔ ابتدا میں اس نے اپنے احسات اور جذبات کے اظہار لیے چٹانوں اور غاروں کی دیواروں پر مختلف طریقوں سے تصوویریں بنائیں اور اس کے ذریعہ اس نے اپنے جذبات، واقعات اور حالات کی منظر کشی کی۔ آج بھی اس قدیم مصوری کے بہت شاہکار یورپ ایشاء اور دنیا کے مختلف حصوں میں محفوظ ہیں۔ پاکستان میں یہ آثار چیلاس کے علاقہ میں دریائے سندھ کے کنارے ملتے ہیں۔
مصری تحری ارتقاء
قدیم انسان نے گو اس طرح اپنے جذبات، ماحول اور حالات کا اظہار کیا۔ مگر اس میں قباحت یہ تھی کہ اس کے ذریعہ تفصیلات نہیں دے نہیں سکتا تھا۔ اس کے لیے بڑے پتھروں اور دیواروں کا ہونا ضروری تھا اور ان تصویروں کے ذریعہ مکمل تفصیل اور جذبات سامنے نہیں ہوسکتے تھے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے مصریوں نے پیش قدمی کی۔ انہوں نے تین ہزار قبل مسیح یعنی پہلے خاندان کی حکومت کے آغاز میں اس تصویری فن کو ترقی دی اور ابتدا میں تحریر کی بنیاد تصویروں پر رکھیں۔ مثلاً کسی مکان کو بتانا ہوتا تھا تو ایک مستطیل شکل مکان کے لیے مخصوص کر دی گئی۔ مکان کو مصری زبان میں فرو Fero کہتے تھے۔ اس طرح انہوں نے کچھ اور تصویر بنائیں گئیں جو مفہوم کو واضح کرتی تھیں۔ مثلاً شیر کے اگلے پاؤں سے مراد برتری اور عظمت تھا۔ اس طرح بعض ایسے نقوش بنائے گئے جو دو اشیاء یا مفہوموں کو بتاتے تھے۔ مثلاً مصری زبان میں ’نیفر‘ بربط کو کہتے تھے اور ’نوفر‘ کے معنی اچھے کہتے ہیں۔ اب بربط کی شکل بنادی گئی اور اس سے دونوں مفہوم ’نیفر‘ اور ’نوفر‘ یعنی بربط اور اچھا ادا ہونے لگے۔ کچھ عرصہ کے بعد مزید ترقی کی۔ مثلاً فرو نے کچھ عرصہ بعد ’ف، ر‘ حروف کی صورت اختیار کرلی اور اس سے ایک سے زیادہ آوازیں ’فَر، فِر، فُر پھر فا، فے، فو‘ بنائے جانے لگیں۔ اس طرح بربط سے ’ن، ف، ر‘ کی آوازیں نکالیں۔ اس طرح مصریوں نے چوبیس نشانات یا تصاویر ایجاد کرلیے تھے۔ ان سے ہر ایک مخصوص آواز کے لیے استعال ہونے لگے۔ چونکہ یہ نشانات تصویر نما ہوتے تھے اس لیے ان تحریروں کو تصویر نما ہیرو گرافگ تحریر کہے ہیں۔ نیز وہ نشانات حروف تہجی کو نہیں بلکہ مخصوص آواز کو بتاتے تھے۔ اس رسم الخط کو صوتی رسم کرسیو الخط کے نام سے موسوم کیا گیا۔
اہل مصر نے اس فن کو ایجاد کرنے کے بعد اس میں بڑی ترقی دی اور اس میں جدتیں کیں اور رفتہ رفتہ اس قابل کرلیا کہ تحریر کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے لگا۔ اس میں تمام اور ہر قسم کی تحریریں لکھنے لگے۔ اس میں بادشاہوں کے حکم نامے، ان کے کارنامے، تجارتی معاہدے، حسابات، مذہبی مناجاتیں اور دوسری تحریریں شامل تھیں۔
فنیقی تحریر
اس فن تحریر میں مزید ترقی فنیقیوں دی۔ وہ تاجر پیشہ تھے اور تاجرہونے کی وجہ سے انہیں تحریر کی شدید ضرورت تھی۔ اس لیے کاروباری ضرورت کی وجہ انہوں نے پہلے مصریوں کی تصویر نما علامات کو اختیار کیا اور اسے اپنی تحریروں میں استعمال کرنے لگے۔ مگر مصری علامات حروف کو نہیں بلکہ اشیاء کو ظاہر کرتی تھیں۔ اس لیے ان میں تحریر کرنا سخت دشوار تھا۔ اس لیے فنقیوں نے ان علامات کو حروف میں تبدیل کر دیا۔ یعنی ان علامات سے بجائے اشیاء کے حروف مراد لیے جانے لگے۔ مثلاً مصری تحریر میں بیل کے سر کی جو شکل تھی۔ اس کو انہوں نے ’الف‘ اور مکان کی جو شکل تھی اس کو ’ب‘ قرار دیا۔ اس طرح انہوں نے چھبیس حروف ایجاد کرلیے۔ اس کے بعد انہوں نے فن تحریر کو اتنی ترقی دی کہ وہ اس میدان میں تمام قوموں کے رہنما بن گئے۔ یونانیوں نے فنیقیوں سے اس تحریر کو حاصل کرکے الف کو الفہ اور بے کو بیٹا کا نام دیا اور اسے پورے یورپ میں رائج کیا۔ انگریزی کا الفہ بیٹ اسی کا مرکب ہے۔ جس سے مراد حروف تہجی لیے جاتے ہیں۔ یوں قدیم تاریخ میں فن تحریر اور علمی ترقی میں فنیقیوں کا بڑا حصہ ہے۔
آرامی فن تحریر
آرامی بھی تاجر تھے۔ انہوں نے بھی کاروباری ضرورت کے تحت شام میں فنیقیوں سے حروف تہجی لیے اور ضرورت کے تحت اس میں ترمیم کرکے آرامی رسم الخط ایجاد کیا اور دوسرے شہروں میں پہنچایا۔ اس سے جہاں فن تحریر کو ترقی حاصل ہوئی وہاں آرامی زبان کو بھی عروج حاصل ہوا۔ پھر آشوریوں، کلدانیوں اور ایرانیوں نے آرامیوں سے نے براہ راست ان حروف تہجی کو حاصل کرکے اپنے دفاتر میں رائج کیا۔ ایرانی فتحوحات نے اس زبان کو پھیلا دیا اور آرمی زبان و رسم الخط مصر سے لے کر سندھ تک پھیل گئی۔ چھٹی اور چوتھی قبل مسیح کے دوران عبرانیوں نے اسے حاصل کیا اور اس میں ترمیم کرکے ایک نیا عبرانی رسم الخط جاری کیا جس میں بائیبل لکھی گئی اور حضرت عیسیٰ کی زبان آرامی تھی۔ شمالی عربوں نے نبطیوں سے جنہوں نے آرامیوں سے حاصل کیا تھا اس رسم الخط لیا اور اس میں تبدیلی کر کے عربی رسم الخط میں ڈھالا یہاں تک یہ موجودہ رسم الخط بن گیا۔ آرامی رسم الخط ایرانیوں سے ہندوستان نے لیا اور اس ترمیم کرکے اس سے خروشتی رسم الخط بنایا گیا جو کہ افغانستان اور پنجاب میں رائج تھا۔ اس خروشتی رسم الخط میں ترمیم کرکے اسے براہمی رسم الخط بنایا گیا۔ براہمی میں ترمیم کرکے سنسکرت اور دوسرے رسم الخظ بنائے گئے۔ پھر بدھوں کے ذریعہ اس رسم الخط نے چین اور کوریا تک رسائی حاصل کی۔ اس طرح فنیقی حروف تہجی ایک طرف آرامیوں کے ذریعہ مشرقی بعید تک پہنچے اور دوسری طرف یونانیوں کے توسط سے یورپ اور پھر امریکہ میں داخل ہوئے۔
ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ سنسکرت دیوتاؤں کی زبان دیوناگری کو دیوتاؤں کا خط ہے۔ وہ دیوناگری خط کا پیشرو برہمی خط کو برہما کی ایجاد مانتے ہیں۔
تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں