weaver 64

جولاہا

جولاہا فارسی کا کلمہ ہے اور پیشہ کا نام ہے جسے اچھتوں نے اپنا کر اپنی حثیت بلند کرلی ۔ اس لیے کولی جلاہے ، چمار جولاہے ، موچی جولاہے اور رام داسی جولاہے ملتے ہیں ۔ امکان یہی ہے اس پیشے کو اپنا کر اپنے سابقوں کو گرادیا جو کہ ان کی کمتر نسل کے غماز تھے اور وہ صرف جولاہے بن گئے ۔ ان جولاہوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور کچھ ہندو اور سکھ ہیں۔

 تمام مسلمان جولاہے جو کہ اپنی گوت مردم شماریوں میں اپنی اور ذات جولاہا لکھاتے رہے ۔ یہاں تک 1921ء کی محرم شماری تک یہی لکھوایا گیا ۔ مگر 1931ء میں انہوں نے اپنی ذات انصاری میں بدل دی ۔ ان کی روایات کے مطابق صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاری جولاہا کا کام کرتے تھے اور ان کی پیروی میں انہوں نے اپنی ذات انصاری لکھوائی ۔ اگر انہوں نے بظاہر قدیم کمتر ذات سے چھٹکارہ حاصل کرلیا ۔ مگر ان کا برادری سسٹم اور رسومات اور کچھ عرصہ پہلے تک اپنی ذات میں شادی کرنا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ اس سرزمین کے قدیم ماخذ سے تعلق رکھتے ہیں ۔

شاخیں

; پنجاب کے ان علاقوں میں جہاں مسلم اکثریت تھی وہاں جولاہوں کی شاخوں کے بیشتر نام وہ جن گاؤں میں کام کرتے تھے ۔ ان میں بھٹی ، کھوکھر ، جنجوعہ ، سندھو ، کبیر بنسی ، اعوان ، جرپال وغیرہ وغیرہ ۔ ان میں کبیر بنسی مشرقی ہندوستان میں پھیلا ہوا ہے اور اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے ۔ یہ مشہور بھگت کبیر کے نام سے جس کے متعلق مشہور ہے وہ خود بھی جولاہا تھا ۔ مشرقی جولاہے دو بڑی شاخوں دیس والی اور تیل میں تقسیم ہیں ۔ دیس والی دیسی اور تیل ایک تیلی عورت سے شادی کرنے والے جولاہے کی نسل خیال کی جاتی ہے ۔ تیل بانسبت دیسوالی کے پست سمجھے جاتے ہیں ۔ جمنا کے اضلاع میں گنگا پوری اور وسط ہند میں ایک ملتانی شاخ بھی تھی ۔ یہ پشاور میں گولاہ اور ہزارہ میں کاسی کہلاتے تھے ۔ یہ مغرب میں مسلمان جولاہوں کی مختلف ذاتیں ملتی تھیں ۔ ان میں زیادہ تر علاقائی بنیادوں پر تقسیم تھے ۔ مثلاً جنڈ میں جانگلی ، دیسوالی ، بجواریہ اور پاریہ ذاتیں تھیں ۔ نابھ میں جانگلا ، پواڈھڑے باگری اور ملتانی پارے ، موچیا تھے ۔ جنگلی سیدوں اور پیروں کو بہت مانتے ہیں اور اپنی گوت میں شادی کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔ مسلمان جولاہے عید الفطر کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ بعض شب رات اور بعض محرم کو اہمیت دیتے ہیں ۔

جھینور

جھینور جسے پنجاب کے مشرق میں کمہار ااور وسط میں اگر ہندو ہو تو مہرا کہا جاتا ہے ۔ یہ حمال ، بہشتی اور مشرق میں ٹوکری ساز ہے ۔ یہ پالکی اور ایسے تمام بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتا ہے جو یک بیلوں کی جوڑی اٹھاتی ہے ۔ پانی کے ساتھ اس کا خصوصی تعلق ہے ۔ یہاں تک وہ سنگھاڑے کی کاشت اور ماہی گیری کے جال بھی بناتا ہے اور کنوئیں بھی کھودتا ہے ۔ یہ حقیقی معنوں میں خدمت گار ، رواجی معاوضہ وصول کرتا ہے اور رواجی خدمات انجام دیتا ہے ۔ وہ کاشتکار کو ضرورت کی ٹوکریاں فراہم کرتا ہے ، کٹائی کرنے والے کھیتوں میں ، شادی اور دوسری تقریبات میں پانی پلاتا ہے ۔ اس کی سماجی حثیت بلند ہے کہ سب اس سے پانی پی لیتے ہیں ۔ تاہم وہ ایک ملازمین ہیں ۔ اگر کوئی جھینور کشتی چلاتا ہے تو ملاح دریائی ، درین اور جٹ اور موہانا بھی کہلاتا ہے اور اس کے مذہب کا مدار علاقے کے مذہب پر ہے ۔ اس کی ذاتیں کھوکھر ، مہر ، بھٹی ، منہاس ، ٹانک اور سوہال ہیں ۔ شکر گڑھ میں یہ دوگڑا ہیں ۔ جالندھر میں پنجابی یا مقامی ، بانگرو اور چھنگرو ہے ۔ پٹیالہ میں یہ دیسوالی اور ملتانی ہیں ۔ بانگرو ملتانیوں سے شادی نہیں کرتے ہیں ۔

یہ جمنا کے کناروں پر بڑی تعداد میں آباد ہیں وہ ماہی گیری اور کشتی رانی بھی کرتے ہیں ۔ ان میں کچھ بھربھونجے ہیں لیکن زیادہ تر کاشت کار ہیں ۔ ّآگرے سے اوپر جھینور ان سے علحیدہ ہیں اور یہ جرائم کے عادی بھی ہیں ۔ وہ زمین کاشت کرتے ہیں اور موسیقاروں کے بھیس میں گاتے ، بھیک مانگتے اور معلومات حاصل کرکے نقب زنی کرتے ہیں ۔ تمام ہندو ان کے ساتھ کھا پی لیتے ہیں ۔ جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ واقعی جھننور ہیں

جھینور کو ایک مخلوط ذات کہا جاسکتا ہے اور اس کے ناموں کا مدار پیشوں پر ہے ۔ جنوب مشرق میں اسے دھینور کہا جاتا ہے ۔ یہ دولیاں اٹھاتا ہے اس لیے کہار کہلاتا ہے

ماخذ

ہندوستانی تہذیب کا مسلمانوں پر اثر ۔ ڈاکٹر محمد عمر،پنجاب کی ذاتیں ۔ سر ڈیزل ایپسن

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں