71

کلہوڑوں کا شجرہ نسب

            سندھ میں ۱۱۱۱ ہجری میں سندھ میں مغل گورنروں کا سلسلہ ختم ہوا اور سندھ کی حکومت ایک مقامی خاندان کلہوڑوں کے سپرد کردی گئی ۔ کلہوڑوں کا دعویٰ ہے کہ وہ حضور ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ کی نسل سے ہیں ۔ جب انگریز مورخین کا کہنا ہے کہ یہ مقامی باشندے ہیں لہذا اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

            اس خاندان کے معتدد شجرہ نسب ملتے ہیں ، ان شجرہ نسب میں ابہام بھی ہے ۔ مولانا غلام رسول مہر نے ان شجروں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان شجروں میں کوئی شجرہ ایسا نہیں ہے جس میں ضعف اور اختلال نہیں ہے ۔ لیکن اکثر شجروں میں ایک گونا اشتراک پایا جاتا ہے ، اس لیے ان کی عباسیت سے انکار مناسب نہیں ہے ۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ کلہوڑے اور داؤد پوترے عباسی ہیں اور وہ اپنے شجرہ نسب کو محفوظ نہیں رکھ سکے ۔

            لیکن یہ سارے دلائل قیاسی ہیں اور یہی وجہ ہے انگریز مورخین نے ان کے عباسی ہونے انکار کیا ہے ۔ مثلاً برٹن لکھتا ہے کہ کلہوڑے اصل میں چنہ یعنی سندھی ہیں ۔ اس لیے سمجھنا چاہیے کہ ہندؤں سے مسلمان ہوئے ہیں ۔ جب انہوں نے امتیاز حاصل کرلیا تو بنی عباس کا استحْقاق پیش کردیا ۔ لیکن علماء کے نذدیک ان کا شجرہ نسب عباسیت کے انتساب میں بری طرح ناکام ثابت ہوا ۔ اس پر انہوں نے اپنے آدمی ’سہرا خطیبہ‘ بھیجے تاکہ وہاں کے مشائح کے پاس کے جو سندیں ہیں ان کی نقل حاصل کرلیں ۔ مشائح نے تامل کیا تو ان کی جائیدادیں ضبط کرلیں ، ان کے گاؤں تباہ کرڈالے اور تانبے کی ان تختیوں کو اکھاڑ کر لے گئے ، جن پر شجرہ نسب ثبت تھا ۔ اس طرح وہ حضرت عباس کے اخلاف بن گئے اور مرشد قرار پائے ۔

            یہاں خیال رہے کلہوڑوں کے جو نسب نامے ملتے ہیں ان میں اسلاف کی تعداد متعین نہیں ہے ۔ مثلاً ایک شجرہ نسب میں چنہ خان کو عباسی خلیفہ مامون کی چوتھی پیڑی میں سے بتایا گیا ہے ۔ اس طرح ایک شجرہ نسب میں خلیفہ منتسصر باللہ تک لے گیا ہے ۔ پھر جو نام آتے ہیں ان میں سلطان کا کلمہ آتا ہے پھر جو نام آتے ہیں وہ مقامی ہیں اور اگرچہ ان کی عرفیت عربی بتائی گئی ہے اور ان ناموں کے ساتھ خان کا لائقہ بھی آیا ہے ۔

            اس شجرہ نسب میں سلطان کا کلمہ استعمال ہوا ہے وہ برصغیر میں ترکوں کی آمد سے پہلے رائج نہیں ہوا تھا ۔ اس طرح سلطان کا کلمہ پہلے ناموں میں نہیں استعمال ہوتا تھا بلکہ کسی بھی ریاست کے اس حکمران کے ناموں میں آتا تھا جس کو عباسیوں نے حکمرانی کی سند دی تھی ۔ اس طرح یہ کلمہ اس بات کی نشادہی کرتا تھا کہ یہ حکمرانی کا استحقاق رکھتا ہے اور یہ کلمہ منگولوں کے حملوں سے پہلے ناموں میں استعمال نہیں ہوا ہے ۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ تمام شجرہ نسب سماع پر موقوف ہیں ۔

            برٹن کے دعویٰ کے مطابق ’سہرا خطیہ‘ کے مشائح کا پتہ چل جائے تو یہ معمہ حل ہوسکتا ہے ، لیکن اس کے باوجود اس شجرہ نسب میں جو مقامی نام جو درج ہیں وہ بہت اہمیت کے حامل ہیں اور انہیں ان کی عرفیت بتائی گئی ہے ۔ اگر ہم سومروں اور سموں کے ناموں کو دیکھیں تو ان کے اصل نام کے ساتھ القاب لگے ہوئے ہیں جو انہوں نے حکمران بنے کے بعد اپنے اصل ناموں کے ساتھ لگائے ہیں ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شجرہ نسب میں جو مقامی نام ہے وہ حقیقی ہیں اور ان کے ساتھ جو عربی القاب لگائے گئے ہیں وہ بعد کی پیداوار ہیں ۔ جب کہ حقیقت میں یہ اصلی نام ہیں ۔

            ان ناموں میں ایک نام چنہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور غالباً اس کی بناء پر انگریزوں نے کلہوڑں کو چنہ کی نسل سے بتایا ہے غالباً یہ درست نہیں ہے ۔ چنہ جن کو جیمز ٹاڈ نے راجپوت بتایا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ ناپید ہوگئے ہیں اس کو غالباً سندھ کے چنوں کے بارے میں علم نہیں تھا ۔ راجپوتوں اور جاٹوں دستور تھا کہ وہ نام دوسرے جاٹ یا راجپوت قبائل کے نام بھی رکھے جاتے تھے ۔ آپ راجپوتوں کے ناموں کا مطالعہ کریں آپ کو ایسے نام ملیں گے مگر داس وغیرہ کا نام جس کے معنی غلام کہ نہیں ملیں گے ۔

            جب کہ کلہوڑا جس کے معنی کلہاڑی کے ہیں اور برصغیر میں اس کا عام دستور ہے ۔ یہ بھی جاٹوں کا عام دستور ہے وہ مختلف اشیا ، مناظر فطرت اور اشیا پر نام رکھتے ہیں ۔ ایسے نام افغانستان سے برصغیر تک میں عام ملتے ہیں ۔ سندھ پر کلہوڑوں کے بعد تالپوروں نے حکومت کی ۔ ان کے نام کا مطلب تال کی اولاد ہے اور تال یا ٹال کے معنی لکڑی کہ ہیں ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کلہوڑے جاٹ نسل ہیں کیوں کہ ان کا نسلی نام بھی کلہوڑا گیا ہے ۔ عربی اور تورانی نام انہوں نے عروج حاصل کرنے کا اپنے شجرہ نسب میں پیوست کئے ہیں اور عربی ، تورانی اور ایرانی نسل سے تعلق یا بیرونی النسل ہونے کا دعویٰ تو برصغیر کے مسلمانوں میں عام دستور ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔

            مری اور گرد نواع کے عباسی

            عباسی جو مری ہزارہ روالپنڈی اور جہلم کے زیریں علاقہ میں آبادی ہیں ۔ ابسن کا کہنا ہے کہ یہاں بہت سے قبائل جن میں دھوند )دھونڈ( ، ستی ، کیتوال ، دھنیال ، بکھرال ، بدھال ، اپسیال ، کھروال ، کنیال اور کہوٹ وغیرہ قبائل جہلم اس طرف کے پہاڑی علاقہ میں آباد ہیں اور ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سب نے بیرونی نژاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس پر ٹی دبلیو ٹالبورٹ نے حیرت کا اظہار کیا اور اس کہنا ہے حیرت ہے یہاں کسی قبیلے دعویٰ یہ دعویٰ نہیں ہے کہ اس تعلق اسی سرزمین سے ہے ۔

            ۱۸۸۵ء؁ کی مردم شماری تک ان کا دعوی تھا کہ وہ رسول اللہ کے چچا حضرت عباس کی اولاد میں سے ہیں ۔ مگر اس وقت تک ڈھونڈ کہلاتے تھے اور عباسی بعد میں کہلوائے ۔ ان کی ایک روایت کے مطابق ان کا مورث اعلی تخت خان تیمور کے ساتھ دہلی سے آیا تھا اور شاہ جہاں کے دور میں اس کا بیٹا ژوارب خان کہوٹہ آیا ۔ یہاں اس نے اور جدوال ، دھوند ، سرار اور تناولی کا بانی بنا ، اس کا بیٹا کھلورا یا کولو رائے کشمیر گیا جس نے وہاں ایک کشمیری لڑکی سے شادی کی اور اس کے بطن سے دھوند قبیلہ وجود آیا اور ایک کیتھوال عورت سے اس کے ناجائز تعلقات تھے ۔ جس سے ایک لڑکے نے جنم لیا جس سے ستی قبیلہ وجود میں آیا ۔ لیکن ستیوں کا کہنا ہے وہ نوشیرواں کی نسل سے ہیں ۔ یہ کہانی بتاتی ہے صرف تین سو سال سے کم عرصہ میں ان کی آبادی کثیر تعداد میں وجود میں آگئی اور مقامی آبادی فنا ہوگئی ۔ جو ممکنات میں سے نہیں ہے ۔              ہزارہ کے علاقہ میں اندوال کے نام سے آباد ہیں ۔ انہیں ابسن ڈھونڈوں کی ہی ایک شاخ قرار دیا ۔ یہاں کی مقامی روایات انہیں راجپوتوں کی اولاد بتاتی ہے ۔ ای ڈی میکلیکن کہنا ہے وہ آج بھی مسلمانوں کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں ہیں ۔ حتیٰ انہیں برتن بھی چھونے نہیں دیتے ہیں ۔ ان کی شادی کی رسمیں ہندوانہ ہیں اور بارات دو تین روز دلہن کے گھر قیام کرتے ہیں ۔ یہ قبیلے سے باہر شادی شاذ کرتے ہیں ۔ تاہم کثیر زواجی عام ہے ۔ 

            کولو رائے ایک ہندوانا نام ہے اور ایک روایت کے مطابق اس کی پرورش ایک برہمن نے کی ۔ اپسن کا کہنا ہے اسے میجر ولس نے انہیں بتایا کہ تیس سال پہلے تک یہ اسلام سے برائے نام شناسا تھے اور ان کے رسم و رواج اور اعتقاد کی یاد گاریں ان میں اب باقی ہیں اور ان کا ماخذ ہندو ہے ۔ سکھ ان سے بہت نالاں تھے اور ان کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ۔ جیمز ٹاد تاریخ راجستان میں پنواروں کی ایک شاخ کا نام دھوندا بتاتا ہے ۔ لیکن غالباً ان کا تعلق پنواروں سے نہیں ہے ۔ ان میں نسلی تفاخر بہت زیادہ ہے ۔ یہ کاشت کار ہیں اور مویشی بھی پالتے ہیں ، پہاڑیوں پر رہنا پسند کرتے ہیں اور سردیوں میں پہاڑوں سے نیچے اتر آتے ہیں  

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں