78

تیلی

یہ ایک امن پسند اور محنتی قوم ہے ۔ بھارت میں بشتر تیلی اب بھی ہندو مذہب ہیں ، تاہم پاکستان میں تیلی مسلمان ہیں ۔ ریزلے کی رائے میں اس پیشے کے لوگ قدیم اور وسطہ دور میں لازمی طور پر اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہوں گے ۔ کیوں کہ امور خانہ داری اور دوسرے تہواروں کے موقع پر ہر ہندو تیل کا استعمال کرتا ہے اور تیل نکالنے کا کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی سماجی پاکزگی غیز مشتبہ ہوتی ۔ لیکن ہندوؤں میں کچی سبزی اور اناج تو نیچ ذات سے مول لیا جاتا ہے اور اس میں اعلیٰ ذات کے لوگ چھوت چھات نہیں کرتے ہیں ۔

            ایپسن کا کہنا ہے کہ تیلی کی سماجی حثیت بہت پست اور شاید جولاہے کہ برابر ہے اور اس کا شمار اہیروں اور گھوسیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ تیلی ایک کمتر زات ہے لیکن ان صاف رنگ بھی پایا جاتا ہے ، ان کی بڑی تعداد صاف رنگ اور کھڑا نقشہ رکھتی ہے اور انہیں دیکھو تو ایسا لگتا ہے کہ کسی  پٹھان کو دیکھ رہے ہیں ۔ اس طرح ان کی عورتیں بھی گورے رنگ کی اور خوبصورت ہوتی ہیں ۔ لیکن ان کا شمار جاٹ سے بھی کمتر نچلی ذاتوں میں ہوتا ہے ۔ یہ لازمی طور پر مسلمانوں سے پہلے اور ہنوں گجروں کے ساتھ بر صغیر آئے ہیں ۔ یہ جنگجو نہیں ہیں اور نہ انہوں نے برہمنوں بالادستی کو قبول کیا اس لیے پست قبائل میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔

            مسلمان تیلیوں میں برادری کا نظام موجود ہے اور ان میں اب بھی بہت سی رسومات بھی ہندوؤں کی پائی جاتی ہے ۔ یہ پہلے یہ کولھو کے ذریعہ تیل نکالتے تھے مگر مشینوں کے آمد نے ان کے اس کام کو ختم کردیا ہے اور اب بہت کم تیلی تیل نکالنے کا کام کرتے ہیں ۔ ان میں بہت سوں نے دودھ کی فروخت یا سبزی پھل کی فروخت اور کریانہ کی دوکانداری بھی کرنے لگے ہیں ۔ ان میں سے بہت سوں نے مرغی کے گوشت کا فروخت کرنا شروع کردیا ہے ۔ ان میں تعلیم کا رجحان کم ہے ۔ یہ شادی عموماً اپنی برادری میں کرتے ہیں ۔ مگر برادری سے باہر اگر ان کی لڑکیوں کو اچھا رشتہ ملے تو خوشی خوشی شادی کردیتے ۔ دور جدید میں مسلمان تیلیوں نے اپنی ذات ملک بتانے لگے ہیں ۔ 

ماخذ

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں