82

اگہوڑی

یہ سادھوں کا غلیظ ترین طبقہ ہے اور برہنہ مادرزاد رہتے ہیں ۔ خواہ کیسی سخت سردی پڑے کپڑوں کا استعمال نہ کرتے ہیں ۔ ان کی قطع و وضع مجدوبانہ و مجنونانہ ہوتی ہے ۔ تمام نجس و ناپاک چیزیں جو ان کے جسم سے خارج ہوتی ہیں وہ کھاتے ہیں ۔ یعنی بلغم ، خون و پیشاب اور اپنا پاخانہ کھانا ۔ یہ لوگ ہر طرح کا گوشت حتیٰ کہ مردہ انسانوں کو کچا کھالیتے ہیں ۔ یہ پیشاب و پخانہ اپنے بدن پر ملتے ہیں اور یہ بھیک مانگتے ہیں اور اگر انہیں انکار کردیا جائے تو یہ پیشاب و پخانہ کرکے غلاظت کرکے پھیلاتے ہیں ۔ پیسہ زیادہ تر مے نوشی میں خرچ کرتے ہیں ۔

اجین شہر کے قریب ایک پہاڑ کی چوٹی پر سمشان میں اگھوڑی رہتے تھے اور جب ہندو اپنے مردوں کو جلانے مرگھٹ لاتے اور چتا کو آگ دیتے تھے تو یہ اگھوڑی فوراً پہنچ جاتے اور جلتی ہوئی نعش کو چتا سے نکال کر کھاتے تھے ۔ مردوں کے لواحین ڈرتے تھے اگھوڑی شیو کے پجاری ہیں اگر ان سے مزاحمت کی گئی تو شیو جی ناراض ہوں گے اور مردے کو سخت عذاب میں مبتلا کریں گے ۔ اس لیے کوئی شخص اگھوڑیوں کو روکتا نہیں تھا ۔ بعض لوگوں نے اس قبیح رسم کو دیکھ کر مہاراجہ سندھیا سے سے شکایت کی اور انگریزوں تک اس کی اطلاع پہنچی تو ۱۸۸۶ء میں مہاراجہ سندھیا نے اگھوڑیوں کے کھانے کے لیے دوسری خوراک بہم پہچانے کا بندوست کیا ۔ جس کے بعد اگھوڑیوں نے بظاہر مردار و نجس چیزیں کھانا ترک کیں ۔

دور جدید میں ان کی انسانی لاشوں کے کھانے کی اطلاعات نہیں ملی ہیں ۔ لیکن یوٹیوب کی ایک فلم میں ایک اگہوری سادھو جس کا چہرہ نہیں دیکھاگیا تھا نے اپنے پنتھ کی انسانی لاشوں کی کھانے کی وجوہات جس طرح بیان کر رہا تھا اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مردوں کو کھانے کا فعل اب بھی ان میں رائج ہے ۔     

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں